انبیاءکا مقصدِ حیات : واجد علی

اس کُرہِ ارض پر جتنی بھی اشیاء موجود ہیں اُن میں انسان کو ایک فضیلت حاصل ہے  جس کے سبب اسے اشرف ا لمخلوقات کہا جاتا ہے۔ مگر وہ جوہر جس کی بدولت اسے یہ رتبہ ملا ہے اسے عقل کہتے ہیں۔چنانچہ یہ عقل ہی کے کرشمے ہیں کہ انسان نے اس کائنات کی قوتوں کو مسخر کرنا ، اور ان کو استعمال میں لا کر ان سے فوائد حاصل کرنا شروع کیے ہیں۔ مگر ترقی کا یہ سفر یک بار طے نہیں ہوا بلکہ عقلِ انسانی نے دھیرے دھیرے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔شروع میں جب انسانی آبادی کم تھی تو لوگ جابجا بکھرے ہوئے تھے، اُن کی ضروریات بھی محدود تھیں ، وہ باقاعدہ کسی نظام کے تحت نہیں رہتے تھے، اور اُس وقت کے انسان کے عقل و شعور کا مرتبہ آج کے انسان کے عقل و شعور سے کم تھا۔اُس کی مادی ضروریات بھی کم تھیں اور اپنی ضرورت کی زیادہ تر اشیاء وہ اپنے لیئے خود ہی مہیا کر لیتاتھا۔پھر آہستہ آہستہ انسانوں کے یہ جابجا بکھرے گروہ،باقاعدہ نظم آبادیوں کی شکل میں جب اکٹھے ہوئے تو سماج اور معاشرے وجود میں آئے۔

جب سے انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہے، اُسی وقت سے ہر وہ فرد یا قبیلہ جو اُس معاشرے میں نسبتاً باقی دوسروں سے طاقتور بھی ہوتا تھا اور بلحاظِ آبادی زیادہ بھی وہ باقی لوگوں پر  بزورِ طاقت حکمران بن کے حکومت کرنا شروع کر دیتا تھا،اور پھر اپنی مرضی سے جیسے چاہتا ویسے قوانین بنا کر اُن کو عوام کے اوپر مسلّط کر دیتا اور یوں  پھرمختلف نظام ہائے زندگی تشکیل پاتے گئے۔ مگراُس زمانے  میں بادشاہ کی زبان ہی قانون تصور کی جاتی تھی کہ بس جو الفاظ اُس کی زبان سے نکل کر منصئہ شہود پہ آئے وہ  زیبِ قرطاس بن کرمن و عن قانون سمجھے جاتے تھے اور اُسی کے مطابق رعایا اپنے اعمال بجا لاتی تھی۔کیونکہ عقل ابھی ترقی کا وہ مرحلہ طے نہیں کر پائی تھی کہ جس کے مطابق رعایا  کے سامنے کسی بھی  بادشاہ کی بازپرس کی جاسکتی ،لہذا بادشاہ ہر لحاظ سے ہر قسم کے احتساب سے نہ صرف بالا تر سمجھے جاتے تھےبلکہ رعایا کا کوئی فرد اِس خیال کو ذہن میں بھی نہیں لا سکتا تھا کہ بادشاہ کا محاسبہ ہو سکتا ہے، یا با دشاہِ وقت کے کسی بھی فیصلے پہ انگلی اٹھائی جا سکتی ہے۔

مگر جوں جوں عقلِ انسانی شعور کی منازل طے کرتی گئی، دنیا میں تبدیلی کا آغاز ہوگیا۔معاشروں کے اندر کچھ لوگ اس طرح کےبھی  پیدا ہونے لگے کہ جن کی ذہنی سطح نہ صرف ایک عام انسان سے بلند تھی بلکہ اُن کی سوچ بھی معاشرے کے عام رواج سے مختلف تھی۔ اسی اختلافِ کا ہی یہ نتیجہ نکلا کہ حاکمِ وقت نے اِن لوگوں کو اپنے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر اُن کو نہ صرف اذیت ناک سزائیں دیں بلکہ، باقی رعایا کی نظروں میں بھی اُن کا مقام اس قدر پست کر دیا کہ یہ لوگ رعایا کی نظر میں بھی حقیر ٹھہرے۔مگر اِس سب کے باوجود بھی جب اِن لوگوں کاقلع قمع نہ ہو سکا تو اُن کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا تاکہ حکومتِ وقت کے استحکام میں فرق نہ آنے پائے۔معاشرے کے یہی وہ عظیم لوگ تھے جِن کو آج تاریخ حکمت کے سر چشموں کے نام سے یاد کرتی ہےاور مذہبی اصطلاح میں اِن عظیم ہستیوں کو پیغمبر، نبی یا رسول کہا جاتا ہے جس کے قافلے کے رہبرِاوّل حضرت آدمؑ اور آخری فرمانروا فخرِ ِجن و انس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

ان عظیم لوگوں نے اپنے اپنے وقت پر ہر ظالم اور جابر حکومت کے ہاتھوں انسانیت سوز قسم کی تکالیف تو اٹھا ئیں مگر باقی لوگوں کے اندر اس چیز کو سوچنے کا مادہ پیدا کر دیا کہ بطورِ انسان ہمارے کچھ حقوق بھی ہیں جن کو پورا کرنا حکومتِ وقت کا اوّلین فریضہ ہے۔ بادشاہ ایک ایسی ہستی یا مخلوق کا نام نہیں کہ جس کو یک گونہ ہمارے اوپر فضیلت حاصل ہے بلکہ بطورِانسان رعایا اور بادشاہ برابر ہیں۔جو انسانی ضروریات اور خواہشات بادشاہ کی ہیں بعینہٖ رعایا کی بھی ہیں۔انسانوں کے اندر گو طبقات کا،قوم کا ،مذہب کا فرق موجود ہے مگر اُن کی اوّل و آخر پہچان یہ ہے کہ وہ انسان ہیں لہذٰا معاشرے میں تفریق یا فرقہ بندی کا معیار اور پیمانہ مذکورہ بالا عناصر نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم  ہیں۔ معاشرے کے اندر موجود اِن عظیم لوگوں نے ہر قسم کی عصبیت اور تفرقات سے بالا تر ہو کر صرف اسی ایک مقصد  کیلئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں تھیں کہ اِس زمین کے اوپر رہنے والی ہر مخلوق کو اُس کا جائز حق اور مقام ملے۔ چنانچہ یہ لوگ جہاں بھی رہے اِن کا نظریہ انسان دوستی  اور بھائی چارے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اللہ تعالیٰ کے یہ برگزیدہ بندے جہاں بھی اور جس علاقے میں بھی مبعوث ہوئے ان کی زندگی کا ایک  ایک لمحہ اسی چیز کے اوپر صرف ہوا کہ انسان  مرتبہ انسانیت تک پہنچ جائے اور انسانیت اس ظاہری ڈھانچے کا نام نہیں بلکہ انسان نام ہے احساسِ ذمہ داری کا، محبت کا اور     ایثار کا، اور جب یہ اوصاف ایک بندے کے اندر پیدا ہوجاتے ہیں تو اس وقت  وہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے معاشرے کیلئے زندگی جی کر باقی لوگوں کی زندگی میں سکھ، چین اور آرام لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب یہی آثار پورے معاشرے کے اندر بیدار ہوتے ہیں تو پورا معاشرہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں ظلم کی بجائے عدل کا،  نا انصافی کی بجائے انصاف کا،  خوف اور ڈر کی جگہ امن کا، ذہنی اور جسمانی غلامی کی بجائے ظاہری اور باطنی آزادی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے اندر سب کی عزت و آبرو بھی محفوظ، جان و مال بھی محفوظ اور امروز ا فردا بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ  ایسے ہی نہیں ہوجاتا اور  ایک دن رات  کے اندر کایا نہیں پلٹ جاتی بلکہ اس چیز کے پیچھے ایک ایسے فرد کی  محنت کار فرما ہوتی ہے جو اپنی جان، مال اور عزت سب کچھ داو ؤ پہ لگا کر  معاشرے کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کو آمادہ ء جد و جہد کرتے ہیں، اور اس راستے میں آنے والی ہر مشکل کا نہایت صبر اور استقلال سے مقابلہ کرتے ہیں۔

ہم کسی بھی معاشرے کی تاریخ کو اٹھا لیں تو پتہ چل جائے گا کہ  جب تک کسی بھی معاشرے کے اندر نبی کی بعثت نہیں ہوتی تھی تو اس معاشرے کے اندر جہالت کا کیسا دور دورہ ہوتا تھا، اور افرادِ معاشرہ جو زندگی گزار رہے ہوتے تھے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوا کرتی تھی ۔ ایک ایسی زندگی جو کسی بھی قسم کے احساسِ ذمہ داری سے عاری اور حقوق و فرائض کی بخوشی ادائیگی سے  بالکل خالی ہوتی تھی۔ اس معاشرے میں نہ عورت کے کوئی حقوق  ہوا کرتے تھے، نہ غلام اور لونڈی کے، نہ ہی منصفانہ جنگی قوانین اور نہ ہی  پر امن معاشرے کے قیام کی کوئی تجویز، غرض اس زمانے میں انسان مرتبہ انسانیت سے گر کر حیوانیت کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا ہوا تھا۔ مگر جب اسی معاشرے کے اندر حضراتِ انبیاء ؑ نے اپنی پاکیزہ تعلیمات کا احیاء کیا اور انسان کو مرتبہ انسانیت سے آگاہ کرنے کا کام شروع کیا تو اسی معاشرے کے  افراد میں احساسِ ذمہ داری، حقوق و فرائض کی ادائیگی اور ایک پر امن و پاکیزہ معاشرے کے قیام کی خواہش بیدار ہوئی اور انسان یوں اپنے اصلی مرتبے اور رتبے سے آگاہ ہوا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اِس حق اور سچ کی آواز کو ہر دور میں دبانے کی بھر پور کوشش کی جاتی رہی ہے مگر صاف اور کھری بات بھلا کہاں رُکتی ہے۔ چنانچہ انہی عظیم ہستیوں کے طفیل   فکرِ انسانی نے انگڑائی لی اور  وقت کے حکمرانوں کے مزاج میں تبدیلی رونما ہوئی جس کو ہم سب سے بڑا  انسانی انقلاب کہہ سکتے ہیں ۔کیونکہ اسی انقلاب کی بدولت پھر فلاحی مملکت اور مثالی معاشرے کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے، رعایا کے بنیادی حقوق نہ صرف تسلیم کیئے گئے بلکہ اُن کی ادائیگی کا بھی آغاز ہوا اور پھر رفتہ رفتہ تاریکی کی سیاہ رات کی سحر سے سپیدہء صبح کی لو پھو ٹی،جانوروں کی طرح ہانکے جانے والے انسانوں نے رتبہ انسانیت کا شرف حاصل کیا۔ اور یہی وہ مقام تھا کہ جس کے بارے میں قرآنِ مجید نے واضح بیان فرمایا کہ یاد کرو وہ وقت جب تم جہنم کے آخری کنارے یعنی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے مگر اللہ نے تمھارے دلوں کے اندر ایک دوسرے کیلئے محبت پیدا کردی مگر جس ہستی کے وسیلے سے یہ کارھاے نمایاں سر انجام ہوا اُس کی شان میں اللہ نے خود فرما دیا کہ میں نے تحقیق مومنوں کے اوپر بہت بڑا احسان کیا کہ ان کے اندر اپنے حبیب ﷺ کو بھیجا تاکہ انسان کو نہ صرف شرفِ انسانیت سے نوازا جائے بلکہ دکھوں اور ظلم کی چکی میں ِپستی انسانیت کوسکھ کا سانس نصیب ہو۔ ظلم مٹے، انصاف کا بول بالا ہو۔جہالت کے اندھیروں میں علم و حکمت کے چراغ روشن ہوں۔ حقدار خواہ کوئی بھی ہو،وہ اپنا حق پائے۔وہ تمام  رکاوٹیں جو ایک بندے اور رب کے درمیان تعلق قائم کرنے میں حائل ہیں وہ ختم ہوں اور بندہ اپنے رب سے اپنا تعلق حقیقی معنوں میں اُستوار کرے۔معاشرے میں عزت اور اور شرافت کا معیار تقوی  ہو۔رب کے پیدا کردہ تمام وسائل سے ساری دنیا مستفیض ہو۔  امارت ملنے کا معیار حقیقی اہلیت ،خداخوفی ،محبتِ انسانیت  اور خیر خواہی ہو نہ کہ نسل در نسل وراثت  میں ملنے والی غصب شدہ حکومت۔ چنانچہ آپ ﷺ کے طفیل  لوگوں کو اپنے آپ کی پہچان ملی اور ایک نئی دنیا کی شروعات کا آغاز ہوا جس میں مرد،عورت ،بچوں حتیٰ کہ جانوروں کو  نہ صرف اُن کا جائز حق ملا بلکہ  وہ لوگ  جو کل تک وحشی جانور سے بھی بد تر زندگی گزار رہے تھے  اُن کو زندگی کا اصل مطلب پتہ چلا۔اور وہ جن کا مطمح نظر صرف اور صرف اپنی ذات اور اُس سے وابستہ افراد ہوا کرتے تھے، وہ جب انسانیت کے معراج پر پہنچے تو اُن کے اندر ایثار، کسرِ نفسی ،دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام دنیا کیلئے بھلائی کا جذبہ  رکھنےجیسی صفات   نے گھر کر لیا۔علاوہ ازیں انسان کے شعور کی سطح جب بلند ہوئی   تو اُسے علم ہوا کہ دو ہاتھ اور دو پاؤں کے مل جانے سے بندہ،بندہ نہیں بنتا بلکہ، وہ اپنے اچھے اخلاق اور کردار کی بدولت اس  مقام کا حامل قرار پاتا ہے یا سادہ  ا لفاظ میں بندہ جب بندہ بن گیا تو اُسے اِس چیز کا احساس آیا کہ بطورِ انسان میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ مجھے کیا کر نا ہے۔کیا مجھ میں اور چوپاؤں میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہے تو کس چیز کا ہے؟ بطورِ نمائندۂ انسانیت  میرے اوپر کیا کیا ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں؟ لیکن  سب سے بڑا کام جو آپ ﷺ نے کیا وہ ظلم پہ مبنی نظام کا خاتمہ اور اُس کی جگہ عادلانہ سیاسی، معاشی،قانونی اور دفاعی نظام کا قیام اور ایک تربیت یافتہ جماعت کی تشکیل جس نے آپﷺ کے اُسوہ حسنہ کی روشنی میں اس عادلانہ نظام کو نہ صرف استحکام دیا بلکہ اس کو وسعت دے کر اس کے اثرات باقی دنیا تک بھی پہنچائے۔

انبیاء ؑ جو بصورتِ بشر اس دنیا کے مختلف علاقوں  کے اندر مبعوث ہوکر اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتے رہے، دراصل اس لحاظ سے عظیم لوگ تھے کہ ان کی زندگی اور تعلیمات کا مقصد حکومت کرنا ، مال و دولت کمانا، شہرت کی طلب کرنا یا اپنی اولاد کے واسطے ایک بہتر اور محفوظ مستقبل تھا۔ بلکہ اس کے برعکس تمام انبیاء کی صرف ایک ہی چاہت ہوا کرتی تھی کہ بس ظلم کا خاتمہ ہوجائے اور انسان مرتبہ انسانیت پر آجائے۔ ظلم صرف بتوں کی عبادت کرنا ہی نہیں ہوتا ، ظلم صرف خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہی  نہیں ہوتا، ظلم صرف غیر اللہ کے واسطے نذر ونیاز دینا ہی نہیں ہوتا  ، بلکہ اصل اور سب سے بڑا ظلم انسان کا دوسرے انسان کے اوپر یہ ہے کہ ایک انسان ایسے حالات پیدا کردے کہ  جو خدا اور اس کے بندے کے درمیان تعلق میں رکاوٹ بن جائیں جیسے غلط اور ظالمانہ سیاسی  و معاشی نظام  جو ایک عام بندے کی زندگی کو  اس قدر مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے کہ انسان  جب رزق کمانے  کے چکر سے ہی نہیں نکل پاتا تو اپنے خدا کی عبادت کیلئے وقت کب نکالے گا اور اس کو یاد کرے گا۔

اگر دیکھا جائے تو ہر دور کے فرعون کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنی مملکت کے اندر  ایسے حالات پیدا کر دیتا تھا کہ جس کے نتیجے میں ایک معمولی اقلیت کے سواء ایک گروہِ عظیم کولہو کے بیل کی طرح ظلم کی چکی میں پستا رہتا تھا، مگر ظلم تھا جو ختم ہونے کو نہیں آتا تھا اور آتا بھی کیسے کہ جب اس ملک کا نظام ہی ایک خاص طبقے کے مفادات کو سامنے رکھ کر چلایا جاتا تھا تو اس دور میں ایک عام بندے کی حالتِ زار بھلا کیسے تبدیل ہوسکتی تھی۔ تو ایسے وقت میں یہ حضراتِ انبیاء ؑ ہی ہوا کرتے تھے جو اس مظلوم انسانیت کے واسطے روشنی کا مینار بن کر ان کو اس ظلم کے سیاسی نظام کے خلاف جدو جہد کیلئے آمادہ کیا کرتے تھے اور یوں جب ظلم کے بھنور میں آئی ہوئی یہ اللہ کی مخلوق اپنے اپنے وقت کے فراعین کے مقابلے میں مقابلے پر آئی تو اس وقت اس دنیا کے اندر عظیم عظیم انقلاب برپا ہوئے اور وقت کی یہ ظالم حکومتیں بمع  اپنے ظالمانہ نظام کے تہس نہس ہو گئیں۔

اگر دیکھا جائے تو اس تمام انقلاب کی کہانی کو لکھنا،اور بیان کرنا آسان تو نظر آتا ہے مگر جب انسان اِس چیز کا تصور اور آگہی حاصل کرے کہ وہ عظیم لوگ جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں  یہ انقلاب برپا ہواوہ کیسی کیسی مشکلات کا شکار ہوکر انسان کو ترقی کی راہ پر لائے،تب ہی ہم اُن افراد کی قربانیوں کو صحیح معنوں میں سمجھ بھی سکتے ہیں اور قدر  بھی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ  ہمیں ایک بات کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اصل ترقی اور انقلاب  سائنسی ایجادات، کارخانے اور سامانِ تعیّش کی فراوانی نہیں بلکہ اصل ترقی  اور انقلاب یہ ہے کہ  ایک بندہ، شرفِ آدمیت سے سر فراز ہو جائے۔ وہ ایک عادلانہ نظامِ حکومت کے تحت زندگی گزارے رہا  ہو جس میں اُس کے ہر قسم کے حقوق اسے مل رہے ہوں ۔ترقی کرنے کے مواقع سب کے پاس برابر موجود ہوں۔ انصاف کا بول بالا ہووغیرہ ۔ ۔چنانچہ انسانیت کے یہ عظیم محسن، اس لحاظ سے منفرد  اور ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ ان منفی عوامل کے اوپر  جو انسانی معاشرے کے اندر سرایت کر کے اِنسان کو رتبہ انسانیت سے گرا کے جانوروں سےبھی  بد تر  بنا دیتے ہیں  ،اُن کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور اُن کو ختم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ یوں وہ اِن تمام عوامل کو حتی الامکان جڑ سے ختم کر کے اِنسانیت کو جب اُس کے مقصدِ اصلی پہ لگاتے ہیں تو پورا معاشرہ نہ صرف امن، خوشحالی اور بھائی چارے کا مظہر بنتا ہے بلکہ ایسا معاشرہ ہی حقیقت میں اصل ترقی کرتا ہے جس کے اثرات ہر کوئی محسوس کرتا ہے ،اور  انسانیت اپنے اصلی محسنِ حقیقی سے متعارف ہوتی ہے۔

یہ عظیم ہستیاں  بلا تفریق  ملک ،قوم اور مذہب     ہر زمانے کے اندر نہ صرف موجود رہی ہیں بلکہ ہر قسم کی صعوبتوں ، رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اپنے حقیقی مقصد سے کبھی بھی نہ غافل ہوئیں نہ ہی کوئی بڑی سے بڑی لالچ اُنہیں اپنے کام سے ہٹا سکی۔بلکہ یہ وہ دیوانے تھے کہ جن کی راہ میں زمانہ جتنی رُکاوٹیں کھڑی کرتا تھا، وہ اتنی ہی اور زیادہ مستعدی سے اپنے کام کو سر انجام دینے میں مشغول ہو جاتے تھے اور یہ بادِ صر صر گویا اُن کیلئے  مہمیز ثابت ہوتی تھی جس کے نتیجے میں قافلہ حریت کی جمعیت   کے اندر روز بروز اضافہ ہوتا چلاجا تاتھا۔اور وہ لوگ بھی جو  عقلِ سلیم  رکھنے کے باوجود پہلے تذبذب اور گوناگوں کی کیفیت کا شکار ہوتے تھے، اُن کے قلوب کے اوپر سے شکوک و شبہات کا پردہ اُٹھ جایا کرتا تھااور وہ بھی  عزم صمیم اور قلبِ صادق کے ساتھ ایسی عظیم ہستیوں کے دامن سے وابستہ ہوکر دکھی اور غم زدہ انسانیت کیلئے مسیحائی کا فریضہ سر انجام دیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی جب اس دنیا میں پیغامِ حق لے کر آئے تو آپﷺ کے زمانے میں بھی وہی ظلم و ستم  کا بازار مکہ کے معاشرے میں گرم تھا اور ظالم بے بس لوگوں کی زندگی کو اجیرن کیے ہوئے تھے۔اور  وہ لوگ   وحشی جانوروں  سے بھی بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ سودی نظام نے امارت اور غربت کی ایک  نہ ختم ہونے والی خلیج قائم کر رکھی تھی ۔ کاروبار پر مخصوص خاندانوں کے افراد کا قبضہ تھا جو روز مرہ کی اشیاء کی ترسیل کو اپنے من مانے نظام کے تحت رکھ کر خدا کی مخلوق کو ہر روز ایک نئی اذیت سے دوچار کرتے تھے۔  خانہ خدا اور ملتِ ابراھیمی کے خودساختہ محافظ خدا کی مخلوق کو خدا کے ہی نام پر لوٹ رہے تھے۔ اس پہ مستزاد مصنوعی اور جھوٹی خاندانی عصبیت کا  وہ عفریت تھا جو عرب معاشرے کے اوپر اس شدت کے ساتھ سوار تھا کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو درجہ انسانیت تک دینے کو تیار نہ تھے۔  مصنوعی معاشرت اور خود ساختہ رسوم و رواج نے پورے معاشرے کو اس قدر زور سے جکڑا ہوا تھا کہ بعض قبیلے اپنی ناموس  اور غیرت کی خاطر اپنی نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور تک کر دیتے تھے اور چہرے پر عرقِ ندامت تک نہیں لاتے تھے۔ لوگ اعلانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کر کے اس کو فخر سے جتلایا کرتے تھے۔ مکہ کے اس معاشرے میں جہاں کچھ لوگ آزادی جیسی نعمت سے مستفید تھے وہیں اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی تھے جو نسل در نسل غلام چلے آرہے تھے اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ ان کا آقا جو سلوک ان کے ساتھ چاہتا کر دیتا اور اس کو کوئی روکنے والا نہ تھا۔معاشرے میں مظلوم کی آواز سننے اور اس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہ تھا۔غرض انسان اپنے مرتبے سے اس قدر گر چکا تھا کہ معاشرتی بہتری کی کوئی صورت بظاہر نظر نہ آتی تھی۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ کو آخر اپنی مخلوق کے اوپر رحم آیا اور اس نے اسی معاشرے کے اندر ایک ایسی ہستی کو بھیجا جو معاشرے کے تمام پسے ہوئے طبقوں کی آواز بنے۔ آپﷺ نے مکہ کے اندر اصلاحِ معاشرہ کی ایک تحریک  کیا اٹھائی ہر سلیم ا لطبع اور صاحبِ فطرت انسان آپﷺ کا ہم آواز   بنا اور اپنے آپ کو ہر لحاظ سے آپﷺ کی غلامی میں دے کر  اصلاح ِ معاشرہ کی اس تحریک کے اندر آپ کا زورِ بازو بن گیا۔ آپ ﷺ نے گویا مکہ کے اندر ایک ایسا فورم یا پلیٹ فارم لوگوں کو مہیا کیا کہ جہاں ہر مظلوم آکر آپ کے دامنِ رحمت سے لپٹ گیا اور، یوں بے نوا اور بے آسرا لوگوں کو زبان مل گئی  اور وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف متحد ہونا شروع ہوگئے۔ معاشرتی اونچ نیچ اور خدا کے نام پر مذہب کے اوپر مخصوص افراد کی اجارہ داری کے خلاف آواز  بلند ہوئی  اور پھر ایک بندے اور اس کے  خالق کے درمیان ہر رکاوٹ کو توڑا جانےلگا اور صدیوں کے بنائے ہوئے فرسودہ رسوم و رواج کے بت اپنی موت آپ مرنے لگے۔ مگر اس اصلاح ِ معاشرہ کی تحریک کے افراد کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جانے لگا جو اس سے پہلے ہر معاشرے کے اندر رہنے والے ظالم لوگ ایسی تحاریک کے متبعین کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں بشمول آپ ﷺ کے خاندان کے وہ افراد جو آپ ﷺ کے نقش ِ قدم پر تھے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے مگر اس جماعت کے پایہ ء استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ مکہ کے اندر اس زمانے کے سرکردہ لوگوں کی آپ ﷺ سے سب سے بڑی دشمنی کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ آپ ﷺ ظالم کی بجائے مظلوم کا ساتھ دیتے تھے، بے شعور لوگوں کو شعور کی دولت سے مالا مال کر رہے تھے، خواص اور عوام کے واسطے مساوی قانون کے نفاذ کی بات کرتے تھے، خدا کی تمام نعمتوں سے مستفید ہونے سے سب کا حق سمجھتے تھے، کاروبار کرنے کا حق سب کو حاصل ہے، مذہب کے نام پہ ہر قسم کی رسوم و رواج جو معاشرے کے اندر راسخ ہوچکے تھے ان کو مٹانے کی بات  کرتے تھے، غلاموں سے انسانوں جیسا سلوک کرنے اور ان کے حقوق مقرر کرنے کی بات  کرتے تھے اور   معاشرتی اونچ نیچ ختم کرکے مساوات ِ انسانی کا پرچار کرتے تھے اور انسانوں کو لسانی ، علاقائی اور قبائلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بجائے کل انسانیت کی وحدت کی بات کرتے تھے ۔ مگر جب مکہ کے اندر آپﷺ اور آپ ﷺ کی جماعت پر عرصہ ء حیات تنگ کر دیا گیا تو آپ ﷺ بمع اپنی جماعت مدینہ کی طرف ہجرت  فرماگئے اور وہاں آپ ﷺ کو جب وہ ماحول میسر آیا جو آپ ﷺ کی تمام تعلیمات کو نافذ کرنے کیلئے موزوں تھا تو پھر آپ ﷺ نے ایک نئے معاشرے اور نظام ِ سیاست کی بنیاد رکھی جو سراپا رحمت اور انسان کی خیر خواہی پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ نے کل انسانیت کو بلا تفریقِ مذہب، علاقہ  ،زبان اور قبیلہ کو ایک ہی وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔ آپ  ﷺ نے کچھ ہی عرصے میں جب مدینہ کے اندر اپنے اہداف کو حاصل کر لیا تو پھر آپ ﷺ نے بطورِ عالمی نبی کے باقی انسانیت کے حقوق کی بھی جدوجہد شروع فرمائی، اور اپنے وقت کی دو بڑی عالمی طاقتوں روم اور ایران کے سربراہان کو خطوط لکھ کر ان کو بھی ان ظالمانہ اقدامات سے باز رہنے اور اللہ کی مخلوق پہ ظلم نہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور بات کو نہ ماننے کی صورت میں ان کی سلطنتوں کے خاتمے کی خبر سنائی۔چنانچہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کی جماعت نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے اس نظام کو باقی دنیا سے بھی روشناس کروایا اور یوں جب ان دو بڑی ظالم سلطنتوں کا اس جماعت کے ذریعے خاتمہ ہوا اور ان کی جگہ نبی کریم ﷺ کا لایا ہوا فلاحی اور عادلانہ نظام نافذ ہوا ، تو ساری دنیا چاہے وہ کسی   بھی قوم، مذہب یا علاقے کی تھی سب اس نظام کی برکات سے مستفید ہوئے اور یوں دنیا جنت کا نمونہ بن گئی ۔ ایک ایسی دنیا جہاں امن تھا، خوشحالی تھی ، غلاموں ، عورتوں اور بچوں کے حقوق تھے،اظہارِ بیان کی آزادی تھی ، مذہبی آزادی اور رواداری کا دور دورہ تھا، اللہ کی تمام نعمتوں سے سارے انسان برابری کی بنیاد پرفائدہ اٹھاتے تھے غرض وہ معاشرہ ایک مثالی معاشرہ تھا جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے رکھی اور اس کی برکات سے آپ ﷺ کی جماعت نے تمام دنیا کو مستفید فرمایا ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کی تمام آل پر  اور باقی تمام انبیاء پرکہ جنہوں نے بندے کو مقامِ بندگی بتلا کر اُس کو معاشرے کا ایک اعلیٰ فرد بنایا۔ سلام اُس  دُرِّ یتیم پر جو بے آسروں کا سہارا بنا، جس نے اپنی اور پرائی کیا ،سب کی بیٹیوں کو اپنی کالی کملی میں پناہ دی۔سلام اُس مدینے کے تاجدار پر، جس نے حق دار کو اُس کا حق دلوایا۔ سلام اس بشیر و نذیر ﷺ پر جس نے ظلم کی طویل سیاہ رات کو مٹا کر عدل پہ مبنی نظام کا قیام فرمایا۔

اللھمّ صلِّ علیٰ محمد و وعلی آلِ محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم اعلیٰ آلِ ابراھیم انک حمید مجید۔اللھم بارک علیٰ محمد و علیٰ آلِ محمد کما بارکت علیٰ ابراھیم و علیٰ آلِ ابراھیم انک حمید مجید۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}