تم جیت سکتے ہو ۔۔ تعارف — شیو کھیڑا


 شِوْ کھیڑا کی عظیم تصنیف ’’تم جیت سکتے ہو‘‘ کے بارے میں بنیادی معلومات اور تعارف


       مصنف کا تعارف

اس کتاب کے مصنف شِوْکھیڑا کوالیفائیڈ لرننگ سسٹمز، یو ایس اے کے بانی ہیں۔ آپ ایک ماہرِ تعلیم، مشیرِ کاروبار (بزنس کنسلٹینٹ) اور مقبول ترین مقرر اور کامیاب اینٹر یپرینر  ہیں۔  آپ کا کام لوگوں کو ان کے بطونِ ذات میں نہاں حقیقی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ آپ ہندوستان سے لے کر سنگاپور اور امریکہ تک سیمیناروں کے ذریعے لوگوں کو اپنی زندگیاں بہتر بنانے کے اصولوں سے روشناس کروانے کی عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی آسان اور عام فہم تقریروں نے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اپنے حالات کا تجزیہ کرکے کامیابی حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے ’’تم جیت سکتے ہو‘‘ میں اپنے 25سالہ عملی تجربات کا نچوڑ پیش کیاہے۔ یہ کتاب قارئین کو ترقی اور آسودگی و اطمینان کے حصول میں یقینی مدد دے گی۔  شوکھیڑا نہ صرف افراد بلکہ اداروں کو بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان کی خدمات سے استفادہ کرنے والے اداروں میں جرمن ایئر لائنز لفتھانسا، نیسلے، جیلیٹ، جانسن اینڈ جانسن، بہا ماز کوالٹی کونسل، نیشنل پیناسونک اور ڈائملر کرائزلر جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں بھی حصہ لیتے رہتے ہیں۔

  کتاب پربین الاقومی اخبارات وجرائد کے تبصرے

یہ ایک ’’تعمیراتی ہدایت نامہ‘‘ ہے …… اس کتاب میں ثمر آور زندگی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ (اکنامک ٹائمز)یہ کتاب تمہیں اپنے وعدوں کو عہد میں ڈھالنے کے گُر سکھائے گی۔  (سنڈے اوبزرور)یہ کتاب کامیابی عطا کرنے والا ایک قابلِ قدر تحفہ ہے۔  نیشنل ہیرالڈ

تم جیت سکتے ہو ” سے عملی فائدہ حاصل کرنے والی کامیاب  شخصیات کے تأثرات”

’’مَیں نے اس کتاب سے جو فوائد حاصل کیے ہیں، وہ میری کارکردگی میں بہتری سے عیاں ہیں۔ اَب مَیں پہلے سے زیادہ پُرسُکون ہوں۔ میرے دوست مجھ میں ایک حیران کن مثبت تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ میری ذاتی اور کاروباری زندگی میں نہایت متاثر کن بہتری آئی ہے۔‘‘{ڈاکٹر ڈومی نِک جے لائیگریسٹی ایم ڈی، ڈرمیٹالوجسٹ، نیوجرسی}مَیں سیلف ہیلپ کی بے شمار کتابیں پڑھنے کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے سیلف ہیلپ سیمیناروں میں شرکت کر چکا ہوں، ’’تم جیت سکتے ہو‘‘ کو مَیں نے سب سے مؤثر پایا ہے۔‘‘ (مائیکل سٹائیر، ڈائریکٹر لفتھانسا، جرمن ایئرلائنز، جنوب مشرقی ایشیا)اس کتاب کے مطالعے سے میری کارکردگی پہلے سے ہزار درجے بہتر ہو گئی ہے۔ اَب مَیں کم وقت میں بہت زیادہ کام کرنے کے قابل ہو گیا ہوں۔ (باسم اللوغانی، کویتی سفارت کار)ہم سب چاہتے ہیں کہ اپنی ذات یا ادارے میں بہتر تبدیلی لے آئیں لیکن اسے مشکل پاتے ہیں۔ مَیں بھی اسی مشکل سے دوچار تھا۔ ’’تم جیت سکتے ہو‘‘ کے مطالعے نے میری مشکل حل کر دی۔(سٹیفن ایل ٹائرنی، گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر زیروکس بزنس انڈیا)جو لوگ اپنا تجزیہ کرنے اور اپنے آپ میں تبدیلی لانے پر تیار ہوں، ان کے لیے یہ کتاب بہت فائدہ بخش ہے۔    آر۔ او۔ اولویل۔ کوکا کولا

اس کتاب کے مطالعے سے آپ کون کون سے فائدے حاصل کرسکتے ہیں 

آپ مثبت سوچ کے سات اقدامات پر عمل کرکے اعتماد کی دولت سے مالا مال ہو سکتے ہیں ۔

آپ اپنی کمزوریوں کو اپنی قوت بنا کر کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ 

آپ درست جواز کے تحت درست کام کرکے ’’اعتبار‘‘ کا وصف حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ واقعات و حالات کے سامنے مجبور ہونے کی بجائے ان پر قابو پا سکتے ہیں۔

آپ باہمی احترام کا اصول اپنا کر اپنے قریبی افراد کے لیے بھروسے کے قابل شخص بن سکتے ہیں۔

آپ مؤثر کارکردگی کے راستے میں حائل رکاوٹیں ہٹا کر زیادہ کام کر سکتےہیں۔

 یہ کتاب کن لوگوں کے لیے ہے ؟

آپ ایسے لوگوں سے مل چکے ہوں گے جو اپنی ساری زندگی آوارہ و بے خانماں رہتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ہر اس شے کو قبول کر لیتے ہیں جو قسمت ان کے لیے لے کر آتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے چند لوگ اتفاقیہ طور پر کامیاب ہو جائیں تاہم بیش تر لوگ ساری زندگی اضطراب، افسردگی، ناخوشی اور مایوسی کے عالم میں گزار دیتے ہیں۔یہ کتاب ایسے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ وہ لوگ نہ تو کامیابی کا عزم کیے ہوئے ہیں اور نہ ہی کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار  ہوتے ہیں…… یعنی کامیابی کے لیے وقت مختص کرنا اور سعی و جدوجہد کرنا۔  یہ کتاب آپ کےلیے ہے۔ صرف یہ اَمر کہ آپ اس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اِس وقت جیسی زندگی گزار رہے ہیں، اُس سے زیادہ باثروت اور زیادہ آسودہ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ 

یہ کس قسم کی کتاب ہے؟

ایک اعتبار سے یہ کتاب ایک تعمیراتی ہدایت نامہ ہے۔ اس میں ان آلات اور اوزاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ کامیابی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ایک کامیاب اور ثمر آور  زندگی کو تعمیر کرنے کا خاکہ پیش کرتی ہے۔  دوسرے اعتبار سے یہ پکوانوں کی کتاب ہے۔ اس میں اُن اجزا……یعنی اصولوں …… کو بیان کیا گیا ہے ، جو کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں وہ ترکیب درج کی گئی ہے جس کے مطابق آپ مذکورہ اجزاء کو درست تناسب سے باہم ملا سکتے ہیں اور کامیابی کے لذیذ پکوان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔  تاہم سب سے بڑھ کر یہ ایک رہنما کتاب ہے۔ ایک ایسی کتاب جو آپ کو  یہ رہنمائی دیتی ہے کہ آپ نے کس طرح مرحلہ وار خواب دیکھنے ہیں اور کس طرح کامیابی حاصل کرنی ہے۔ یہ کتاب آپ کو رہنمائی دیتی ہے کہ آپ نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے کس طرح اپنی ذات کے اندر نہاں صلاحیتوں کا در غیر مقفّل کرنا ہے۔

 

 اس کتاب کو کیسے پڑھا جائے؟

یہ کتاب آپ کونئے اہداف و مقاصد کے تعین میں مدد دے گی، یہ آپ میں ایک نیا شعورِ مقصدپیدا کرے گی اور آپ کی ذات  اور مستقبل کے حوالے سے نئے تصورات کو جنم دے گی۔ جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے یہ کتاب آپ کے لیے تا حیات کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس کتاب میں درج تصورات ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ ڈالنے یا محض سرسری انداز سے پڑھنے سے آپ کے شعور کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اسے تو آہستہ آہستہ اور غور سے پڑھنا ہو گا…… یعنی ایک وقت میں صرف ایک باب۔ جب تک آپ کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ آپ  پچھلے باب میں درج تصورات کو پوری طرح سمجھ چکے ہو، اگلے باب کامطالعہ شروع مت کرنا۔ اس کتاب کو ایک کتاب ِعمل کی طرح استعمال کرو۔ جہاں مناسب ہو نوٹس لکھو۔ مطالعے کے دوران تحریر نمایاں کرنے والا قلم  استعمال کرو اور ان لفظوں یا جملوں یا پیراگرفوں کو نشان زدکرو جو آپ کو زیادہ جاں دار یا بالخصوص اپنے لیے اطلاق کے     قابل لگیں۔  مطالعے کے دوران ہر باب کے تصورات کو اپنی بیوی یا اپنے شوہر یا کسی قریبی دوست سے بیان کریں اور ان پر تبادلہ ٔ خیال کریں۔ ایسا شخص جو آپ کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہو، اُس کی رائے آپ کے لیے خاص طور پر معاون و مددگار ہو سکتی ہے۔

اس کتاب کے مقاصدکیا ہیں ؟

اس کتاب کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو آپ کی  آئندہ کی ساری زندگی کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کرنے میں مدد دی جائے۔ اگر آپ نے پہلے کبھی عملی ۔منصوبہ نہیں بنایا تو مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے لیے آپ کو کن باتوں کا تعین کرنا ہوتا ہے۔

:1۔ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہو۔2۔ آپ اسے کس طرح حاصل کرنے  کی توقع رکھتے ہو۔3۔ آپ اسے کب حاصل کرنا چاہتے ہو۔  اس کتاب کے مطالعے کے دوران ایک نوٹ بک  اپنے پاس  رکھو۔ اسے تین حصوں میں تقسیم کرو۔ ایک حصہ مقاصد کے لیے، دوسرا حصہ ان کے حصول کے مراحل کے لیے او رتیسرا حصہ کامیابی کے نظام الاوقات کے لیے۔ جب آپ اس کتاب کامطالعہ کر چکوگے تو یہ نوٹ بک آپ کے لیے اُس بنیاد کا کام دے گی جس پر آپ اپنی زندگی کی نئی عمارت تعمیر کر سکو گے۔ اس کتاب میں بیان کیے گئے اصول ہمہ گیر نوعیت کے ہیں۔ انہیں کسی بھی صورتِ حال ، کسی بھی ادارے میں استعمال کیا جا سکتا ہے …… جیسا کہ افلاطون نے کہاہے :’’سچ ابدی ہوتا ہے۔‘‘ مَیں نے اس کتاب میں ہر جگہ مذکر کا صیغہ استعمال کیا ہے، جس کا مقصد صرف تحریر کی سہولت ہے۔ اصولوں کا اطلاق دونوں اصناف پر ہوتا ہے۔ اس کتاب کی اساس یہ خیال ہے کہ بہت سے لوگ اس وجہ سے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ نااہل ہوتے ہیں یا یہ کہ ان میں ذہانت نہیں ہوتی بلکہ اس وجہ سے ناکام ہوتے ہیں کہ ان میں خواہش، سمت، لگناور نظم کی کمی ہوتی ہے۔آپ اس کتاب کو مندرجہ ذیل ٹیلی فون نمبر سے طلب کرسکتے ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ احسن بٹ نے کیا ہے۔

0304-4802030 

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}