عراقی کردستان ریفرنڈم اور بغداد کا ردعمل” ۔۔۔ وقاص زوہیب

عراقی کردستان عراق کے شمال میں واقع ہے
عراق کردستان کی مشرقی سرحد ایران کے ساتھ ہے, جبکہ شمالی سرحد, ترکی، جنوبی اور مغربی سرحد عراق اور مغربی سرحد کا تھورا سا حصہ شام کے ساتھ ملتا ہے۔
عراقی کردستان کو کوئی بھی آبی راستہ نہیں لگتا۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمے سے لے کر آج تک کرد قوم ایک الگ وطن اور اپنی ایک خاص پہچان حاصل کرنے کی خواہشمند اور اسکو معرض وجود میں لانے کے لئے کوشاں ہے.
کرد قوم چار ہمسایہ ممالک میں تقسیم ہے,
ترکی، ایران، شام اور عراق۔
کرد قوم ان چاروں ملکوں میں موجود کرد علاقوں کو ملا کر ایک گریٹر(Greater) کردستان بنانے کی بھی خواہشمند ہے۔ 
عراقی کرد 1991-92ء میں بغداد سے خودمختار(Autonomous) حیثیت لینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
کردستان ریجن (Kurdistan Region)
کے چار صوبے ( Governorates)
دھوک،اربل،سلیمانیہ اور حالابجہ ہیں۔
نمایاں سیاسی جماعتوں میں(Kurdistan Democratic Party(KDP) اور (Patriotic Union of Kurdistan(PUK) ہیں۔
موجودہ صدر معسود بارزانی ہیں جن کا تعلق KDP جماعت سے یے۔ 
٢٥ستمبر٢٠١٧کو کردستان حکومت نے آزاد کردستان (Independent Kurdistan) کے لئے بغداد حکومت کی رضامندی کے برخلاف ریفرنڈم منعقد کروایا۔
جس میں عوام سے یہ رائے لی گئ کہ وہ آزاد کردستان کے حق میں ہیں یا نہیں۔ سیاسی شعور سے نابلد قوم نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ(92.7%) بغداد سے علیحدگی میں رضامندی ظاہر کی۔ تمام سامراجی ممالک کی حمایت کردستان حکومت کے ساتھ تھی جن میں امریکہ اور اسرائیل سرفہرست ہیں۔ امیریکن فوجی چھاونیاں بھی کردستان میں موجود ہیں جن کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ امریکی فوج کردی فوج ( پیشمرگہ) کی اتحادی بن کر داعش کے خلاف لڑ رہی ہے ۔ 
بغداد نے کردستان کے علیحدگی پسند اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور ٹھوس ردعمل اختیار کیا۔اس معاملے میں ترکی اور ایران نے بغداد کا بھرپور ساتھ دیا۔
مندرجہ ذیل اقدامات بغداد حکومت نے ریفرنڈم کی سزا کے طور پر کرد حکومت کے خلاف اٹھائے۔
 
1۔ ریفرنڈم کے چار دن بعد اربیل اور سلیمانیہ کے ائرپورٹ انٹرنیشنل فلائٹس کے لئے بند کر دئیے گئے۔
اڑتیس دن گزرنے کے بعد ابھی تک یہ ائرپورٹ انٹرنیشنل فلائٹس کے لئے بند ہیں۔
سیاحت کی انڈسٹری کو نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ ائرپورٹ سے آنے والا ریونیو بھی رک گی۔
 
2۔ متنازعہ علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کے لئے فوجی کاروائی کی گئ اور چند گھنٹوں میں تیل و گیس سے مالامال کرکوک کا علاقہ اپنے کنٹرول میں کر لیا۔
اس فوجی کاروائی میں ایرانی حمایت یافتہ فورس
`الحشد الشعبی` ( PMU) بھی عراقی فوج کے ساتھ تھی۔ کرکوک آئل فیلڈ کی روزانہ کی پیداوار 3،00،000 لا کھ بیرل ہے جو کہ کردستان کی پیداوار کا پچاص فیصد ہے۔
اس فیلڈ کا کنٹرول عراق کے پاس جانے سے معاشی طور پر کرد ستان کو بہت نقصان ہوا۔
3۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ہمسایہ ممالک ترکی اور ایران کو اعتماد میں لیا، ان ممالک کا دورہ بھی کیا۔
عراقی وزیراعظم کی طرف سے ان ممالک کو کردستان کے ساتھ موجودہ باڑڈر کو بند کرنے کا کہا گیا۔
ایران اور ترکی نے اس پر رضامندی ظاہر کی کچھ وقت کے لیے باڑڈر بند ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں مگر باڑڈر مسلسل بند نہیں کئے گئے اور دھمکیوں کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔
کردستان کو کوئی آبی حدود نہیں لگتی اسلئے اگر ہوائی حدود کے ساتھ زمینی حدود بھی بند ہو جاتیں تو معاشی طور پر کرد ستان بہت مسائل کا شکار ہو جاتا۔
عراقی کردستان کی اپنی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے یہاں 80 فیصد سے زیادہ چیزیں ایران، ترکی، امریکہ،یورپ اور چین سے آتی ہیں ۔
خطے کے ممالک عراق ، ترکی، ایران اور شام کا اتحاد بحت خوشائند چیز ہے
ایرانی روحانی لیڈر خامنائ نے بیان دیا کہ “اس خطے میں ایک نیا اسرائیل نہیں بننے دینگے”۔
(یاد رہے کہ ماضی میں عراق اور ایران 1980 کی دہائی میں ایک طویل جنگ میں مبتلا رہ چکے ہیں اور ترکی کے ساتھ بھی ماضی میں  پانی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بنا پر مسائل رہ چکے ہیں)۔
عراقی فوج اور ایرانی فورس `الحشد الشعبی` ( PMU) نے ترک اور شامی سرحد پر کردی فورس پیشمرگہ کے خلاف کاروائی کی اور ان باڈرز کا کنٹرول لینے کی کوشش کی گئی۔ ایک دو دن کی لڑائی کے بعد اربیل کی درخواست پر بغداد نے سیز فائر کا اعلان کر دیا حالانکہ بغداد مضبوط پوزیشن پر تھا اور معاملہ مذاکرات کی میز پر چلا گیا ۔
4۔ دو بڑی موبائل فون سروس کمپنیز کورک اور ایشیا سیل کو ہیڈکوارٹر بغداد میں منتقل کرنے کا کہا گیا ۔
نتیجہ اور موجودہ صورتحال: 
1۔ ریفرنڈم کے ذریعے کرد قوم اور معسود بارزانی کی آزاد کردستان حاصل کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو گئ۔ معسود بارزانی اپنے صدارت کے عہدے سے 31-اکتوبر کو مستعفی ہوگئے
2۔ فوجیں بارڈر پر ہیں اور مذاکرات ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔
بغداد کردستان کے تمام باڑڈرز، ہوائی اڈوں اور آئل فیلڈز کا کنٹرول چاہتاہے اور سالانہ بجٹ میں ایک طے شدہ رقم اربیل کو دینا چاہتا ہے ۔ 
3۔ اربیل حکومت باقی تمام شرائط پر تقریبا رضامند نظر آرہی ہے صرف بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔
4۔ اس سارے کھیل میں سامراجی ایجنڈے کی شکست اور خطے کے ممالک کی جیت نظر آئی.
5۔ ایک مشترکہ مسئلے پر عراق اور ہمسایہ ممالک کا ماضی کے تعصبات کو بھلا کراکھٹے ہونا کافی سبق آموز ہے کہ پاکستان بھی اگر اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ ملکر اور اتحاد بنا کر کام کرےتو دہشت گردی کے مشترکہ، دیرینہ اور خطرناک مسئلے پر احسن طریقے سے قابو پا سکتا ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}