اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف کے نظارے ۔۔۔ راؤ عبدالحمید

پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تاکہ یہاں پر اسلامی اصول و قوانین نافذ کیے جاسکیں. ایک ایسی فلاحی ریاست قائم کی جائے جو نہ صرف اس ملک میں رہنے والے بالخصوص مسلمانوں اور باقی مذاہب کے لوگوں کے لیے جنت سے کم نہ ہو بلکہ باقی اسلامی دنیا کے لیے بھی نمونہ کی ریاست بنے. یہ خواب ملک بننے کی حد تک کامیاب رہا.
کسی بھی فلاحی ریاست میں عدل و انصاف کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اس کی بدولت اس ریاست کے باشندے محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ریاست کی فلاح و ترقی میں دلجمعی سے کردار اداکرتے ہیں. لیکن اس اسلامی ریاست میں شائد اس کے برعکس ہوا، تمام تر ذمہ داری قائداعظم محمد علی جناح رح کے انتقال پر ڈال کر جان چھڑانا کافی سمجھا جاتا ہے.
کسی بھی ریاست کے تین بنیادی ادارے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہوتے ہیں. تینوں ادارے ریاست کے وجود میں آنے کے ساتھ سے ہی موجود ہیں. لیکن کہیں کچھ کمی سی ہے. پاکستان میں انصاف کا حصول مشکل ترین بلکہ کٹھن ترین کاموں میں سے ایک ہے. اس کے لیے صبر ایوب (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر کے جملےزبان زد عام ہیں. کچھ مثالیں ملاحظہ کیجئے :
1.  ایک خاتون کی 19 سال بعد باعزت رہائی کا عدالتی فیصلہ 
2. کم وبیش چالیس سال بعد اسلام آباد میں ایک پلاٹ کا اصل مالک کے حق میں فیصلہ
3. گزشتہ سال ایک شخص کی وفات کے دو سال بعد باعزت بریت کا فیصلہ
4. سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر چھایا ہوا شاہزیب قتل کیس میں شاہ رُخ جتوئی کی باعزت بریت
5. سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کی صداقت اور ایمانداری تسلیم اور تمام کیسز کا اختتام
6. سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے قتل کا سال بعد بھی چالان نہ پیش ہونا
7. مجید اچکزئی صاحب کا پولیس سارجنٹ کے قتل کیس میں باعزت بریت.
8. مریم نواز (دختر سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب) کا عدالت کی پیشی کے بعد تبصرہ “ہمیں بار بار نہ بلائیں جو فیصلہ سنانا ہے سنائیے”
9. عمران خان صاحب کا دہشت گردی کیس میں اپنے وکیل بابر اعوان صاحب پر غصہ، “یوں تو مجھے یہ بار بار بلاتے رہیں گے، تم نے کہا تھا بس آخری بار ہے”
اس قسم کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جس میں انصاف کی فراہمی میں اوسطاً پندرہ سے بیس سال کا وقت لگا یا طاقتور ملزم کے سامنے عدالتی نظام نے سر نگوں کر لیا.
پاکستان کے قریباً نوے فیصد قوانین انگریزوں کے بنائے گئے ہیں، اس میں کچھ قوانین کو ظاہراً کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا گیا، حقیقتاً یہ تمام قوانین انگریزوں کے اپنے غلاموں کے لیے بنائے گئے قوانین ہی ہیں. پہلی بات یہ کم از کم ایک صدی سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں جو موجودہ حالات کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے نیز یہ ایک قابض حکمران کے اپنے غلاموں کے لیے بنائے گئے قوانین ہیں، انہیں کیا فرق پڑتا تھا کسی کو انصاف ملتا ہے یا نہیں. کسی بھی قانون کی تاریخ اٹھا لیں 1947 سے پہلے کی ہی ہو گی، سوائے چند ایک کے، اور تو اور ابھی تک عدالت میں بلانے کے لیے محلہ میں ڈھول پیٹنے والے کو ہی منادی کا کہا جاتا ہے.
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ  2016 کے سروے کے مطابق رول آف لا انڈیکس کی 112 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 106واں نمبر ہے اور چار دہائیوں سے جنگ زدہ افغانستان کا 111 واں. ہندوستان جو ایک ساتھ آزاد ہوا اس کا انڈیکس بھی 66واں ہے. برطانیہ جس کے بنائے گئے قوانین ہم ابھی تک پوری ذمہ داری سے لاگو کیے ہوئے ہیں اس کا 10واں نمبر ہے کیونکہ اس نے اپنے لیے جو قوانین بنائے ہوئے ہیں وہ یہاں سے یکسر مختلف ہیں. برطانیہ میں 65 ملین افراد کے لئے 30000 مجسٹریٹ موجود ہیں جبکہ پاکستان میں اس سے تین گنا آبادی کے لیے صرف 2700.
جدید فارینزک لیبارٹری پورے پنجاب کے لیے لاہور میں موجود ہے، جو یقیناً ناکافی ہے، سندھ کو تاحال یہ جدید سہولیت دستیاب نہیں. 
ہمارے پیارے اسلامی ملک میں مدارس کی تعداد  تقریباً سکولوں کے برابر ہی ہے اور وہاں پر اسلامی اصول و قوانین باقاعدہ پڑھائے جاتے ہیں لیکن ان کے نفاذ کی کوشش نہ دارد. مذہبی جماعتیں جن میں زیادہ تر علماء کرام ہیں اور بار بار قانون ساز اداروں کے رکن منتخب ہوئے لیکن ایک بھی قانون کو جدید تقاضوں سے ہم  آہنگ کرنے کی کوشش نہ کرسکے. تمام جماعتیں خواہ وہ مذہبی ہوں، لبرل ہوں، سوشلسٹ نظریات کی حامل ہوں، نیا پاکستان بنانے والی ہوں یا انقلاب کی داعی ہوں، ان کے منشور میں کبھی بھی انسان دوست اور جدید تقاضوں پر پورا اترنے والے قوانین کے نفاذ کی کوشش نہیں ملے گی.
ہمارے نوجوان کو یہ باور کرانا ضروری ہے جہاں نظام کے باقی جزیات میں تبدیلی ناگزیر ہے اسی طرح قانون سازی، قانون کی بروقت فراہمی اور اس پر بلا  رنگ، نسل، مذہب اور طاقت کے قانون کی عملداری ناگزیر ہے.
نوجوان کو ان جماعتوں سے عملی اور جامع تبدیلی کی تفصیل طلب کرنا چاہئے تاکہ وہ صرف اپنے انتخاب تک کے لیے آپ کو استعمال کر کے بھول نہ جائیں اور اگر آپ ان جماعتوں کے رکن بھی ہیں تو جو وعدے یہ کرتے ہیں ان سے پورے کرنے کا تقاضا کریں تاکہ تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}