زندگی کے 20 عظیم سبق ۔۔۔ تعارف — ہال اربن


ہال اربن کی شہرہ آفاق کتاب “زندگی کے 20 عظیم سبق” کے بارے میں بنیادی معلومات اور تبصرے 


مصنف کاتعارف

ڈاکٹر ہال اربن تاریخ میں ماسٹرز ڈگری رکھتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم اور نفسیات میں یونی ورسٹی آف سان فرانسسکو سے ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سائیکلولوجی آف پبلک پرفارمینس میں سٹین فرڈ یونی ورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹورل  ڈگری بھی لی ہوئی ہے۔ وہ ایسے انسان ہیں جِسے تدریس سے بے حد لگائو ہے۔ وہ نوجوانوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اُن کی بہترین صلاحیتوں سے واقف کرانے میں تیس سال سے زیادہ عرصے سے مصروف ہیں۔ ڈاکٹر اربن پوری دنیا میں مثبت کرداری اوصاف اور زندگی کے معیار سے ان کے تعلق کے موضوع پر لیکچر دیتے ہیں۔ وہ نیشنل کنوینشنز میں پریزینٹیشن دیتے ہیں، اساتذہ کے لیے ورکشاپس منعقد کرتے ہیں اور طلباء، والدین،مختلف گروپس اور کاروباری حضرات کو لیکچر دیتے ہیں۔

:کتاب سے متعلق آراء اور تبصرے

’(’یہ کتاب ہر اُس شخص کو باثروت بنا دے گی، جو اس کا مطالعہ کرے گا۔‘‘ (ربائی ہیرالڈ کُشن

مصنف

“When Bad Thigs Happen to Good people”

(بچوں ، اساتذہ اور والدین کے لیے ایک عظیم کتاب۔‘‘ (ڈاکٹر تھامس لیکونا

مصنف 

 “Education for Character”

’’اس کتاب کے مصنف ہال اربن جینیئس ہیں۔ یہ کام ایک جینیئس ہی کا ہے کہ انتہائی سعی و کاوش سے حاصل ہونے والی دانش و حکمت کو ہر عمر کے افراد کے لیے قابلِ فہم بنا کر پیش کرے۔ یہ کتاب گہرے معانی سے معمور ہے! یہ آپ کی اور اُن لوگوں کی زندگی کو بدل سکتی ہے، جن سے تمہیں محبت ہے۔‘‘     (ٹم ہینسل

مصنف

:  You, ‘Gotta keep Dancin’

(ایک باپ کے دِل سے حاصل ہونے والے دانش و حکمت کے بیس (20) خوب صورت موتی۔‘‘    (جیرالڈ جی جیمپو لسکی ایم ۔ڈی

شریک مصنف

  “Love is letting Go of Fear”

’’ان عظیم اسباق کو سیکھو، اِن کے مطابق زندگی بسر کرو اور انہیں دوسروں تک پہنچائو۔ یہ سبق تمہاری زندگی کو آسودگی اور خوشیوں سے بھر دیں گے۔‘‘         (ایلن نِسین ایم ۔ڈی) ڈائریکٹر آف او ٹو جی اینڈ نیوروٹولوجی، یونیورسٹی آف لوئز وائل سکول آف میڈیسن)اس کتاب کے مصنف ہال اربن والدین اور اساتذہ کی مشکلات کو سمجھنے والے غیر معمولی راہ نما ہیں۔ یہ کتاب والدین اور اساتذہ کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہے۔  (ایرک شیپس پی ایچ ڈی )                  پریذیڈینٹ ڈیویلپمینٹل سٹڈیز سینٹر

’’اِس کتاب میں والدین اور بچوں کے لیے حکمت و دانش کے بے شمار موتی موجود ہیں۔‘‘ (جان این گارڈنر)      پی ایچ ڈی، یونیورسٹی آف سائوتھ کیرولینا

مصنف

 “College is Only the Beginning”  

’’اس کتاب میں ایک استادِ کامل  نے ہمیں اپنی عظیم دانش سے روشناس کرایا ہے …… ہر عمر کے فرد کے لیے زندگی کا مکمل فلسفہ!‘‘        (سینفرڈ این میکڈونیل)                         چیئرمین ایمیریٹس، میکڈونیل ڈگلس کارپوریشن

’’اس مختصر لیکن نہایت قابلِ مطالعہ کتاب میں عملی دانش کی کئی جلدیں  سموئی ہوئی ہیں۔ اِس کا مطالعہ ضرور کرو!‘‘ (کیون ریان پی ایچ ڈی)مصنف:

  “Reclaiming our Schools A handbook for teaching character, Academics and discipline”

’’زندگی پیچیدہ ہے۔ اس لیے ایک بنیاد ضروری ہے کہ جس پر ہم اپنی زندگیاں استوار کریں…… اور اسے اپنے بچوں کو بھی دیں۔ یہ کتاب وہی بنیاد ہے!‘‘      (جان میک کارمک )مصنف:

  “Self-Made in America” 

’’قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے کامن سینس ایک اہم عنصر ہے۔ یہ کتاب کامن سینس کی بائبل ہے۔ مَیں اپنی اقدار کے ذریعے مینیجمینٹ کی تربیتی کلاس میں اس سے استفادہ کرتا ہوں۔ ‘‘   (رونالڈ سی ڈَرِسکول                        چیف آف پولیس

(ہم سب میں موجود بچے کے لیے عظیم سبق!  (    روب جیکسن ، چیئرمین او یو ایم اینڈ ایسوسی ایٹس

آج کے والدین کے لیے پرانی اقدار کا وقت کے اثرات سے آزاد خزانہ! اِس کا مطالعہ کرو…… تمہارے بچے تمہارا شکریہ ادا کریں گے!!‘‘ ( مائک مَرّے)                    وائس پریزیڈینٹ ہیومین ، ریسورسز اینڈ ایڈمنسٹریشن، مائیکروسوفٹ

یہ کتاب مجھے آج تک ملنے والے تحائف میں سب سے عظیم تحفہ ہے۔ یہ کتاب عملی زندگی میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کو کامل راہنمائی مہیا کرتی ہے۔‘‘  (ڈِینا ہال)                                         یونیورسٹی گریجویٹ سٹودینٹ.

:مصنف اپنی کتاب کے بارے میں کہتے ہیں 

مَیں نے  یہ کتاب چار وجوہات سے لکھی ہے

1۔ اس لیے کہ ہم کبھی اتنے چھو ٹے یا اتنے بڑ ے نہیں ہوتے کہ زندگی کے عظیم ترین سبق سیکھ نہ سکیں۔ دراصل مَیں نے یہ کتاب والدین کے لیے لکھی تھی تاکہ وہ اسے اپنے بلوغت کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہونے والے بچوں کو دیں۔ وہ بچے جو ہائی سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کتاب ان بچوں کو بھی دی جا سکتی ہے جو ابھی  بیس سال سے زیادہ لیکن تیس سال سے کم ہیں۔ بلاشبہ والدین نے یہ کتاب بچوں کے لیے خریدی لیکن انہوں نے اسے انہیں دینے سے پہلے خود بھی پڑھا۔ تب انہوں نے مجھے خط لکھنے شروع کیے، جن میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے خیال میں اس کتاب کو قارئین کے وسیع تر حلقے میں پہنچنا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ میرا پیغام ہمارے بچوں کی تو ضرور مدد کرے گا تاہم ’’20 اسباق‘‘ آفاقی کشش کے حامل اور اتنے اہم ہیں کہ انہیں ہر عمر کے لوگوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔ گو کہ مَیں دل سے یہی چاہتا تھا کہ میرا پیغام بچوں اور نوجوانوں تک پہنچے تاہم اپنی عملی زندگی کے تجربات کی روشنی میں مَیں نے دیکھا کہ انہوں نے درست لکھا تھا۔  مَیں تیس سال سے زیادہ عرصے تک دو ایسی ملازمتیں کرتا رہا ہوں جو بتدریج میرے لیے زیادہ نفع بخش ہوتی گئیں۔ مَیں ایک پبلک ہائی سکول میں بچوں کو اور ایک پرائیویٹ یونی ورسٹی میں بالغوں کو پڑھایا کرتا تھا۔ وہ دونوں ادارے اپنے اپنے دائرے میں بہترین تھے۔ اس کے علاوہ مجھے چھوٹے بچوں سے لے کر کالج کے سیکنڈ گریڈ کے طلبا تک سے گفتگو کا موقع ملا۔ مَیں ایلیمینٹری اور ہائی سکول کے اساتذہ کے لیے ورک شاپس  منعقد کیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ میں والدین، کاروباری حضرات اور پادریوں کے اجتماعات سے خطاب بھی کیا کرتا تھا۔ مجھے بہت عرصہ پہلے اس حقیقت کا علم ہو گیا تھا کہ جب زندگی کو زیادہ گہرائی تک سمجھنے اور اسے بھرپور انداز میں گزارنے کا سوال ہو تو ہر عمر کے لوگ سیکھنے جاننے کے مشتاق ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں مجھے یہ امید ہے کہ میرا پیغام بچوں اور نوجوانوں تک پہنچے، وہاں مجھے اس حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ یہ دیگر لوگوں کے لیے بھی فائدہ بخش ثابت ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کا پہلا خاکہ جن بالغ افراد نے پڑھا ہے، انہوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ارے ، یہ تو ہمارے لیے بھی ہے!‘‘ مَیں خوش ہوں کیونکہ ہم کبھی اتنے چھوٹے یا اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ زندگی کے عظیم ترین اسباق کو نہ سیکھ سکیں

 2۔ اس لیے کہ سکولوں میں یہ نہیں پڑھایا جاتا کہ ’’زندگی کیسے عمل کرتی ہے‘‘ اور یہ کہ ’’کون سی چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔‘‘ ہمارے سکول ایک بہت بڑی خدمت انجام دیتے ہیں۔ پہلے درجے سے لے کر گریجویٹ سطح تک کے تعلیمی اداروں میں ایسے کورس پڑھائے جاتے ہیں جو طلباء کے علم میں اضافہ کرتے ہیں اور انہیں بہت سے قابلِ قدر ہنر سکھاتے ہیں۔ ا س سب کے باوجود نصاب میں ایک خامی، ایک کمی ہوتی ہے۔ وہ خامی، وہ کمی یہ ہے کہ ہم اپنے طلبا کو زندگی کے بارے میں کچھ نہیں پڑھاتے۔ ہم انہیں یہ نہیں پڑھاتے کہ زندگی کیسے عمل کرتی ہے۔ ہم انہیں یہ بھی نہیں پڑھاتے کہ کون سی چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔  زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں روایتی تعلیمی اداروں کے علاوہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں ہمیں اس مقصد کے لیے درست ’’اوزار‘‘ مہیا کیے جائیں۔ ہمیں تعلقات بنانے کے لیے ضروری رویوں اور مہارتوں کو سیکھنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں ذاتی اہداف کا تعین کرنے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی قدرو قیمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  ایک استاد کی حیثیت سے مجھے کئی سال سے اس ضرورت کا احساس ہو چکا ہے لیکن میری گزارشات کو سُنی اَن سُنی کر دیا گیا۔ تعلیمی اداروں کے منتظمین کو امتحانی نمبروں اور بجٹ کی فکر رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ طلبا کو ایک اچھا انسان بنانا سکول کی ذمہ داری نہیں سمجھی جاتی۔ چنانچہ مَیں نے خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اور ہمارے بچے اس بات کو سمجھیں جو کہ اہم ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اور ہمارے بچے یہ سمجھیں کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اور ہمارے بچے یہ سمجھیں کہ کامیاب زندگی کے معنی کیا ہیں۔

 3۔ اس لیے کہ ہم میں سے بیش تر کو یہ جاننے کے لیے مدد کی ضرورت ہے کہ ہم کتنے اچھے بن سکتے ہیں۔ چند سال پہلے کیلی فورنیا میں عزتِ نفس کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ مجھے بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں ایک ماہرِ نفسیات نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ جب کوئی شخص اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ اس کی تذلیل کی جا چکی ہوتی ہے۔ مجھے نہیں علم کہ اُسے اِس تعداد کا علم کیسے ہوا تھا تاہم اس کی بات حیرت انگیز نہیں تھی۔  یہ سچ ہے کہ ہماری بے عزتی بہت زیادہ کی جاتی ہے۔ اس کا آغاز ابتدائی عمر ہی سے ہو جاتا ہے۔ ہماری بے عزتی بے شمار لوگ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ بلوغت تک جاری رہتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا ہمیں دنیا اور لوگوں کی خامیوں کے بارے میں ہر روز آگاہ کرتا ہے۔ منفی باتوں کا روزانہ امڈنے والا یہ طوفان بہت بُرے اثرات چھوڑتا ہے۔ ہم جتنا زیادہ تواتر سے کسی چیز کے بارے میں سنتے ہیں ،اتنا زیادہ ہم اس پر یقین کرنے لگتے ہیں۔  میر امقصد یہ تجزیہ کرنا نہیں ہے کہ ایسا ’’کیوں‘‘ ہوتا ہے۔ میرا مقصد فقط اس بات کی نشان دہی کرنا ہے کہ بدقسمتی سے یہ زندگی کی ایک سچائی ہے۔ مَیں نے یہ کتاب اس لیے لکھی ہے کہ میرے خیال میں انسانیت کے دوسرے رُخ پر توجہ دینے کے لیے ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ دنیا میں زیادہ لوگ قانون کی پابندی کرنے والے، محبت کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ لیکن وہ اس کی تشہیر نہیں کرتے۔ اچھا ہونا خبر نہیں ہوتی۔ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ہم میں سے بیش تر لوگ اپنی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ہوتے، اور خود کو ارزاں داموں فروخت کر دیتے ہیں۔ ہم میں اچھی خصوصیات ہوتی ہیں لیکن ہم ان سے آگاہ نہیں ہوتے، ہم میں داخلی سر چشمے ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں دریافت نہیں کرتے، اور ہمیں مواقع دست یاب ہوتے ہیں لیکن ہم کبھی ان کا خوا ب تک نہیں دیکھتے۔  مجھے امید ہے یہ کتاب منفی باتوں پر زیادہ توجہ دینے والی دنیا میں چند مثبت باتیں لائے گی۔ زندگی میں اچھائی ڈھونڈنا ہماری سب سے بڑی خوشی بن سکتا ہے

 4۔ اس لیے کہ پرانی سچائیاں کبھی فرسودہ وبے کار نہیں ہوتیں …… نئی نسل کے لیے بھی نہیں چند سال پہلے کی بات ہے مَیں نے کالج کے طلبا کے ایک گروپ سے ’’کامیابی کے حقیقی معانی‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ مَیں نے اپنی تقریر کے آغاز میں چند ایسے پیغامات کی نشان دہی کی جن کی ’’بمباری‘‘ ہم پر مستقلاً ہوتی رہتی ہے۔ مَیں انہیں آگاہ کرنا چاہتا تھا کہ میرا پیغام بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ مَیں نے انہیں یہ بتانے سے شروعات کی کہ ’’میرے پاس کیا نہیں ہے۔‘‘ مَیں نے انہیں بتایا کہ میرے پا س کامیابی حاصل کرنے کا کوئی ’’راز‘‘ نہیں ہے، نہ ہی کامل مسرت کے حصول کا کوئی ’’جادوئی کلیہ‘‘ ہے، نہ ہی اس دنیا کو جنت بنانے کی ’’حیران کن نئی تیکنیک‘‘ ہے، امیر اور طاقت ور بننے کا کوئی طریقہ ہے اور نہ ہی اپنی ہر خواہش پوری کرنے کا کوئی ’’منفرد طریقہ‘‘ ہے۔  اس کی بجائے مَیں نے ان اقدار کی بات کی جو وقت کے ہر معیار پر پورا اتر چکی ہیں یعنی احترام، مہربانی، دیانت داری، دوسروں کو سراہنا، اچھی خواہشات، محنت، ایفائے عہد اور اچھا انسان بننا!! میرا مؤقف یہ تھا کہ حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا نہ تو کوئی شارٹ کٹ  ہے، نہ آسان راستہ اورنہ ہی کوئی نیا طریقہ۔ کامیابی تو محنت سے حاصل ہوتی ہے۔  مَیں یہ دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی کہ وہ طلبا میری یہ بات سن کر بھی مزید باتیں سننے پر آمادہ تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا، آپ جانتے ہیں ، آپ نے کوئی ایسی بات نہیں کی، جو مَیں پہلے نہ سن چکا ہوں تاہم آپ نے ان ساری پرانی باتوں کو اس انداز سے یکجا کر دیا ہے کہ یہ زیادہ بامعنی ہو گئی ہیں۔ آپ نے چند پرانی صداقتوں پر حقیقتاً نئی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد نزدیک موجود ایک استاد نے کہا، ’’شکریہ، ہم سب کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ کون سی بات اہم ہے۔‘‘ وہ دونوں مجھ سے ایک سی بات کہہ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کالج میں تازہ تازہ داخل ہونے والا کم عمر طالب ِعلم تھا جب کہ دوسرا اپنے کریئر کے اختتام کے قریب پہنچا ہوا بڑی عمر کا استاد تھا۔ مَیں ان دونوں کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ ان دونوں نے مجھے یہ فیصلہ کرنے میں مدد دی کہ مجھے یہ کتاب لکھنی پڑے گی۔

آپ اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے نیچے دیئے گئے نمبر پر کال کرسکتے ہیں۔

0304-4802030

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}