مقدمہ ۔۔۔ ْوقاص افضل

یہ مریخ کے تھانے کا بیرونی منظر تھا
معا شی طور پر متوسط اورکمزورلوگو ں کی بستی تھی
شام ڈھلتے ہی لوگو ں کا ایک ہجوم یہا ں ہوتا
وہ اکثر سوچتا
یہ عادی اور خطرناک مجرموں کے قرابت دار ہوں گے۔
ایک دن ہمت کرکے ہجوم میں شامل ہو گیا
بڑے میاں آپ یہا ں کیو ں ؟
برخودار! پندرہ برس سے کرایے کے گھر میں مقیم ہوں
کرایہ نامہ کے عدم تجدید و اندارج کی وجہ سے بیٹے پر مقدمہ ہوگیاہے۔
بیو ہ خالہ،آپ کیو ں پریشا ن کھڑی ہیں ؟
چھو ٹا بیٹا پتنگ خرید کر لا رہا تھا، دھرلیا گیا
کہتے ہیں اُس پرمقدمہ درج کردیا گیا ہے ۔
زرا فاصلے پر بھیک مانگنے والو ں کا ایک ٹولہ کھڑا تھا
اُن کے چند افراد پر گداگری ایکٹ کے تحت مقدمہ ہو چکا تھا۔
وہ یہا ں سے نکلنے ہی والا تھا ,چند لوگ تھانے دار سے تکرار کرتے ہو ئے
اُس کے پاس سے گزرے ،اُن کے ہا ں دن دیہا ڑے ڈاکا پڑا تھا۔
اندارج مقدمہ میں پولیس پس وپیش سے کام لے رہی تھی ۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}