تایا کندھ پاڑ‘‘ ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء پاکستان پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے خصوصی طور پر سخت گیر دورِحکومت تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں کالعدم کی گئیں، مگر کسی بھی شخص کا اگر تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ثابت ہوجاتا، بس اس کی خیر نہیں۔ معروف سیاسی قہوہ خانوں بشمول پاک ٹی ہائوس، چائنیز لنچ ہوم، تب سیاسی بحثوں کے لیے خطرناک جگہیں تھیں۔ خفیہ والے ایسے مقامات کی ہروقت نگرانی کرتے تھے۔ ایسے میں مختلف سیاسی کارکنوں کے متعدد خفیہ ڈیرے تھے جہاں وہ اکٹھے ہوتے۔ معروف اور سرعام جگہ تو لاہور ہائی کورٹ کے اندر بوڑھ کے درخت کا سایہ تھا جہاں ہر روز مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی کارکن اکٹھے ہوتے۔ جو کوئی زنداں سے رہائی حاصل کرتا، سیدھا وہیں آتا۔ اگر یہ کہوں کہ لاہور ہائی کورٹ کے بوڑھ کے درخت کا سایہ اس وقت پاکستان میں واحد اور سب سے بڑا مقام تھا جہاں ہر روز سیاسی اکٹھ ہوتا تھا، تو غلط نہ ہوگا۔ بڑے بڑے سیاست دان بھی وہیں آکر بیٹھتے۔ اسی درخت کے سائے تلے جنرل ضیا کے دورِآمریت میں پاکستان میں وکلا کی تحریک نے جنم لیا، جن میں محمود علی قصوری اور سید افضل حیدر نمایاں تھے۔ اسی وکلا تحریک نے ضیائی آمریت کے خلاف پہلا جان دار مظاہرہ کرکے آمریت کے سکوت کو توڑا، اسی وکلا تحریک کے بطن سے ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) اور گیارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جنم لیا۔ یوں لاہور ہائی کورٹ کا بوڑھ کا یہ درخت پاکستان میں سرعام (یعنی زیرزمین) سیاسی سرگرمیوں کے مقابلے میں سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا۔ یہاں نواب زادہ نصراللہ خان، شیرباز مزاری، ملک محمد قاسم، رائو رشید، غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان سے لے کر لاتعداد معروف سیاسی کارکن آئے۔ یہ سیاسی اکٹھ ہرروز ہوتا۔ یہاں زندانوں سے رِہا ہوکر آنے والے بھی آتے اور کئی بار غیرقانونی طور پر عدالت کی حدود کی دھجیاں اڑا کر مختلف سیاسی کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہاں بڑے بڑے دانشور بشمول حبیب جالب، شاعر، ادیب اور نثار عثمانی جیسے معروف صحافی بھی آتے جو ضیا آمریت کے خلاف سینہ سپر تھے۔ اور اسی کے ساتھ یہاں تمام ریاستی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے کارندے بھی موجود ہوتے اور اُن کے ٹائوٹ بھی جن کو باقاعدہ پے رول پر مختلف خفیہ ایجنسیوں نے Engage کرکے رکھا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے بوڑھ کے درخت کا سایہ اسی طرح جنرل ضیا کے دورِآمریت میں سیاسی کارکنوں کا سب سے بڑا Hub تھا۔ دوسرے صوبوں کے سیاسی کارکن بھی یہیں آکر بیٹھتے، ملتے اور رابطے کرتے۔
لاہور میں سیاسی کارکنوں کے مختلف دائرے تھے۔ اور یوں ہر سطح کے دائروں کے آپس میں رابطے بھی تھے۔ انہی سیاسی کارکنوں کے دائروں میں ایک مخصوص دائرہ ہمارا بھی تھا جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ کارکن شامل تھے جن کا تعلق بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید سے تھا اور ان میں دیگر ترقی پسند کارکن اور دانشور بھی شامل تھے۔ میں اس خاص سیاسی دائرے کا ایک متحرک سیاسی کارکن تھا۔ شہر میں ہم لوگ مختلف مقامات پر جدوجہد برپا کرنے کے لیے خفیہ مقامات پر میٹنگز تو کرتے، مگر اس کے ساتھ ہم نے ایسے قہوہ خانے بھی تلاش کرلیے، یعنی کئی غیرمعروف تھڑا ٹی سٹال جو خفیہ اداروں کی رسائی سے باہر تھے۔ اس لیے کہ وہ غیر معروف تھے۔ انہی میں ایک تھڑا ٹی سٹال جدوجہد کے ساتھی طلعت پرویز نے تلاش کیا جو گلبرگ میں شیرپائو پُل کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے (یقینا سرونٹ کوارٹر) میں رہتا تھا۔ بڑے سے بنگلے کا نہایت چھوٹا سا کمرا۔ طلعت پرویز کمال کا مصور ہے۔ معروف پاکستانی کارٹونسٹ فیقا کا دوست۔ اسی کی وساطت سے میرا بھی فیقا سے تعارف ہوا۔ ہم لوگوں نے طلعت پرویز کی رہائش کے قریب شیرپائو پُل کے نیچے ایک تھڑا ٹی سٹال پر رات کو محفلیں سجانا شروع کردیں جہاں گلبرگ کے فیکٹری ایریا کے مزدور چائے پینے آتے تھے۔ اب یہی ہمارا پاک ٹی ہائوس تھا اور یہی چائنیز لنچ ہوم۔ اِن محفلوں، فیقا، معروف ترقی پسند صحافی مرحوم زبیر رانا، خالد بٹ، حیدر رضوی مرحوم اور دیگر جدوجہد کے ساتھی شام گئے اس ٹی سٹال پر اکٹھے ہوتے اور دنیا بھر کی سیاست پر کھل کر بحثیں کرتے۔ چائے فروش چاچا، بلدیہ لاہور کی حدود میں والٹن ریلوے کی دیوار کے ساتھ چائے کا پھٹہ اور لکڑی کے دوپرانے بنچ رکھ کر رات گئے چائے فروخت کرتا۔ اور ہم رات گئے سیاسی، علمی، فکری بحثیں کرتے۔
خفیہ داراوں کی آنکھوں سے اوجھل اب یہ ہمارا پیرس کے معروف عام کیفے ڈی فلورا سے کچھ کم نہ تھا۔ ہم ہر موضوع پر کھل کر بات کرتے۔ چاچا چائے فروش بھی ہماری بحث سے لطف اندوز ہوتا اور ملوں کے مزدور بھی جو یہاں چائے پینے آتے تھے۔ زبیر رانا، طلعت اور مجھ سمیت سب کے گھر یہاں سے پیدل مسافت پر تھے۔ کبھی کبھی تو یہ محفل صبح فجر کی اذانوں پر منتشر ہوتی۔ آزادیٔ اظہار کے لیے ہمارا ’’کیفے ڈی فلور‘‘ اب ہماری آزاد جنت تھی۔ پاک ٹی ہائوس اور ایسے دیگر مقامات تو فوجی آمریت نے بانجھ کردئیے تھے۔ اس تھڑا ٹی سٹال کے علاوہ اندرون شہر کے میرے کارکن ساتھی، رنگ محل اور موچی گیٹ کے اندر بھی مختلف تھڑوں پر رات کو سیاسی اکٹھ کرتے۔ مگر وہاں گفتگو دانش کی خاص حدود تک ہوتی۔ ریلوے کی دیوار کے ساتھ اس تھڑا ٹی سٹال پر ہم اُن موضوعات پر بھی بحثیں کرتے جن پر اب سماج نے قدغن لگا دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت ریاست کی طرف سے خوف اور خطرات زیادہ تھے، اب سماج کی طرف سے خطرات زیادہ ہیں۔ تب آپ گرفتار کیے جاتے، مقدمات درج ہوتے اور زندانوں میں ڈال دئیے جاتے تھے اور اب موقع پر ہی Lynch کر دئیے جاتے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ کب گولی آپ کے جسم میں پیوست کردی جائے اور گولی مارنے والا قاتل، ہیرو قرار دے دیا جاتا ہے۔
ایک روز طلعت پرویز نے بڑے دکھ سے اطلاع دی کہ ’’یار فرخ، بلدیہ والے تجاوزات قانون کی خلاف ورزی پر چاچے کا پھٹہ اور بنچ اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘‘ ہماری لیے یہ خبر بڑی افسوس ناک تھی کہ ہم اب آزادیٔ اظہار کے لیے محفلیں کہاں برپا کریں گے۔ طلعت نے جب مجھے فون کیا، اس کی آواز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ اس نقصان سے جذباتی حد تک متاثر ہوا ہے۔ میرے دل کی دھڑکنیں بھی اس افسوس ناک خبر سے متاثر ہوئیں۔ اب کیا ہوگا۔ چند روز ایسے ہی گزرے، پھر ایک دن طلعت پرویز کا فون آیا۔’’فرخ، فرخ، خوشخبری! چاچے نے اپنا چائے کا پھٹہ پھر سے کھول لیا ہے۔میں رات وہاں سے گزر رہا تھا۔ مزا آگیا۔ آج رات ہم ملتے ہیں۔‘‘جب ہم رات کو چاچاچائے کے ہاں محفل سجانے پہنچے تو ہم چاچے کی دانش اور قانون سے کھیلنے کی صلاحیت کی داد دئیے بغیر نہ رہ پائے۔ بلدیہ لاہور نے اس کا ادھورا کھوکھا تجاوزات کے قانون کے تحت ختم کیا۔ چاچے نے کمال کردیا۔ دیوار کے اندر سوراخ کرکے اس نے اپنا پھٹہ ریلوے کی حدود میں لگا لیا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ اب آئے ناں لاہور بلدیہ۔ کھوکھا لاہور والٹن ریلوے سٹیشن کی حدود میں اور گاہکوں کے دو بنچ شام کو دیوار کے اس طرف لگا دئیے۔ ہمارے لیے چاچا ٹی سٹال کی بحالی کسی بڑی خوشی سے کم نہ تھی۔ محفل لگی اور پھر محفلیں دوبارہ جمنا شروع ہوگئیں۔ بیٹھے بیٹھے ایک شام طلعت نے ایک شان دار شاہکار اپنی مصوری سے تخلیق کیا۔ چاچا لاہور بلدیہ کی حدود کے اُس طرف (والٹن ریلوے سٹیشن) اور اُس کا ہاتھ دیوار کے اِس طرف ہمیں چائے Serve کررہا ہے۔ طلعت ہی نے اب اس چائے خانے کو نام دیا۔ مصور کی مصوری کے بعد اُس نے اسے قرار دیا، تایا کندھ پاڑ (تایا دیوار پھاڑ)۔ بس پھر ہم روز اکٹھے ہوتے تایا کندھ پاڑ ٹی سٹال پر۔ آزادیٔ اظہار کی جنت، خفیہ والوں کی نظروں سے اوجھل۔ بحثوں کا مرکز۔ شام گئے بیٹھنا اور رات ڈھلے منتشر ہوجانا۔ طلعت پرویز کا مصورانہ قرار دیا لقب، ’’تایا کندھ پاڑ‘‘ لاہور کے ان چنیدہ دانشوروں میں خوب معروف ہوا، جب پاک ٹی ہائوس جیسے قہوہ خانوں کو آمریت نے سیاسی وفکری بحثوں کے حوالے سے بانجھ کردیا۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}