ٹیچر کے بچے اور سرکاری سکول ۔۔۔ یاسر بھائی

اس ظالم سرمایہ دارانہ نظام کے تعلیمی شعبہ کی ابتری و تباہی کے ثانی درجہ کے ذمہ دار (سرکاری ٹیچر) کا چرچہ کرواکر اصل ذمہ دار وزیران، مشیران، سیکرٹریرز، ڈائریکٹرز، نصاب، فرسودہ امتحانی نظام وغیرہ سے بڑی چالاکی کے ساتھ نظر ہٹادی جاتی ہے اور یہ بول دیا جاتا ہے کہ خودسرکاری ٹیچر کا بچہ سرکاری سکول میں نہیں پڑھتا جوکہ خراب نتائج کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ خود سرکاری ٹیچر کو ہی سرکاری سکول کے معیار پر اعتماد نہیں، اب اس دعوے کا جائزہ لیں کہ کیا واقعی یہی تصویر کا اصل رُخ ہے ؟ ان سرکاری سکولوں کا نظام و انصرام کرنے والی پوری وزارت اور اسکے وزیر و مشیر، محکمہ ایجوکیشن کے سیکٹریرز و ڈائریکٹرز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افس کے افسران و بالائی عملہ میں  سے کس کا بچہ ان سکولوں میں پڑھ رہا کہ جن سکولوں کی مکمل پالیسی و قانون سازی ہی انکے اعلیٰ دماغوں سے نکل کر قلم کے ذریعے کاغذوں کی زینت بن کر سکولوں میں نافذ و رائج ہوتی ہے، اب ان کو اگر اپنے ہی بنائے سرکاری سکول، خود کے مرتب کیئے ہوئے نصاب، خود کے مقرر کردہ قوانین پر بھرتی کیئے گئے ٹیچرز اور انکے طریقہ تدریس کو متعلقہ وزیران سے لیکر ضلعی افسران تک اپنے بچوں کےلیے معیاری نہیں سمجھتے تو موردِالزام صرف ٹیچر ہی کیوں ٹہرتا ہے ؟ 
کیا تعلیمی امتحانی بورڈز کے چیئرمین، سیکٹری و کنٹرولرز اور عملہ کے بچے سرکاری سکول کے ماحول و معیار میں پڑھتے اور امتحان دیتے ہیں؟ 
کیا نصاب تیار کرنے والے ٹیکسٹ بک بورڈز کے افسران و پروفیسرز کے اپنے بچے ان سرکاری سکولوں میں داخل ہوکر انہی کا مرتب کردہ نصاب پڑھتے ہیں؟
کیا یہاں کسی MNA MPA یا UC ناظم کا بچہ بھی سرکاری سکولوںمیں پڑھتا ہے؟
تو پھر الزام کی سوئی صرف سرکاری ٹیچر ہی پر کیوں اٹک جاتی ہے؟
      اس پورے سلسلہ میں ٹیچر بھی ذمہ دار ہے لیکن بہت کم درجہ میں۔
       یوں آپ تمام شعبوں و محکموں کا جائزہ لیں کہ کیا وزیر صحت، سیکٹریز و ڈائریکٹرز صحت، سرکاری ہسپتالوں  کے انچارج اور ڈاکٹروں کے بچے ان ہسپتالوں کے OPD کی چیک اپ پر انہی ہسپتالوں کے عام وارڈز میں زیر علاج ہوتے ہیں؟
کیا محکمہ ٹرانسپورٹ کے وزیر و مشیر اور افسران عام عوام کے پبلک ٹرانسپورٹ بسوں، ویگنوں رکشوں وغیرہ میں سفر کرتے ہیں ؟ حالانکہ روٹ پرمٹ، معیاری سفر کے سرٹیفکیٹس اور جملہ نظام متعلقہ محکمہ نے ہی تو جاری کیا ہوتاہے، پھر کیوں سوال نہیں کیا جاتا کےیہ مقتدر طبقہ کے وزیران و مُشیران اور افسران کو اتنے بے تحاشہ مرعات و تنخواجات، نوکر و چاکر اور بڑی تگڑی ٹی اے ڈی ایز سے کس بنیاد پر نوازا جاتا ہے؟ جبکہ جملہ نتائج غیر معیاری ہیں کیونکہ خود ان کو اپنے اور اپنے بچوں کےلیے اسی نظام کے معیار پر اعتماد نہیں۔ 
      لہٰذا عقل و شعور سے اس اجتماعی نظام کا جائزہ لیں تو یہ نظام ہمہ گیر طور پرانسانیت دشمن اور فرسودہ نتائج کا حامل ہی ٹہرا نظر آئے گا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}