کہانی آزاد کی ۔۔۔ وقاص خان

مت سہل     ہمیں جانو پھرتا  ہے   فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے  انساں نکلتے ہیں

مولانا ابو الکلام آزاد رح نے 1888 کو اس کائنات فانی کی فیوض و برکات اور توجہات و انہماک کی حامل سر زمیں مکہ مکرمہ کی رنگ و بو میں آنکھ کھولی جو سرور کونین حضور ص کی مبارک زندگی کی نیرنگیوں کے ایک سنہرے باب سے عبارت ہے,,آپ کے والد محترم نے آپکا نام غلام محی الدین رکھا بعد میں آپ نے آزاد قلمی نام منتخب کیا اور ابوالکلام کنیت کے طور پر اور کچھ وقت کی گھڑیاں بتانے کے بعد ہندوستان شفٹ ہو گے دریں اثنا مولانا آزاد کنزرویٹو سوچ کی حامل فیملی کے خول سے باہر آ گئے ۔
آپ کا نام آتے ہی ذہن میں آپ کی پہلو دار شخصیت کی گرہیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ نے انتہائی نا مساعد حالات میں ہر زاویہ سے جو کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں وہ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے ان کا اگرعمیق و بسیط جائزہ لیا جائے تو ان کی وسعتیں,ان کی گہراہیاں, انکی توانایاں اور پھر انکی پہنایاں بے پایاں ہیں ان کی تازگی اسی طرح برقرارہے وہ یاسیت(مایوسی) میں پیکر امید ہیں وہ چشمہ فیضان و ہدایت ہیں جہاں عزم و ہمت,جہدو جہد اور استقامت کی تشنگی کا شباب جھلکتا ہے آپ کے ہمہ جہت افکار و نظریات اہل ذوق کا دامن حکمت و دانش سے بھر دیتے ہیں سامراجی جبر سے متاثرہ اور قدامت پسند ذہنوں کی عقلی و شعورکی آبیاری کرتے محسوس ہوتے ہیں اور پرمژدہ دلوں میں آسمانی بجلی جیسی تڑپ پیدا کرتے ہیں   جس طرح پہاڑوں کے دامن میں بہتی گنگناتی ندی سکوت میں ارتعاش پیدا کرتی ہے مزید آپ کی زندگی کی متنوع جہتوں کے ٹریک پر سفر کیا جائے تو جستجو تلاش مزید جوان ہوتی چلی جاتی ہے آپ کی زندگی میں ساز بھی ہے سوز بھی,تلخیاں بھی ہیں شیرنییاں بھی ہیں ,مسکراہٹیں بھی ہیں ,سسکیاں بھی ہیں ,آب رواں کا ترنم میں بھی ہے تلوار کے زخموں کی سوزش بھی ہے , روح کے ادھیڑے گۓ  ریشم  کے ریشوں کا مرہم بھی ہے مزید دو قدم آگے جائیں تو معلوم ہوتا ہے آپ بیک وقت ایک دلنشین انشا پرداز ,,ادیب, عبقری سیاست دان اور ایک بے مثال صحافی بھی ہیں اور آپکو لسانیات,لغات ,اصطلاحات کے مسائل سے خاص دلچسپی تھی  آپ کی خطابت کے اجزاۓ ترکیبی بے ریا کردار,شخصی عظمت,ذاتی وجاہت,بلند نصب العین,بہترین اسلوب بیاں,تکنیک,برجستہ گوئ موقع شناسی ,تمثیل و نگار,طبعی ہمدردی,ظرافت اور سلاست وترتیب کی سحر انگیزی و دلفریبی اور جچے تلے الفاظ کا امتزاج سامعین کے دل موہ لیتا دکھی دلوں کا مداوہ ہوتا

کوئی کیوں کسی سے لبھائے دل ، کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھاگئے

ان کی طاقت لسانی کے سامنے انگریز ایسٹیبلیشمنٹ بھی اپنے آہنی اور گھناونی حربوں کے استعمال کے باوجود کانپتی رہی  تحریر کے میدان کے بھی بے نظیر اور متحرک شہسوار تھے ان کا قلم بیشتر کے گھاؤ مندمل کرنے کا سامان کرتا  اور دائمی زخموں کو سیتا اور بیشتر کو کانٹھے کی نوک کی طرح چھبتا ان کی انشاء پردازی اور نثر وغیرہ میں ایسی مقناطیسیت تھی کہ ذوق مطالعہ رکھنے والے لوگ کھنچے چلے آتے اور  غالباً عنفوان شباب   میں ہی الندوہ کے مدیر بنے اور وقت کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوے کچھ عرصے میں الہلال میگزین کا اجراء کیا جس کی تزہین و ترتیب ,ترقی پسند خیالات اور ٹھوس مقالاجات جو مختلف  مضامین تاریخ ,سیاست,حالات حاضرہ اور سائنٹیفک ایڈوانسمنٹ  کا مجموعہ ہوتا گراں قدر اہمیت کے حامل تھے الہلال ہندوستان کی عظیم الشان خانقاہ رائے پور جو اپنے اندر استعماری ظلم و جبر کے خلاف فقیدالمثال جہدوجہد کی ایک داستان رکھتی ہے  میں بھی پڑھا جاتا اور شیخ الہند رح اور شاہ عبدالرحیم رائے پوری اس کے خاص طور پر سیاسی مضامین کو پسند کرتے اور انہیں سراہتے  یوں  الہلال نے بڑی پزیرائ کمائی ذیل میں الہلال کے نمایاں پہلو دیئے گئے ہیں جنہوں نے ایسے حیرت انگیز نتاہج پیدا کیے کہ دنیا کی نظروں کو خیرہ کر دیا۔

الہلال میگزین صحافت کی تکنیکس کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوا.
صحافتی میدان میں گیم چینجنگ تغیرات برپا کیے اور پرکشش طبع آزمائی کے لیے نشان راہ ثابت ہوا.
الہلال نے قومی و بین الاقومی سطح پر آزادی پسند حلقوں میں سیاسی حرارت اور جہدوجہد کی سمت طے کرنے کے لیے وقت کی نزاکت کی گہری شناسائ بخشی اور الہلال کے قد کا اعتراف ہندوستان کے پاۓ کے بزرگوں نے کیا شیخ الہند رح فرماتے ہیں الہلال نے ہمیں سیاسی حرارت سے سرفراز کیا الہلال نے برٹش راج کی چیرہ دستیوں کو ایکسپوز کیا اور ان کو کچلنے کے لیے متوازی جہدوجہد کا سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرتا رہا۔ہندوستان کی آزادی کی کاز کو سپورٹ کیا.
فرقہ ورانہ گتھیوں کی دلدل میں لینڈ کرنے کے بجائے اتحاد و یگانگت اور یکجہتی کا دامن تھامنے کا ذریعہ بنا
نہرو نے کہا الہلال نے مسلمانوں کو ایک پرتاثیر لہجہ  دیا کیونکہ مولانا کا لہجہ بڑا جواں مرد تھا 
لیکن بدقسمتی سے انگریز نے حیلے بہانوں سے میگزین کے ضمانتیں طلب کر کر کے اسے بند کر دیا

مزید برآں مولانا آزاد رح  بدلتے وقت کے تیور کو بھانپتے ہوے اپنی جہدوجہد کے سانچے کی تجدید کرتے رہے دو مرتبہ کانگریس کے صدر کا قلمدان سنبھالا  تحریک خلافت میں ہندووں اور مسلمانون کے شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر تعاون کیا اور ترک موالات  میں بھی پیش پیش رہے  اور دہلی میں اپنے سیاسی کاموں میں پھیلاؤ کے لیے شیخ الہند رح کے حکم پر انھیں  منظم کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ جس وقت ہندوستان کو قومی جہدوجہد کی سخت ضرورت تھی اس وقت سواۓ شیخ الہند رح کے علاوہ کسی اور عالم دین نے آزادی و حریت کا علم بلند نہیں کیا
ان کی زندگی کے پوشیدہ گوشوں میں شاعری کا گنجینہ اسرار بھی ہے شاعری کے شغف میں “نیرنگ عالم”  رسالہ بھی جاری کیا  بھلا ان کے اس طرح کے شعر پردہ حافظہ سے کیسے مٹ سکتے ہیں

مجھے بھی انتساب ہے ادب کے مقام سے 
ملی ہوئی ہے جس کی حد قدم گہہ نظام سے

جہاں اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو جستجو تو پوچھ ابوالکلام سے

مولانا موصوف قران فہمی بھی کمال کی رکھتے تھے اس بابت مشیت ایزدی سے انھیں خاص مللکہ عطا کیا گیا تھا اپنے عہد کی کئی فکری تحریکوں کا جائزہ لیا اور قران مجید کو زمانے کی کثیر الجہتی پچیدگیوں کا حل قرار دیا اور معاشرے کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کے متمنی تھے قران کی ابدی دعوت پر معاشرے کی اساسیات قائم  کرنےکے خواہاں تھے

دوسری طرف مولانا نےہندوستان کو اپنے دور وزارت میں اپنی خداداد صلاحیتوں سے اتنا مالا مال کر دیا کے ان کے تزکرے جدید ہندوستان کی تعلیمی افق پر نمایاں دکھتے ہیں سائنٹیفک ترقی کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات اٹھاے مختلف سائنسی ادارے ,یونیورسٹیاں قائم کیں جو آج تک ان کی forward looking approach  کی معترف ہیں ,
مولانا آزاد سیاسی بصیرت میں بھی افق عالم پر جلوہ گر ہوتے ہیں سیاسی حالات کی نبض شناس ہونے کے ناطے ان کے گہرے تجزیے اور مشاہدے کی بنیاد پر پیشن گوہیوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا کوئ ثانی نہیں بہت سے معروف لوگوں نے جو نام نہاد لیڈری سے جانے جاتے ہیں انھیں نازیبا القابات سے نوازا لیکن آپ نے انتقامی جذبات رکھنے سے ڈنکے کی چوٹ پر گریز کیا اور جواب میں اتنا کہا کہ ہمارے ہاں کچھ تنظیمیں دوڑتی ہیں یا بہتی ہیں انھوں نے چلنا نہیں سیکھا جس دن سیکھ لیا منزل ان کی نگاہوں کے سامنے ہو گی

بالأ آخر زندگی کی ستر بہاریں دیکھنے کے بعد دہلی میں فالج کے مرض میں مبتلا ہو گے اور کچھ ٹائم کی بیماری کے بعد جان جان آفریں کے سپرد کر دی 
ہندوستان کے طول و عرض سے تعزیتی پیغام موصول ہوتے رہے اور اس اثناء میں بیرونی سطح پر مصر کے صدر جمال ناصر نے کہا روشنی کا مینار اور عزم و حوصلے کا سر چشمہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے اب ہم مشرق والے تاریک راہوں میں چراغ کیسے روشن کریں گے اور مغرب سے اپنا لوہا کیسے منوائیں گے,برطانوی فلسفی نے تعزیتی پیغام میں کہا ان کی وفات سے محسوس ہوتا ہے میں بالکل تنہا رہ گیا ہوں جیسے وہ دریا خشک ہو گیا ہو جس سے مجھے ذہنی و فکری سرور ملتا ہو ,روسی حکومت کا کہنا تھا مولانا کی وفات کا صدمہ اور دکھ ہندوستان سے بانٹتے ہیں,,,چینی حکومت کا کہنا تھا وہ ایک ایسے ہمدرد سے محروم ہو گئے جس نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا

آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ابوالکلام آزاد کی وفات پر یہ شہرہ آفاق نظم کہی۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبین نہیں ہے
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
اگرچہ حالات کا سفینہ اسیر گرداب ہو چکا ہے
اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے
اگرچہ قدرت کا ایک شہکار آخری نیند سوچکا ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
کئی دماغوں کا ایک انساں ،میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے ؟
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے ،زباں کا زور بیاں گیا ہے
اترگئے منزلوں کے چہرے ، امیر کیا ؟ کارواں گیا ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل ، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم ، خواص پہنچے، عوام پہنچے
تری لحد پہ خدا کی رحمت ، تری لحد کو سلام پہنچے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے !

آپ کا مزار دہلی کی جامع مسجد کے پریمزز میں واقع ہے

 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}