مولانا عبید اللہ سندھی اور ترکی کا سیاسی ماڈل : مولانا سعید احمد اکبر آبادی

 خدا قبر ٹھنڈی رکھے مولانا عبید اللہ سندھی کی اُن کی بعض باتیں اُس وقت سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور دل انہیں قبول نہیں کرتا تھا۔لیکن آج حرف بحرف اُن کی تصدیق ہوتی جارہی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ گاندھی جی دنیا کے بہت بڑے انسان اور بلند پایہ روحانی بزرگ ہیں میرے دل میں ان کی بڑی عظمت ومحبت ہے لیکن میرے نزدیک ان سے یہ بہت بڑی بھول ہوئی ہےکہ انہوں نے سیاست کے ساتھ مذہب اور کلچر کا رشتہ جوڑدیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ملک میں سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ ماضی پرستی اور رجعت پسندی بھی ترقی کررہی ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے تھے کہ ایک مذہبی ملک میں سیاست کے ساتھ مذہب کا اتنا تعلق نہ تو صرف مناسب بلکہ ضروری ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرتے وقت مذہب کے بنیادی اصول اخلاق کا لحاظ رکھا جائے یعنی جھوٹ نہ بولا جائے ،کسی کو فریب نہ دیا جائے ،کسی پر ظلم اور زیادتی نہ کی جائے لیکن ہندوستان ایسے ملک میں جہاں مختلف قومیں اور مختلف مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں وہاں سیاست پر گفتگو کرتے وقت مذہب کانام لینا یا کسی خاص فرقے یاقوم کے کلچر اور اس کی روایات کہن کا چرچا کرنا ملک اور سیاست میں آگے بڑہانے کے بجائے پیچھے ہٹانے کا سبب ہوسکتا ہے اور اس سے فرقہ وارانہ فضا پیدا ہوکر قوم میں رجعت پسندی کے جراثیم پیدا کرسکتی ہے۔

مولانا عبیداللہ سندھی اس سلسلے میں ترکی کا حوالہ دے کرفرمایا کرتے تھے کہ اگر کمال اتاترک کو مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کا نسخہ ہاتھ نہ آتا تو ترکی کا اس درجے ترقی یافتہ ہونا تو کجا اس کا زندہ رہنا بھی دشوار ہوجاتا لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ ترکی سے مذہب رخصت ہوگیا ہے سخت غلطی ہے کیونکہ ترک بہرحال مسلمان ہیں اور اسلام ان کے جسم وجان میں اس درجہ پیوست ہوچکا ہے وہ اگر اس کو چھوڑنا چاہیں تو نہیں چھوڑ سکتے البتہ ہاں اگر سیاسیات میں ترک ہمیشہ کی طرح مذہب اور خلافت کا نام لیتے رہتے تو ملکی اور سیاسی معاملات میں ان کا نقطہ نظر کبھی ترقی پسندانہ نہ ہوتا اور دوسری جانب ترکی کی حریف طاقتیں اس کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھ کر کبھی اسے پنپنے اور سیاسی طور پر مضبوط ہونے کا موقع نہ دیتیں۔بحوالہ،برہان شمارہ نمبر۵نومبر ۱۹۵۰

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}