اب وہ لاہور کہاں — فرخ سہیل گوئندی

معروف انقلابی رہنما چی گویرا کا کہنا ہے کہ ’’ جس شہر میں دو انقلابی رہنما رہتے ہوں، آپ جب اس شہر میں داخل ہوں تو دیواریں بتاتی ہیں(یعنی دیواروں پر لگے پوسٹرز اور لکھے نعرے و مطالبے) کہ اس شہر میں دو انقلابی رہتے ہیں۔‘‘ میرا سیاسی جہاں گردی کا تجربہ ہے کہ جب میں کسی شہر میں پہلی مرتبہ داخل ہوتا ہوں تو جلد ہی رائے بن جاتی ہے کہ اس شہر کا حکمران یا حکمرانی کامیاب ہے۔ اس طرح کسی بھی بڑے شہر میں داخل ہوں تو اس شہر کے حکمران کی نااہلی کا مظاہرہ بھی فوراً ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ چند ماہ قبل مجھے گوجرانوالہ سے لاہور اپنی گاڑی میں آنے کا تجربہ ہوا۔ گوجرانوالہ سے شاہدرہ تک سفر بے ہنگم، قانون کو توڑتے ’’شہ سواروں‘‘ کے باوجود بھی تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوا۔ مگر شاہدرہ کے چوک سے راوی پُل عبور کرنے میں مجھے پچاس منٹ لگے۔ سڑک کے دونوں جانب اور راوی پُل کے دونوں جانب سینکڑوں ٹریفک میں دھنسے وھیکل اور ہزاروں لوگ جس طرح راوی پُل پار کرتے ہیں، وہ ہر روز اور ہر لمحہ یہی منظر ہوتا ہے۔ نااہل حکمرانی اور حکمرانی کا منظر تکلیف دہ تھا۔ بے ہنگم ٹریفک کے بیچوں بیچ دو سرخ رنگ کی ’’ڈنکی‘‘ نما میٹرو بسیں کھڑی تھیں جن کے لیے دو سڑکیں مختص کردی گئی ہیں۔ پنجاب کے خادمِ اعلیٰ میاں شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ روزانہ لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ غریب مسافرایئرکنڈیشنڈ بسوں میں چند منٹ سفر کرتے ہیں۔ وہ اپنی اس ’’کامیابی‘‘ پر بڑے نازاں ہیں۔ لیکن صرف راوی پُل عبور کرنے کے لیے یقینا لاکھ سے زیادہ مسافر جس کرب اور تکلیف کا شکار ہیں، اس کا کہیں ذکر ہی نہیں۔ دو سرخ رنگ کی بچوں ے کھلونوں جیسی ڈنکی کار نما میٹرو بسوں سے طفلانہ فخر کے ساتھ ہمارے خادمِ اعلیٰ جس طرح ریاست کے پیسوں سے کھیل کررہے ہیں، وہ علیحدہ بات ہے، لیکن اپنی ناکام حکمرانی پر وہ جس طرح نازاں ہیں، وہ بادشاہ کے لیے ’’سلے خصوصی کپڑوں‘‘ کی کہانی سے مختلف نہیں۔ وہ مسلسل نوسالوں سے اس شہر اور صوبے کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ کسی مخلوط حکومت کی کمزور لڑیوں میں پرویا اقتدار نہیں بلکہ مرکز میں بڑے بھائی اور 2008ء سے 2013ء تک چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت بننے والی آصف علی زرداری حکومت کے سائے میں پنجاب کے اقتدار کی پگ اُن کے سر پر بندھی ہے۔
وہ لاہور بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن لاہور اُن کی حکمرانی میں جس طرح گم اور برباد ہورہا ہے، اس کا یقینا اُن کو اندازہ نہیں۔ لاہور اب Liveable شہر نہیں رہا۔ وہ لاہور، جس کے وہ بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں، درحقیقت وہ اس لاہور کو مسمار کررہے ہیں جس کا سحر پورے برصغیر میں تھا۔ جس لاہور کی سڑکوں پر بیرونی حکمرانوں (برطانوی سامراج) نے جامن اور دیگر مقامی درخت لگوائے تھے، وہ اس لاہور کی سڑکوں کے گرد صحرائی درخت کھجور لگوا رہے ہیں اور ایک ایک درخت کی قیمت لاکھوں میں ہے۔ اس لاہور کی سڑکیں اور سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم نفسانفسی کا جو منظر پیش کرتا ہے، وہ ایک ناکام حکمران اور حکمرانی کا ثبوت ہے۔ جو لوگ لاہور کی ٹریفک کو اپنے نظم وضبط میں نہیں رکھ سکتے، وہ بھلا کیسے کامیاب حکمران ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لاہور کی سڑکوں کے دونوں طرف موجود فٹ پاتھ یہاں کے باسیوں نے موٹرسائیکل سٹینڈوں کے لیے استعمال کرنا شروع کردئیے اور نئے فٹ پاتھ بنانے کا تصور ہی ختم ہوگیا۔ اس سال کے شروع میں خادمِ اعلیٰ میاں شہباز شریف کے اعزاز میں ایک ڈنر میں شرکت کا موقع ملا، جب میں نے اپنے حکمران کی توجہ اس معاملے کی طرف دلائی کہ لاہور میں ٹریفک حادثوں میں زخمی ہونے والے زیادہ تر لوگ اور درجنوں مرنے والے لوگ پیدل چلنے کی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں تو اُن کے ہاتھ سے لقمہ گرا تو نہیں، لیکن منہ میں ڈالنے تک کچھ لمحوں کے لیے رک گیا۔ اسی محفل میں موجود ’’نواز دربار‘‘ کے ایک معروف اور اہم کالم نگار نے اس سنجیدہ مسئلے کو مذاق میں اڑانے کے لیے کہا، ’’جب تک فٹ پاتھ نہیں بنتے، پیدل چلنے والے پارکوں میں چلا کریں۔‘‘ بالکل اسی طرح جیسے فرانس کی ملکہ نے روٹی نہ دستیاب ہونے پر لوگوں کو کیک کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ خیر اس قلمکار سے میں نے فوراً کہا کہ میں ایک سنجیدہ سیاسی ایکٹوسٹ ہوں، مجھے انسانی مسائل میں مزاح قطعاً قبول نہیں۔
لاہور میں چلنے والے تقریباً تمام موٹر سائیکل سوار، ڈرائیونگ کے قانونی اجازت نامے (لائسنس) سے محروم ہیں۔ وہ نہ اس کے بنوانے پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی پنجاب کے حکمرانوں کی پولیس اب ان سے اس کا تقاضا کرتی ہے۔ لاہور پر پورے پنجاب کا 58فیصد ترقیاتی بجٹ صرف کرکے بھی آپ لاہور کو پیرس، استنبول تو کیا، اس لاہور کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں جو کبھی موجود تھا۔ ایک جہاں گرد کے طور پر میں آخری بار پیرس 1999ء میں گیا۔ اب اٹھارہ سالوں بعد بھی گیا ہوں، پیرس ویسا ہی ہے۔ شہر کبھی بدلا نہیں کرتے۔ آپ نے شہر کو بدلنے کے اپنے طفلانہ دعووں میں جس طرح اسے روندا ہے، اس میں آپ نے لاہور کی تاریخ سمیت Living History کو بھی روند دیا ہے۔ اب شہر کے باسی، شہر میں سواری پر یا پیدل کہیں آجا نہیں سکتے۔ آپ ڈولفن پولیس لائے، ناکام۔ آپ سٹریٹ کرائم پولیس لائے، ناکام۔ اب آپ غیرملکی ٹریفک پولیس کو ٹریفک پولیس کا ٹھیکہ دینے چلے ہیں۔ میرا ایک دوست چند دن پہلے استنبول گیا، وہ دنیا جہان گھوما ہو اہے ۔ میرا یہ دوست مطاہر احمد، کہنے لگا میں نے استنبول میں کہیں ٹریفک پولیس نہیں دیکھی اور کہیں کسی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے نہیں دیکھا۔ یہ ہوتی ہے کامیاب حکمرانی۔ آپ جس ترکی کو یہاں پیش کررہے ہیں، وہ ترکی اس طرح وہاں موجود نہیں۔ آپ اپنے دارالحکومت کی ٹریفک میں ناکام ہیں، آپ کس طرح ایک کامیاب حکمرانی کے دعوے دار ہیں۔ شالیمار سے چوبرجی سمیت سینکڑوں عمارتوںکو زخمی کرکے آپ کون سا لاہور بنانے جا رہے ہیں؟ لاہور، اب وہ لاہور نہیں جو آپ کی 1985ء سے پہلے حکمرانی والا لاہور تھا۔ آپ بڑے بڑے شہروں کی ترقی کے تصور سے مکمل دور ہیں۔ آپ جہاں ناکام ہوئے وہاں آپ نے قانون کو ہاتھ میں لے کر پابندیاں لگادیں۔ پتنگ بازوں نے دھاگے کی ڈور کی بجائے دھاتی تار استعمال کی جو بربریت ہے۔ آپ ان قانون شکنوں کو گرفت میں لینے میں ناکام رہے، آپ نے پتنگ بازی پر پابندی لگا دی۔ یہ آپ کی ناکامی کا کھلا اظہار ہے۔ لاہور آج جو ہے ،ذرا تصور کریں، اگلے پانچ دس سالوں میں کیسا ہوگا۔ Disasterہے مکمل Disaster۔
میرے جیسے لاہور کے عاشق کے لیے اب لاہور میں رہنا مشکل نہیں، ناممکن ہوگیا ہے۔ شہروں کے باسی، گھروں اور دفتروں یا اپنے کام کرنے کی جگہوں تک محدود نہیں ہوتے۔ شہر، گھر اور کام کی جگہ کے علاوہ بھی ہوتے ہیں۔ میں حیران ہوں، آپ انگریز دور کے مجسٹریٹ کی طرح سر پر فیلٹ ہیٹ پہن کر کس غرور کے ساتھ میڈیا میں اپنی کامیاب حکمرانی کی خبریں شائع کرواتے ہیں۔
لاہور کے سینما، تھیٹر، تفریح گاہیں معدوم اور برباد۔ کون سا لاہور؟ گرد، دھول سے اٹا لاہور۔ ہجوم میں دھنسا لاہور۔ اپنی گنجائش سے زیادہ آبادی کے سیلاب میں روندتا ہوا لاہور۔ تاریخ کو مسمار کرتا لاہور۔ سڑکوں پر موت کے کنویں بنتا لاہور۔ شہر آبادیوں سے نہیں، شہر زندگی کی سہولیات کے ساتھ ساتھ زندگی کے اطمینان وسکون سے پنپتے ہیں۔ ایک سیاح کے طور پر سینکڑوں شہر دیکھے۔ ہمارے جیسے شہر کہیں نہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کے ہجوم اور آپس میں غصیلے شہری۔ میں مینارِ پاکستان گھوم نہیں سکتا۔ میں چیئرنگ کراس سے پاک ٹی ہائوس یا انارکلی پیدل نہیں چل سکتا۔ میں شالامار باغ میں داخل ہونے کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ میں جہانگیر اور نورجہاں کے مقبروں کو کھنڈرات میں بدلتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں لاہور کی کسی شاہراہ پر پیدل تو کجا سائیکل نہیں چلا سکتا، جس کے لیے میں نے ایک شہری ہوتے ہوئے کوشش بھی کی۔ دوسال قبل میں نے اور میری بیگم نے سائیکلیں خریدیں کہ ہم اپنی رہائش کے اردگرد سائیکل کا استعمال کریں گے، لیکن یہ ممکن نہیں بلکہ یہ موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ سائیکلیں سٹور میں بند کرکے رکھ دیں۔ اگر کھل کر کہوں میں نے اپنے ایک سال کو یہاں سات مہینوں تک محدود کردیا ہے۔ باقی دنیا کے دوسرے شہروں میں گھومنے اور رہنے کا بندوبست کرلیا۔ یہ شہر اب ایک شہری کے طور پر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ بس ذرا تصور کریں، اگلے چند سالوں میں یہاں آبادی اور بربادی کے کیا کیا سامان نہیں بڑھیں گے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ اس Civic Sense کا ادراک اور شعور ہی نہیں رکھتے، ناکام حکمرانی تو دور کی بات ہے اور دکھ یہ کہ آپ اپنی ناکامی پر نازاں ہیں۔ اپنی ڈنکی نما میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں سے کھیلنے والا حکمران۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}