اعتدال — تحریر: اسامہ اقبال

ہوا, پانی, آگ اور مٹی وہ چار عناصر ہیں جو نہ صرف باعث تخلیق حیات ہیں بلکہ زندگی کی بقاء کے ضامن بھی ہیں. اس کائنات کا ذرہ ذرہ جہاں اپنے خالق کے وجود پر اک زندہ شہادت ہے وہاں وجہ غور و فکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے آدم کی سرشت میں علم رکھ کر اسے فرشتوں پر برتری عطا فرمائ اور زمین پر اسے اپنا نائب بنایا تاکہ غور و فکر کے ذریعے وہ تسخیر کائنات کر سکےباری تعالی نے کلام پاک میں اعتدال و میانہ روی کی حکمت سے متعلق نشانیاں رکھی ہیں. ذرا سا غور کرنے پر زندگی کو جنم دینے والے ان چاروں عناصر یعنی ہوا, پانی, آگ اور مٹی بڑے ہی خوبصورت انداز میں اعتدال کا درس دیتے دکھائی دیتے ہیں.

ہوا…… 
ہوا جس کے بغیر کوئی ذی روح نہ سانس لے سکتا ہے اور نہ ہی زندہ رہ سکتا ہے اگر بہت کم ہو جائے تو گھٹن بن کر زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے اور حد سے بڑھ جانے کی صورت میں جھکڑ اور طوفان کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیا کرتی ہے.

آگ…. 
آگ یعنی سورج کی حرارت جو ناصرف پھلوں اور فصلوں کے پکنے کا باعث ہے جن پر تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار ہے بلکہ کائنات کی تمام رنگینیاں اسی سورج اور اس کی حرارت کے دم سے ہیں. مگر اعتدال کھو دینے پر یہی آگ (حرارت) زندگی کو منجمد بھی کر سکتی ہے اور پگھلا بھی سکتی ہے.

پانی….. 
بے شک اعتدال کی صورت میں پانی کے بغیر زمین پر چرند پرند, انسان و حیوان حتی کہ فصلوں اور پھلوں تک کے وجود کا تصور محال ہے لیکن عدم اعتدال کی صورت میں یہی پانی سیلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو نہ صرف پھلدار درختوں اور فصلوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے بلکہ. بہت سے جانداروں کو  بھی اس کے سامنے اپنی زندگیاں ہار دینا پڑتی ہیں.

مٹی…… 
یوں ہی مٹی کا اعتدال انسان کے پاؤں تلے فصلوں اور پھلوں کی صورت میں سونا اگلتا ہے, گارا , سیمنٹ اور اینٹ کی صورت میں عظیم الشان محلات کی تعمیر کا باعث بنتا ہے. مگراسی مٹی کا عدم اعتدال انسان کے پاؤں سے اٹھ کر مٹی کے تودے یا قبر کی صورت انسان کے سر تک آ پہنچتا ہے اور اس کی ذات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے.ان واضح نشانیوں کے باوجود انسان عدم اعتدال کا شکار کیوں ہے??? 
کیوں وہ کبھی پانی کے قطرے کی مانند بے سمت اور ہر اک چیز میں جذب ہو جانے پر آمادہ تو کبھی سیلاب کی طرح تباہی پر مصر ہے??? 
کیوں وہ ہوا کی طرح کبھی اپنے وجود سے بھی بےخبر تو کبھی آندهی اور طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے??? 
اس کے جذبوں کا برف کی مانند منجمد ہو جانا یا آگ کی طرح جلا کر رکھ دینا کس بات کی طرف اشارہ ہے???
انسان کی مٹی کی طرح دستیابی یا دوسروں کے سروں پر سوار ہوکر ضرر رساں ہونے کی تمنا کس بات کی دلیل ہے???

سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں اس عدم اعتدال کی صورت میں برداشت, امن, محبت اور خوشحالی ممکن ہے??? 
         ذرا سوچئے……

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}