سوروپے کا سکہ ۔۔۔ اختراورکزئی

اس سے جہاں ایک طرف میرے۔۔۔
“اسلامی اسلامی ” بھائیوں کو تکلیف ہوئی ہے کہ :
“یہ بڑا برا ہوا۔۔۔
اس سے پاکستان کی حیثیت مجروح ہوئی ۔۔۔۔
انیس سو ترہتر کے آئین کی مخالفت ہوئی۔۔
یہ لبرلزم اور سیکولرازم کا کیا دھرا ہے ۔۔”
وہاں دوسری طرف اس مظہر کو سچ و حقیقت کی طرف اک اقدام قراردیا جارہا ہے ۔۔۔
ویسے مجھے نہیں پتہ، میرے علاوہ اور کون کون ہیں جو اس پر خوش ہیں، یا اسے سچ و مبنی بر حقیقت سمجھتے ہیں۔۔۔
لیکن یقین کیجئے اس سے میری صداقت مزاجی کو یک گونہ تسکین ملی ہے ۔۔۔
میرے نزدیک یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے شراب پر آب زم زم نہیں لکھا۔۔
میرا بس چلے تو قرآن پر حلف اٹھانے والے اہل ریاست کے منہ نوچ لوں جو اللہ و رسول کا نام لے لے کر ظلم و بے انصافی کے اس نظام کی تقویت و فروغ کے لئے بے شعور عوام کی آنکھوں پر جہالت و فرعونیت کی پٹی باندھ رہے ہیں ۔۔
آپ چاہیں تو گالیاں دیں، مغرب نوازی کا فتوی صادر فرمائیں یا پھر موقع ملے تو شہادت کا بارود آزمائیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہی سچ ہے کہ پاکستان کا اسلام سے دور دور تلک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ 
میرا تبصرہ یہ ہے کہ سو کے اس نئے سکے پر ” اسلامی” اور ” جمہوریہ” کا ثبت نہ ہونا اتنا ہی سچ ہے جتنا خود پاکستان کا اسلامی نہ ہونا سچ ہے ۔۔۔
اس سے پاکستان کی وہ حیثیت سامنے آئی جو وہ ہمیشہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے آکسیجن سے چھپاتا رہا ہے ۔۔۔
ہاں، مجھے اس سچ و حقیقت کے ظہور کا شروع ہی سے انتظار تھا جو اس سکے کے خوشنما چہرے پر پڑھا جارہا ہے ۔۔۔
” حکومت پاکستان ۔۔
ناٹ، اسلامی جمہوریہ پاکستان “
ہم پچھلے ستر سال سے جمہوریہ جمہوریہ ، اسلامی اسلامی اسلامی اور اسلامی پاکستان میں جی رہے ہیں حال آں کہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نہ تو جمہوریہ ہے اور نہ ہی بد قسمتی سے ” اسلامیہ” ہے ۔
یہ صرف اک حکومت ہے جو حاکم طبقے،سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کے لئے کام کرتی رہی ہے۔۔
کسی ملک میں مسلمانوں کی اکثریت اسے اسلامی ملک نہیں بناتی ۔۔
اور نہ ہی الیکشن کے معنی ضروری طور پر جمہوریت کے ہیں ۔۔
لیکن آپ اندازہ تو کیجئے کہ ہمارے عام پاکستانی کو اس قدر گم راہ کیا گیا ہے ، اسے رنگوں، جبے،قبے اور اللہ و رسول کے نام پر اس قدر جذباتی بنادیا گیا ہے کہ اسے اس سطحیت کے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ 
وہ نہ تو معاشی جمہوریت سے کوئی سروکار رکھتا ہے اور نہ ہی اسے اس امر کا کوئی ادراک ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے لئے اسلامی تعلیمات کی ریاستی اداروں میں عملیت لازم ہے ۔۔
بروقت انصاف، قومی شعور، معاشرتی اور تجارتی اخلاقیات کا وجود ، قومی فکر و فلاسفی، سیاست اور معیشت میں حقیقی جمہوری روئیے اور مساوات کا ہونا لازم اجزا ہیں جس کے بغیرکسی ملک کے ” اسلامی” ہونے کا تصور ہی خود کفر کے مترادف ہے ۔
میرا خیال ہے اب قوم کو بتا دینا چائیے کہ 
ہمارے ابا و اجداد مذاق کررہے تھے ، اور ہم نے بھی اپنا پورا پورا حصہ وصول کرلیا ہے ۔۔۔
اب کھیل ختم ہوگیا،ہم جارہے ہیں ، اب تم اسلام اسلام کھیلو۔۔۔۔
پاکستان کے اس نئے سکے کا مذاق نہ اڑاو، اس کا برا نہ مناو، پاکستان اسلامی ہو نہ ہو لیکن یہ سکہ اسلامی ہے ۔۔۔۔
یہ پاکستان کا پہلا سکہ ہے جس نے سچ بولا ہے کہ پاکستان کسی قوم کا نہیں سرمایہ دار اور جاگیردار کا نام ہے ۔۔۔
پہلا سکہ ہے جس نے بتادیا ہے کہ پاکستان ” حکومت” کا نام ہے ، عوام اور اسلام کا نام نہیں ہے ۔۔
مجھے حیرت ہے جس قوم( میرا مطلب ہے ہجوم) پر ستر سال سے گیارہ بارہ چودھری، خوانین،زردارے، لغارے،ٹوانے،نوازے مسلط ہیں، جو اپنے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ کر سکول کے گیٹ میں دے دیتے ہیں تاکہ کوئی اغوا کرکے گردے نہ نکالے، جو اپنے گھر کے چاروں طرف آہنی باڑ لگا کر لوٹے جانے کے خوف سے اس میں کرنٹ چھوڑ دیتے ہیں، جو پانی کی سبیل لگا کر گلاس کو چوری ہوجانے کے خوف سے زنجیر سے باندھنا لازم سمجھتے ہیں، جہاں مذہبی منافرت کا یہ عالم ہے کہ عبادت گاہ کے ماتھے پر پر واضح تحریر ہوتا ہے کہ فلاں فرقہ کے لوگ یہاں نماز نہیں پڑھ سکتے ، جہاں سودی تطہیر کے لئے اسلامی بینکاری کے موٹے موٹے حوالے آویزاں ہیں، جہاں کی عدالتوں سے قاتل ویکٹری کا نشاں دکھائے باعزت بری ہوتے ہیں، جس کے تھانے کچہری سے انسانیت منہ چھپائے پھر رہی ہے ، جہاں سر عام بیچ چوراہے عزت کی نیلامی ہورہی ہے ۔۔۔۔۔
جس کی بازاروں میں مردار مرغیوں، گدھے اور کتے کا گوشت فروخت ہوتا ہے اور اسی دوکان کے ماتھے پر ” وقفہ برائے نماز ” آویزاں ہوتا ہے ۔۔۔
اس قوم کو اس بات کی تکلیف ہے کہ سو روپے کی نئی چونی پر حکومت پاکستان کے بد نما قنوطی چہرے پر ” جمہوریت کا ٹھپہ کیوں نہیں لگا ہے۔۔۔
جس سے اقوام عالم کو تاثر دیا جاتا رہے کہ ہاں ہمارے ہاں بھی  “جمہوریت  جمہوریت” پائی جاتی ہے ۔۔۔۔
“اسلامی “کا لاحقہ، سابقہ کیوں نہیں لگایا جس سے خود کوبہ نام مذہب مطمئن رکھا جاسکے کہ۔۔۔
راضی با القضا رہو،تمہاری ذلت و مسکنت کے فیصلے آسمان سے اتر رہے ہیں ۔۔۔جس سے اپنے شیطانی نظام کا غلیظ ترین چہرہ ” اسلامی ترین” لباس میں چھپایا جاسکے ۔۔۔
لاحول ولا قوتہ الابا اللہ العظیم۔۔۔۔۔
امیر شہر لوٹ لیتا ہے ۔۔۔
کبھی بہ حیلہ مذہب ۔۔۔
کبھی بہ نام وطن۔۔۔!
رہے نام اللہ کا ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}