کھیل کے میدان یا میدان جنگ۔۔۔سعید احمد

انسان کی شخصیت سازی میں کھیل ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ جب جسم تندرست و توانا ہو تبھی ایک صحت مند دماغ نمو پاتا ہے۔اس لئے بچپن سے بچوں کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف مائل کیا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں مات نہ کھائیں ۔ درسگاہیں انسان کی روح کو توانائی بخشتی ہیں جبکہ کھیل کے میدان جسم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
لیکن بعض اوقات کھیل کے میدان درندگی کی ایسی مثال پیش کرتے ہیں کہ روح کانپ اُٹھتی ہے۔کھیلوں کے میدانوں میں انسانیت کی ایسی توہین کی جاتی ہے کہ یہ گماں ہونے لگتا ہے جیسے آج بھی انسان پتھر کے دور میں رہ رہا ہو۔ما ر دھاڑ اور جذباتی انتہا کو کھیل کا نام دے کر درندگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
ایک طرف تو تہذیب و تمدن کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف پر امن کھیلوں(ہاکی کرکٹ فٹبال وغیرہ)
سے انسانوں کوبے مول کیا جاتا ہے۔ماضی میں بادشاہ اپنی تفریح کے لئے غلاموں کو لڑواتے تھے اور اُن لڑائیوں کا اختتام کسی ایک کی موت پر ہوتا تھا۔اپنی انا کی تسکین کے لئے غلاموں کو جانوروں سے لڑوایا جاتا تھااور زندگی کی بشارت صرف جیتنے والے کو ملتی تھی ۔ کھیلوں کے اکھاڑوں میں انسانوں کو اتار کر ان کے پیچھے بپھرے ہوئے سانڈوں کو چھوڑا جاتا تھا جن کے پاﺅں اور مقدر ساتھ دیتے تھے وہ بچ جاتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی اور ان کے انداز بدلتے رہے۔ لیکن یہ بے حسی آج بھی نئی شکل میں  برقرار ہے۔ 
ماضی کے کئی اُمڈتے ہوئے ستارے ان سفاک کھیلوں کی بھینٹ چڑھے ہیں۔کھیل کے میدان کئی بار خون کے میدانوں میں بدلے ہیں ۔ کئی بار انسانیت کی عظمت ان اکھاڑوں میں تارتار ہوئی ہے۔کئی جوانوں کے گرم خون نے ا ن میدانوں کی مٹی کی پیاس بجھائی ہے۔
پہلے کھیلوں میں حادثاتی اموات واقع ہوتی تھیں لیکن اب نوعیت بدل چکی ہے اب کھلاڑی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں.
کھلاڑیوں میں کھیل کے دوران ایک دوسرے کی  احترام ( سپورٹس مین سپرٹس) کے گھٹس اب نا پید ہیں ۔ 
اسی طرح ایک واقعہ اٹھائیس تاریخ  کو  مردان سپورٹس کمپلیکس میں پیش ایا ۔فٹ بال میچ کے متنازع اختتام  پر دونوں ٹیموں کے مابین لڑائی ہوئی  اس دوران کھلاڑی کے نام پر ایک وخشی نے  ریپری پر چاقو کی وار کرکے مار ڈالا 
یاد رہے کہ پچھلے مہینے خیبر ایجنسی میں کرکٹ میچ کے دوران  بھی لڑائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایک کرکٹر   کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اگر ارد گردماخول نظر دہرائی جائے تو  چھوٹی موٹی لڑائیاں اب کھیلوں کے میدان کا روزمرہ معمول بن گئ ہیں
اگر آئے روز اسی طرح  واقعات سامنے  ائینگے تو بہت جلد یہ پر امن میدانیں جو تفریح اور سکون کی ذرائع ہیں بھی میدان جنگ میں تبدیل ہو جائۓ گی۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}