اسلام اور شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ ۔۔۔ مدثر گل

غیر ذمہ دار الیکٹرانک میڈیائی رویے اور اسلامی اقدار کے منافی مطبوعہ مواد نے ایک اسلامی معاشرے میں شادی سے پہلے انڈرسٹینڈنگ والی بحثوں کو فروغ دے دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ نا صرف مغربی ثقافت کو اپنا رہا ہے بلکہ ان مغربی تصورات کو بھی اپنانا چاہ رہا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ شادی جو کہ زندگی کا اہم فیصلہ ہوتا ہے اس کے لیے اضافی احتیاط لازمی سمجھی جاتی ہے تاکہ آئندہ زندگی نہایت خوشگوار ٹھہرے۔ ایک شادی شدہ عمدہ زندگی کے لیے شوہر اور بیوی کے درمیان محبت کا ہونا لازمی عنصر گردانا جاتا ہے۔
اگر آپ سورۃ الروم کی آیت نمبر 21 کا مطالعہ کریں تو اس میں ارشاد ہوتا ہے۔
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ۔ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی۔ یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔” (القرآن۔30:21)
ایک مسلمان کے لیے اللّہ تعالیٰ کا حکم، اس کا ارشاد، اس کی بتائی بات ہی دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہوتی ہے۔ بیشک اللّہ تعالیٰ قادر ہے وہ کُن فیکون کا مالک ہے۔ جب اللّہ تعالیٰ نے بتا دیا شوہر اور بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے لئے محبت ڈال دی ہے تو پھر کسی مغربی اور مشرقی نظریے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔” (القرآن۔2:187)
اب ان واضح احکامات کے بعد بھی میاں بیوی کی محبت اور رشتے میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔ مگر کئی جوڑوں میں تعلقات کشیدہ بھی رہتے ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔اس کے لیے بھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم موجود ہے کہ ایسے جوڑے اپنی کشیدگی کس طرح دور کر سکتے ہیں۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر 19 میں ارشاد ہے۔
“ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر  کرو اگر وہ تمہیں ناپسند بھی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللّہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہے۔” (القرآن۔4:19)
اس آیت کریمہ کی روشنی سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ جس ایک وجہ سے حالات کشیدگی کی طرف جا رہے ہیں اس کو اگنور کر کے اور بہت سی مثبت چیزیں مدنظر رکھ کر زندگی خوشگوار بنائی جا سکتی ہے۔ یعنی گھریلو ناچاقیاں ختم کرنے کا نسخہ کیمیا اس آیت میں موجود ہے۔
واضح قرآنی آیات کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور نظریے اور تحقیق کی ضرورت بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ جوان لڑکا لڑکی انڈرسٹینڈنگ کی بجائے معاشرے کی بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نامحرم کی قید و بند سے آزاد یہ جوڑے شرح طلاق میں اضافے کے علاوہ کہیں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک میں شرح طلاق اور اسلامی ممالک میں شرح طلاق آپ سب کے سامنے موجود ہے۔
شادی کے اس موضوع میں مرد کو چار چار شادیوں کی اجازت پر بھی میں بات کرتا چلوں کہ کس طرح اس کی غلط تشہیر کی جاتی ہے۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر 3 میں ارشاد ہے۔
” اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ کر سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو۔ دو دو،تین تین، چار چار سے لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک کافی ہے۔” (القرآن۔4:3)
اس آیتِ کریمہ میں جہاں چار چار شادیوں کی اجازت دی گئی ساتھ ہی واضح شرط رکھی گئی ہے کہ برابری رکھنی ہے۔ اگر تمام بیویوں میں برابری نہیں رکھ سکتے تو ایک ہی بیوی کافی ہے۔
سورۃ النساء میں ہی ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“تم سے یہ تو کبھی نہ ہو سکے گا کہ اپنی تمام بیویوں میں ہر طرح عدل کرو۔” (القرآن۔4:129)
اس واضح ارشادِ باری تعالیٰ کے بعد یہ حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو پھر بھی واضح حکم موجود ہے کہ ایک ہی کافی ہے۔ مرد کے اس اجارہ دار معاشرے میں مرد صرف چار چار شادیوں کی اجازت کو تو سینہ تان کر بیان کرتا ہے مگر اس کے ساتھ جڑے احکامات کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر اس کی یہ شرط ہے کہ آپ پہلے اسلام کو پڑھیں۔ دوسرے نظریات، فلسفے اور تحقیقات کا مطالعہ ضرور کریں مگر اس سے پہلے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ضرور آشنائی ہونی چاہیے۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات کا سب سے بہترین مآخذ قرآن مجید ہے جو کہ آخری رسول حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی۔ 
اللّہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}