ورکنگ باونڈری پر ٹوٹتے ستارے۔۔مدثر گل

آپ نے شہاب ثاقب کا نام تو سنا ہی ہو گا۔ نہیں سنا تو ٹوٹے ہوئے ستارے تو زمین پر گرتے ضرور دیکھے ہونگے۔ مسلمان ہوئے تو لاحولاوقوۃ پڑھ لیا ہو گا، اور اگر نہیں ہوئے تو اسے دیکھ کر دل میں کوئی ارمان رکھ لیا ہو گا۔ لیکن آپ نے یہ آخر کتنے دیکھے ہونگے؟ میرے خیال میں تو قابل شمار ہی ہونگے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے کبھی کسی شہاب ثاقب کو زمین سے ٹکراتے اور پھٹتے ہوئے تو ہر گز نہیں دیکھا ہو گا۔ مگر اسی زمین پر کچھ محدود علاقے میں ایسے بے شمار لوگ پائے جاتے ہیں جو روزانہ رات کو ان گنت ٹوٹے ہوئے ستاروں کو نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ انکو پھٹتا ہوا دیکھتے بھی ہیں۔ اسکے پھٹنے کا کرب نا صرف اکیلے محسوس کرتے ہیں بلکہ انکے رشتہ دار بھی مفت کے اس درد کو سہے بغیر نہیں جی سکتے ہیں۔
پسرور کا وہ علاقہ جس کی سرحد مقبوضہ جموں و کشمیر سے منسلک ہے، جسے ورکنگ باؤنڈری بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں کے مکین روز اس آتشی کھیل سے کرب اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں پر دکھائی دینے والے شہاب ثاقب وہ ٹوٹے ہوئے ستارے نہیں ہوتے بلکہ دشمن ملک کی نال سے نکلے ہوئے گولے ہوتے ہیں جو رات کو فضا میں تیرتے ہوئے آتے ہیں اور  کہیں نا کہیں ٹکرا کر ہی رہتے ہیں۔ ان کے پھٹنے کے بعد نا صرف انسان بلکہ حیوان بھی انکی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اللہ جانے یہ گولے صرف رات کو ہی کیوں داغے جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے ایسی کیا مصلحت ہے اس کا ادراک مجھ ناسمجھ پر تو نہیں ہو سکا۔
رات کی تاریکی جب غالب آ جاتی ہے تو شاید دن بھر کے تھکے ہارے سرحد کے دونوں اطراف کے فوجیوں کا انتاکشری کھیل کر تھکان دور کرنے کا دل کرتا ہے۔ پہلا شعر یا گانا ہمیشہ سرحد کے اس پار سے پہلے سنائی دیتا ہے۔ پھر شعر و شاعری اور گیت گاری کا یہ سلسلہ دن کی لو لگنے سے ذرا پہلے تک بغیر کسی وقفے کے جاری وساری رہتا ہے۔ انتاکشری کا یہ سلسلہ کسی نئے شاعر کی طرف سے کسی چھوٹی گن کا سنگل فائر بھی ہو سکتا ہے یا پھر منجھے ہوئے شاعر کا مکمل برسٹ فائر۔ 
اب اس مقابلے میں آزاد نظم یا غزل، سریلے گیت یا ریپ کی کوئی قید و بند نہیں ہوتی ہے۔ شارٹ رینج فائر کے مقابلے میں لانگ رینج لمبے برسٹ کی توقع ہی ہوتی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ آخری حرف کے مطابق جواب دینا ہے۔ گولی کے جواب میں مارٹر گولہ بھی داغا جا سکتا ہے۔ شاعری کے اس آزادانہ استعمال کی وجہ سے نہ تو شعر کا وزن موزوں رہتا ہے اور نا ہی ان مکینوں کا، جو اس آتشیں شاعری سے کب کے اکتا چکے ہیں۔ان شعروں کے نشانے ان تیروں سے کہیں زیادہ خطرناک وار کرتے ہیں جو صرف دل کو چیرتے تھے۔ یہ بے تکلف آتشی شاعری تو گھروں کو مسمار کر دیتی ہے اور انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی ہلاک کر دیتی ہے۔
نجانے یہ انتاکشری کا کھیل کب ختم ہو گا! کب فضا میں اڑتی روشنیاں دوسرے گھروں کی روشنیاں گُل کرنے سے باز آئیں گی۔ ان شہاب ثاقبوں کو ہر روز دیکھنے والی آنکھیں تو انکی طلبگار بھی نہیں ہیں۔ اب تو انکی خواہش ہے کہ یہ انتاکشری، یہ ٹوٹے ستارے دن کے وقت سنائی اور دکھائی دیں۔ تاکہ وہ بھی جان سکیں کس نے قافیے اور ردیف کا خیال نہیں رکھا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}