لاہور حلقہ این اے 120کا الیکشن اور جمہور۔۔۔ یاسر بھائی

کُل رجسٹرڈ ووٹ 3 لاکھ 21 ہزار 786.
کُل پول شدہ ووٹ تقریباً 1 لاکھ 28 ہزار جو کہ کُل رجسٹرڈ ووٹ کا صرف 39 فیصد ہے، اور جیتنے والی نواز شریف کی بیگم نے کُل رجسٹرڈ ووٹ  میں سے صرف 61 ہزار 745 یعنی صرف 19 فیصد ووٹ ہی حاصل کیئے اور وہ بھی راتوں رات سڑکوں گلیوں، بجلی پول اور ٹرنسفارمرز کی تنصیب، زکوٰة فنڈز، وزیراعظم وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی ترقیاتی فنڈات اور غیبی سیاسی امداد و لاگت کی بے تحاشہ و بے دریغ تقسیم، نوکریوں کی منڈی و نیلامی کے بازار میں حکمران جماعت اکلوتے حلقے کے الیکشن مہم پر ایک قوی اندازے کے مطابق تقریباً ایک ارب روپے خرچنے کے بعد کہیں جاکر حلقہ کے صرف 19 فیصد عوام کو ہی ورغلا سکی، اور دوسری نمبر پر PTI کی امیدوارہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مہینوں دھرنوں کی ریاضت اور سالوں تبدیلی کے خوشنما نعروں کی بنیاد پر تقریباً 47 ہزار یعنی صرف 14 فیصد ووٹ حاصل کیئے، جبکہ دوسری رخ پر سب سے زیادہ اس حلقے کی ووٹ نہ ڈالنے والی جمہور یعنی عام عوام جو کُل ووٹرز میں سے61 فیصد تھے جنہوں ووٹ نہ ڈال کر اپنا غیر موثر لیکن حقیقی فیصلہ سُناڈالا کہ یہ ظالمانہ نظام اور اس کے سارے نام نہاد جمہوری ڈراموں سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں، یہ ایلکشن کے نام پر ڈرامے اس ملک کی اشرافیہ نے صرف اپنی لوٹ مار کی دولت کو الیکشن کے جُوا میں لُٹانے اور میلہ سجانے کے لیے منعقد کرنا ہوتا ہے، چونکہ اشرافیہ کے پاس لوٹی ہوئی دولت بے پناہ ہوتی ہے جس پر وقتاً فوقتاً یہ طبقہ ایسا میلہ سجاتے ہیں کہ جس میں کتوں، بلیوں، بٹیروں اور مرغوں وغیر کی جگہ انسانوں سے لڑنے لڑانے، نوچنے ناچنے کے مختلف تماشے کرواتے ہیں جس کا مظاہرہ ہر نام نہاد الیکشن کے موقع پر یہ بے شُعور تماشائی قوم کرتی رہتی ہے۔
نتیجے کے نام پر سنگین مزاق کا اس پہلو سے جائزہ لیں کہ پاکستانی بچوں کے کس سکول، بورڈ یا یونیورسٹی میں صرف 19 فیصد امتحانی نمبر لینے پر پاس و کامیاب قرار دیا جاتا ہے ؟ قوم کے بچے تو 33 فیصد سے نیچے پر مکمل فیل قرار پاتے ہیں اور اگر 50 یا 45 فیصد سے نیچے حاصل کردہ نمبرز ہوں تو کسی اچھی یونیورسٹی کے داخلہ امتحان کے بھی اہل نہیں ٹہرتے، اور یہ سرمایہ دار و جاگیردار اشرافیہ اپنے حلقے کے صرف 19 فیصد جمہور کے ووٹ پر ہی پاس و کامیاب ہوکر پوری قوم کی قیادت کے اہل قرار دیئے جاتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود اس ظالم نظام کی محافظ و ترجمان میڈیاکے تبصروں و تجزیوں میں جمہوریت اور جمہوری عمل کے جاری و ساری رکھے رہنے کےگُن گائے جارہے ہوتے ہیں، میڈیا و سوشل میڈیا صرف 39 فیصد ووٹ اور ووٹرز کو ہی ذیر بحث لاکر فلاں کی جیت اور فلاں کی ہار کے نعرے لگاکر اس دھوکہ باز جمہوریت پر سطحی نظر رکھوانے کی کامیاب کوشش کررہا ہے۔
لہٰذا مجھے اس پورے عمل میں کوئی جمہوریت سمجھادے، بتلادے، دیکھادے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}