ہمارے ہاں جمہوریت کیوں گر جاتی ہے ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

سیاسی نظام ہمیشہ سماج کی بنیاد پر کھڑے کیے جاتے ہیں۔ سماج کی معاشی، ثقافتی، اقتصادی اقدار کے مطابق، ہمارے ہاں برسوں سے جمہوریت کی بحث اور جمہوریت قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو یقینا ہمارے ذہن میں مغربی جمہوریتیں آتی ہیں۔ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جو جاگیردار، قبائلی، پسماندہ، نہایت نیم صنعتی اور غیرسیکولر بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ہم اس کی بنیادوں پر سکینڈے نیوین، برطانوی، وسطی یورپی یا امریکی جمہوریت جیسی عمارت کھڑی کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، اسی لیے باربار قائم جمہوریت کسی نہ کسی انداز سے اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ جمہوریت (سیاسی اقتدار کا زمانہ) ہو تب بھی اقتدار کی اصل طاقت انہی کے پاس ہوتی ہے جن کے “Shoulders” مضبوط ہوتے ہیں۔ اب اس جمہوریت (ہماری جمہوریت) کے لیے ایک اور طاقت چیلنج بنتی جارہی ہے اور وہ ہے مذہبی انتہاپسندی، جس کی مختلف شکلیں ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی کامیاب جمہوریت کے لیے سیکولرازم لازمی جزو ہے۔ مغرب کی تمام جمہوریتیں اسی سیاسی اینٹ پر کھڑی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ جمہوریت کے لیے جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ لازمی ہے۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں ہم ایک بھی مثال نہیں ڈھونڈ سکتے کہ وہاں جمہوریت بھی ہو اور ریاست سیکولر نہ ہو اور سماج جاگیرداری پر کھڑا ہو۔ ایک بھی مثال ایسی نہیں۔ ان دو بنیادوں کے بعد سماج اور ریاست کا صنعتی ہونا اس جمہوریت کی طاقت ہے۔ جتنی زیادہ Industrialization ہوگی، اسی قدر Democratizationہوگی۔ ہم جس ترکی کو آج حسرت اور ہمارے مذہبی حلقے فخر سے دیکھتے ہیں، وہاں بھی جب Republic قائم ہوئی، یعنی جمہوریہ، تو ترکوں نے جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا اور ریاست کو ریڈیکل بنیادوں پر سیکولر کردیا۔ ان کی سیکولر اصلاحات نے کیا وہاں اسلام کو دفنا دیا؟ ہرگز نہیں۔ ترک دنیا کے شاید بہترین مسلمان ہیں، جس کی خبریں میں ذاتی طور پر پچھلی پانچ دہائیوں سے ہر حج کے بعد سنتا آرہا ہوں کہ سب سے اچھے حجاج ترک ہوتے ہیں۔
ہم سب لوگ، اہل فکر، سیاسی جماعتیں، سماجی ادارے ایک ایسی زمین پر جمہوریت کی فصل بونے کی بار بار کوشش کرتے ہیں جو اس فصل کے لیے تیار ہی نہیں۔ سنگلاخ پہاڑ پر آم کا پیڑ کبھی نہیں اُگ سکتا۔ اس لیے جمہوریت کی خواہشات پر قائم سیاسی حکمرانی بار بار گھائل ہوتی نظر آتی ہے۔ ایسی جمہوریت (ہماری جمہوریت) میں آخری طاقت اس کے پاس ہوتی ہے جس کے کندھے (Shoulders) طاقتور ہوتے ہیں۔ وہ لوگ ریاست کے اندر موجود ہوں یا سماج کے اندر، یعنی State Actors اور Non-state Actors۔ ہم معاملات کو سمجھنے کے لیے بڑے اوپر کی سطح سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جمہوری خواہشات رکھنے والی قیادتیں کیوں اقتدار، ملک اور اس جہانِ فانی سے ’’فارغ‘‘ کردی جاتی ہیں۔ پاکستان کے سول حکمران اسی طاقت کا نشانہ بنے۔ چوں کہ ہم سماج اور ریاست کے ڈھانچے کو بدلے بغیر جمہوریت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تربوزوں کے کھیتوں سے زعفران کی توقع لگانا اور وہ بھی بار بار توقع لگانا، اُن لوگوں کی فکری پسماندگی کا اظہار ہے جو اس پسماندہ سماج اور ریاستی ڈھانچے سے Scandanavian Democracy (سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک، ناروے) کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے لازم ہے وہ لوگ جو جمہوریت کی حقیقی شکل دیکھنا چاہتے یا دعوے کرتے ہیں، وہ جمہوریت کی مکمل تعریف کے بعد اس جمہوریت کے اُن تقاضوں کو پورا کرنے کی بھی کوشش کریں، جس کو مثال بنا کر وہ خواب دیکھتے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ، سکینڈے نیویا، حتیٰ کہ ترکی کی جمہوریت۔ ان جمہوریتوں میں کہیں بھی جاگیرداری کا نام ونشان نہیں اور یہ تمام جمہوریتیں سیکولر ہیں۔ ہم نے جس طرح اپنے آپ کو مغالطوں اور غلط تشریحات میں الجھا رکھا ہے، شاید ہی اس کی کہیں مثال ملتی ہو۔
اگر کھل کر عرض کروں، ہم نے جمہوریت اور سیکولرازم کی تشریح اور تعریف ہی غلط کررکھی ہے۔ اسی لیے بار بار جمہوریت (سول حکمرانی) شکست سے دوچار ہوتی ہے۔ سول حکمرانی سماج کو جمہوری (Democratize) اور سیکولرائز کیے بغیر ناممکن ہے۔ جس ترکی پر آج ہمارے ہاں مذہبی لوگ بڑی بغلیں بجا رہے ہیں، اس ترکی کی کامیابی کا سارا کریڈٹ اس کے سیکولر ہونے پر جاتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ جاگیرداری نظام کے خاتمے پر۔ ہمارے سماج میں وہ طاقتور ہوں گے اور رہیں گے جن کے کندھوں پر بندوق ہے۔ یعنی جمہور کی طاقت دلیل ہوتی ہے اور آمریت کی طاقت بندوق کی نال۔ جس کے پاس یہ ہوگی ’’فیصلہ‘‘اسی کا مانا جائے گا۔ پاکستان میں امڈتے ہوئے طوفانوں کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہمارے نام نہاد تجزیہ نگار اتنا وژن ہی نہیں رکھتے کہ اگلے پانچ دس سالوں کا منظرنامہ پیش کرسکیں کہ یہاں کون طاقتور ہوگا۔ خواہش اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ میری خواہش اور دعا کو آپ تجزیہ پڑھیں یا پڑھانے کی کوشش کروں تو یہ ایک فریب ہے۔ ’’طاقت‘‘ کن کے پاس ہے؟ جن کے پاس بندوق ہے۔ وہ سٹیٹ ایکٹرز ہوں یا نان سٹیٹ ایکٹرز اور یا سامراجی بندوق بردار۔ یعنی وہ عالمی طاقت امریکہ جس کی بندوق کی نالی پر ہماری ریاست سرنگوں ہوجاتی ہے۔ باتیں اور دعوے، چیخنا اور چلاّنا اور بات ہے، عمل یا حقیقت اور بات۔
امریکی سامراج 1958ء سے آج تک ہمارے حتمی فیصلوں کی طاقت رکھتا ہے۔ کس لیے اور کیوںَ اس لیے کہ اس کے کندھے (Shoulders) مضبوط ہیں۔ بڑے بڑے وردی والے ا ور بغیر وردی والے حکمران اور ہماری ریاست اُس کے آگے چوں نہیں کرسکتے۔ اسی طرح وہ مقامی طاقتیں جن کی بندوق کی نال، دلیل، منطق، اظہارِ رائے کے لب کو خاموش کردے۔ اور ذرا تصور کریں، ایسی طاقتوں میں سے کسی ایک کے پاس فتوے کی طاقت ہوتو پھر کیسا سماج ابھرے گا، کیسی جمہوریت۔۔۔ آئندہ اگر حالات یونہی چلتے رہے، آوازیں تو دبنا بند ہوں گی ہی، سانسیں لینا بھی مشکل ہوتا جائے گا، صرف یہ کہہ دینا کہ اللہ بہتر کرے گا، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے، وہ رب الکریم و رب العالمین ہے، وہ کائنات کا رب ہے، جہانوں کا رب۔ لوگوں کو لفظوں سے دھوکا دے کر پاکستان کو کامیاب نہیں کرسکتے۔ دلیل دیں، الفاظ سے نہ کھیلیں۔
ہمارے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ جو لوگ آج گلیاں سڑکیں بند کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، کیا اُن کی بڑھتی طاقت کا کسی کو اندازہ ہے؟ کیا ان تمام طاقتوں کے ہوتے ہوئے جمہور کی جمہوریت قائم ہوسکے گی۔ پارلیمان کے انتخابات سے جمہوریت کی فصلیں کاٹنے کی توقعات لگانے والے ’’مفکرین‘‘، ’’قائدین‘‘ شاید اِن معاملات کا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ جمہوریت انتخابات سے نہیں، پارلیمان کے قیام سے نہیں، جمہوری فکر اور جمہوری سماج سے پھوٹتی ہے۔ ہم گلے پھاڑ پھاڑ کر علامہ اقبالؒ کے داعی ہونے کے دعوے کرتے ہیں، حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ ایسی جمہوریت کو روحانی جمہوریت (Spiritual Democracy) قرار دیتے ہیں جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ یعنی مغرب میں قائم جمہوریتوں کا۔ اور یہ علامہ محمد اقبالؒ ہی تھے جنہوں نے مسلم دنیا میں پہلی جمہوریہ قائم کرنے پر ترکوں کے اس انقلاب کو اجتہاد قرار دیا تھا اور یہ جمہوری انقلاب مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں برپا ہوا۔ آج ہر کوئی اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا داعی بنا پھرتا ہے۔ وہ ملت کے مفکر اور قائد سے ناآشنا نہیں، اُن کی ضد ہیں، پاکستان میں جمہوریت قائم نہ ہونے پر گہری سوچ رکھنے والے کسی سول حکمران کی بے بسی، بے دخلی اور اس جہان سے بے دخل کیے جانے پر حیران نہیں ہوسکتے۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}