Darulshaour | دارالشعور

15 February 2018

مقدمہ ۔۔۔ ْوقاص افضل

یہ مریخ کے تھانے کا بیرونی منظر تھا
معا شی طور پر متوسط اورکمزورلوگو ں کی بستی تھی
شام ڈھلتے ہی لوگو ں کا ایک ہجوم یہا ں ہوتا
وہ اکثر سوچتا
یہ عادی اور خطرناک مجرموں کے قرابت دار ہوں گے۔
ایک دن ہمت کرکے ہجوم میں شامل ہو گیا
بڑے میاں آپ یہا ں کیو ں ؟
برخودار! پندرہ برس سے کرایے کے گھر میں مقیم ہوں
کرایہ نامہ کے عدم تجدید و اندارج کی وجہ سے بیٹے پر مقدمہ ہوگیاہے۔
بیو ہ خالہ،آپ کیو ں پریشا ن کھڑی ہیں ؟
چھو ٹا بیٹا پتنگ خرید کر لا رہا تھا، دھرلیا گیا
کہتے ہیں اُس پرمقدمہ درج کردیا گیا ہے ۔
زرا فاصلے پر بھیک مانگنے والو ں کا ایک ٹولہ کھڑا تھا
اُن کے چند افراد پر گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ ہو چکا تھا۔
وہ یہا ں سے نکلنے ہی والا تھا ,چند لوگ تھانے دار سے تکرار کرتے ہو ئے
اُس کے پاس سے گزرے ،اُن کے ہا ں دن دیہا ڑے ڈاکا پڑا تھا۔
اندارج مقدمہ میں پولیس پس وپیش سے کام لے رہی تھی ۔

 

abbas shad
03 February 2018

شادی کا خوبصورت بندھن ساس سے یا خاوند سے ؟ایک تلخ سوال ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

میں انکی گفتگو کو بہت توجہ سے سن رہی تھی ۔پھر اچانک سے بابا جان فرمانے لگے کہ میں آج ایک تلخ حقیقت نہ بتاؤں
تمہیں ؟ میں نے سرہلایا اور وہ درد بھری باتیں کرتے کرتے ہر حقیقت سے پردہ ہٹاتے جارہے تھے ۔فرمانے لگے کہ
آج کے معاشرے کی ایک حقیقت ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ہر گھر میں ایک ہی گونج ہے ۔ “کچھ ڈھنگ سیکھ
لواگلے گھر)سسرال ( جاکے کیا کرے گی”
ا یسے ہی بے بہا کلمات سننے کو           ملتے ہیں ۔ ُ ہر لڑکی جوں ہی جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے ہر ماں اس کوشش میں
ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی بیاہ کر جب سسرال جائے اس کےپاس ہر طرح کا ہنر ہو اسے گھر کے کام کاج سے لیکر سالئی
کڑھائی تک سیکھا دیا جائے۔ہم بالکل بھی اس فکر کو فراموش نہیں کرنا چاہتے کیونکہ زندگی گزارنے کے لیے ایسے تمام
امورکا آنا ضروری ہے۔لیکن اس اہم موقع   پر ہم ایک اہم تربیت کو بھول جاتے ہیں ۔ہم نے شادی کا مقصد صرف ساس کی
خدمت بنا دیا ہے۔ماں تربیت کرتی ہے کہ ساس کو خوش رکھنا اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اس کے سارے
کام خود نمٹانا ۔۔۔اور دوسری طرف ساس پہ جب تھوڑا بڑھاپا آنا شروع ہوتا ہے تو اسی سوچ سے وہ بیٹے کی شادی کر دیتی
ہے کہ بہو کام کرے گی۔مجھ سے اب کام نہیں ہوتا ۔۔۔
یہ تمام باتیں اور مثالیں ہمیں ہر گھر میں ملے گیں۔کیا ہم ابھی بھی اس شادی کو ساس سے شادی نہیں کہیں گے؟؟؟؟؟
شادی کے کچھ عرصہ بعد جب بہو ساس کو خوش نہ رکھ پائے اس کے مزاج کے مطابق زندگی نہ گزارے ۔اسکے اطوار
پر نہ چلے تو یہی ساس اپنے بیٹے کی طالق کروانے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔آج کل ۵۰فیصد جدائی ساس کو
خوش نہ رکھنے کی بنا پہ ہو رہی ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتی کہ میرا بیٹا خوش ہے اسکے ساتھ کہ نہیں ؟ اسکی ازدواجی زندگی
بہتر چل رہی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔اور بیٹے نہ چاہتے ہوئے ماں کی خوشی کی خاطر اپنے اس پاک رشتے کو طالق کے نام کا
دھبہ لگا دیتا ہے۔
پھر بابا جان فرمانے لگے کہ بیٹا یہ تو جدید دور کے حاالت کی وضاحت تھی ۔ چلو اب سنو ازدواجی زندگی یا شادی کس
چیز کا نام ہے؟؟؟

آج  سے چودہ سوسال پہلے میرے اللہ نے اپنے حبیب  سے کہہ
دیا کہ ہم نے جوڑے اس لیے بنائے تاکہ وہ ایک دوسرے کا
سکون بن سکیں ایک دوسرے کا تخفظ بن سکیں ۔ایک دوسرے کو سمجھ سکیں ۔پھر دنوں میں سے ایک کو زیادہ درجہ دے
دیا اور فرمایا
وللرجال علیھن درجۃ
اور مردوں کو ان )یعنی عورتوں (پہ درجہ دیا گیا ہے۔
مرد کو مزاجی خدا کا درجہ دے دیا اور اسکی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں اپنے بعد کسی کو سجدہ کرنے
کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم کرتا ہے کہ اپنے خاوند کو سجدہ کریں۔
ہی نہیں بیشتر مقامات پہ میرے حبیب نےفرمایا کہ 
تم میں سے بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اسے دیکھیے تو وہ اسے خوش کر دے ۔
ہر صورت میں خاوند کو ایک اہم اور خاص مقام دے دیا اور بیوی کو اسکا سکون اسکی دن بھر کی تھکن کو سکونیت میں
بدلنے کا ذریعہ بنایا گیا۔
بیٹا !!!ازدواجی زندگی رب العالمین کا بنایا ہوا ایک پاک رشتہ ہے ۔عورت کو ہاللہ اور اسکے حبیب کے بعد خاوند کی اطاعت
کا حکم دے دیا گیا۔خاوند کو حاکم کا درجہ دیا ۔
کیا ہمارے گھروں میں اپنی جوان بیٹی کو اس چیز کی ترغیب کی جاتی ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کو کیسے خوشحال رکھ
سکتی ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ خاوند کی اہمیت کیا ہے ؟اسے یہ نہیں سیکھایا جاتا کہ اسکے ساتھ کیسا سلوک روا
رکھنا ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں سیکھایا جاتا کہ وہ ناراض ہو تو اس کو اکڑ دیکھانے کی بجائے راضی کیسے کرنا ہے ؟؟
اسے تو یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ اگر وہ منع کرے کسی کام سے تو اس کو کرنا اسکی نافرمانی ہے ؟ اسے یہ بھی نہیں بتایا
جاتا کہ اطاعت کی ترتیب میں جہاں والدین کا تیسرا نمبر تھا اب اس مقام پہ ازدوجی بند ھن میں آنے کے بعد اسے بٹھا دیاگیا
ہے ؟؟؟ جو کام اسے خوش کرے اس کو کرنا ہے جو عادت اسے پسند ہوں اسےاپنانا ہے وہ چلنے کو کہے تو چلنا ہے وہ
رکنے کو کہے تو رکنا ہے۔۔۔وہ غلط ہے تو اسے معاف کرنا ہے اس سے بدلہ نہیں لینا ۔اسکےوالدین کی خدمت کرو تو صرف
اسکو خوش رکھنے کے لیے کرو۔وہ اسے کہتا ہےکہ میرے والدین کی خدمت کرو تو اسکا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر
ممکن کوشش سے ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ خاوند کے والدین کی خوشی ہی خاوند کی خوشی ہے۔ان کو
خوش رکھنا دراصل اپنے شریک حیات کو خوش رکھنا ہے۔
لیکن ساری بنیاد کو فراموش کر کے مخض خاوند کے والدین کی خدمت کو شادی کا مقصد بنا لیا جائے تو وہ رشتہ بے بنیاد
کھوکھال رہتا ہے۔یہ رشتہ جو انتہائی پاک اور سکون کا ذریعہ بنتا تھا آج وہی بے سکون کیوں کرتا ہے ؟ آج اسی رشتے سے
منسلک ہوتے ہوئے لوگوں کو ایک عجیب سا خوف گھیر لیتا ہے۔
جیسے والدین اور اوالد کے رشتے میں اوالد کو جھکنے کا حکم دیا وہ غلط بھی ہو تو ان کو اُف بھی نہ کہنے کی تلقین کی
ایسا ہی مقام ازدواجی زندگی میں خاوند کا ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ ہے جوان بیٹی کو ہر کام سیکھا دیاجاتا ہے مگر اس رشتے کی بنیاد نہیں سیکھائی جاتی ۔ پھر وہ
خاوند کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہتی ہے ۔وہ روکے تو اسے تنگ نظر کہتی ہے ۔وہ ناراض ہو تو منانا اپنی توہین سمجھتی
ہے۔وہ ایسا صرف اسی لیے کرتی ہے کیوں کہ اسے  یہ علم نہیں  کہ اس کا مقام کیا ہے ؟ اس کو ازدواجی زندگی گزارنے کا
طریقہ نہیں سیکھایا جاتا۔
میری التجا والدین سے ہے کہ جہاں باقی گھریلو کام سیکھائے جاتے ہیں خدارا اس بنیاد کو ازدواجی زندگی کے اصل مقصد
سے روشناس کروایا جائے ۔عورت کو مرد کے حقوق اسکےمقام کی اہمیت بتائے۔اور مرد کو عورت کے حقوق پورا کرنے
کی تلقین کی جائے ۔
میں ایک گہری سوچ میں کھو گئی باباجان کی باتیں میرے دل تک جارہی تھی ۔میری آنکھیں نم تھی اس سوچ سے کہ
ازدواجی زندگی کی اس بنیاد کو ہم فراموش کر چکے ہیں۔میرا دل رب کا شکر ادا کررہا تھا کہ اس نے مجھے باباجان کی
صورت میں ایک انمول تخفہ عطا کیا جو مجھے تلخ حقیقتوں کی تلقین کرتے رہتےہیں

abbas shad
31 January 2018

انبیاءکا مقصدِ حیات : واجد علی

اس کُرہِ ارض پر جتنی بھی اشیاء موجود ہیں اُن میں انسان کو ایک فضیلت حاصل ہے  جس کے سبب اسے اشرف ا لمخلوقات کہا جاتا ہے۔ مگر وہ جوہر جس کی بدولت اسے یہ رتبہ ملا ہے اسے عقل کہتے ہیں۔چنانچہ یہ عقل ہی کے کرشمے ہیں کہ انسان نے اس کائنات کی قوتوں کو مسخر کرنا ، اور ان کو استعمال میں لا کر ان سے فوائد حاصل کرنا شروع کیے ہیں۔ مگر ترقی کا یہ سفر یک بار طے نہیں ہوا بلکہ عقلِ انسانی نے دھیرے دھیرے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔شروع میں جب انسانی آبادی کم تھی تو لوگ جابجا بکھرے ہوئے تھے، اُن کی ضروریات بھی محدود تھیں ، وہ باقاعدہ کسی نظام کے تحت نہیں رہتے تھے، اور اُس وقت کے انسان کے عقل و شعور کا مرتبہ آج کے انسان کے عقل و شعور سے کم تھا۔اُس کی مادی ضروریات بھی کم تھیں اور اپنی ضرورت کی زیادہ تر اشیاء وہ اپنے لیئے خود ہی مہیا کر لیتاتھا۔پھر آہستہ آہستہ انسانوں کے یہ جابجا بکھرے گروہ،باقاعدہ نظم آبادیوں کی شکل میں جب اکٹھے ہوئے تو سماج اور معاشرے وجود میں آئے۔

جب سے انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہے، اُسی وقت سے ہر وہ فرد یا قبیلہ جو اُس معاشرے میں نسبتاً باقی دوسروں سے طاقتور بھی ہوتا تھا اور بلحاظِ آبادی زیادہ بھی وہ باقی لوگوں پر  بزورِ طاقت حکمران بن کے حکومت کرنا شروع کر دیتا تھا،اور پھر اپنی مرضی سے جیسے چاہتا ویسے قوانین بنا کر اُن کو عوام کے اوپر مسلّط کر دیتا اور یوں  پھرمختلف نظام ہائے زندگی تشکیل پاتے گئے۔ مگراُس زمانے  میں بادشاہ کی زبان ہی قانون تصور کی جاتی تھی کہ بس جو الفاظ اُس کی زبان سے نکل کر منصئہ شہود پہ آئے وہ  زیبِ قرطاس بن کرمن و عن قانون سمجھے جاتے تھے اور اُسی کے مطابق رعایا اپنے اعمال بجا لاتی تھی۔کیونکہ عقل ابھی ترقی کا وہ مرحلہ طے نہیں کر پائی تھی کہ جس کے مطابق رعایا  کے سامنے کسی بھی  بادشاہ کی بازپرس کی جاسکتی ،لہذا بادشاہ ہر لحاظ سے ہر قسم کے احتساب سے نہ صرف بالا تر سمجھے جاتے تھےبلکہ رعایا کا کوئی فرد اِس خیال کو ذہن میں بھی نہیں لا سکتا تھا کہ بادشاہ کا محاسبہ ہو سکتا ہے، یا با دشاہِ وقت کے کسی بھی فیصلے پہ انگلی اٹھائی جا سکتی ہے۔

مگر جوں جوں عقلِ انسانی شعور کی منازل طے کرتی گئی، دنیا میں تبدیلی کا آغاز ہوگیا۔معاشروں کے اندر کچھ لوگ اس طرح کےبھی  پیدا ہونے لگے کہ جن کی ذہنی سطح نہ صرف ایک عام انسان سے بلند تھی بلکہ اُن کی سوچ بھی معاشرے کے عام رواج سے مختلف تھی۔ اسی اختلافِ کا ہی یہ نتیجہ نکلا کہ حاکمِ وقت نے اِن لوگوں کو اپنے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر اُن کو نہ صرف اذیت ناک سزائیں دیں بلکہ، باقی رعایا کی نظروں میں بھی اُن کا مقام اس قدر پست کر دیا کہ یہ لوگ رعایا کی نظر میں بھی حقیر ٹھہرے۔مگر اِس سب کے باوجود بھی جب اِن لوگوں کاقلع قمع نہ ہو سکا تو اُن کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا تاکہ حکومتِ وقت کے استحکام میں فرق نہ آنے پائے۔معاشرے کے یہی وہ عظیم لوگ تھے جِن کو آج تاریخ حکمت کے سر چشموں کے نام سے یاد کرتی ہےاور مذہبی اصطلاح میں اِن عظیم ہستیوں کو پیغمبر، نبی یا رسول کہا جاتا ہے جس کے قافلے کے رہبرِاوّل حضرت آدمؑ اور آخری فرمانروا فخرِ ِجن و انس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

ان عظیم لوگوں نے اپنے اپنے وقت پر ہر ظالم اور جابر حکومت کے ہاتھوں انسانیت سوز قسم کی تکالیف تو اٹھا ئیں مگر باقی لوگوں کے اندر اس چیز کو سوچنے کا مادہ پیدا کر دیا کہ بطورِ انسان ہمارے کچھ حقوق بھی ہیں جن کو پورا کرنا حکومتِ وقت کا اوّلین فریضہ ہے۔ بادشاہ ایک ایسی ہستی یا مخلوق کا نام نہیں کہ جس کو یک گونہ ہمارے اوپر فضیلت حاصل ہے بلکہ بطورِانسان رعایا اور بادشاہ برابر ہیں۔جو انسانی ضروریات اور خواہشات بادشاہ کی ہیں بعینہٖ رعایا کی بھی ہیں۔انسانوں کے اندر گو طبقات کا،قوم کا ،مذہب کا فرق موجود ہے مگر اُن کی اوّل و آخر پہچان یہ ہے کہ وہ انسان ہیں لہذٰا معاشرے میں تفریق یا فرقہ بندی کا معیار اور پیمانہ مذکورہ بالا عناصر نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم  ہیں۔ معاشرے کے اندر موجود اِن عظیم لوگوں نے ہر قسم کی عصبیت اور تفرقات سے بالا تر ہو کر صرف اسی ایک مقصد  کیلئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں تھیں کہ اِس زمین کے اوپر رہنے والی ہر مخلوق کو اُس کا جائز حق اور مقام ملے۔ چنانچہ یہ لوگ جہاں بھی رہے اِن کا نظریہ انسان دوستی  اور بھائی چارے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اللہ تعالیٰ کے یہ برگزیدہ بندے جہاں بھی اور جس علاقے میں بھی مبعوث ہوئے ان کی زندگی کا ایک  ایک لمحہ اسی چیز کے اوپر صرف ہوا کہ انسان  مرتبہ انسانیت تک پہنچ جائے اور انسانیت اس ظاہری ڈھانچے کا نام نہیں بلکہ انسان نام ہے احساسِ ذمہ داری کا، محبت کا اور     ایثار کا، اور جب یہ اوصاف ایک بندے کے اندر پیدا ہوجاتے ہیں تو اس وقت  وہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے معاشرے کیلئے زندگی جی کر باقی لوگوں کی زندگی میں سکھ، چین اور آرام لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب یہی آثار پورے معاشرے کے اندر بیدار ہوتے ہیں تو پورا معاشرہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں ظلم کی بجائے عدل کا،  نا انصافی کی بجائے انصاف کا،  خوف اور ڈر کی جگہ امن کا، ذہنی اور جسمانی غلامی کی بجائے ظاہری اور باطنی آزادی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے اندر سب کی عزت و آبرو بھی محفوظ، جان و مال بھی محفوظ اور امروز ا فردا بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ  ایسے ہی نہیں ہوجاتا اور  ایک دن رات  کے اندر کایا نہیں پلٹ جاتی بلکہ اس چیز کے پیچھے ایک ایسے فرد کی  محنت کار فرما ہوتی ہے جو اپنی جان، مال اور عزت سب کچھ داو ؤ پہ لگا کر  معاشرے کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کو آمادہ ء جد و جہد کرتے ہیں، اور اس راستے میں آنے والی ہر مشکل کا نہایت صبر اور استقلال سے مقابلہ کرتے ہیں۔

ہم کسی بھی معاشرے کی تاریخ کو اٹھا لیں تو پتہ چل جائے گا کہ  جب تک کسی بھی معاشرے کے اندر نبی کی بعثت نہیں ہوتی تھی تو اس معاشرے کے اندر جہالت کا کیسا دور دورہ ہوتا تھا، اور افرادِ معاشرہ جو زندگی گزار رہے ہوتے تھے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوا کرتی تھی ۔ ایک ایسی زندگی جو کسی بھی قسم کے احساسِ ذمہ داری سے عاری اور حقوق و فرائض کی بخوشی ادائیگی سے  بالکل خالی ہوتی تھی۔ اس معاشرے میں نہ عورت کے کوئی حقوق  ہوا کرتے تھے، نہ غلام اور لونڈی کے، نہ ہی منصفانہ جنگی قوانین اور نہ ہی  پر امن معاشرے کے قیام کی کوئی تجویز، غرض اس زمانے میں انسان مرتبہ انسانیت سے گر کر حیوانیت کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا ہوا تھا۔ مگر جب اسی معاشرے کے اندر حضراتِ انبیاء ؑ نے اپنی پاکیزہ تعلیمات کا احیاء کیا اور انسان کو مرتبہ انسانیت سے آگاہ کرنے کا کام شروع کیا تو اسی معاشرے کے  افراد میں احساسِ ذمہ داری، حقوق و فرائض کی ادائیگی اور ایک پر امن و پاکیزہ معاشرے کے قیام کی خواہش بیدار ہوئی اور انسان یوں اپنے اصلی مرتبے اور رتبے سے آگاہ ہوا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اِس حق اور سچ کی آواز کو ہر دور میں دبانے کی بھر پور کوشش کی جاتی رہی ہے مگر صاف اور کھری بات بھلا کہاں رُکتی ہے۔ چنانچہ انہی عظیم ہستیوں کے طفیل   فکرِ انسانی نے انگڑائی لی اور  وقت کے حکمرانوں کے مزاج میں تبدیلی رونما ہوئی جس کو ہم سب سے بڑا  انسانی انقلاب کہہ سکتے ہیں ۔کیونکہ اسی انقلاب کی بدولت پھر فلاحی مملکت اور مثالی معاشرے کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے، رعایا کے بنیادی حقوق نہ صرف تسلیم کیئے گئے بلکہ اُن کی ادائیگی کا بھی آغاز ہوا اور پھر رفتہ رفتہ تاریکی کی سیاہ رات کی سحر سے سپیدہء صبح کی لو پھو ٹی،جانوروں کی طرح ہانکے جانے والے انسانوں نے رتبہ انسانیت کا شرف حاصل کیا۔ اور یہی وہ مقام تھا کہ جس کے بارے میں قرآنِ مجید نے واضح بیان فرمایا کہ یاد کرو وہ وقت جب تم جہنم کے آخری کنارے یعنی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے مگر اللہ نے تمھارے دلوں کے اندر ایک دوسرے کیلئے محبت پیدا کردی مگر جس ہستی کے وسیلے سے یہ کارھاے نمایاں سر انجام ہوا اُس کی شان میں اللہ نے خود فرما دیا کہ میں نے تحقیق مومنوں کے اوپر بہت بڑا احسان کیا کہ ان کے اندر اپنے حبیب ﷺ کو بھیجا تاکہ انسان کو نہ صرف شرفِ انسانیت سے نوازا جائے بلکہ دکھوں اور ظلم کی چکی میں ِپستی انسانیت کوسکھ کا سانس نصیب ہو۔ ظلم مٹے، انصاف کا بول بالا ہو۔جہالت کے اندھیروں میں علم و حکمت کے چراغ روشن ہوں۔ حقدار خواہ کوئی بھی ہو،وہ اپنا حق پائے۔وہ تمام  رکاوٹیں جو ایک بندے اور رب کے درمیان تعلق قائم کرنے میں حائل ہیں وہ ختم ہوں اور بندہ اپنے رب سے اپنا تعلق حقیقی معنوں میں اُستوار کرے۔معاشرے میں عزت اور اور شرافت کا معیار تقوی  ہو۔رب کے پیدا کردہ تمام وسائل سے ساری دنیا مستفیض ہو۔  امارت ملنے کا معیار حقیقی اہلیت ،خداخوفی ،محبتِ انسانیت  اور خیر خواہی ہو نہ کہ نسل در نسل وراثت  میں ملنے والی غصب شدہ حکومت۔ چنانچہ آپ ﷺ کے طفیل  لوگوں کو اپنے آپ کی پہچان ملی اور ایک نئی دنیا کی شروعات کا آغاز ہوا جس میں مرد،عورت ،بچوں حتیٰ کہ جانوروں کو  نہ صرف اُن کا جائز حق ملا بلکہ  وہ لوگ  جو کل تک وحشی جانور سے بھی بد تر زندگی گزار رہے تھے  اُن کو زندگی کا اصل مطلب پتہ چلا۔اور وہ جن کا مطمح نظر صرف اور صرف اپنی ذات اور اُس سے وابستہ افراد ہوا کرتے تھے، وہ جب انسانیت کے معراج پر پہنچے تو اُن کے اندر ایثار، کسرِ نفسی ،دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام دنیا کیلئے بھلائی کا جذبہ  رکھنےجیسی صفات   نے گھر کر لیا۔علاوہ ازیں انسان کے شعور کی سطح جب بلند ہوئی   تو اُسے علم ہوا کہ دو ہاتھ اور دو پاؤں کے مل جانے سے بندہ،بندہ نہیں بنتا بلکہ، وہ اپنے اچھے اخلاق اور کردار کی بدولت اس  مقام کا حامل قرار پاتا ہے یا سادہ  ا لفاظ میں بندہ جب بندہ بن گیا تو اُسے اِس چیز کا احساس آیا کہ بطورِ انسان میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ مجھے کیا کر نا ہے۔کیا مجھ میں اور چوپاؤں میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہے تو کس چیز کا ہے؟ بطورِ نمائندۂ انسانیت  میرے اوپر کیا کیا ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں؟ لیکن  سب سے بڑا کام جو آپ ﷺ نے کیا وہ ظلم پہ مبنی نظام کا خاتمہ اور اُس کی جگہ عادلانہ سیاسی، معاشی،قانونی اور دفاعی نظام کا قیام اور ایک تربیت یافتہ جماعت کی تشکیل جس نے آپﷺ کے اُسوہ حسنہ کی روشنی میں اس عادلانہ نظام کو نہ صرف استحکام دیا بلکہ اس کو وسعت دے کر اس کے اثرات باقی دنیا تک بھی پہنچائے۔

انبیاء ؑ جو بصورتِ بشر اس دنیا کے مختلف علاقوں  کے اندر مبعوث ہوکر اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتے رہے، دراصل اس لحاظ سے عظیم لوگ تھے کہ ان کی زندگی اور تعلیمات کا مقصد حکومت کرنا ، مال و دولت کمانا، شہرت کی طلب کرنا یا اپنی اولاد کے واسطے ایک بہتر اور محفوظ مستقبل تھا۔ بلکہ اس کے برعکس تمام انبیاء کی صرف ایک ہی چاہت ہوا کرتی تھی کہ بس ظلم کا خاتمہ ہوجائے اور انسان مرتبہ انسانیت پر آجائے۔ ظلم صرف بتوں کی عبادت کرنا ہی نہیں ہوتا ، ظلم صرف خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہی  نہیں ہوتا، ظلم صرف غیر اللہ کے واسطے نذر ونیاز دینا ہی نہیں ہوتا  ، بلکہ اصل اور سب سے بڑا ظلم انسان کا دوسرے انسان کے اوپر یہ ہے کہ ایک انسان ایسے حالات پیدا کردے کہ  جو خدا اور اس کے بندے کے درمیان تعلق میں رکاوٹ بن جائیں جیسے غلط اور ظالمانہ سیاسی  و معاشی نظام  جو ایک عام بندے کی زندگی کو  اس قدر مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے کہ انسان  جب رزق کمانے  کے چکر سے ہی نہیں نکل پاتا تو اپنے خدا کی عبادت کیلئے وقت کب نکالے گا اور اس کو یاد کرے گا۔

اگر دیکھا جائے تو ہر دور کے فرعون کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنی مملکت کے اندر  ایسے حالات پیدا کر دیتا تھا کہ جس کے نتیجے میں ایک معمولی اقلیت کے سواء ایک گروہِ عظیم کولہو کے بیل کی طرح ظلم کی چکی میں پستا رہتا تھا، مگر ظلم تھا جو ختم ہونے کو نہیں آتا تھا اور آتا بھی کیسے کہ جب اس ملک کا نظام ہی ایک خاص طبقے کے مفادات کو سامنے رکھ کر چلایا جاتا تھا تو اس دور میں ایک عام بندے کی حالتِ زار بھلا کیسے تبدیل ہوسکتی تھی۔ تو ایسے وقت میں یہ حضراتِ انبیاء ؑ ہی ہوا کرتے تھے جو اس مظلوم انسانیت کے واسطے روشنی کا مینار بن کر ان کو اس ظلم کے سیاسی نظام کے خلاف جدو جہد کیلئے آمادہ کیا کرتے تھے اور یوں جب ظلم کے بھنور میں آئی ہوئی یہ اللہ کی مخلوق اپنے اپنے وقت کے فراعین کے مقابلے میں مقابلے پر آئی تو اس وقت اس دنیا کے اندر عظیم عظیم انقلاب برپا ہوئے اور وقت کی یہ ظالم حکومتیں بمع  اپنے ظالمانہ نظام کے تہس نہس ہو گئیں۔

اگر دیکھا جائے تو اس تمام انقلاب کی کہانی کو لکھنا،اور بیان کرنا آسان تو نظر آتا ہے مگر جب انسان اِس چیز کا تصور اور آگہی حاصل کرے کہ وہ عظیم لوگ جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں  یہ انقلاب برپا ہواوہ کیسی کیسی مشکلات کا شکار ہوکر انسان کو ترقی کی راہ پر لائے،تب ہی ہم اُن افراد کی قربانیوں کو صحیح معنوں میں سمجھ بھی سکتے ہیں اور قدر  بھی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ  ہمیں ایک بات کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اصل ترقی اور انقلاب  سائنسی ایجادات، کارخانے اور سامانِ تعیّش کی فراوانی نہیں بلکہ اصل ترقی  اور انقلاب یہ ہے کہ  ایک بندہ، شرفِ آدمیت سے سر فراز ہو جائے۔ وہ ایک عادلانہ نظامِ حکومت کے تحت زندگی گزارے رہا  ہو جس میں اُس کے ہر قسم کے حقوق اسے مل رہے ہوں ۔ترقی کرنے کے مواقع سب کے پاس برابر موجود ہوں۔ انصاف کا بول بالا ہووغیرہ ۔ ۔چنانچہ انسانیت کے یہ عظیم محسن، اس لحاظ سے منفرد  اور ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ ان منفی عوامل کے اوپر  جو انسانی معاشرے کے اندر سرایت کر کے اِنسان کو رتبہ انسانیت سے گرا کے جانوروں سےبھی  بد تر  بنا دیتے ہیں  ،اُن کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور اُن کو ختم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ یوں وہ اِن تمام عوامل کو حتی الامکان جڑ سے ختم کر کے اِنسانیت کو جب اُس کے مقصدِ اصلی پہ لگاتے ہیں تو پورا معاشرہ نہ صرف امن، خوشحالی اور بھائی چارے کا مظہر بنتا ہے بلکہ ایسا معاشرہ ہی حقیقت میں اصل ترقی کرتا ہے جس کے اثرات ہر کوئی محسوس کرتا ہے ،اور  انسانیت اپنے اصلی محسنِ حقیقی سے متعارف ہوتی ہے۔

یہ عظیم ہستیاں  بلا تفریق  ملک ،قوم اور مذہب     ہر زمانے کے اندر نہ صرف موجود رہی ہیں بلکہ ہر قسم کی صعوبتوں ، رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اپنے حقیقی مقصد سے کبھی بھی نہ غافل ہوئیں نہ ہی کوئی بڑی سے بڑی لالچ اُنہیں اپنے کام سے ہٹا سکی۔بلکہ یہ وہ دیوانے تھے کہ جن کی راہ میں زمانہ جتنی رُکاوٹیں کھڑی کرتا تھا، وہ اتنی ہی اور زیادہ مستعدی سے اپنے کام کو سر انجام دینے میں مشغول ہو جاتے تھے اور یہ بادِ صر صر گویا اُن کیلئے  مہمیز ثابت ہوتی تھی جس کے نتیجے میں قافلہ حریت کی جمعیت   کے اندر روز بروز اضافہ ہوتا چلاجا تاتھا۔اور وہ لوگ بھی جو  عقلِ سلیم  رکھنے کے باوجود پہلے تذبذب اور گوناگوں کی کیفیت کا شکار ہوتے تھے، اُن کے قلوب کے اوپر سے شکوک و شبہات کا پردہ اُٹھ جایا کرتا تھااور وہ بھی  عزم صمیم اور قلبِ صادق کے ساتھ ایسی عظیم ہستیوں کے دامن سے وابستہ ہوکر دکھی اور غم زدہ انسانیت کیلئے مسیحائی کا فریضہ سر انجام دیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی جب اس دنیا میں پیغامِ حق لے کر آئے تو آپﷺ کے زمانے میں بھی وہی ظلم و ستم  کا بازار مکہ کے معاشرے میں گرم تھا اور ظالم بے بس لوگوں کی زندگی کو اجیرن کیے ہوئے تھے۔اور  وہ لوگ   وحشی جانوروں  سے بھی بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ سودی نظام نے امارت اور غربت کی ایک  نہ ختم ہونے والی خلیج قائم کر رکھی تھی ۔ کاروبار پر مخصوص خاندانوں کے افراد کا قبضہ تھا جو روز مرہ کی اشیاء کی ترسیل کو اپنے من مانے نظام کے تحت رکھ کر خدا کی مخلوق کو ہر روز ایک نئی اذیت سے دوچار کرتے تھے۔  خانہ خدا اور ملتِ ابراھیمی کے خودساختہ محافظ خدا کی مخلوق کو خدا کے ہی نام پر لوٹ رہے تھے۔ اس پہ مستزاد مصنوعی اور جھوٹی خاندانی عصبیت کا  وہ عفریت تھا جو عرب معاشرے کے اوپر اس شدت کے ساتھ سوار تھا کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو درجہ انسانیت تک دینے کو تیار نہ تھے۔  مصنوعی معاشرت اور خود ساختہ رسوم و رواج نے پورے معاشرے کو اس قدر زور سے جکڑا ہوا تھا کہ بعض قبیلے اپنی ناموس  اور غیرت کی خاطر اپنی نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور تک کر دیتے تھے اور چہرے پر عرقِ ندامت تک نہیں لاتے تھے۔ لوگ اعلانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کر کے اس کو فخر سے جتلایا کرتے تھے۔ مکہ کے اس معاشرے میں جہاں کچھ لوگ آزادی جیسی نعمت سے مستفید تھے وہیں اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی تھے جو نسل در نسل غلام چلے آرہے تھے اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ ان کا آقا جو سلوک ان کے ساتھ چاہتا کر دیتا اور اس کو کوئی روکنے والا نہ تھا۔معاشرے میں مظلوم کی آواز سننے اور اس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہ تھا۔غرض انسان اپنے مرتبے سے اس قدر گر چکا تھا کہ معاشرتی بہتری کی کوئی صورت بظاہر نظر نہ آتی تھی۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ کو آخر اپنی مخلوق کے اوپر رحم آیا اور اس نے اسی معاشرے کے اندر ایک ایسی ہستی کو بھیجا جو معاشرے کے تمام پسے ہوئے طبقوں کی آواز بنے۔ آپﷺ نے مکہ کے اندر اصلاحِ معاشرہ کی ایک تحریک  کیا اٹھائی ہر سلیم ا لطبع اور صاحبِ فطرت انسان آپﷺ کا ہم آواز   بنا اور اپنے آپ کو ہر لحاظ سے آپﷺ کی غلامی میں دے کر  اصلاح ِ معاشرہ کی اس تحریک کے اندر آپ کا زورِ بازو بن گیا۔ آپ ﷺ نے گویا مکہ کے اندر ایک ایسا فورم یا پلیٹ فارم لوگوں کو مہیا کیا کہ جہاں ہر مظلوم آکر آپ کے دامنِ رحمت سے لپٹ گیا اور، یوں بے نوا اور بے آسرا لوگوں کو زبان مل گئی  اور وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف متحد ہونا شروع ہوگئے۔ معاشرتی اونچ نیچ اور خدا کے نام پر مذہب کے اوپر مخصوص افراد کی اجارہ داری کے خلاف آواز  بلند ہوئی  اور پھر ایک بندے اور اس کے  خالق کے درمیان ہر رکاوٹ کو توڑا جانےلگا اور صدیوں کے بنائے ہوئے فرسودہ رسوم و رواج کے بت اپنی موت آپ مرنے لگے۔ مگر اس اصلاح ِ معاشرہ کی تحریک کے افراد کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جانے لگا جو اس سے پہلے ہر معاشرے کے اندر رہنے والے ظالم لوگ ایسی تحاریک کے متبعین کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں بشمول آپ ﷺ کے خاندان کے وہ افراد جو آپ ﷺ کے نقش ِ قدم پر تھے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے مگر اس جماعت کے پایہ ء استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ مکہ کے اندر اس زمانے کے سرکردہ لوگوں کی آپ ﷺ سے سب سے بڑی دشمنی کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ آپ ﷺ ظالم کی بجائے مظلوم کا ساتھ دیتے تھے، بے شعور لوگوں کو شعور کی دولت سے مالا مال کر رہے تھے، خواص اور عوام کے واسطے مساوی قانون کے نفاذ کی بات کرتے تھے، خدا کی تمام نعمتوں سے مستفید ہونے سے سب کا حق سمجھتے تھے، کاروبار کرنے کا حق سب کو حاصل ہے، مذہب کے نام پہ ہر قسم کی رسوم و رواج جو معاشرے کے اندر راسخ ہوچکے تھے ان کو مٹانے کی بات  کرتے تھے، غلاموں سے انسانوں جیسا سلوک کرنے اور ان کے حقوق مقرر کرنے کی بات  کرتے تھے اور   معاشرتی اونچ نیچ ختم کرکے مساوات ِ انسانی کا پرچار کرتے تھے اور انسانوں کو لسانی ، علاقائی اور قبائلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بجائے کل انسانیت کی وحدت کی بات کرتے تھے ۔ مگر جب مکہ کے اندر آپﷺ اور آپ ﷺ کی جماعت پر عرصہ ء حیات تنگ کر دیا گیا تو آپ ﷺ بمع اپنی جماعت مدینہ کی طرف ہجرت  فرماگئے اور وہاں آپ ﷺ کو جب وہ ماحول میسر آیا جو آپ ﷺ کی تمام تعلیمات کو نافذ کرنے کیلئے موزوں تھا تو پھر آپ ﷺ نے ایک نئے معاشرے اور نظام ِ سیاست کی بنیاد رکھی جو سراپا رحمت اور انسان کی خیر خواہی پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ نے کل انسانیت کو بلا تفریقِ مذہب، علاقہ  ،زبان اور قبیلہ کو ایک ہی وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔ آپ  ﷺ نے کچھ ہی عرصے میں جب مدینہ کے اندر اپنے اہداف کو حاصل کر لیا تو پھر آپ ﷺ نے بطورِ عالمی نبی کے باقی انسانیت کے حقوق کی بھی جدوجہد شروع فرمائی، اور اپنے وقت کی دو بڑی عالمی طاقتوں روم اور ایران کے سربراہان کو خطوط لکھ کر ان کو بھی ان ظالمانہ اقدامات سے باز رہنے اور اللہ کی مخلوق پہ ظلم نہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور بات کو نہ ماننے کی صورت میں ان کی سلطنتوں کے خاتمے کی خبر سنائی۔چنانچہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کی جماعت نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے اس نظام کو باقی دنیا سے بھی روشناس کروایا اور یوں جب ان دو بڑی ظالم سلطنتوں کا اس جماعت کے ذریعے خاتمہ ہوا اور ان کی جگہ نبی کریم ﷺ کا لایا ہوا فلاحی اور عادلانہ نظام نافذ ہوا ، تو ساری دنیا چاہے وہ کسی   بھی قوم، مذہب یا علاقے کی تھی سب اس نظام کی برکات سے مستفید ہوئے اور یوں دنیا جنت کا نمونہ بن گئی ۔ ایک ایسی دنیا جہاں امن تھا، خوشحالی تھی ، غلاموں ، عورتوں اور بچوں کے حقوق تھے،اظہارِ بیان کی آزادی تھی ، مذہبی آزادی اور رواداری کا دور دورہ تھا، اللہ کی تمام نعمتوں سے سارے انسان برابری کی بنیاد پرفائدہ اٹھاتے تھے غرض وہ معاشرہ ایک مثالی معاشرہ تھا جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے رکھی اور اس کی برکات سے آپ ﷺ کی جماعت نے تمام دنیا کو مستفید فرمایا ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کی تمام آل پر  اور باقی تمام انبیاء پرکہ جنہوں نے بندے کو مقامِ بندگی بتلا کر اُس کو معاشرے کا ایک اعلیٰ فرد بنایا۔ سلام اُس  دُرِّ یتیم پر جو بے آسروں کا سہارا بنا، جس نے اپنی اور پرائی کیا ،سب کی بیٹیوں کو اپنی کالی کملی میں پناہ دی۔سلام اُس مدینے کے تاجدار پر، جس نے حق دار کو اُس کا حق دلوایا۔ سلام اس بشیر و نذیر ﷺ پر جس نے ظلم کی طویل سیاہ رات کو مٹا کر عدل پہ مبنی نظام کا قیام فرمایا۔

اللھمّ صلِّ علیٰ محمد و وعلی آلِ محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم اعلیٰ آلِ ابراھیم انک حمید مجید۔اللھم بارک علیٰ محمد و علیٰ آلِ محمد کما بارکت علیٰ ابراھیم و علیٰ آلِ ابراھیم انک حمید مجید۔

abbas shad
30 January 2018

پاکستان پیپلزپارٹی کے پچاس سال ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

پاکستان پیپلزپارٹی نے گزشتہ دنوں اپنی پچاسویں سالگرہ کی تقریبات کے انعقاد کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا۔ اس جلسے نے حالیہ سیاست میں لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی بڑے عوامی اجتماعات کا اہتمام کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پچاس سال سیاست وجدوجہد میں کامیابیوں، اقتدار، جہد مسلسل، نظریات، مفاہمت، آگ وخون، قربانیوںاور بے وفائیوں کے ملے جلے واقعات سے عبارت ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں اس پارٹی کی بنیاد رکھی تو اُن کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُن کی پارٹی اس قدر مقبولیت حاصل کر لے گی۔ یہ پارٹی عوامی بنیادوں پر پاکستان کی ایک مقبول سوشلسٹ جماعت کے طور پر ابھری۔ پارٹی کا منشور بنیادی طور پر سوشلزم کے گرد تھا۔ سرد جنگ کے عروج میں ایک سوشلسٹ جماعت کا ظہور اور اس کا مقبول ہوجانا پاکستان میں کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کے دنوں میں جب پاکستان، امریکہ کا چہیتا ملک اور جنرل ایوب اس کے پسندیدہ حکمرانوں میں شامل تھے، اُن کے زمانے میں ایک سوشلسٹ جماعت کا عوامی سطح پر مقبول جماعت ہوجانا پورے ملک کے لیے حیرت انگیز واقعہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو خوش نصیب تھے کہ اُن کی جماعت کے پلیٹ فارم سے نوجوان ترقی پسند قیادت کو سیاست کے مواقع ملے۔ اور یوں پاکستان بالکل ایک نئی قیادت سے متعارف ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تمام ساتھی اپنی عمروں کی تیسری دہائی میں تھے۔ پاکستان میں اس قدر جواں سال قیادت نہ کبھی پہلے اور نہ ہی بعد میں دیکھنے کو ملی۔ جلد ہی اُن کی جماعت اقتدار کے ایوانوں تک جاپہنچی۔ یہ سب کچھ تین سالوں میں برپا ہوگیا لیکن نہ اُن کو اور نہ ہی اُن کی جماعت کی قیادت کے وہم وگمان میں تھا کہ اقتدار اور مقبولیت کی ان منازل کے بعد اُن کی سیاست، وجود، جسم اور جماعت کن کٹھن حالات کا سامنا کرے گی۔
اقتدار میں آنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اُن لوگوں کو بھی اپنی جماعت اور حکومت میں شامل کرلیا، جن کے خلاف اس پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اپنی اس مفاہمت کو انہوں نے پھانسی کی کوٹھڑی سے ایک ’’یوٹوپیائی مفاہمت‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی سنگین غلطی قرار دیا۔ پھانسی کی کوٹھڑی سے “If I Am Assassinated” میں انہوں نے اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ دو طبقات کے درمیان مفاہمت ایک سنگین غلطی ہے۔ اور یہ کہ اسی سبب میں پھانسی کی کوٹھڑی میں آج سزائے موت کا منتظر ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو دار پر چڑھا دئیے گئے تو پاکستان پیپلزپارٹی کی جدوجہد کے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا۔ یہ پارٹی کا مشکل ترین دَور تھا۔پارٹی اپنے بانی اور کرشمہ ساز رہنما سے محروم کردی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ کو پورا یقین تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسی کرشمہ ساز قیادت کے بعد پارٹی کا وجود کسی بھی طرح برقرار نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہ معجزے نہیں بلکہ جدوجہد کے سبب ممکن ہوا کہ پارٹی کے کارکنوں نے پارٹی کا وجود اپنی جہد مسلسل اور جبر کا مقابلہ کرکے برقرار رکھا۔ بلکہ پارٹی کے کارکنوں کی دل گرما دینے والی جدوجہد جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں، نے پارٹی کی بانی رہنما نصرت بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کی قیادت کو منوانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ایک فوجی آمریت اور مردانہ معاشرے میں دو خواتین کی قیادت کے ہاتھوں سیاسی پارٹی کا پرچم سربلند رکھنے میں فیصلہ کن کردار پارٹی کے کارکنوںکے ہی مرہونِ منت ہے۔ مغرب میں اس بات کو بڑی حیرانی سے دیکھا جاتا ہے کہ پاکستان جیسے مردانہ معاشرے میں بے نظیر بھٹو جیسی نوجوان لڑکی کیسے وزیراعظم بن گئیں۔ متعدد لوگ اس کو ایک Feminist کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں جوکہ سراسر غلط ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کسی Feminist جدوجہد نہیں بلکہ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی مقبول رہنما بننے میں کامیاب ہوئیں۔ اُن کا سیاسی اعتماد درحقیقت پارٹی کے جانثار کارکنوں کی جدوجہد میں پنہاں تھا جس میں ہزاروں کارکنوں نے کوڑے اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد عقوبت خانوں میں پابند سلاسل کیے گئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے یہ کارکن درحقیقت اپنے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو کے عشق اور اس کے نظریے سے گندھ کر آمریت اور مرد معاشرے میں صف آراء ہوئے اور انہوں نے ایک نہتی لڑکی (بے نظیر بھٹو) کو پاکستان کی مقبول لیڈراور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب کروانے تک جدوجہد کی عظیم منزلیں طے کیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا وہ کیڈر جو ذوالفقار علی بھٹو نے 1966-67ء کی عوامی تحریک اور بعد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بطن سے جنم دیا، اس نے پارٹی کے بانی قائد کے قتل کے بعد پارٹی کو زندہ رکھا اور ایک خاتون کو پاکستان کی سیاست کا اہل ہی نہیں بلکہ مقبول لیڈر بنا ڈالا۔ یہ تمام تر کریڈٹ پارٹی کے کارکنوں کو جاتا ہے اور اس میں اہم ترین کردار پنجاب کے کارکنوں نے ادا کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ، اپریل 1986ء میں وطن واپس لوٹیں تو پاکستان پیپلزپارٹی کے جلوس میں یہ واشگاف نعرہ لگ رہا تھا، بے نظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے۔آگ و خون کا دریا عبور کرنے والا یہ کیڈر پاکستان کو جنرل ضیا کی آمریت ہی نہیں بلکہ پاکستان کو اس نظام سے نجات دے گیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی اصل طاقت یہ کارکن ہی تھے جنہوں نے لندن سے جلاوطنی کے بعد پاکستان آنے پر بے نظیر بھٹو کو خمینی اور کوری اکینو سے بھی بڑا استقبال دیا۔ پاکستان میں پُرامن انقلاب کے لیے پارٹی کا کیڈر اس استقبال کے بعد جس اعتماد کا مظاہرہ کررہا تھا، جلد ہی اس میں دراڑیں پڑنی شروع ہوگئیں۔ پیپلزپارٹی کا بنیادی اثاثہ یہ کارکن ہی تھے، وہ پارٹی اور عوام میں پُل بھی تھے۔ اُن کی جدوجہد کی داستانوں نے گھر گھر لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ اپنے جسموں پر کوڑے، خود کو نذرِآتش کرنے، سولی پر چڑھنے سے لے کر ہزاروں عقوبت خانوں میں ہزاروں راتیں اور دن اِن کی عظمت کی گواہ تھیں۔ پارٹی کا یہ کیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں اُن کے نظریے اور اُن (عوام) کے لیے سولی پر چڑھ جانے کے سبب لازوال قربانیوں کو تاریخ کا حصہ بنا گیا۔
10اپریل 1986ء کو پیپلزپارٹی نے درحقیقت ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ مفاہمت کا سفر۔ شام کو مینارِ پاکستان پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر۔ ضیا جاوے ای جاوے کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اس دوران پارٹی کے کارکن سامراج کے پرچم اور جاگیرداری کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے۔ اس مفاہمت کے سفر میں 1988ء میں پاکستان پیپلزپارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں حکومت بنائی تو پارٹی اور حکومت میں اب وہ لوگ معزز ٹھہرے جن کے خلاف پارٹی کے جیالے کارکنوں نے 1977ء سے 1986ء تک حیران کردینے والی جدوجہدکی تھی۔ مفاہمت کی اس سیاست کو 1990ء میں پہلی ہزیمت اٹھانا پڑی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت اپنی مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی ختم کردی گئی۔ اب پاکستان پیپلزپارٹی ایک بدلتی پارٹی تھی۔ مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی Towering شخصیت کی طاقت نے پارٹی کے وجود کو طاقت فراہم کیے رکھی۔ اسی مفاہمتی سیاست میں 1993ء میں دوسری حکومت قائم ہوئی جو 1997ء میں ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ نے ختم کردی۔ اس بار پارٹی کو دہرا نقصان ہوا۔ حکومت بھی گئی اور بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ وہ سرِبازار قتل کردئیے گئے۔ بے بس حکومت کچھ دنوں بعد رخصت ہوئی۔ اب پی پی پی اس پارٹی سے کہیں مختلف تھی جو 1967ء ، 1977ء سے 1986ء تک دبنگ عوامی آواز کو بلند کرتی تھی۔ پارٹی میں بڑے بڑے جاگیردار اور آمرانہ ادوار کے ’’اہم لوگ‘‘ اس کے قائدین میں شمار ہونے لگے۔ محترمہ دوبارہ جلاوطنی پر مجبور ہوئیں۔ تقریباً دس سال بعد واپس وطن لوٹیں تو 18اکتوبر 2007ء کو قاتلانہ حملے میں بچ گئیں۔ وہ اس بار بڑی مفاہمت کا پرچم بلند کرنے واپس وطن لوٹی تھیں۔ فوجی حکومت سے این آر او، مخالف جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے چارٹر آف ڈیموکریسی اور عالمی طاقتوں سے متعدد معاملات پر یقین دہانیاں۔ مگر مفاہمت کا پرچم سربلند کیے محترمہ بے نظیر بھٹو سرِبازار شہید کردی گئیں۔ اُن کا خون جس بے دردی سے کیا گیا، وہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ وہ اُسی شہر میں قتل کی گئیں جہاں اُن کے والد کو سولی پر چڑھایا گیا تھا۔ مفاہمت درمفاہمت کے اس سفر میں 2008ء میں اُن کی پارٹی کو اقتدارتو ملا، لیکن پارٹی، ذوالفقار علی بھٹو کا نظریہ اور پارٹی کا کیڈر معدوم ہونے لگے۔ اور پھر 2013ء میں جو ہوا، وہ سب کو یاد ہے۔ پچاس سالوں کا یہ سفر، اب لوگوں کو کدھر لے چلے گا؟ کیا پیپلزپارٹی، ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات کے عین مطابق سیاسی پرچم بلند کرے گی۔ کیا پارٹی اپنی مقبولیت بحال کرپائے گی یاکہ ایک بار پھر مفاہمت اور اقتدار؟ دیکھئے کیا ہوتا ہے!

 

admin
30 January 2018

ٹرمپ، نیتن یاہو اور اسرائیلی دارالحکومت ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس فیصلے کو مدنظر رکھا جائے تو ان کے بارے میں متعدد باتیں سامنے آتی ہیں۔ یہ کہ وہ مایوس کن طور پر اپنی بنیاد مضبوط بنانا چاہتے ہیں جو کہ اُن عیسائی انتہاپسندوں پر مشتمل ہے جو اسرائیل کی بلاحجت کے حمایت کرتے ہیں۔ یہ کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان “The Ultimate Deal” میں ٹرمپ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں امریکہ کے قریب ترین حلیفوں کی رائے کا بھی کوئی احترام نہیں۔ بین الاقوامی قانون کے متعلق انہیں کچھ علم نہیں۔ انہیں بیرون ملک امریکی عملے کے تحفظ کی کوئی پروا نہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات ومسائل کی پیچیدگیوں کا فہم رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے سمجھنے میں انہیں کوئی دلچسپی ہے۔ تمام انسانوں کے برابر انسانی حقوق پر بھی اُنہیں کوئی یقین نہیں۔
ٹرمپ کے اس اعلان پر جن اقوام کے رہنمائوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اُن کی فہرست میں وہ ممالک تو شامل ہیں ہی جنہیں امریکہ ’’دشمن‘‘ خیال کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اہم حلیف ممالک بھی اس میں شامل ہیں۔ اردن، مصر، سعودی عرب، ایران، شام، روس، ویٹی کن، ترکی، جرمنی، فرانس اور یورپی یونین سب نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ حتیٰ کہ امریکی حکومت کے ماہرین نے بھی اس کے نتیجے کے طور پر پوری دنیا میں شدت پسندی بڑھنے کا انتباہ کیا ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں۔ ہر ذہن میں یہی سوال اٹھتا ہے کہ اس تبدیلی سے سوائے اسرائیل کے، کسی کو بھی کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں حالیہ تنائو میں محض اضافے کا سبب بنے گا، شدت پسندی کے خطرے کو بڑھائے گا، دو ریاستی حل کو مزید مشکل بنا دے گا، امریکہ مخالف دہشت گردوں کی بھرتیوں میں اضافہ کا باعث بنے گا، امریکہ کے حلیفوں کو اس کا مخالف بنائے گا اور امریکہ کی دنیا بھر میں پہلے سے بدتر ساکھ کو مزید بدتر کرے گا۔ اس امریکی فیصلے کو صرف اسرائیل میں ہی ایک اچھی خبر کے طور پر سنا گیا ہے۔
اور بین الاقوامی قانون کا کیا ہوگا؟ اسرائیل نے 1980ء میں یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہتے ہوئے مذمت کی۔ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد کبھی بھی فسخ یا تبدیل نہیں کی گئی۔یوں امریکی صدر ٹرمپ، اسرائیل کے 1980ء کے اعلامیے سے اتفاق کرکے امریکہ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی طرف لے جارہے ہیں۔متعدد اسرائیلی لابیوں کے دبائو کے سامنے ہار مان کر امریکی کانگرس نے 1995ء میں یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس قانون سازی میں یہ بھی شامل تھا کہ امریکی صدر ہر چھے مہینے بعد اس اقدام کے التوا کے لیے ایک Waiver یعنی قانون کے نفاذ سے دستبرداری کے حکم پر دستخط کرے گا۔ تب سے ہر امریکی صدر، جارج بش، بل کلنٹن اور بارک اوباما۔۔۔ نے سیکیورٹی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے Waiverپر دستخط کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ وہ تحفظات اب موجود نہیں، بلکہ وہ ایک غلط مشورہ دئیے گئے اقدام کی طرف پیش رفت کررہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ اپنے اسرائیلی ہم منصب قاتل اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرح کوئی پسندیدہ مقام نہیں رکھتے۔ ایک خصوصی پراسیکیوٹر نے ٹرمپ کے کچھ سابقہ کیمپین آفیشلز کو ملزم ٹھہرایا ہے اور ان کے سابقہ قومی سلامتی کے مشیر ایف بی آئی سے جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو بھی کئی قسم کے ممکنہ جرائم پر زیرتفتیش ہیں۔ ٹرمپ کی پسندیدگی کی شرح مسلسل 40فیصد سے کم ہے۔ ان دونوں بدعنوان اور اناپرست شخصیات کے لیے یہ اقدام وقتی طور پر لوگوں کی توجہ بٹانے کا باعث ہے، اور ایسا اقدام جو ان کے حامیوں کو پُرجوش کرے گا۔ نیتن یاہو کے لیے وہ حامی اسرائیل کی جنونی نسل پرست صیہونی آبادی ہیں۔ ٹرمپ کے لیے وہ نسل پرست بنیاد پرست عیسائی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خدا یہودیوں کو کچھ مخصوص جائیدادیں بخشنے والا کوئی سٹیٹ ایجنٹ ہے ۔
اسرائیلی لیڈرز ایک عرصے سے اس سفارتی اقدام کے متمنی تھے، نیتن یاہو اِسے اپنی کامیابی کے طور پر دیکھے گا۔ جبکہ یہ اقدام اسرائیل کے انتہائی اہمیت کا حامل تھا، امریکی صدر ٹرمپ نے اس کے بدلے میں اسرائیل سے کسی بڑی رعایتوں کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ گزشتہ پانچ برسوں میں کی گئی تمام تعمیراتی آباد کاریوں کا خاتمہ، غزہ کی پٹی کے محاصرے کا خاتمہ، مغربی کنارے سے تمام چیک پوائنٹس کا خاتمہ، ایسے مطالبات تھے جو امریکہ کرسکتا تھا لیکن اس نے نہیں کیے۔ امریکی صدر نے بار بار دہرایا کہ وہ Deal-makerہیں۔ آخر وہ کب ادراک کریں کے کہ نیتن یاہو نے انہیں دراصل اُلو بنایا ہے۔آگے جو ہوگا، اس کا اندازہ کوئی بھی کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کریں۔ان ممالک کے رہنما یہ سوچ سکتے ہیں کہ امریکہ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد بہتر یہی ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔ یہ فلسطینیوں کے لیے ایک اور المیہ ہوگا۔ تاہم، بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے والے ممالک اس اقدام کے خلاف مزاحمت کرسکتے ہیں۔ لیکن دوسرے اقدامات اتنے ناموافق نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرب ممالک جو ابھی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں اور ایران مخالف انٹیلی جینس ان روابط کو ختم یا انتہائی کم کردے۔ ایسی پیش رفتیں اسرائیل کے لیے بے حد اہم ہیں، نہ صرف فوجی اور اقتصادی مقاصد کے لیے بلکہ پبلک ریلیشنز وجوہات کے باعث بھی۔ اسرائیل کو حاصل یہ فوائد ختم ہوسکتے ہیں۔
دنیا بھر میں امریکی عملے اور تنصیبات کے خلاف شدت پسندی ابھر سکتی ہے جس پر ٹرمپ کو مسلمانوں کی مذمت کے مزید بہانے مل جائیں گے لیکن یہ امریکہ کے لیے عوامی روابط کی سطح پر ایک ڈرائونا خواب بھی ہوگا۔ اور ان سب ممکنہ واقعات کا سبب براہِ راست طور پر امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے جنہوں نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ٹرمپ کی نااہلی کو نمایاں کرتا ہے بلکہ ان کے اس یقین کو بھی کہ تمام برعکس ثبوت کے باوجود وہ سب کچھ جانتے ہیں اور خود ان کے مشیر اور دنیا بھر میں حلیف اُن کے نزدیک کوئی معانی نہیں رکھتے۔
امریکہ کبھی بھی فلسطین اور اس کے غاصب قابض اسرائیل کے درمیان ایک ایمان دار بروکر نہیں رہا۔ شاید اب باقی ممالک فلسطینیوں کو انصاف دلانے کی خاطر قدم آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے، ضرورت صرف اتنی ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کرے، جس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی اُن تمام زمینوں سے نکل جائیں جن پر 1948ء کے بعد غاصبانہ قبضہ کیا گیا، تمام چیک پوائنٹس کو ختم کریں، غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کریں، تمام فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین پر واپس لوٹنے کا حق دیں اور مصر اور فلسطین کے درمیان سرحد کھول دیں۔ ایسے بہت سے ممالک ہیں جن کے رہنما آگے بڑھ کر وہ سب کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو امریکہ کبھی کرنا ہی نہیں چاہتاتھا، فلسطینیوں کے لیے انصاف کا حصول۔ اب وقت ہے کہ وہ رہنما آگے بڑھیں اور تاریخ میں اپنا مقام پالیں۔

 

admin
25 January 2018

مشرقی اقوام کی صنعتی، سماجی، اور سیاسی ترقی (حصہ دوم) ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

جنگ عظیم دوم سے پہلے اور بعد کے دور میں دنیا یکسر بدل گئی، لیکن جن خطوں میں غلامی زیادہ عرصہ تک قدم جمائے رہی ان قوموں میں معاشی، انجینرنگ، اور ٹکنالوجی کے ادارے پنپ نہ سکے۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی نظام تھے۔ شمال مشرقی ایشیاء کے مملالک جن میں کوریا، جاپان، تائیوان اور چین شامل ہیں، میں بیرونی مداخلت تو تھی، لیکن یہ ممالک مکمل طور پہ غلام نہ بنے۔ اس وجہ سے وہاں کے مزاج قومی رہے اور اپنی ایک مخصوص سوچ رہی۔ اگرچہ کوریا کچھ عرصے (35 سال، 1910-1945ء) تک جاپان کا غلام رہا، لیکن یہ کوئی اتنا بڑا وقت نہیں تھا، جس میں جاپانی ان کے سماجی نظام میں سرائیت کر سکتے، ان میں فرقے اور گروہ بنا کر ان کو ذہنی غلام بنا سکتے۔ یہ قومیں اس دور کی صنعت و تجارت میں غالب تو نہ تھیں، لیکن 1800-1945ء کے دوران جو بھی صنعتی تبدیلیاں آئیں ان کا حصہ رہیں اور ساری صنعتوں کے ماہرین کسی نہ کسی صورت میں اس شمال مشرقی خطے میں موجود تھے۔

 ان ممالک کے برعکس جنوبی ایشیاء کے اندر انگریز سماج مکمل طور پہ گھس کر ان میں گروہ پیدا کر چکا تھا۔ یہ سب گروہ آپس میں لڑتے تھے اور انگریز کی پالیسیوں کے خلاف متحد نہیں ہوتے تھے۔ انگریزوں کی اس پالیسی کی بدولت جہاں جنوبی ایشیاء کا مزاج، سماج، معاش، اور صنعتی ادارے تباہ ہو گئے۔ صنعت کو ختم کر دیا گیا، ذہن کو مکمل طور پہ انگریزی اور انگریز سے مرعوب کروا دیا گیا، اور جہالت انتہا کو پہنچ گئی۔ جب انگریز جنوبی ایشیاء سے گیا تو یہاں کی شرع خواندگی صرف 8-12 فیصد تھی، جب کہ اس وقت برطانیہ کی شرع خواندگی 90 فیصد تھی۔ حالانکہ یہاں کے سماج کو ترقی دینا برطانیہ کی ذمہ داری تھی۔ جنوبی ایشیاء کے سماج کو اوپر اٹھنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑی۔ لیکن چونکہ یہاں پہ ادارے کمزور تھے اور ایسے خاندان اقتدار میں آگئے تھے، جن کی تربیت میں قومی مزاج نہ تھا۔ ان کے اپنے فیوڈل مفادات تھے جس کی وجہ سے کوئی ایک سیاسی طاقت نہ بن سکی۔ پاکستان کے دفاعی اداروں کو بھی قومی مزاج بنانے میں 50 برس بیت گئے۔  کوریا کی طرح فوجی حکمران کا مزاج بھی مشرف سے پہلے اتنا قومی نہ تھا اور ان کے ادوار بھی کوئی بریک تھرو پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

جنوبی ایشیاء سے قدرے بہتر لیکن شمال مشرقی ایشیاء سے بہت پیچھے، جنوب مشرقی ایشیائی اقوام، جن میں تھائی لیںڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، ویت نام، تائیوان، اور فلپین شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر ممالک بھی زیادہ عرصے تک یورپ کے غلام رہے۔ ان کے سماج میں بھی رجعت پسندی تھی۔ جب آزادی ملی تو ان کے ادارے بھی اتنے مضبوط نہیں تھے، وجہ وہی سماجی گروہ بندیاں۔ ملائیشاء میں چینی اور مالے نسل کے درمیان مسائل تھے۔ ملائیشیا کو تقسیم کر کے سنگاپور الگ کرنا پڑا۔ کثیر النسل اور کثیر المذاہب خطے کو سمیٹنے اور ان کے وسائل کو چینل کرنے میں ان کو اتنا وقت لگا کہ ان سے پہلے جنوبی کوریا اپنے برائنڈ بنا چکا تھا۔ جب مہاتیر محمد کو اقتدار ملا، تو اس نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا، وہاں کی صنعت اور معاشی اداروں کی پالیسیوں کو دیکھا۔ ملائشیاء جا کر اس نے اپنے وژن کے مطابق پالیسیاں بنائیں۔ ملائیشیا نے پروٹان کار برانڈ متعارف کرایا، لیکن وہ 2001 ء میں ہوا۔ ان کے مقابلے میں کورین پہلے ہی اپنے برانڈ متعارف کروا چکے تھے۔ اگرچہ کوریا کی ترقی میں بالواسطہ طور پہ امریکی آشیرباد ضرور رہی ہے، لیکن کورین سماج کی اپنی محنت اور نظم کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انڈونیشیاء بھی کئی یورپی طاقتوں کا غلام رہا، جن میں پرتگیزی، برطانوی، اور فرانسیی شامل تھے۔ وہاں کے لوگوں میں بھی بہت زیادہ سماجی مسائل تھے، جن میں ایک وصف کام چوری، اور بدیانتی تھا۔ آزادی ملنے کے بعد سکارنو نے جو پالیسیاں بنائی، جن خاندانوں یا اشخاص کو سرمایہ داری کمپنیاں سونپی، ان میں اوم لیم اور سورے یادجایاس ہیں۔ انہوں نے فراڈ کیئے اور قومی بنکوں سے جو پیسہ ملا ان سے اہم صنعتیں لگانے کی بجائے پیسے کو عام کاروباروں میں لگایا، جس سے نئی ٹکنالوجی پیدا نہ ہوئی اور نہ ہی ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ اوم لیم نے تو قومی بنکوں سے بہت سارا پیسہ لے کر سیاسی لوگوں کو رشوت بھی دی اور فرضی پراجیکٹس بھی بنائے۔ انڈونیشیاء کی مثال پاکستان کے سرمایہ داروں جیسی لگتی ہے۔ اگرچہ کورین کمپنیاں بھی سرکاری مال ہڑپ کر کے ہی بنی لیکن ان کے مالکوں نے ٹکنالوجی بنائی بھی اور چرائی بھی، نتیجہ اچھا رہا تو ان کی طرف کسی نے شور نہیں مچایا۔ (سرمایہ داری نظام میں کمپیناں کھڑی تو سرکاری پیسے سے ہوتی ہیں، لیکن بعد میں سرمایہ دار سب کحچھ اپنی محنت کا پھل قرار دیتا ہے۔ جیسے پاکستان میں ایم- سی-بنک کو میاں منشا کو دیا گیا، لیکن میاں صاحب نے بھی ابھی تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی پیدا نہیں کی-)

فلپین کی تاریخ بھی بیرونی مداخلت سے بھری پڑی ہے۔ فلپین 1521ء میں سپین کی کالونی بن گیا، پھر 1849ء میں سپین امریکہ سے ہار گیا اور امریکہ فلپین کا آقا بن گیا۔ 1946ء میں فلپین ایک آزاد قوم بن گیا، لیکن یہاں کا سماج اپنی آزادانہ سوچ کھو بیٹھا تھا۔ بیرونی حکومتوں نے یہاں پہ سماجی بہتری کا کوئی پروگرام نہ بنایا، جس کی وجہ سے یہاں کی فطرت مسخ ہو چکی تھی۔ پالیسیاں بنانا اور ان پہ عمل نہ کرنا ان کا وتیرہ ہے۔ کئی دفع زمیںی اصلاحات کا قانون پاس کیا گیا، لیکن عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہاں کا سماج ایسے حکمران اور تحریکیں پیدا کرنے سے قاصر رہا جن میں قوت ارادی مضبوط ہو۔ اس کی بنیادی وجہ غلامی کے دور میں منشیات کا وسیع کاروبار تھا۔ مزاج جب جسم یا نشے کا عادی ہو جاتا ہے تو سستی آ جاتی ہے۔ یہ فلپینی قوم کا جذباتی تجزیہ ہے اور اس کی جڑیں غلامی کے دور میں رکھی گئی تھیں۔

ویت نام میں بھی یورپی مداخلت اور بزور طاقت اپنے عقیدے کو مسلط کرنے کی پالیسی 1787ء سے شروع ہو گئی تھی۔ بعد میں ویت نام فرانس کی کالونی بن گیا۔ فرانسیسی اقتدار 1954ء تک جاری رہا۔ آزادی کے بعد ویت نام ایک بار پھر (1964-1973ء) امریکی استعمار کا شکار رہا۔ ویت نام کے اداروں کو مظبوط ہونے میں بھی وقت لگے گا، کیونکہ یہاں کا سماج بھی زرعی دور کی سوچ کو ختم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوا ہے۔

اس ساری بحث سے جو درج ذیل اصول اخذ ہوتا ہے۔

اصول نمبر 3:غلامی قوم کے مزاج پہ اثر انداز ہو کر قوم پہ ایسے لوگ مسلط کروا دیتی ہے، جو قوم کو جاہل، سست، جسم پرست، مادہ پرست، اور علم دشمن بنا دیتے ہیں۔ غلامی قوموں میں فرقے، گروہ، اور نسلوں کو لڑوا کر ان کی طاقت ایک متفقہ اجتماعی منزل سے دور کر دیتی ہے،  اور قومیں انفرادیت پسندی کا شکار ہو کر اجتماعی منزل کی طرف آتے آتے کئی نسلیں لگا دیتی ہیں۔

     (جاری ہے۔۔۔۔۔)

حوالہ جات

  1. Studwell J (2013) How Asia works: Success and failure in the world’s most dynamic region. Grove/Atlantic, Inc.
abbas shad
20 January 2018

تایا کندھ پاڑ‘‘ ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء پاکستان پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے خصوصی طور پر سخت گیر دورِحکومت تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں کالعدم کی گئیں، مگر کسی بھی شخص کا اگر تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ثابت ہوجاتا، بس اس کی خیر نہیں۔ معروف سیاسی قہوہ خانوں بشمول پاک ٹی ہائوس، چائنیز لنچ ہوم، تب سیاسی بحثوں کے لیے خطرناک جگہیں تھیں۔ خفیہ والے ایسے مقامات کی ہروقت نگرانی کرتے تھے۔ ایسے میں مختلف سیاسی کارکنوں کے متعدد خفیہ ڈیرے تھے جہاں وہ اکٹھے ہوتے۔ معروف اور سرعام جگہ تو لاہور ہائی کورٹ کے اندر بوڑھ کے درخت کا سایہ تھا جہاں ہر روز مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی کارکن اکٹھے ہوتے۔ جو کوئی زنداں سے رہائی حاصل کرتا، سیدھا وہیں آتا۔ اگر یہ کہوں کہ لاہور ہائی کورٹ کے بوڑھ کے درخت کا سایہ اس وقت پاکستان میں واحد اور سب سے بڑا مقام تھا جہاں ہر روز سیاسی اکٹھ ہوتا تھا، تو غلط نہ ہوگا۔ بڑے بڑے سیاست دان بھی وہیں آکر بیٹھتے۔ اسی درخت کے سائے تلے جنرل ضیا کے دورِآمریت میں پاکستان میں وکلا کی تحریک نے جنم لیا، جن میں محمود علی قصوری اور سید افضل حیدر نمایاں تھے۔ اسی وکلا تحریک نے ضیائی آمریت کے خلاف پہلا جان دار مظاہرہ کرکے آمریت کے سکوت کو توڑا، اسی وکلا تحریک کے بطن سے ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) اور گیارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جنم لیا۔ یوں لاہور ہائی کورٹ کا بوڑھ کا یہ درخت پاکستان میں سرعام (یعنی زیرزمین) سیاسی سرگرمیوں کے مقابلے میں سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا۔ یہاں نواب زادہ نصراللہ خان، شیرباز مزاری، ملک محمد قاسم، رائو رشید، غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان سے لے کر لاتعداد معروف سیاسی کارکن آئے۔ یہ سیاسی اکٹھ ہرروز ہوتا۔ یہاں زندانوں سے رِہا ہوکر آنے والے بھی آتے اور کئی بار غیرقانونی طور پر عدالت کی حدود کی دھجیاں اڑا کر مختلف سیاسی کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہاں بڑے بڑے دانشور بشمول حبیب جالب، شاعر، ادیب اور نثار عثمانی جیسے معروف صحافی بھی آتے جو ضیا آمریت کے خلاف سینہ سپر تھے۔ اور اسی کے ساتھ یہاں تمام ریاستی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے کارندے بھی موجود ہوتے اور اُن کے ٹائوٹ بھی جن کو باقاعدہ پے رول پر مختلف خفیہ ایجنسیوں نے Engage کرکے رکھا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے بوڑھ کے درخت کا سایہ اسی طرح جنرل ضیا کے دورِآمریت میں سیاسی کارکنوں کا سب سے بڑا Hub تھا۔ دوسرے صوبوں کے سیاسی کارکن بھی یہیں آکر بیٹھتے، ملتے اور رابطے کرتے۔
لاہور میں سیاسی کارکنوں کے مختلف دائرے تھے۔ اور یوں ہر سطح کے دائروں کے آپس میں رابطے بھی تھے۔ انہی سیاسی کارکنوں کے دائروں میں ایک مخصوص دائرہ ہمارا بھی تھا جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ کارکن شامل تھے جن کا تعلق بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید سے تھا اور ان میں دیگر ترقی پسند کارکن اور دانشور بھی شامل تھے۔ میں اس خاص سیاسی دائرے کا ایک متحرک سیاسی کارکن تھا۔ شہر میں ہم لوگ مختلف مقامات پر جدوجہد برپا کرنے کے لیے خفیہ مقامات پر میٹنگز تو کرتے، مگر اس کے ساتھ ہم نے ایسے قہوہ خانے بھی تلاش کرلیے، یعنی کئی غیرمعروف تھڑا ٹی سٹال جو خفیہ اداروں کی رسائی سے باہر تھے۔ اس لیے کہ وہ غیر معروف تھے۔ انہی میں ایک تھڑا ٹی سٹال جدوجہد کے ساتھی طلعت پرویز نے تلاش کیا جو گلبرگ میں شیرپائو پُل کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے (یقینا سرونٹ کوارٹر) میں رہتا تھا۔ بڑے سے بنگلے کا نہایت چھوٹا سا کمرا۔ طلعت پرویز کمال کا مصور ہے۔ معروف پاکستانی کارٹونسٹ فیقا کا دوست۔ اسی کی وساطت سے میرا بھی فیقا سے تعارف ہوا۔ ہم لوگوں نے طلعت پرویز کی رہائش کے قریب شیرپائو پُل کے نیچے ایک تھڑا ٹی سٹال پر رات کو محفلیں سجانا شروع کردیں جہاں گلبرگ کے فیکٹری ایریا کے مزدور چائے پینے آتے تھے۔ اب یہی ہمارا پاک ٹی ہائوس تھا اور یہی چائنیز لنچ ہوم۔ اِن محفلوں، فیقا، معروف ترقی پسند صحافی مرحوم زبیر رانا، خالد بٹ، حیدر رضوی مرحوم اور دیگر جدوجہد کے ساتھی شام گئے اس ٹی سٹال پر اکٹھے ہوتے اور دنیا بھر کی سیاست پر کھل کر بحثیں کرتے۔ چائے فروش چاچا، بلدیہ لاہور کی حدود میں والٹن ریلوے کی دیوار کے ساتھ چائے کا پھٹہ اور لکڑی کے دوپرانے بنچ رکھ کر رات گئے چائے فروخت کرتا۔ اور ہم رات گئے سیاسی، علمی، فکری بحثیں کرتے۔
خفیہ داراوں کی آنکھوں سے اوجھل اب یہ ہمارا پیرس کے معروف عام کیفے ڈی فلورا سے کچھ کم نہ تھا۔ ہم ہر موضوع پر کھل کر بات کرتے۔ چاچا چائے فروش بھی ہماری بحث سے لطف اندوز ہوتا اور ملوں کے مزدور بھی جو یہاں چائے پینے آتے تھے۔ زبیر رانا، طلعت اور مجھ سمیت سب کے گھر یہاں سے پیدل مسافت پر تھے۔ کبھی کبھی تو یہ محفل صبح فجر کی اذانوں پر منتشر ہوتی۔ آزادیٔ اظہار کے لیے ہمارا ’’کیفے ڈی فلور‘‘ اب ہماری آزاد جنت تھی۔ پاک ٹی ہائوس اور ایسے دیگر مقامات تو فوجی آمریت نے بانجھ کردئیے تھے۔ اس تھڑا ٹی سٹال کے علاوہ اندرون شہر کے میرے کارکن ساتھی، رنگ محل اور موچی گیٹ کے اندر بھی مختلف تھڑوں پر رات کو سیاسی اکٹھ کرتے۔ مگر وہاں گفتگو دانش کی خاص حدود تک ہوتی۔ ریلوے کی دیوار کے ساتھ اس تھڑا ٹی سٹال پر ہم اُن موضوعات پر بھی بحثیں کرتے جن پر اب سماج نے قدغن لگا دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت ریاست کی طرف سے خوف اور خطرات زیادہ تھے، اب سماج کی طرف سے خطرات زیادہ ہیں۔ تب آپ گرفتار کیے جاتے، مقدمات درج ہوتے اور زندانوں میں ڈال دئیے جاتے تھے اور اب موقع پر ہی Lynch کر دئیے جاتے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ کب گولی آپ کے جسم میں پیوست کردی جائے اور گولی مارنے والا قاتل، ہیرو قرار دے دیا جاتا ہے۔
ایک روز طلعت پرویز نے بڑے دکھ سے اطلاع دی کہ ’’یار فرخ، بلدیہ والے تجاوزات قانون کی خلاف ورزی پر چاچے کا پھٹہ اور بنچ اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘‘ ہماری لیے یہ خبر بڑی افسوس ناک تھی کہ ہم اب آزادیٔ اظہار کے لیے محفلیں کہاں برپا کریں گے۔ طلعت نے جب مجھے فون کیا، اس کی آواز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ اس نقصان سے جذباتی حد تک متاثر ہوا ہے۔ میرے دل کی دھڑکنیں بھی اس افسوس ناک خبر سے متاثر ہوئیں۔ اب کیا ہوگا۔ چند روز ایسے ہی گزرے، پھر ایک دن طلعت پرویز کا فون آیا۔’’فرخ، فرخ، خوشخبری! چاچے نے اپنا چائے کا پھٹہ پھر سے کھول لیا ہے۔میں رات وہاں سے گزر رہا تھا۔ مزا آگیا۔ آج رات ہم ملتے ہیں۔‘‘جب ہم رات کو چاچاچائے کے ہاں محفل سجانے پہنچے تو ہم چاچے کی دانش اور قانون سے کھیلنے کی صلاحیت کی داد دئیے بغیر نہ رہ پائے۔ بلدیہ لاہور نے اس کا ادھورا کھوکھا تجاوزات کے قانون کے تحت ختم کیا۔ چاچے نے کمال کردیا۔ دیوار کے اندر سوراخ کرکے اس نے اپنا پھٹہ ریلوے کی حدود میں لگا لیا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ اب آئے ناں لاہور بلدیہ۔ کھوکھا لاہور والٹن ریلوے سٹیشن کی حدود میں اور گاہکوں کے دو بنچ شام کو دیوار کے اس طرف لگا دئیے۔ ہمارے لیے چاچا ٹی سٹال کی بحالی کسی بڑی خوشی سے کم نہ تھی۔ محفل لگی اور پھر محفلیں دوبارہ جمنا شروع ہوگئیں۔ بیٹھے بیٹھے ایک شام طلعت نے ایک شان دار شاہکار اپنی مصوری سے تخلیق کیا۔ چاچا لاہور بلدیہ کی حدود کے اُس طرف (والٹن ریلوے سٹیشن) اور اُس کا ہاتھ دیوار کے اِس طرف ہمیں چائے Serve کررہا ہے۔ طلعت ہی نے اب اس چائے خانے کو نام دیا۔ مصور کی مصوری کے بعد اُس نے اسے قرار دیا، تایا کندھ پاڑ (تایا دیوار پھاڑ)۔ بس پھر ہم روز اکٹھے ہوتے تایا کندھ پاڑ ٹی سٹال پر۔ آزادیٔ اظہار کی جنت، خفیہ والوں کی نظروں سے اوجھل۔ بحثوں کا مرکز۔ شام گئے بیٹھنا اور رات ڈھلے منتشر ہوجانا۔ طلعت پرویز کا مصورانہ قرار دیا لقب، ’’تایا کندھ پاڑ‘‘ لاہور کے ان چنیدہ دانشوروں میں خوب معروف ہوا، جب پاک ٹی ہائوس جیسے قہوہ خانوں کو آمریت نے سیاسی وفکری بحثوں کے حوالے سے بانجھ کردیا۔

 

abbas shad
18 January 2018

سوروپے کا سکہ ۔۔۔ اختراورکزئی

اس سے جہاں ایک طرف میرے۔۔۔
“اسلامی اسلامی ” بھائیوں کو تکلیف ہوئی ہے کہ :
“یہ بڑا برا ہوا۔۔۔
اس سے پاکستان کی حیثیت مجروح ہوئی ۔۔۔۔
انیس سو ترہتر کے آئین کی مخالفت ہوئی۔۔
یہ لبرلزم اور سیکولرازم کا کیا دھرا ہے ۔۔”
وہاں دوسری طرف اس مظہر کو سچ و حقیقت کی طرف اک اقدام قراردیا جارہا ہے ۔۔۔
ویسے مجھے نہیں پتہ، میرے علاوہ اور کون کون ہیں جو اس پر خوش ہیں، یا اسے سچ و مبنی بر حقیقت سمجھتے ہیں۔۔۔
لیکن یقین کیجئے اس سے میری صداقت مزاجی کو یک گونہ تسکین ملی ہے ۔۔۔
میرے نزدیک یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے شراب پر آب زم زم نہیں لکھا۔۔
میرا بس چلے تو قرآن پر حلف اٹھانے والے اہل ریاست کے منہ نوچ لوں جو اللہ و رسول کا نام لے لے کر ظلم و بے انصافی کے اس نظام کی تقویت و فروغ کے لئے بے شعور عوام کی آنکھوں پر جہالت و فرعونیت کی پٹی باندھ رہے ہیں ۔۔
آپ چاہیں تو گالیاں دیں، مغرب نوازی کا فتوی صادر فرمائیں یا پھر موقع ملے تو شہادت کا بارود آزمائیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہی سچ ہے کہ پاکستان کا اسلام سے دور دور تلک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ 
میرا تبصرہ یہ ہے کہ سو کے اس نئے سکے پر ” اسلامی” اور ” جمہوریہ” کا ثبت نہ ہونا اتنا ہی سچ ہے جتنا خود پاکستان کا اسلامی نہ ہونا سچ ہے ۔۔۔
اس سے پاکستان کی وہ حیثیت سامنے آئی جو وہ ہمیشہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے آکسیجن سے چھپاتا رہا ہے ۔۔۔
ہاں، مجھے اس سچ و حقیقت کے ظہور کا شروع ہی سے انتظار تھا جو اس سکے کے خوشنما چہرے پر پڑھا جارہا ہے ۔۔۔
” حکومت پاکستان ۔۔
ناٹ، اسلامی جمہوریہ پاکستان “
ہم پچھلے ستر سال سے جمہوریہ جمہوریہ ، اسلامی اسلامی اسلامی اور اسلامی پاکستان میں جی رہے ہیں حال آں کہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نہ تو جمہوریہ ہے اور نہ ہی بد قسمتی سے ” اسلامیہ” ہے ۔
یہ صرف اک حکومت ہے جو حاکم طبقے،سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کے لئے کام کرتی رہی ہے۔۔
کسی ملک میں مسلمانوں کی اکثریت اسے اسلامی ملک نہیں بناتی ۔۔
اور نہ ہی الیکشن کے معنی ضروری طور پر جمہوریت کے ہیں ۔۔
لیکن آپ اندازہ تو کیجئے کہ ہمارے عام پاکستانی کو اس قدر گم راہ کیا گیا ہے ، اسے رنگوں، جبے،قبے اور اللہ و رسول کے نام پر اس قدر جذباتی بنادیا گیا ہے کہ اسے اس سطحیت کے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ 
وہ نہ تو معاشی جمہوریت سے کوئی سروکار رکھتا ہے اور نہ ہی اسے اس امر کا کوئی ادراک ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے لئے اسلامی تعلیمات کی ریاستی اداروں میں عملیت لازم ہے ۔۔
بروقت انصاف، قومی شعور، معاشرتی اور تجارتی اخلاقیات کا وجود ، قومی فکر و فلاسفی، سیاست اور معیشت میں حقیقی جمہوری روئیے اور مساوات کا ہونا لازم اجزا ہیں جس کے بغیرکسی ملک کے ” اسلامی” ہونے کا تصور ہی خود کفر کے مترادف ہے ۔
میرا خیال ہے اب قوم کو بتا دینا چائیے کہ 
ہمارے ابا و اجداد مذاق کررہے تھے ، اور ہم نے بھی اپنا پورا پورا حصہ وصول کرلیا ہے ۔۔۔
اب کھیل ختم ہوگیا،ہم جارہے ہیں ، اب تم اسلام اسلام کھیلو۔۔۔۔
پاکستان کے اس نئے سکے کا مذاق نہ اڑاو، اس کا برا نہ مناو، پاکستان اسلامی ہو نہ ہو لیکن یہ سکہ اسلامی ہے ۔۔۔۔
یہ پاکستان کا پہلا سکہ ہے جس نے سچ بولا ہے کہ پاکستان کسی قوم کا نہیں سرمایہ دار اور جاگیردار کا نام ہے ۔۔۔
پہلا سکہ ہے جس نے بتادیا ہے کہ پاکستان ” حکومت” کا نام ہے ، عوام اور اسلام کا نام نہیں ہے ۔۔
مجھے حیرت ہے جس قوم( میرا مطلب ہے ہجوم) پر ستر سال سے گیارہ بارہ چودھری، خوانین،زردارے، لغارے،ٹوانے،نوازے مسلط ہیں، جو اپنے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ کر سکول کے گیٹ میں دے دیتے ہیں تاکہ کوئی اغوا کرکے گردے نہ نکالے، جو اپنے گھر کے چاروں طرف آہنی باڑ لگا کر لوٹے جانے کے خوف سے اس میں کرنٹ چھوڑ دیتے ہیں، جو پانی کی سبیل لگا کر گلاس کو چوری ہوجانے کے خوف سے زنجیر سے باندھنا لازم سمجھتے ہیں، جہاں مذہبی منافرت کا یہ عالم ہے کہ عبادت گاہ کے ماتھے پر پر واضح تحریر ہوتا ہے کہ فلاں فرقہ کے لوگ یہاں نماز نہیں پڑھ سکتے ، جہاں سودی تطہیر کے لئے اسلامی بینکاری کے موٹے موٹے حوالے آویزاں ہیں، جہاں کی عدالتوں سے قاتل ویکٹری کا نشاں دکھائے باعزت بری ہوتے ہیں، جس کے تھانے کچہری سے انسانیت منہ چھپائے پھر رہی ہے ، جہاں سر عام بیچ چوراہے عزت کی نیلامی ہورہی ہے ۔۔۔۔۔
جس کی بازاروں میں مردار مرغیوں، گدھے اور کتے کا گوشت فروخت ہوتا ہے اور اسی دوکان کے ماتھے پر ” وقفہ برائے نماز ” آویزاں ہوتا ہے ۔۔۔
اس قوم کو اس بات کی تکلیف ہے کہ سو روپے کی نئی چونی پر حکومت پاکستان کے بد نما قنوطی چہرے پر ” جمہوریت کا ٹھپہ کیوں نہیں لگا ہے۔۔۔
جس سے اقوام عالم کو تاثر دیا جاتا رہے کہ ہاں ہمارے ہاں بھی  “جمہوریت  جمہوریت” پائی جاتی ہے ۔۔۔۔
“اسلامی “کا لاحقہ، سابقہ کیوں نہیں لگایا جس سے خود کوبہ نام مذہب مطمئن رکھا جاسکے کہ۔۔۔
راضی با القضا رہو،تمہاری ذلت و مسکنت کے فیصلے آسمان سے اتر رہے ہیں ۔۔۔جس سے اپنے شیطانی نظام کا غلیظ ترین چہرہ ” اسلامی ترین” لباس میں چھپایا جاسکے ۔۔۔
لاحول ولا قوتہ الابا اللہ العظیم۔۔۔۔۔
امیر شہر لوٹ لیتا ہے ۔۔۔
کبھی بہ حیلہ مذہب ۔۔۔
کبھی بہ نام وطن۔۔۔!
رہے نام اللہ کا ۔
abbas shad
17 January 2018

ایک ریاست دو حکمران، انڈورا ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

جہاں گردی کے راستوں کی منصوبہ بندی کا انحصار میری دلچسپیوں پر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی سیدھے سفر کرتے گئے اور طے شدہ شہروں، قصبات اور علاقوں کو دیکھتے اور عبور کرتے چلا جاتا ہوں اور کبھی کبھی یہ عمل سیدھا جاکر واپس اور پھر دوسری طرف روانہ ہوجانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیتھرین کی سرخ رینالٹ کار کے سٹیئرنگ پر ذمہ داری اس کی تھی اور روٹس طے کرنا میری ذمہ داری تھی۔ جیرونا، فرانس سے سپین داخل ہوتے ساتھ میرے نشان زدہ مقامات میں پہلا مقام تھا۔ آگے جانے سے پہلے ہمیں ایک بار پر پھر فرانس سپین سرحد پر واپس آنا تھا۔ جیرونا میں پہلا دن گزارنے کے بعد۔ شہر سے باہر موجود سستی ترین کیمپنگ میں قیام اور پہلی رات سپین میں گزارتے ہوئے ایک عجیب احساس تھا۔ کیمپنگ میں لیٹے یوں لگا جیسے میں کسی عرب مسافروں کے کارواں میں شامل ہوں۔ چھوٹے سے کیمپ کے اندر گھاس پر چٹائی بچھا کر نیند کی آغوش میں ایسا گیاکہ پھر مجھے نہیں معلوم کہ میں کہاں تھا۔ رات کو بھرپور نیند کے سبب جیرونا میں پہلی صبح کا آغاز ، ایک نیا جذبہ ٔ جہاں گردی موجزن تھا۔ ہماری اگلی منزل درحقیقت ایک بار پھر واپسی سپین فرانس سرحد پر واقع ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ پیرینی پہاڑوں کے اندر دھنسی معمولی سی یورپی ریاست انڈورا۔
انڈورا ایک بلدیاتی سطح کی ریاست ہے۔ پولیٹکل سائنس کی اصطلاح میں اسے سٹی سٹیٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ 1998ء میں چھے لاکھ کے قریب اور آج اس کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ نفوس کو چھو رہی ہے۔ اس کو Principality of Andorraاور Principality of the Valley of Andorra بھی کہا جاتا ہے۔ فرانس اور سپین کے درمیان چھوٹی سی سینڈوچ ریاست۔ مگر ہے خودمختار ریاست۔ یہ یورپ کی چھٹی چھوٹی ریاست ہے۔ عجب تاریخ اور سیاسی نظام ہے اس ملک کا۔ اس ریاست کے دو حکمران ہوتے ہیں۔ اس کے دو حکمرانوں کے باعث اسے ’’دو شہزادوں‘‘ کا ملک کہا جاتا ہے۔ کیتالونیا کے ساتھ اس تاریخی ریاست کا آغاز پانچویں صدی میں ہوا۔ اس ریاست کا ایک سربراہ (Co-Prince) اُرگل کے رومن کیتھولک چرچ کا بشپ جوکہ سپین کے کیتالونیا کا بشپ ہوتا ہے، بحیثیت شریک سربراہ ریاست ہوتا ہے اور دوسرا فرانس کا منتخب صدر۔ عجب ریاست ہے کہ سربراہان ریاست دو اور دونوں ہی مختلف ممالک سے۔ ایک مذہبی پیشوا اور دوسرا نہایت جمہوری طریقے سے منتخب سربراہِ حکومت (صدر فرانس) ۔ ایک نہایت مذہبی شخصیت اور دوسرا سربراہِ حکومت مکمل جمہوری عمل کی پیداوار۔ کتنا دلچسپ تضاد ہے۔ یورپ جس نے صدیوں پہلے کلیسا سے سیاست اور ریاست کو علیحدہ کرلیا تھا، لیکن یہاں کلیسا کی حکمرانی آج بھی موجود ہے۔ انتخابات دوسری یورپی ریاستوں کی طرح براہِ راست ہوتے ہیں اور ایک باقاعدہ پارلیمانی طرزِحکومت بھی ہے۔ لینڈلاک ملک ہونے کے ناتے بحری افواج کا ہونا تو سوال ہی نہیں جبکہ انڈورا کے دفاع کی ذمہ داری فرانس اور سپین کے ذمہ ہے، اس لیے مسلح افواج کا اس ملک میں وجود ناپید ہے۔ پورے ملک میں 240 کے قریب پولیس افسران ہیں۔ پولیس کا نظام تمام شہریوں کی مدد سے چلتا ہے۔ اپنی تاریخی شناخت پر سخت گیری دیکھئے کہ انڈورا، یورپی یونین کا رکن نہیں، مگر ملک کی کرنسی یورو ہے۔ 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی یورپ کی یہ پرنسپلی سٹیٹ۔
کیتھرین جیسی دانشور، فلم ساز اور ایکٹوسٹ اپنی معلومات پر شرمائی شرمائی سی تھی۔ انڈورا روانگی کے لیے بیٹھے تو کیتھرین نے نہایت فراخ دلی سے کہا، ’’مجھے مناکو اور لکسمبرگ کا تو علم تھا، لیکن یورپ کی اس قدیم بچہ ریاست کے بارے میں قطعاً علم نہیں تھا۔‘‘ پسماندہ تیسری دنیا کا شہری ہونے کے ناتے پیرس کی دانشور دوست کے سامنے اپنی ان معلومات پر جس طرح نازاں ہوا، اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ بس سینہ پھلا کرکہا، اب دیکھو گی تم انڈورا، یورپ کا ایک اور ملک۔
جیرونا سے نکلتے ساتھ ہی خوب صورت وادیاں ہمارے سامنے تھیں۔ قصبات اور دیہات کے ناموں سے لگ رہا تھاجیسے مسیحیت یہاں ایک نیا مذہب ہے۔ مسلمانوں کے ہسپانیہ کے بعد مسیحیت نے سپین میں دوسرا جنم لیا۔ جگہوں کے ناموں اور جابجا قدیم کلیسائوں کا زندہ وجود اس بات کا ثبوت تھا۔ غیرمعروف مقامات اور خطوں کو دیکھنا دراصل تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ اگر مسافروں کے انداز میں دیکھا جائے تو یہ نہایت بے وقوفانہ فیصلہ تھا کہ ہم آگے بارسیلونا جانے کی بجائے واپس پیچھے فرانس سپین سرحد کی طرف چل نکلے۔ جیرونا سے انڈورا کا سفر تین گھنٹے پر مشتمل تھا اور پھر ہم نے رات تک انڈورا سے سیدھا بارسیلونا پہنچنا تھا۔ متعدد کلیسائوں کی ساخت قدیم مساجد جیسی تھی۔ یقینا متعدد مساجد کو کلیسا میں تبدیل کیا گیا تھا، جیسے مسلمانوں کی آمد کے بعد زیادہ تر کلیسائوں کو مساجد میں۔ کیتالونیا کے لوگ اپنے آپ کو ہسپانوی کہلانے پر احتجاج کرتے ہیں۔ سپین سے ان کی علیحدگی یا آزادی کا ایک ثبوت صبح نہاتے ہوئے کیمپنگ کے باتھ روم میں لکھے نعروں سے ملا۔ یورپ کی قدیم ریاست انڈورا میں داخل ہونے سے پہلے سپین کا آخری بڑا قصبہ Le Seu D’Urgell تھا۔ کیتھرین اور میری دل کی دھڑکنیں گاڑی کی رفتار سے کہیں تیز تھیں۔ کامریڈ کیتھرین کی سرخ رینالٹ ان دو سرخوں کے لیے کسی فوروھیل وہیکل سے کم نہ تھی۔ یہ گاڑی اس طویل سفر کے آغاز سے پہلے باقاعدہ ورکشاپ گئی تھی۔ ورکشاپ والوں نے بہ مشکل ہی اسے اس طویل سفر کی اجازت دی تھی۔
ہم نے سپین کی سرحد پیچھے چھوڑی تو انڈورا کا پہلا قصبہ سینٹ جولیا ڈی لوریا ہمارے سامنے تھا۔ سپین اور انڈورا کی سرزمین کے لوگوں کی شکل وصورت، بودوباش میں کوئی فرق نظر نہ آیا۔ بس ایک تاریخی نخرہ ہے اس ریاست کا۔ ہاں، یہاں بھی مذہب کا دوسرا جنم صاف ظاہر ہورہا تھا۔ جگہ جگہ قصبات ودیہات کے نام ’’سینٹ‘‘ سے شروع ہورہے تھے۔ہمیں یورپ کے اس ’’بچہ ملک‘‘ کے دارالحکومت جانا تھا۔ ’’انڈورا لاوِلا‘‘۔ 181 مربع میل رقبے پر مشتمل دنیا کے گیارھویں ملک کے اندر داخل ہونے کا تجربہ۔ انڈورا ہمارے جیسے دیوانے مجنون سیاحوں کی جنت ہے۔ یونانی مؤرخ بیعس کے بقول، یہ خطہ رومن تاریخ سے قبل ان آئبرین قبیلے کی آماجگاہ ہے جنہوں نے اس ریاست کا وجود تشکیل دیا۔ بڑی بڑی سلطنتوں کی جنگوں کے دوران اُن کی افواج اس خطے کو روندتے ہوئے پیرینی کے پہاڑ عبور کرتیں۔ اس کے نام کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ انڈورا قدیم باسک زبان میں ’’پانی‘‘ کو کہتے تھے، اسی سے اس ریاست کا نام انڈورا نکلا۔ کچھ محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ عربی زبان کے لفظ ’’الدرۃ‘‘ (جنگل) سے نکلا اور ہسپانوی مسلمانوں Moors نے گھنے جنگلات کے سبب اس خطے کو یہ نام دیااور اسے اسی نام سے پکارنے لگے۔ جنگل تو بے تحاشا پائے ہم نے ۔
انڈورا کی پارلیمنٹ کو ہم نے شہر کا پہلا پڑائو قرار دیا۔ پارلیمنٹ ایک قدیم عمارت میں قائم کی گئی ہے جس سے اس قدیم ریاست کے باسیوں کا اپنی ریاست پر فخر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان وادی میں پارلیمنٹ کی قدیم عمارت کا حُسن اپنے جوبن پر پایا۔ انڈورالاوِلا، پیرینی سلسلے کے مشرقی پہاڑوں کی نہایت بلند سطح پر واقع ہے۔ اسی لیے موسم قدرے معتدل تھا۔ سردیوں میں تو یہاں برف پر Ski ہوتی ہے۔کیتھرین میرے سیاحتی انتخاب پر خوش تھی۔ تاریخ، تہذیب وتمدن اور لینڈسکیپ ۔ اگر انڈورا لاوِلا کو کسی قریبی پہاڑی مقام سے اوپر جاکر دیکھیں توشہر پیرینی پہاڑوں کی خوب صورت وادی کے اندر پیالے میں پڑا لگتا ہے۔ پارلیمنٹ کے بعد ہم نویں صدی کے ایک قدیم چرچ سانتا کلولوما دیکھنے چلے گئے۔ پورے ملک کی سیاحت سے 80فیصد آمدن اس شہر کے سبب ہے۔ آج کل سالانہ ایک کروڑ کے قریب سیاح اس شہر کی تاریخ اور قدرتی مناظر کے سبب یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ہم دونوں اس شہر میں گھومتے گھومتے گم ہوجانا چاہتے تھے جوکہ اس کے حجم کے سبب ممکن نہ تھا۔ البتہ شہر کی تعمیرات کا حُسن تو تھا ہی، مگر قدرت کا حُسن بے مثال پایا۔ بلندوبالا پہاڑ زمین پر سڑکوں کو چھوتے۔ جگہ جگہ سگریٹ اور سگار کی دکانیں دیکھ کردلچسپی ہوئی کہ کیا یہاں کے باسی کھانے کی بجائے تمباکو نوشی ہی کرتے ہیں؟ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ انڈورا ٹیکس فری ریاست ہے اور تمباکو کو سگریٹ اور سگاروں میں بدلنے والی متعدد فیکٹریاں یہاں قائم ہوگئی ہیں۔ اب ہر سیاح اپنی پسند کا برانڈ سستے داموں یہاں سے خرید سکتا ہے۔ اور یہاں یورپ کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں تمباکونوشی پر قوانین بھی ڈھیلے ڈھالے ہیں۔ انڈورا کا اپنا نیشنل بینک بھی نہیں، پہلے فرانس اور سپین کی کرنسی یہاں سرکاری کرنسی تھی اور اب یورو، حالاںکہ انڈورا یورپین یونین میں شامل نہیں۔ ایک ہزار سال سے جنگوں سے دور رہنے والی ریاست کا وجوداس کے امن پسند فلسفے اور Pragmatic فکر کے سبب ممکن ہوا۔
انڈورالاوِلا میں سارا دن گھوم کر بھی ہمیں تھکاوٹ کا احساس نہ ہوا۔ ایک غیرمعروف اور تاریخی بستی کو پالینے کی خوشی، سیاحتی اطمینان کا عروج ہوتا ہے۔ لنچ اور ڈنر کو ہم نے اسی لیے آپس میں جوڑ دیا کہ اس سے وقت اور جیب کی بحث ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کا بھی خیال رہے۔ ایک گلی کے نکڑ پر واقع ریستوران پر انگریزی میں لکھا تھا، مشہور ہسپانوی پائیلہ(Paella)۔ سی فوڈ سے بنا ہسپانوی پلائو۔ ہم دونوں نے اپنی حلال آمدن سے حلال پلائو کھانے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کے دوران یہ ہماری پہلی ہسپانوی خوراک تھی۔ زعفران کی خوشبو میں مہکتا پائیلہ، ہسپانوی مسلمانوں کی تہذیبی خوشبو کی تہذیبی باقیات اور اثرات۔

 

abbas shad
17 January 2018

مشرقی اقوام کی صنعتی، سماجی اور سیاسی طاقتاور قیادت کے فیصلے ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

ہماری کورین کلاس کی استانی نے ایک دن بتایا کہ کورین میں بیوی کو [آنے] کہتے ہیں۔ آنے کا مطلب ہے وہ شخص جو گھر کے اندر ہی رہتا ہے۔ یعنی جو پردہ کرتا ہے۔ صنعتی دور شروع ہونے سے پہلے دنیا کے اکثر بیشتر خطوں میں عورت کا کردار ایک جیسا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ سب کچھ بدل گیا۔ کیا وجہ تھی کہ کچھ خطے یکسر سماج اور طاقت کے توازن میں دوسرے خطوں سے آگے نکل گئے۔ مغرب میں عورت نے گھر سے باہر نکلنا شروع کیا تو کیا یہ پہلی دفعہ ہوا تھا؟ کیا ہمارے کھیتوں میں عورتیں کام نہیں کرتی تھیں؟ یہ تو صدیوں سے کرتی آر ہی ہیں۔

ہمارے ملک میں سوچ کو کس قدر بدبو دار بنا دیا گیا۔ ترقی، روشن خیالی کو فحش کہا جا رہا ہے۔ روشن خیالی کے لفظ کوسنتے ہی اچھے جذبات ابھرنے کی بجائے عورت اور جسم کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔ یہ احساسات کون بناتا ہے؟ کیوں بناتا ہے؟ کیا یہ اور ان سے ملتے جلتے سطحی مباحث ہمارے دانشوروں یا سماجی حلقوں کا ایک حصہ نہیں بن گئے؟ اب آئیں آپ کو ایک اور ہی دنیا کی سیر کروائیں اور نئے اصولوں کا تعارف کرائیں۔

 مشرقی اقوام کو تین حصوں میں تقسم کر دیا جائے تو آسانی سے سمجھ آئے گی۔ شمال مشرقی اقوام جن میں چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان جبکہ جنوب مشرقی اقوام جن میں تھائی لیںڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، ویت نام، تائیوان، اور فلپین شامل ہیں۔ جنوبی ایشیاء کی اقوام میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، برما، سری لنکا، اور افغانستان شامل ہیں، کیوں پیچھے رہ گئے؟َ وسطی ایشیاء اور عرب دنیا (مغربی ایشیاء) کو اس بحث سے نکال دیا گیا ہے تاکہ صنعتی ترقی کی بحث کو اچھے انداز میں سمیٹا جا سکے۔

1800ء سے پہلے تمام دنیا کی اکژآبادی (80 فیصد) زراعت سے وابستہ تھی۔ ترقی یافتہ وہ تھا جو اس شعبہ میں زیادہ اچھی کارکردگی دیکھاتا تھا۔ مغل انڈیا (بشمول پاکستان) اور چین اس میں پہلے اور دوسرے نمبر پہ تھے۔  12صدی عیسوی کے بعد سے لے کر 1800ء تک دنیا پہ وسطی ایشیائی اقوام (مغل/ترک) کا غلبہ رہا اور ان کا ماڈل دنیا ہی میں ترقی اور خوشحالی کا معیار مانا جاتا تھا۔ ان کی سلطنت میں تمام مذاہب کے لوگ تھے۔ چونکہ حکمرانوں نے اسلام کے عقائد قبول کر لیے تھے‘ تو ان کی ترقی اسلام کی ہی ترقی یا مسلمانوں کی ترقی کہلائی جانے لگی‘ حالانکہ ان سب کے جد امجد چنگیز اور ہلاکو خان عقل مند اور بہت بڑے فاتح تھے اور وہ مسلمان نہیں تھے۔ ان کے ظلم کی کہانی ایک الگ بحث ہے۔ طاقت ور ہمیشہ سمجھدار (یا چالاک کا لفظ زیادہ مناسب ہوگا) ہوتا ہے اور علم والا بھی ہوتا ہے۔ وہ ظلم کرے یا انصاف کرے، یا مخصوص لوگوں کو انصاف دے‘ یہ الگ بحث ہے۔ یہاں ایک بات صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ طاقت کا تعلق عقیدہ سے نہیں‘ بلکہ طاقت حاصل کرنے کا بنیادی گر حکمت، حکمت عملی، معاشی طاقت، تنظیم سازی، اور اثرورسوخ سے ہے۔ طاقت ور انسان لچکدار بھی ہو سکتا ہے، وہ طاقت کو قائم رکھنے کے لیے اپنے نظریات کو تبدیل کرتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے منگولوں نے اسلام قبول کیا؟ جیسے آج کی غالب سوچ نے چین کو مجبور کیا کہ وہ کمیونسٹ نظریے کو چھوڑ کر (یا وقتی طور پہ چھوڑ کر) فری مارکیٹ کے نظریے کو قبول کر لے۔ موجودہ دور کے چین کا نظریہ عزت سے  جینا تھا۔ سو انہوں نے سوچا کہ کمیونسٹ ادارہ جاتی ڈنھاچہ کام نہیں کر رہا تو انہوں نے دوسرا سرمایہ داری معاشی ڈنھاچہ اختیار کر لیا۔ حکمت عملی بدلی اور اداروں کی تنظیم سازی کی۔ 

جب 1978ء میں کمیونسٹ پارٹی نے اپنے اداروں کو کمیونسٹ نظریہ سے ہٹا کر نیم سرمایہ دارانہ دنیا کے نظریات کی طرف مائل کیا تواس اجلاس میں چین کے اس وقت کے رہنماء دینگ زیوپنگ نے پارلیمینٹ میں اپنی تقریر میں کہا تھا‘ ’’بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہے کہ ہم پسماندہ ہیں، ہمارے کام کرنے کے بہت سارے طریقے نامناسب ہیں، اور ہمیں یہ سب تبدیل کرنا چاہیے۔‘‘

اصول نمبر 1: اس ساری بحث سے ہم کحچھ اصول دریافت کریں گے اور پہلا اصول یہ ہے کہ اگر ایک طریقے سے کام نہیں ہو رہا تو طریقہ تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تسلیم کریں اور تبدیل کریں۔ اگر آپ طریقہ نہیں بدلتے تو آپ کا وجود خطرے میں ہے‘ کیونکہ آپ کا مخالف اچھا طریقہ اختیار کرکے آپ کے وجود کو ختم کر سکتا ہے یا آپ کی نسلوں کو غلام بنا سکتا ہے۔ صحیح طریقہ ہی حق ہے۔[1]

1961ء میں کوریا میں جنرل پارک چھنگ ہینے مارشلء لگا کر اقتدار پہ قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے اقتدار سے پہلے کوریا کی تعلیمی حالت افریقہ کے ایتھوپیا جیسی ہی تھی۔ اس کے اقتدار کو امریکہ نے جمہوریت دشمنی کہا‘ لیکن وہ خود اس مارشلء کو انقلاب کہتا تھا اور 20 سال بعد کے کوریا کو دیکھ کر یہی لگا کہ جنرل پارک کا مارشلء ایک انقلاب ہی تھا۔ انقلاب کا مطلب ہی سماجی اور معاشی تبدیلی ہے جو اچھے انداز میں قوم کو میسر آ جائے۔[2]جنرل پارک کے اقتدار سے پہلے جنوبی کوریا میں جن افراد کی حکومت تھی وہ امریکہ کے کٹ پتلی تھے۔ زمین کی اصلاحات میں رکاوٹ ڈالنے میں صدر سینگمن ری(1948-1960ء) کا بنیادی ہاتھ تھا۔ جس سینٹر نے 1949ء میں زمینی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا اس کو قتل کروا دیا گیا، کوریا کو جنگ کی نظرکر دیا اور یہ جنگ 1949 سے 1953ء تک چلتی رہی۔ کوریا راکھ ہو گیا‘ لیکن صدر ری کی آنکھیں نہ کھلیں۔ 1961ء کے بعد جنرل پارک نے ملڑی سٹائل میں تمام کاروباری حضرات کو مدعو کر کے ان سے عہد نامہ پہ سائن کروا لیے کہ اگر قوم کو ضرورت پڑی تو آپ کی تمام دولت کو قومیاء جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اس نے دن رات محنت کی۔ ایک کتاب لکھی، جس کا عنوان تھا‘ ’’ہماری قوم کا راستہ، سماجی تبدیلی کا نظریہ‘‘۔ اس کتاب میں اس نے اپنی قوم کے تمام ریوں پہ غور کیا اور لیڈرشپ کے رویوں پہ غور کیا۔ اس نے پچھلے حکمرانوں کی اغراض اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے قوم میں موجود سستی اور کام چوری کی عادت کو تسلیم کیا۔ طاقت کے حصول کو بذریعہ صنعت حاصل کرنے کا عندیہ دیا۔ اپنے سب سے بڑے دشمن جاپان اورآقا امریکہ سے ہی مدد لے کر آئندہ سے کوریا کو ناقابل تسخیر اور عوامی خوشحالی کا نظریہ دیا۔ اپنی زندگی اور اقتدار (کم و بیش 20 سال) کےدوران ہی کوریا کو غربت اور سستی سے نکال کر ایشیاء کی خوشحال قوم بنا دیا۔ اگرچہ جنوبی کوریا دفاع کے حوالے سے امریکہ کے زیر اثر تھا‘ لیکن جنرل پارک معاشی پالیسیاں بناتے ہوئے آئی۔ایم۔ ایف اور امریکہ کے مشورے کو سنتا تو تھا‘ لیکن عمل اسی پہ کرتا تھا جو اس کو اپنی قوم کے لیے ٹھیک لگتا تھا۔ اس کی آواز کو قوم نے خوش آمدید کہا‘ محنت اور لگن سے کوریا کو کئی صنعتوں میں دنیا کے اندر ممتاز مقام عطا کیا۔

[1]

اصول نمبر 2: کوریا کی تاریخ سے ایک بات سمجھ آتی ہے کہ سیاسی طور پہ کمزور ہوتے ہوئے بھی داخلی طور پہ اچھے انتظام سے قوم ترقی حاصل کر لیتی ہے جبکہ اندھی غلامی قوم (پاکستانی اشرافیہ اور امریکہ کا تعلق اس کی واضع مثال ہے) کو تباہ کر دیتی ہے۔

 (جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

حوالہ جات

  1. Studwell J (2013) How Asia works: Success and failure in the world’s most dynamic region. Grove/Atlantic, Inc.

[1]پاکستان اگر دو قومی نظریے کی اساس پہ نہیں چل رہا تو اب ہمیں متبادل نظریات کی کھوج شروع کر دینی چاہیے۔  

[2](پاکستان کا بننا ایک انقلاب یا کم از کم ہم سب کے آباؤاجداد نے یہ امید کی تھی۔ وقت اور تاریخ نے ثابت کیا کہ حکمران طبقے کا مقاصد ٹھیک نہیں تھا، اسی لیے منزل دور ہے)

abbas shad
1 2 3 58