مشرقی اقوام کی صنعتی، سماجی اور سیاسی طاقتاور قیادت کے فیصلے ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

ہماری کورین کلاس کی استانی نے ایک دن بتایا کہ کورین میں بیوی کو [آنے] کہتے ہیں۔ آنے کا مطلب ہے وہ شخص جو گھر کے اندر ہی رہتا ہے۔ یعنی جو پردہ کرتا ہے۔ صنعتی دور شروع ہونے سے پہلے دنیا کے اکثر بیشتر خطوں میں عورت کا کردار ایک جیسا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ سب کچھ بدل گیا۔ کیا وجہ تھی کہ کچھ خطے یکسر سماج اور طاقت کے توازن میں دوسرے خطوں سے آگے نکل گئے۔ مغرب میں عورت نے گھر سے باہر نکلنا شروع کیا تو کیا یہ پہلی دفعہ ہوا تھا؟ کیا ہمارے کھیتوں میں عورتیں کام نہیں کرتی تھیں؟ یہ تو صدیوں سے کرتی آر ہی ہیں۔

ہمارے ملک میں سوچ کو کس قدر بدبو دار بنا دیا گیا۔ ترقی، روشن خیالی کو فحش کہا جا رہا ہے۔ روشن خیالی کے لفظ کوسنتے ہی اچھے جذبات ابھرنے کی بجائے عورت اور جسم کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔ یہ احساسات کون بناتا ہے؟ کیوں بناتا ہے؟ کیا یہ اور ان سے ملتے جلتے سطحی مباحث ہمارے دانشوروں یا سماجی حلقوں کا ایک حصہ نہیں بن گئے؟ اب آئیں آپ کو ایک اور ہی دنیا کی سیر کروائیں اور نئے اصولوں کا تعارف کرائیں۔

 مشرقی اقوام کو تین حصوں میں تقسم کر دیا جائے تو آسانی سے سمجھ آئے گی۔ شمال مشرقی اقوام جن میں چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان جبکہ جنوب مشرقی اقوام جن میں تھائی لیںڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، ویت نام، تائیوان، اور فلپین شامل ہیں۔ جنوبی ایشیاء کی اقوام میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، برما، سری لنکا، اور افغانستان شامل ہیں، کیوں پیچھے رہ گئے؟َ وسطی ایشیاء اور عرب دنیا (مغربی ایشیاء) کو اس بحث سے نکال دیا گیا ہے تاکہ صنعتی ترقی کی بحث کو اچھے انداز میں سمیٹا جا سکے۔

1800ء سے پہلے تمام دنیا کی اکژآبادی (80 فیصد) زراعت سے وابستہ تھی۔ ترقی یافتہ وہ تھا جو اس شعبہ میں زیادہ اچھی کارکردگی دیکھاتا تھا۔ مغل انڈیا (بشمول پاکستان) اور چین اس میں پہلے اور دوسرے نمبر پہ تھے۔  12صدی عیسوی کے بعد سے لے کر 1800ء تک دنیا پہ وسطی ایشیائی اقوام (مغل/ترک) کا غلبہ رہا اور ان کا ماڈل دنیا ہی میں ترقی اور خوشحالی کا معیار مانا جاتا تھا۔ ان کی سلطنت میں تمام مذاہب کے لوگ تھے۔ چونکہ حکمرانوں نے اسلام کے عقائد قبول کر لیے تھے‘ تو ان کی ترقی اسلام کی ہی ترقی یا مسلمانوں کی ترقی کہلائی جانے لگی‘ حالانکہ ان سب کے جد امجد چنگیز اور ہلاکو خان عقل مند اور بہت بڑے فاتح تھے اور وہ مسلمان نہیں تھے۔ ان کے ظلم کی کہانی ایک الگ بحث ہے۔ طاقت ور ہمیشہ سمجھدار (یا چالاک کا لفظ زیادہ مناسب ہوگا) ہوتا ہے اور علم والا بھی ہوتا ہے۔ وہ ظلم کرے یا انصاف کرے، یا مخصوص لوگوں کو انصاف دے‘ یہ الگ بحث ہے۔ یہاں ایک بات صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ طاقت کا تعلق عقیدہ سے نہیں‘ بلکہ طاقت حاصل کرنے کا بنیادی گر حکمت، حکمت عملی، معاشی طاقت، تنظیم سازی، اور اثرورسوخ سے ہے۔ طاقت ور انسان لچکدار بھی ہو سکتا ہے، وہ طاقت کو قائم رکھنے کے لیے اپنے نظریات کو تبدیل کرتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے منگولوں نے اسلام قبول کیا؟ جیسے آج کی غالب سوچ نے چین کو مجبور کیا کہ وہ کمیونسٹ نظریے کو چھوڑ کر (یا وقتی طور پہ چھوڑ کر) فری مارکیٹ کے نظریے کو قبول کر لے۔ موجودہ دور کے چین کا نظریہ عزت سے  جینا تھا۔ سو انہوں نے سوچا کہ کمیونسٹ ادارہ جاتی ڈنھاچہ کام نہیں کر رہا تو انہوں نے دوسرا سرمایہ داری معاشی ڈنھاچہ اختیار کر لیا۔ حکمت عملی بدلی اور اداروں کی تنظیم سازی کی۔ 

جب 1978ء میں کمیونسٹ پارٹی نے اپنے اداروں کو کمیونسٹ نظریہ سے ہٹا کر نیم سرمایہ دارانہ دنیا کے نظریات کی طرف مائل کیا تواس اجلاس میں چین کے اس وقت کے رہنماء دینگ زیوپنگ نے پارلیمینٹ میں اپنی تقریر میں کہا تھا‘ ’’بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہے کہ ہم پسماندہ ہیں، ہمارے کام کرنے کے بہت سارے طریقے نامناسب ہیں، اور ہمیں یہ سب تبدیل کرنا چاہیے۔‘‘

اصول نمبر 1: اس ساری بحث سے ہم کحچھ اصول دریافت کریں گے اور پہلا اصول یہ ہے کہ اگر ایک طریقے سے کام نہیں ہو رہا تو طریقہ تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تسلیم کریں اور تبدیل کریں۔ اگر آپ طریقہ نہیں بدلتے تو آپ کا وجود خطرے میں ہے‘ کیونکہ آپ کا مخالف اچھا طریقہ اختیار کرکے آپ کے وجود کو ختم کر سکتا ہے یا آپ کی نسلوں کو غلام بنا سکتا ہے۔ صحیح طریقہ ہی حق ہے۔[1]

1961ء میں کوریا میں جنرل پارک چھنگ ہینے مارشلء لگا کر اقتدار پہ قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے اقتدار سے پہلے کوریا کی تعلیمی حالت افریقہ کے ایتھوپیا جیسی ہی تھی۔ اس کے اقتدار کو امریکہ نے جمہوریت دشمنی کہا‘ لیکن وہ خود اس مارشلء کو انقلاب کہتا تھا اور 20 سال بعد کے کوریا کو دیکھ کر یہی لگا کہ جنرل پارک کا مارشلء ایک انقلاب ہی تھا۔ انقلاب کا مطلب ہی سماجی اور معاشی تبدیلی ہے جو اچھے انداز میں قوم کو میسر آ جائے۔[2]جنرل پارک کے اقتدار سے پہلے جنوبی کوریا میں جن افراد کی حکومت تھی وہ امریکہ کے کٹ پتلی تھے۔ زمین کی اصلاحات میں رکاوٹ ڈالنے میں صدر سینگمن ری(1948-1960ء) کا بنیادی ہاتھ تھا۔ جس سینٹر نے 1949ء میں زمینی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا اس کو قتل کروا دیا گیا، کوریا کو جنگ کی نظرکر دیا اور یہ جنگ 1949 سے 1953ء تک چلتی رہی۔ کوریا راکھ ہو گیا‘ لیکن صدر ری کی آنکھیں نہ کھلیں۔ 1961ء کے بعد جنرل پارک نے ملڑی سٹائل میں تمام کاروباری حضرات کو مدعو کر کے ان سے عہد نامہ پہ سائن کروا لیے کہ اگر قوم کو ضرورت پڑی تو آپ کی تمام دولت کو قومیاء جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اس نے دن رات محنت کی۔ ایک کتاب لکھی، جس کا عنوان تھا‘ ’’ہماری قوم کا راستہ، سماجی تبدیلی کا نظریہ‘‘۔ اس کتاب میں اس نے اپنی قوم کے تمام ریوں پہ غور کیا اور لیڈرشپ کے رویوں پہ غور کیا۔ اس نے پچھلے حکمرانوں کی اغراض اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے قوم میں موجود سستی اور کام چوری کی عادت کو تسلیم کیا۔ طاقت کے حصول کو بذریعہ صنعت حاصل کرنے کا عندیہ دیا۔ اپنے سب سے بڑے دشمن جاپان اورآقا امریکہ سے ہی مدد لے کر آئندہ سے کوریا کو ناقابل تسخیر اور عوامی خوشحالی کا نظریہ دیا۔ اپنی زندگی اور اقتدار (کم و بیش 20 سال) کےدوران ہی کوریا کو غربت اور سستی سے نکال کر ایشیاء کی خوشحال قوم بنا دیا۔ اگرچہ جنوبی کوریا دفاع کے حوالے سے امریکہ کے زیر اثر تھا‘ لیکن جنرل پارک معاشی پالیسیاں بناتے ہوئے آئی۔ایم۔ ایف اور امریکہ کے مشورے کو سنتا تو تھا‘ لیکن عمل اسی پہ کرتا تھا جو اس کو اپنی قوم کے لیے ٹھیک لگتا تھا۔ اس کی آواز کو قوم نے خوش آمدید کہا‘ محنت اور لگن سے کوریا کو کئی صنعتوں میں دنیا کے اندر ممتاز مقام عطا کیا۔

[1]

اصول نمبر 2: کوریا کی تاریخ سے ایک بات سمجھ آتی ہے کہ سیاسی طور پہ کمزور ہوتے ہوئے بھی داخلی طور پہ اچھے انتظام سے قوم ترقی حاصل کر لیتی ہے جبکہ اندھی غلامی قوم (پاکستانی اشرافیہ اور امریکہ کا تعلق اس کی واضع مثال ہے) کو تباہ کر دیتی ہے۔

 (جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

حوالہ جات

  1. Studwell J (2013) How Asia works: Success and failure in the world’s most dynamic region. Grove/Atlantic, Inc.

[1]پاکستان اگر دو قومی نظریے کی اساس پہ نہیں چل رہا تو اب ہمیں متبادل نظریات کی کھوج شروع کر دینی چاہیے۔  

[2](پاکستان کا بننا ایک انقلاب یا کم از کم ہم سب کے آباؤاجداد نے یہ امید کی تھی۔ وقت اور تاریخ نے ثابت کیا کہ حکمران طبقے کا مقاصد ٹھیک نہیں تھا، اسی لیے منزل دور ہے)

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}