خیالاتی سفر۔۔۔۔۔۔۔مائنڈ مینیجمنٹ — ساجد محمود چوہدری

آج صبح میری آنکھ ۵:۳۰ بجے کھل گئی بستر پر لیٹا ذہن مختلف خیالات پر سوچنے لگا ابھی مجھے خیالاتی سفر پر گئے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اچانک خیال آیا اور اس خیال کے آتے ہی  میں کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جہاں لان ، درخت ، گھاس اور اس پر چہکتے ہوئے پرندے اور ان کے اس شور نے میرے خیال کو تقویت دی اور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اللہ نے آج کتنا خوبصورت دن دیا ہے اور طے شدہ ترتیب کی طرف راغب ہوا فوراً بستر کو اپنے سے الگ کیا اور اللہ کو یاد کرکے سیر کےلیے  گھر سے نکل گیا۔
اس سارے عمل میں مجھے مینیجمنٹ کا ایک اصول ذہن میں آگیا کہ آپ ہر چیز کو پلان کر لیں چاہے وہ سوچنے کا مرحلہ ہی کیوں نہ ہو اگر آپ نے اپنے آپ کو کسی ترتیب کا عادی نہیں بنایا تو پھر غالب گمان ہے کہ آپ کا ذہن آپ کو ایسی ترتیب دے دے جو کہ آپ کے کاموں کے اعتبار سے مناسبت نہ رکھتی ہو۔ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں اپنی مائنڈ مینیجمنٹ پر بھی توجہ دینی چاہیے دماغ کو بھی کسی ترتیب میں لانے کی حکمت عملی بنانی چاہیے تو یہ غلط نہ ہوگا ۔ انسانی سوچ اس بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جوخیالاتی سفر کے نتیجے میں اپنے آپ کو تو تھکاتا ہے ہی بلکہ کچھ تو اپنے آپ کو زخمی بھی کر لیتے ہیں اس خیالاتی سفر میں ہی کسی پر غصہ ہونے لگتے ہیں اور کسی سے بے انتہا پیار کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ایسی سوچوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں مثلآ کوئی پیسوں کے بارے میں سوچتا ہے اور کوئی شہرت اور طاقت کے بارے میں۔
سماج میں انسان تنہا نہیں رہ سکتا اس کو دوسروں سے رابطہ رکھنا ہی پڑتا ہےاس لیے کہیں نہ کہیں وہ ہر ایک سے جہاں اچھی چیزیں لے رہا ہوتا ہے وہاں ان کے منفی خیالات اور ان کے منفی رویوں کو بھی اپنا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام لوگوں کو اپنا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور اپنے خیالات کا بھی– کہ کہیں غیر دانستہ طور پر وہ اپنے زمینی حقائق کو تو نظر انداز نہیں کر رہے۔ کہتے ہیں کہ ایک  نارمل انسان کو دن میں تقریباً50,000-70,000 خیالات آتے  ہیں جن لوگوں نے اپنے ذہن میں اپنے کاموں کا کوئی ذائچہ نہیں بنایا ہوتا تو ان کو ذہن میں آنے والے خیالات اور سوچوں کو ترتیب میں رکھنے کی بڑی دشواری ہوتی ہے جس طرح کمپیوٹر میں ہر شعبہ کا آپ ایک الگ سے فولڈر بناتے ہیں اور اس میں متعلقہ فائلز ہی رکھتے ہیں بلکہIT کے بڑے اداروں میں تو Repository Management کا باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ ہوتا ہے۔
اسی طرح ذہن کے اندر بھی آپ اپنے خانے بنا سکتے ہیں ۔ ابتدائی طور پر کاغذ قلم کا سہارا لینا ٹھیک رہے گا کیونکہ یہ آپ کے سوچنے کے مرحلہ میں سہولت پیداکرے گا۔ شروع میں آپ اپنے سے جڑے ہوئے ہر شعبے کا نام لکھ لیں جیسے دفتریا کاروبار، گھر، شوق، صحت ، سماجی زندگی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ ان کے اندر ذیلی شعبے جن سے آپ کا واسطہ ہے یا جو چیلنجز ہیں ان کو ترتیب دے دیں جیسا دفتر میں آپ کو پیش آنے والے مسائل، چیلنچز یا آپ اپنے آپ کو اگلے چھ ماہ میں کہاں پر دیکھنا چاہتے ہیں گولز وغیرہ ان کی ذیلی پلاننگ کہ ان مقاصد (Goals) کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو کن وسائل  کی ضرورت ہے یا اپنے کام کو آپ مزید کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اس حکمت عملی کے فائدے اور نقصانات بھی نوٹ کر لیں جن کی اصلاح یا ان میں اضافہ مزید تجربات کا متحمل ہو گا۔ ابتدائی طور پر ہفتہ وار آپ اہتمام کے ساتھ ان تمام شعبوں کے حوالے سے سوچیں جب کچھ عرصہ اس ترتیب کا سہارا لیں گے تو آپ کے دماغ کو ایک ترتیب کے ساتھ سوچنے کی عادت پڑ جائے گی۔
روٹین میں اپنے پاس ایک پاکٹ ڈائری یا کاغذ قلم جیب میں ضرور رکھیں دن بھر میں جو خیالات آپ کے شعبوں کے حوالے سے آئیں ان کو تحریر کر لیں اور جب موقع ملے تو اپنی پلاننگ والی ڈائری پر نوٹ کرلیں آہستہ آہستہ آپ کا دماغ سنجیدہ موضوعات پر اور صرف آپ کے کے دیے گئے موضوعات پر سوچنے لگے گا۔ اگر ممکن ہو تو اپتے تمام شعبوں کے حوالے سے کچھ ماہرین کو اپنے پینل پر لے لیں جن سے آپ اپنے تجربات اور مشاہدات کا تذکرہ کر کے مزید رہنمائی لے سکیں۔ ان ماہرین کا چنائوبہت اہم ہے چند اصول ملحوظ خاطر رکھے جائیں ایک تو یہ وہ اس شعبہ کے حوالے سے تجربات کے حامل ہوں ——-، مثبت رویوں کے مالک ہوں اور نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ یہ ماہرین آپ کی گول (Goal)سیٹنگ اور ٹارگٹ سیٹ کرنے میں مدد کریں گے،  مثلاً اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور اس کو مزید منافع بخش بنانا چاہتے ہیں تو عام شخص آپ کو مصنوعات کی سیل بڑھانے کے مشورہ دے گا لیکن ایک ماہر بزنس کنسلٹنٹ sales Improvement کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت خرید(Purchase Price)  بہتر کروانے کی کوشش کرے گا کیونکہ کاروبار میں اصل منافع Purchasingمیں ہوتا ہے نہ کہ Selling میں۔  اس کی مثال ایسے ہے کہ 100کا نوٹ 105 میں نہیں بک سکتا جبکہ 95 میں کو ئی چھوڑے کا نہیں۔  
 دماغ اور آنکھیں اس فرمانبردار اور خوشامدی ملازم کی طرح ہوتے ہیں جو مالک کا مزاج دیکھ کر بات کرتا ہے اسی طرح دماغ اور آنکھیں وہی سوچتے اور دیکھتے ہیں جو آپ کا دل سوچنا اور دیکھنا چاہتا ہے  اگر آپ خوش ہیں تو دماغ  آپ کو مزید خوش کرنے کے لیے ایسے خیالات بُن کر دے گا کہ آپ کی خوشی دوبالا ہوجائے اسی طرح اگر آپ پریشان اور مایوس ہیں تو دماغ آپ کے سامنے ایسے خدشات ظاہر کرے گا کہ آپ کو اس حالت سے نکلنا ناممکن لگے گا اسی لیے جو کمزور طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں وہ اکثر ایسی کیفیات کے نتیجے میں ذہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آنکھیں بھی انسان کو وہی دکھاتی ہیں جس کو اس کا دل و دماغ دیکھنا چاہتا ہے۔ 
  ایک بزرگ کا قول ہے
رضامندی کی آنکھ ہو تو کوئی عیب نظر نہیں آتا۔۔۔ اور جب ناراض ہو جائے تو اسے عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔
ان سب صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے مائنڈ مینیجمنٹ کا سہارا لینا پڑیگا اور ساتھ ہی ارادوں کی پختگی کے لیے جراءت مند اور بہادر لوگوں کی صحبت اختیار کرنی پڑے گی اور اولیاءاللہ کی صحبت سے اچھی کوئی صحبت نہیں ۔   کامیاب لوگ اپنےلیے اور اپنی فیملی کے لیے ٹائم نکالتے ہیں۔ کچھ حضرات ہفتہ میں دو چھٹیاں کرتے ہیں ایک چھٹی وہ اپنے گھر کے کاموں اور گھر والوں کے ساتھ بتاتے ہیں اور ایک چھٹی وہ اپنے شوق کے لیے اور اپنے لیے کرتے ہیں اس دن وہ اپنے من پسند لوگوں سے ملتے ہیں خوب گپیں لگاتے ہیں۔ جو لوگ ان کو سمجھتے ہیں یا جن کے ساتھ ان کو وقت گزارنے کا احساس نہیں ہوتا ان سے ملتے ہیں  وہ لوگ پورا ہفتہ کام کرکے اگلے ہفتہ کے لیے اپنے آپ کو تروتازہ کر لیتے ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}