سوچ اورغذا کا باہمی تعلق؟ ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز خان

کہا جاتا ہے کہ دل کا راستہ معدہ سے گزرتا ہے۔ شاید یہ بات کسی حد تک درست ہے۔ لیکن ایک اور سچ بھی ہے، اور وہ یہ کہ، دماغ کا راستہ چھوٹی آنت سے گزرتا ہے۔ دونوں باتوں میں ایک تلخ حقیقت چھپی ہے، وہ یہ کہ انسانی جسم کے وہ اعضا جو نظام انہضام سے جڑے ہیں، یعنی معدہ اور چھوٹی آنت،  وہ ہمارے سوچنے اور جذباتی کیفیات کو بھی قابو کرتے ہیں۔ سوچ اور جذبات جس کو عام طور پہ دماغ اور دل سے  تشبیہہدی جاتی ہے، زندگی کو قائم اور رواں دواں رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سوچ اور جذبات کو صحت مند رکھنے کا مطلب  یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ اور دل کو تندرست رکھیں۔ یہ تبھی ہوگا، جب ہم دماغ اور دل سے وابستہ نظام انہضام کو درست رکھیں، یعنی درست خوراک کا استعمال کریں

چھوٹی آنت اور دماغ کی شکل و صورت کافی حد تک ملتی ہے۔ چھوٹی آنت اور دماغ دونوں میں اینٹی منی کی مقدار ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے دونوں اعضا باہمی طور پہ مربوط ہیں۔ ہماری چھوٹی آنت میں جو کھانا جاتا ہے، وہ مختلف کیمیائی اجزا میں تبدیل ہوتا ہے، جو مختلف طرح کے جذبات پیدا کرتے ہیں، تو چھوٹی آنت براہ راست جذبات کے عمل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا، وہ کھانا جو جسم کو پسند نہیں ہوتا، وہ معدہ میں جاتے ہی ایسی کیفیات پیدا کرتا ہے جو انسانی طبعیت کو ناگوار ہوتی ہیں۔ اس طرح ہماری چھوٹی آنت ہمارے جذبات کو کنڑول کرتی ہے۔ اگر خوراک برے جذبات پیدا کر رہی ہے، تو اس کا اثر ہمارے فیصلوں اور تجزیات پہ بھی ہوتا ہے۔ اس طرح خوراک کو کنڑول کرکے انسانی سوچ اور عمل کو قابو میں لایا جاتا ہے۔

اگر غذا اور ہمارے قومی مسائل کو جوڑا جائے، تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے لوگوں کے سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کی صلاحیتیں صدیوں سے ایک جیسی چلی آرہی ہیں، تو اس عمل میں ہماری خوراک کا بھی ایک کردار ہے، جس کو بدل کر ہم اپنی سوچ کو بھی بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ خوراک کے علاوہ دوسرے پہلوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جو ہماری سوچ اور عمل کو متاثر کرتے ہیں، لیکن اس مضمون میں خوراک کی اہمیت کو واضح کرنا مقصود ہے۔

اگر ہم اپنی عوامی سطح کی خوراک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ لوگ، گندم کی روٹی، گھی میں بھنی ہوئی سبزی، پتلی دال، یا ایک دو بوٹیوں کے ساتھ شوربے کی ایک پلیٹ کھاتے ہیں۔ اگر اس خوراک کو کیمیائی اجزا کے روپ میں سمجھا جائے تو اس کا زیادہ تر حصہ نشاستہ ہے، اس میں پروٹین، منرلز، وٹامن بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ اس خوراک میں وہ غذائیت نہیں ہے جو دماغ کے درست فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ دماغی کمزوری، اور معدہ کے امراض میں مبتلا ہیں، یہ سب مسائل ہماری درست غذا منتخب نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ (یہاں پہ غربت کی وجہ سے درست غذا نہ خرید سکنے والوں سے کوئی شکایت نہیں، ایسے لوگ جو خرید بھی سکتے ہیں، وہ لا علمی اور جہالت کی وجہ سے درست غذا نہیں کھا پاتے، ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔) 

ہر غذا چونکہ ہر انسان کے لیے ایک جیسے نتائج پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ہر شخص کے آباوؑاجداد کے جین بھی اس کے جسم کی کیمائی ساخت کو کنڑول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذاٰ صحت مند رہنے کے لیے جہاں ڈاکڑ کا کردار اہم ہے، وہاں ہر شخص کو بھی اپنے جسم کو سمجھ کر درست غذا کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ڈاکڑ مشورہ دے سکتا ہے، جبکہ اپنی عادات کو کنڑول کرنا ہر شخص کی ذاتی ذمہ داری ہے۔ صحیح فیصلے کرنے کے لیے قوم کے ہر شخص کو صحیح کھانے کا انتخاب کرنا ہوگا، جو درست طور پہ ہضم ہو اور اچھے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنے۔

صحیح فیصلوں کا اثر ہمارے سماج کی ترقی کا سبب بنے گا۔ عدل پہ مبنی فیصلے کرنے والے افراد کبھی بھی مفاد پرست، کرپٹ لوگوں کو منتخب نہیں کریں گے۔ غذا کا صحیح انتخاب بہادر افراد پیدا کرتا ہے، جو سماجی مصلحتوں کی وجہ سے غلط پیروں، سیاسی لوٹیروں کی حمایت نہیں کرتے۔ صحیح غذا دماغ کو مضبوط اور باشعور رہنے میں مدد دیتی ہے۔

اب وہ طبقات جو اچھی خوراک خرید ہی نہیں سکتے، ان کا مسئلہ الگ ہے۔ ہمارے مقتدر طبقات روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ تو ان سے کرتے آ رہے ہیں، لیکن پورا نہیں کرتے۔ یہ حکمران جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں، ایسی بات نہیں کہ ان کو علم نہیں۔ یہ ایک ایسی طرز حکمرانی پہ یقین رکھتے ہیں، کہ عوام کو کم غذائیت والا کھانا دو، تاکہ جسم و دماغ توانا ہی نہ ہو سکے، کہ حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں کو یاد رکھ سکے، ہمارے لوگوں کو ایک ماہ پہلے کے واقعات تب ہی یاد آتے ہیں جب ٹی وی والے یاد کراتے ہیں۔ یہ غذا ہی کا اثر ہے۔ غذا کے بارے میں درست معلومات اور آگہی کے لیے کوئی کورس ہمارے نصاب میں شامل ہی نہیں، جبکہ سب جانتے ہیں کہ اچھا کھانا ہر شخص دن میں تین بار کھانا چاہتا ہے۔ لہٰذا آگہی سے دور رکھنا، وسائل کی کمی کا شکار بھی رکھنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکمران ایک ایسے طرز حکمرانی کے تحت کام کرتے ہیں، جو شیطانی، مکاری، اور استحصال پہ مبنی ہے۔ وہ عوام کو اپنی صحت کے مسائل میں الجھا کر اس سطح تک آنے ہی نہیں دینا چاہتے، کہ صحت مند لوگ ان کا گلا دبوچ سکیں۔

Michale F. Roizen, and Mechmet C. OZ, On a Diet, The Owner’s Manual for Waist Management, fp free press, , New York, USA, 2009

متوازن غذا کیا ہے؟

متوازن غذا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، وٹامنز، اور چکنائی 4/1 کے تناسب سے ملے۔ ہر انسان کے لیے متوازن غذا وہ ہے جس کو وہ ہضم کرسکے، اس کے جسم میں اچھی کیفیات پیدا کر سکے، اس کے دماغ کو متحرک کر سکے، اور اس کو لاحق بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کر سکے۔ ہر غذا جسم میں ایسے ہی کیمیائی اجزا میں تبدیل ہو جاتی ہے، جیسے ادویات۔ غذا کا درست انتخاب ہمارے جسم کو لاحق بیماریوں، ان کی بنیاد چاہے ہمارا ماحول ہو، خاندانی طور پہ منتقل ہوں یا کسی اور وجہ سے ہوں، کے خلاف مدافعت پیدا کرکے ایک لمبی عمر کا سبب بنتا ہے۔

غذا عمر کے ہر حصے میں مختلف ہونی چاہئے۔ گھر والوں کو آپس میں مشورہ کرکے ایسامینیو سیٹ کرنا چاہیے جس سے ان کی صحت برقرار رہے اور ہر گھر کا غذائی کلچر درست ہو نا چاہئے۔ بدقسمتی سے درست کلچر نہ ہونے سے ہی ہم غذائی امراض کا شکار ہوتےہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی درست غذا کھانے کا ارادہ بھی کر لے تو معاشرہ الٹی سمت میں جا رہا ہوتا ہے، تو آخرکار وہ فرد بھی معاشرے کی سمت چلنے لگتا ہے۔ لہٰذا پورے گھر کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کے مینیو کو اکھٹے ہو کر بنائیں اور اس پہ ثابت قدمی سے قائم رہیں۔ دوستی کا رشتہ اپنی جگہ لیکن تکلف میں وہ چیزیں مت کھائیں جو آپ کے جسم کے لیے زہر ہیں۔

متوازن غذا کی تعریف ہر شخص، جنس، اور عمر کے ہر دور میں مختلف ہو سکتی ہے۔ وہ غذا جو 20 سال کی عمر میں ہمارے لیے سودمند ہوتی ہے، وہ 40 یا 60 سال کی عمر میں نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس طرح وہ غذا جو حاملہ عورت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، حمل کے بعد وہ نتائج نہیں دیتی ہے۔ دفتر میں کام کرنے والے افراد کی غذا اور کسان کی غذا مختلف ہونی چاہیے۔ جسمانی اور ذہنی کام کرنے والے افراد کی غذا مختلف ہونی چاہیے، لیکن ہمارے اکثر گھروں میں سب کو ایک ہی چھڑی سے ہانکنے کا رواج ہے۔ بوڑھوں،  بچوں، خواتین، اور جوانوں، سب کو ایک جیسی خوراک ملتی ہے۔ یہ برابری تو ہے لیکن جسم کے ساتھ عدل نہیں، اور صحت کے نقطہ نظر سے درست بھی نہیں ہے۔ سب گھر والوں کو مل جل کر ایسا کلچر متعارف کروانا چاہیے جس سے کسی ایک فرد پہ کچن کا بوجھ بھی نہ پڑے، اور سب کا کھانا بھی تیار ہو جائے، جو عمر، جنس، اور جسم کی ضرورت کے مطابق ہو۔

یہ سب تبھی ممکن ہے، جب آگہی ہو، صحت کو ترجیحاً وقت دیا جائے، اور پیسےسے درست اجناس خریدنے کا شعور بھی ہو۔

Michale F. Roizen, and Mechmet C. OZ, On a Diet, The Owner’s Manual for Waist Management, fp free press, , New York, USA, 2009

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}