آج کا طالب علم — اریبہ فاطمہ

طالب علم کیا ہے؟؟
کیا وہ بچہ جو ابتدائی کلاسوں میں بیٹھا کھیلنے میں مصروف ہے ۔” یا“
پھر وہ جو پرائمری کی جماعتوں میں بیٹھا بچہ جو ہر وقت جھگڑنے کی تیاری میں تیار رہتا ہے۔ یا
پھر وہ بچہ جو مڈل کلاس میں بیٹھے اساتذہ کو حقیر جاننے کے فرائض سرانجام دے رہا ہے؟
اگر یہ بھی نہیںتو پھر وہ ہے طالب علم جو میٹرک کے ساتھ ساتھ روحانی ماں باپ)اساتذہ(
کے ساتھ غیراخلاقی رویہ رکھنے میں مصروف ہے۔
ہمارے معاشرے میں طالب علم ان کو کہا جاتا ہے۔
نہیں۔۔۔مجھے میرے استاد محترم بتاتے تھے کہ” طالب“ تو ایک فاعل ہے جس کا مطلب ”طلب کرنے والا“ہے اور ”علم“ سے
مراد ایسے تمام خزانے جنہوں نے انسان کو اشرف المخلوقات کارتبہ عطا کیا۔
اس سے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ” طالب علم “ وہ ہے جو علم جیسے خزانوں کی طلب رکھنے والا ہو۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اپنے اردگرد بہت سے طالب خوراک،طالب مال ،طالب نفس ،طالب عزت ، طالب فرمائش
والے تو دیکھتے ہیں لیکن طالب علم آج کے جدید دور میں ہمیں شاذو نادر نظر آئیں گے۔
ہر نفس اپنی طلب کی چاہ میں اتنا مصروف ہے کہ تن من لٹانا پڑے تو گریز نہیں کرتا۔حتی کہ اپنی طلب کو پورا کرتے
کرتے بہت سے جان بھی لوٹادیتے ہیں ۔یہ محض میرا تجزیہ نہیں بلکہ ہم سب ایسے لوگوں کو اردگرد پاتے ہیں۔
بہت مشکل سے ہی ہمیں علم کا طالب نظر آئے گا مڈل ،میٹرک ،انٹر ،ایف اے ،گریجوایشن اور ماسٹر کرنے والے بھی طالب
علم نہیں وہ تو صرف کلاس میں آنکھیں بند کرکے بیٹھے ڈگری لینے اور مقام و مرتبہ کے حصول میں مگن ہیں۔
میرے تجزیے کے مطابق ساٹھ فیصد لوگ تو ایسے ہیں جو علم کی طلب کے حامی ہی نہیں محض اپنے عزیزوں کے لیے
اداروں میں جاتے ہیں اور کچھ وقت بیٹھ کر بنا کچھ حاصل کیے جیسے جاتے ہیں ویسے ہی واپسی کی راہ پکڑ لیتے
ہیں۔کیونکہ جس شخص کو پیاس ہی نہیں تو ڈھیڑوں مشروبات بھی سامنے سجی ہوں وہ نہیں پئے گا۔کسی بھی چیز کے
حصول کے لیے طلب اشد ضروری ہے۔اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کو علم کی پیاس دینے والا ہی کوئی
نہیں۔یہاں غور طلب بات ہے کہ نمبرز کی پیاس ہرگز علم کی پیاس نہیں۔
دوسرا گروہ ایسے افراد کا ہے جو علم کی خواہش اور پیاس رکھتے ہیں۔لیکن جس چیز کی ان کے وجود کو پیاس ہوتی ہے
ان کو وہ نہیں مل پاتی ۔اپنی پیاس کو پس وپشت ڈال کر اپنے عزیزوں کی خواہش پہ چل رہے ہوتے ہیں اسکی مثال اس
شخص جیسی ہے جو سخت گرمی میں ٹھنڈے کی طلب رکھے ہوئے ہیں اور اسے زبردستی گرم پانی پلایا جا رہا ہے وہ جتنا
مرضی پانی پی لے اس کی پیاس تب تک نہیں بجھ سکے جب تک اس کو ٹھنڈا پانی نہ مل پائے۔
ہمارے معاشرے میں ۳۰ فیصد لوگ ایسے ہیں جن کو پیاس ہوتی کسی اور شعبے کی ہے لیکن ان کے والدین ان پر اپنی
مرضی کے شعبے لاد دیتے ہیں وہ مجبور ا رینگتے رینگتے ان شعبوں کو عبور کرتے جاتے ہیں۔قارئین اکرام علم کا تعلق
آزادی کے ساتھ ہے قید علم نہیں سیکھاتا۔
۸ فیصد لوگوں کا گروہ ایسا ہے جو جس چیز کی طلب رکھتے ہیں اس کو پالیتے ہیں۔ایسے لوگ self dependant ہوتے
ہیں ۔دوسروں پر ان کی ترجیحات کا انحصار نہیں ہوتا ۔یہ اپنےمقام کو پالیتے ہیں۔یہ لوگ اگر ناکام بھی ہوجائے تو مطمئن
رہتے ہیں ان میں اٹھ کر کھڑے ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یہ دل کی بات سنتے ہیں اگر کہیں جاکر پتہ چلے کہ ہماری
پیا س علم غلط تھی تو وہ اپنی راہیں بدل لینے میں دقت محسوس نہیں کرتے۔
ماؤزے تنگ کہتا ہے۔
”ہزار میل کے سفر کی ابتدا ایک قدم سے ہوتی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جو قدم اٹھایا ہے اسکی سمت کیا ہے۔“
اس لیے ایسے طالب علم اگر جان لیں کہ ان کا قدم راہ راست کے مخالف تھا تو وہ نیا قدم اٹھا کر نئے سفر کی ابتدا کرنا
جانتے ہیں۔ان لوگوں کی راہوں میں مشکالات بہت سی آتی ہیں۔تنہا ہوجاتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والا نہیں ہوتا

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}