زندگی ایک جنگ ہے مگر کس کے خلاف؟ — اریبہ فاطمہ

زندگی کا ہر لمحہ میدان جنگ کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ایک لمحے میں جیت کی خوشی اور اگلے ہی لمحے ہار جانے کادردہمیں جھکڑے ہوئے ہے۔ہار اور جیت کی اس جنگ میں ہم چکی کی طرح پستے جارہے ہیں۔سب سے افسوسناک بات یہہے کہ یہ جنگ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں۔اپنے ہی وجود سے منسلک دو احساسات کے درمیان ہے۔ایک احساس جیتجائے تو دوسرے کی ہار ہمیں جیت کی خوشی کا مزہ بھی نہیں لینے دیتی۔زندگی کی اس حقیقت نے ہمیں ہمارے ہی مسائل میں الجھا سا دیا ہے۔نفس اور روح کی جنگ ہر پل ہمیں میدان جنگ کاتماشائی بناۓ ہوۓ ہے۔ہمارا وجود اس بات کو سمجھ نہیں پارہا کہ وہ کس کی جیت کو منائے اور کس کی شکست پہ خوشہو۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ نفس کی غلامی کرتے ہوئے ہم اس کو شاہی مقام دیے ہوئے ہیں۔ہر پل اس کے حکم کو بجا فرمانے میںمگن ہیں اپنی روحانی پرورش کو پس  پشت ڈالتے ہوئے نفس کے آگے روح کو سجدہ ریز کروارہے ہیں۔نفس کی بڑھتیہوئی اٰنا ہمیں ایک زبردست سزا دے رہی ہیں۔ایک طرف جہاں اپنی غلامی کا شکار بنائے ہوئے ہے وہیں دوسری طرف ہماری آنکھوں پہ ایک مضبوط سیاہ پیٹی بھی باندھے ہوئے ہے کہ غلامی میں رہتے ہوئے ہم یہ بھی سمجھ جانے سے قاصررہ جائیں کہ ہم سے کروایا جانے والا نفس کی طرف سے صادر کردہ حکم ہمیں عمیق گہرائیوں کے کنویں کی زد میںدھکیلتا جارہا ہے تاکہ ہم پہ یہ آشکار نہ ہوسکے کہ ہم غلامانہ زندگی گزاررہے ہیں۔غلام کی سوچ چونکہ غلام جیسی ہیہوتی ہے ہمیشہ مالک بننے کی خواہش۔آج کا المیہ یہی ہے نفس کی غلامی میں رہنے والا ہر شخص دوسروں کا مالک بنا ہوا ہے۔اپنے وجود کو نفس کی غلامی میںجکڑے ہوئے ہے اور دوسروں کو اپنا غلام بنانے کے خواب سجائے ہوئے ہے۔زندگی کی اس زبردست جنگ میں کوئی غلامانہ زندگی بسر کررہا ہے اور کوئی دوسروں کو غلام بنانے کے سپنے سجائےہوئے ہے۔
یہاں یہ کہنا غیرمناسب نہیں ہوگا کہ زندگی ایک جنگ ہے اپنے نفس کے خلاف۔یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر جنگ کو لڑنے کےلیے فتح ایک مقصد ہوتا ہے لیکن ہماری اس جنگ میں کس کی فتح ہوگی؟اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ سب سے پہلے اسکا واضح ہونا بھی ضروری ہے۔اس جنگ میں روح کی فتح ہوگی ۔روح اور جسم سے ملا ہوا وجود جب اپنا دم توڑ دے گا تو خاک سے بنا ہوا ہڈیوں کا یہپتلا خاک میں مل جائے گا۔مگر روح سے منسلک ہمارا رشتہ باقی رہے گا۔ گزارش ہے روح اور نفس کی جنگ میں
روحانی فتح اور نفس کو زیر قدم کر دیں۔نفس کو روح کے آگے جھکا دیں تو روح کی خوبصورتی ہمارا مقدر بن جائےگی۔بےشک دم توڑتے ہی روح کا فیصلہ اس کے بد اور اچھا ہونے پہ مل جائے گا۔ پتہ ہے روح کی خوبصورتی نیک اعمالسے ہے۔
لیکن افسوس نفس ہمیں جسم کا بوچاری بنائے ہوئے ہے۔وہ جسم جو خاک میں مل جانا ہے اس کی خوبصورتی کے لیے اسکی پرورش کے لیے دن رات تگ ودو میں ہمارا وجود مصروف ہے مگر روح کو اپنے اعمال کے ساتھ اپنے افکار کے ساتھسجانے کے لیے ہمارا دل ہمیں راغب ہی نہیں کرتا ۔روح ایک سافٹ وئیر کی مثل ہے اور نفس ہارڈ وئیر کی مثل۔جدید دور کی ایجادات کو استعمال کرنے والا ہر شخص اس علم سے بخوبی واقف ہے کہ ہارڈ وئیر بیکار ہے جب تک سافٹوئیر انسٹال نہیں کیا جاتا اور اگر سافٹ وئیر انسٹال بھی کرلیا جائے اور ہم اس سے استفادہ نہ حاصل کرسکے اس کو استعمالکرنا نہ سیکھ سکیں تو بھی یہ بیکار ہی ہے۔وقتاً فوقتاً اگر سافٹ وئیر اپ ڈیٹ نہ کیا جائے تو ہم جدید دور کی سہولیات سےمستفید نہ ہو نےوالوں میں شمار ہوجاتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ رب العالمین نے مفت میں انتہائی حسین عجیب و غریب انسانی عقل سے بالاتر اعلی کوالٹی کیمشینری والا ہارڈ وئیر ہمیں عطا کیا۔اور بس اتنا نہیں۔۔بلکہ سافٹ وئیر کو انسٹال کرنے لیے روح پھونک دی۔اور اس سافٹوئیر کو کیسے زیر استعمال لانا ہے یہ بتلانے کے لیے وقتا ًفوقتًااپنے برگزیدہ بندوں کو بھیجتا رہا۔مگر افسوس ۔۔۔۔۔ہم اس ہارڈ وئیر کو بیکار چھوڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔اس سافٹ وئیر سے مستفید نہیں ہورہے ۔۔۔۔۔اس سافٹ وئیر کو اپ ڈیٹ نہیں کر رہے ۔۔۔۔زندگی کی اس مسلسل چلتی ہوئی جنگ میں ہمیں نفس کے خلاف کھڑے ہونا ہے ۔ہمیں سافٹ وئیر سے استفادہ حاصل کرناہوگا۔اس کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے علم کی مجلسوں کے متلاشی بننا ہوگا۔ورنہ ہمیں دونوں جہانوں میں شکست کا سامنا ہیکرنا پڑے گا۔
اریبہ فاطمہ،سیالکوٹ

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}