تقسیمِ معاش کا فلسفہ — واجد علی

جب سے اس دنیا میں انسا  ن نے قدم رکھا ہے، تب سے وہ معاشرے یا سوسائٹی کی شکل میں رہتا آیا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے تمام انسان اگرچہ ایک ہی ماں اور باپ کی اولاد ہیں، مگر ان کی صلا حیتیں ایک جیسی نہیں بلکہ ان کے اندر تفاوت ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ از منہ قدیم سے ہی  انسانی  معاشرہ  مختلف طبقات  میں منقسم نظر  آتا ہے۔یہ تقسیم بادی ُالنظر میں خلافِ عقل معلوم ہوتی ہے مگر اس کے بغیر یہ نظامِ کائنات نہیں چل سکتا ۔

یوں تو ہمیں ہر معاشرے میں مختلف طبقات میں بٹے انسان نظر آتے ہیں مگر ایک طبقا تی تقسیم ایسی ہے جس سے کوئی بھی انسانی معاشرہ خالی نہیں اور وہ ہے حکمران   اور رعایا کی تقسیم۔ہر ملک  کے اندر یہ حکمران طبقہ، رعایا یا  بہ ا لفاظِ دیگر عوام کے اوپر حکومت چلانے کےلئے مختلف  نظام تشکیل دیتا ہے، جن میں زیادہ اہم سیاسی،معاشی ،دفاعی اور عدالتی نظام ہیں۔یہ نظام نہ صرف اُس ملک میں بسنے والے افراد کے معیارِ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ حکومتِ وقت کی سوچ، اور اس کی ترجیحات کا  بھی تعین کرتے ہیں۔ یہ حکومت چاہے مذہبی ہو یا سیکولر،اس کے اوپر اخلاقی لحاظ سے ہر وقت  عوام  کو بنیادی  سہولتوں سے مستفید کرنا اور ان کی دہلیز تک پہچانا  اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے اور جو حکومت اپنی اس ذمہ داری کو اچھی طرح نبھاتی ہے،وہ ہمیشہ اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔چونکہ یہ دنیا کا نظام ہے کہ یہ دنیا ہر وقت امیر اور غریب سے خالی نہیں رہتی، ورنہ اگر ایسا ہو تا تو یہ کاروبارِ حیات نہ چل پاتا۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اُس ملک کے اندر رہنے والے اُمراء ہر قسم کے وسائل کے اوپر قابض ہو جائیں اور غرباء کے حصے میں سواۓ محرومیوں کے کچھ نہ آئے۔

ایک اچھااور متوازن معاشی نظام  اور اس میں طے کردہ اہداف کا حصول حکومتِ وقت کی اوّلین ذمہ داری میں شامل ہے۔  اگر وہ حکومت ان اہداف کو حاصل کرنے میں کا میاب ہو جاۓ تو وہ ایک کامیاب حکومت ہوگی ورنہ اس کے بر عکس۔چنانچہ  کسی حکومت کی اچھا ئ کا معیا ر یہ نہیں ہے کہ اُس کا حاکم مذہب کے اوپر کاربند ہے ، نیک چلن ہے،بلکہ اس کی رعایا کی معاشی حالت اس کے اچھے یا برے ہونے کا تعیّن کرتی ہے ۔اگر ہر نئے سال غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہو،ایک عام انسان کی حالت جانور سے بھی بد تر ہو،افرادِ انسانی بنیادی خوراک تک کو ترس جائیں،روز بروز نئے نئے ٹیکس لگا کر اُن پر عرصہء حیات تنگ کر دیا جاۓ، سر براہِ مملکت کو ایک خاص طبقے کے مفادات کے علاوہ کسی سے کوئی سروکار نہ ہو، لوگ موت کو زندگی کے اوپر ترجیح دینا شروع کردیں تو بھلا اُس وقت کے حاکم کو آپ کیا کہیں گے۔ کیا ہم صرف اِس بنیاد پر اس حکومت کا محاسبہ نہیں کریں  گےکیونکہ سربراہِ حکومت مذہب کے حق میں بہت اچھا ہے یا اُس کا کردار اُجلا ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچھامعاشی نظام  کیاہوتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب درکار ہو تو اس کیلئے کوئی لمبی چوڑی تحقیق درکار نہیں  بلکہ اس چیز کو دیکھا جائے کہ کیا یہ  نظام عام رعایا کو مدِنظر رکھ کر بنا یا گیا ہے؟ کیا اس سے واقعی ایک عام آدمی کی معاشی حالت بہتر ہورہی ہے؟ کیا یہ معاشی نظام اُس ملک کے اکثریتی طبقے کے حق میں مفید ہے؟ جب سے یہ نظام نافذ ا لعمل ہوا ہے اُس وقت سے لیکر اب تک اس نے کیا عام عوام کے مفادات کی پاسداری کی ہے؟کیا ایک عام آدمی اس نظام سے مطمئن ہے؟ کیا اس نظام نے ہر فرد کو  آزادی سے کام کرنے اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے مساوی مواقع فراہم کیے ہیں؟ کیا اس سے امیر اور غریب کے درمیان دولت کا فرق کم ہوا ہے؟  کیا اس ملک کے روپے کی قدر مستحکم ہے؟ کیا نظامِ ٹیکس عدل کی بنیاد پر ہے؟ اور کیا عوام سے وصول کردہ ٹیکس عوام کے اوپر ہی لگایا جاتا ہے؟ کیا اِس نظام سے اُس ملک کی ساری عوام ایک جیسی مستفید ہو رہی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر مذکورہ بالا سوالات کا جواب مثبت میں آئے تو وہ معاشی نظام بہت عمدہ  تصور کیا جائے گا۔

اس غلط معاشی نظام کی بدولت سارے کا سارا سرمایہ سمٹ کر چند ہاتھوں میں آ یا ہواہے، دولت گردش میں نہیں بلکہ رکی ہوئی ہے اور یوں چند سرمایہ دار خاندان یا ادارے جو سرمائے کے مالک ہیں۔وہ ہر قسم کی نعمتوں سے نہ صرف مالامال ہو رہے ہیں بلکہ ملک کے تمام نظام بھی اُن ہی کے ماتحت  ہیں۔اس پہ مُستزاد وہ مذہبی طبقہ ہے جو اس مصنوعی طور پر پیدا کردہ غلط تقسیم کو خدا کی طرف منسوب کر کے ہر ظالم اور جابر حاکم کو اس کے اصل جرم سے آزادی کا پروانہ عطا کر تا ہے اور منبر و محراب میں بیٹھ کر ان ظالم اور جابر لوگوں کے حق میں نہ صرف کلماتِ خیر کہہ رہا ہوتا ہے بلکہ جب بھی ان ظالموں کو ضرورت پڑتی ہے یہ مذہبی طبقہ اُن کا دامے، درمے،سخنے  بھر پور ساتھ دے رہا ہوتاہے۔ یہ سرمایہ دار  افراد  اور ادارےدنیا کے تمام ممالککے عوام کی نہ صرف تقدیر کا فیصلہ کر رہےہیں بلکہ کسی  بھی ملک میں آنے والی ہر حکومت اُن کے ابرو اور اشاروں پر ناچتی  پھر تی ہے۔ چنانچہ ہر حکومت ہر دور کے اندر جو بھی معاشی پالیسی اور اہداف طے کرتی ہے وہ اِنہی سرمایہ دار افراد کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے۔اُس ملک کے پالیسی ساز ادارے  پھر اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ عوام کی حالتِ زار کیا ہے، کیا ایک عام بندے کی آمدن اس قدر ہے کہ جس سے وہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکے،کیا جو بھی پالیسی اور اہداف مقرر کیے جارہے ہیں وہ قابلِ حصول ہیں،کیا عوام کے نام پر جاری شدہ اخراجات کا عُشرِعشیر بھی عوام پر خرچ ہواہے۔کیا ہر نئے آنے والے دن کے ساتھ اُس ملک کی عام عوام کی حالتِ زار بہتر  ہو رہی ہے یا بد تر؟

تاریخ کا مطالعہ کرنے سےپتا چلتا ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ  بنیا دوں پر  تقسیم کی سب سے بنیادی وجہ حکومتِ وقت کی غلط معاشی پا لیسی ہو تی ہے، جس کی وجہ سے ہر دور کے اندر ایک خاص طبقہ ہی تمام وسائل سے بہرہ مند ہو پاتا ہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ جو اُس ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمِل ہو تا ہے، اس کیلئے جسم اور جان کا رشتہ بھی برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔یوں  عامتہ ا لناس جو زندگی کی بنیادی سہولیات تک سے محروم ہوتی ہیں وہ اپنا حق نہ پاکر اُس کو چھیننے کیلئے متحرک جب ہوتی ہے تو ملک کے اندر افراتفری ،لاقانونیت ،عدم استحکام اور اُس سے وابستہ ہزار ہا قسم کے جرائم وجود میں آتے ہیں ۔آج ایک نظر دنیا میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح پر اگر ڈالی جائے تو، یہ بات بخوبی سمجھ میں آجا تی ہے کہ ان جرائم کے محرکات میں سے سب سے بڑا محرک یا سبب غلط معاشی نظام  اور اُس کی وجہ سے پیدا شدہ دولت کی غیر منصفانہ بنیادوں پر تقسیم ہے۔

مگر ظاہر ہے جب کسی بھی ملک کا معاشی نظام صرف چند لوگوں کے مفادات کو ہی تحفظ فراہم کرے اور اُس ملک کی اکثریت روز بروز غربت کے دریا میں مزیدڈوبتی ہی چلی جائے  تو اُس ملک میں امن ، پائیداری ،قانون کی پابندی  اور حقیقی خوشحالی کا حصول گویا بقول کسی شخصے   ” خواب ہے  ایک دیوانے کا”  کے ہی مترادف ہے وگرنہ  عملی طور پر اس کا حصول  اور قیام ممکن  نظرنہیں آتا۔ 

 

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}