محبت ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

حرص وحوص کے شکار وجود کو جو ہر پل تیرے وجود کے عضو کا پوجاری ہو
تم اس کو کہتے ہو” محبت“
تجھے ذات و مذہب عزت وآبرو کے تحفظ کی پروا سے بالاتر کردے
تم اس کو کہتے ہو” محبت “
مجبور اس حد تک کردے کہ تیرے اک انکار پہ تعلق توڑنے کی دھمکی دے
تم اس کو کہتے ہو” محبت “
مذہب کی بنائی ہوئی حدودکو ہرپل جوتوڑےاورلقب دےکہ محبت عبادت ہے
تم اس کو کہتےہو” محبت“
تیری لٹتی ہوئی عزت کی پروا کیے بنا میدان نہ چھوڑ کے جانے کا درس دے
تم اس کو کہتے ہو” محبت“
آبرو تیری کی پروا نہ کرے اپنے وجود کی تسکین کے لیے ہر نیچ کام کرواۓ
تم اس کو کہتے ہو”محبت“
عزت کو داؤ پہ لگا کےملاقات وقرابت کے سلسلے میں تسلسل جو بڑھائے
تم اس کو کہتے ہو” محبت“
کیا تم ایسی محبت کو عبادت کہتے ہو ؟
کیاتم ایسی محبت کو شرافت کہتے ہو؟
کیا تم ایسی محبت کو رفاقت کہتے ہو؟
سنو!!محبت نام ہے پاگیزگی کا۔۔۔۔۔
سنو!! محبت نام ہے آبرو کے تخفظ کا
سنو!!محبت نام ہے احساس کا ۔۔۔۔
سنو تو!!محبت نام ہے قربانی کا۔۔۔۔
کسی کے وجود کا ہر پور پور بے عزت کرنے کا نام” محبت“ نہیں۔۔۔۔
ملاقات و قرابت کا نام” محبت“ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کے وجود کو قید کرکے اپنی پوجا کروانے کا نام” محبت“ نہیں ۔۔۔۔
کسی کی آبرو کے تخفظ کی خاطر شباب کی ہر اُبھرتی خواہش کو قربان کرنے کا نام ہے ۔۔۔۔۔”محبت“
رات کے گھپ اندھیرے میں مالک کا عر ش بری سے فرش پہ تیری صداوؤں کو سننے آنا ۔۔یہ ہے” محبت“
تیری حاجتوں کو پورا کرنے کی التجا سننا۔۔تیرے دکھوں کو سکون میں بدلنے کی امیدیں دینا ۔۔۔۔۔یہ ہے ”محبت“
کیا تیرے دنیا کے بنائے ہوئے محبوب اپنے ہی قائم کردہ عرش سے اتر کر تیرے وجود کی سکونیت کے لیے فرش پہ آتے
ہیں۔۔۔۔
وہیں اپنے مقام ومرتبہ پر فائز اپنے مقام کو استعمال کرتے ہوئے تجھے پوجاری بنا رہے ہیں۔۔۔۔
تیری ا ک خطا پہ تجھے اپنی زندگی کا پچھتاوا کون بناتا ہے؟؟؟؟
تیری ہی” محبت“۔۔۔۔۔۔۔
تجھے اندھیرے میں رکھے ہوئے ظاہر یوں کررہے ہیں جیسےتم ان کی زندگی کا حسین لمحہ ہو ۔۔۔تم اسے کہتے ہو” محبت“
ا ک بار عرصہ بھر کے لیے ملاقات و قرابت کے تسلسل کو کم کرکے دیکھو۔
تو ساری محبتیں بھول جائیں گی۔۔۔
ساری قرابتیں کھو جائیں گی۔۔۔۔۔
تیرا وجود ایک بے وفائی کی نگاہ کا محور بن جائے گا۔۔۔۔
افسوس تیری اپنی قائم کردہ محبت تیری مجبوریوں کو بے وفائیاں کہے گی۔۔۔
پھر کیسی محبت ہے؟؟؟؟ ملاقاتی محبت ؟؟؟؟
تم نے تو محبت کو کاروبار بنا رکھا ہے۔۔۔۔جتنی ملاقات گہری اتنی محبت گہری
جتنی قرابت میں جاؤ گے اتنی محبت پاؤگے ۔۔۔۔۔
افسوس۔۔۔۔افسوس ۔۔۔۔افسوس۔۔۔
تم تنہا رہتے ہوئے اپنی محبت کو یاد کرتے رہو۔۔مرتے رہو۔۔اس کی خاطر۔
تیرا یقین کون کرےگا؟؟؟؟
نہیں کوئی نہیں کہے گا کہ تم شدت سے محبت کرتے ہو۔۔۔۔۔۔
دو محبت بھرے کلمات کہو تو یقین آئے گا کہ تم بھی محبت کے دائرہ کار میں ہو۔۔۔
ہائے انسان تو نے کس کی محبت کا انتخاب کیا ۔۔۔۔۔
”دنیا کی زندگی تو دھوکے کی جگہ ہے“)القران(
رب کی محبت کو دیکھو۔۔۔
تجھے تیری اداوؤں سے پہچان لیتا ہے۔۔تجھے یہ نہیں کہتا کہ اگر مجھ سے محبت ہے تو میرے کعبے کی حاضری دو گے
تو یقین کروں گا۔۔۔
وہ بہت عظیم ہیں ۔۔۔اور کہتا ہے جہاں چاہے بیٹھ کر مجھے یاد کرو مجھے پکارو۔۔میں تیرے بہت قریب ہوں۔۔۔
آ!!مالک کی طرف جو تجھے طعنے نہیں دیتا ۔۔۔
آ!!خالق کی طرف جو تجھے پچھتاوا نہیں بناتا۔۔۔
آ!!قادر کی طرف جو تجھ سے نعمتیں نہیں چھینتا۔۔۔
آجا !!رحمان کی طرف جو تجھے جتلاتا نہیں۔۔۔۔۔
سنو !!اگر اسکی محبت کو پاؤ گے نہ تو دونوں جہاں پالوں گے۔۔۔
اسکی محبت میں سب کچھ کھونے کا مطلب کھونا نہیں بلکہ سب کچھ پانا ہے۔۔
اسکی محبت کے محور میں جب آجاؤ گے نہ تو اسکی عظمت و حکمت دیکھو وہ سب کے دلوں میں تیری محبت ڈالے دے
گا۔۔۔۔
کوئی ہے تیرا دنیاوی محبوب جو چاہے کہ تجھ سے سارے محبت کرے۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔۔
وہ تجھے اپنی جائیداد سمجھتے ہوئے ایسےقابض ہے کہ تم اس کی وراثت ہو۔۔۔
وہ مالک ہی ہے جو چاہتا ہے میرا محب سب کا محبوب بن جائے ۔۔۔۔
ورنہ دنیا تو اپنے محب کو جائیداد سمجھتے ہوئے سب کا دشمن بنا دیتی ہے۔۔۔۔
پھر کیوں؟؟؟؟ آخر کیوں ؟؟؟؟
سب جانتے ہوئے۔۔۔۔۔۔
تم دنیا کی محبت کو ترجیح دیتے ہو۔۔۔کیوں؟؟؟؟
کیوں نہیں آجاتے حقیقی محبت کی طرف۔۔۔۔۔
جو تجھے عرصے سے پکاررہی ہے۔۔۔۔۔
جو تیرا انتظار کر رہی ہے۔۔۔۔۔
کتنے خود غرض ہو نہ سب کچھ کھارہے ہو اسکا ۔۔۔ساری آسائشیں اس نے دی ۔۔۔۔
پوجاری دوسروں کے بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔
اسکی شان تو دیکھو کبھی گلا وشکوہ نہیں ۔۔۔۔۔کبھی عطا کردہ نعمتوں کو واپس نہیں لیتا۔۔۔۔۔
لیکن یاد رکھنا اسکا نام جبار و قہار بھی ہے۔۔۔۔وہ انصاف والا بھی ہے۔۔۔۔
اگر تیری رسی ڈھیلی چھوڑے ہوئے ہے نہ دنیا میں۔۔۔
تو تجھے فیصلے کے دن پکڑے گا۔۔۔
جب تجھے چھڑانے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ نگہبان۔۔۔۔۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}