سیاسی عمل کے خلاف تباہ کن مہم۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو سب سے بڑا موضوع دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے، وہ یہ ہے کہ سیاست دانوں نے ملک برباد کردیا، لوٹ کر کھا گئے سیاست دان، ملک کی تمام بربادیوں کے ذمے دار سیاست دان، اور سیاست سے بری کوئی بیماری نہیں جو اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھا گئے۔ بڑے بڑے ٹی وی ٹاک شوز، مزاح پر مبنی پروگرام، سب سے بڑا فوکس ہی یہ ہے ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے گم نام شاعر اپنی شاعری سے سیاست دانوں اور سیاست کا اس طرح تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں جیسے اُن کی شاعری کوئی آسمانی صحیفہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنائے گئے کلپس بھی سیاست سے متنفر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ لگتا ہے باقاعدہ منصوبہ بندی سے اس عمل کو عام کیا جا رہا ہے کہ لوگ سیاست، سیاست دانوں اور سیاسی عمل کو قومی خطرہ یقین کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ دنیا کی کوئی قوم یا ریاست آپ مجھے دکھا دیں جو سیاسی عمل، سیاست اور سیاسی جماعتوں کے بغیر کامیابی کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاست دان ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ لاتعداد الیکٹرانک تجزیہ نگار اور کالم نگار سیاست سے راہِ نجات کی تلقین کرتے نظر آرہے ہیں۔ وہ کسی نام نہاد ٹیکنو کریٹ حکمرانی کا خواب دکھا رہے ہیں، متعدد فوج کی قیادت میں ملک کی قسمت بدلنے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ قوم کو سیاست اور سیاسی عمل سے بددل، متنفر کرنے والے یہ لوگ شعوری اور لاشعوری طور پر سنگین جرم کررہے ہیں۔ سیاست، ریاست، سماج اور کسی بھی قوم کے اجتماعی سفر کا Instrument ہوتا ہے۔ کیا سیاسی عمل کی بجائے ملک بندوق برداروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے؟ یاد رہے اب ہمارے ہاں دو بندوق بردار ہیں، ایک مسلح افواج اور دوسرے مذہبی انتہا پسند۔ سیاست سے متنفر کرنے کا یہ عمل ہمیں بندوق برداروں کے حوالے کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ میں ذاتی طور پر اِن سیاسی جماعتوں، اِن سیاست دانوں، اِس جمہوریت کا نقاد ہوں، لیکن میرے جیسوں کی تنقید اس کو بہتر کرنے پر انحصار کرتی ہے، اس کو ملیا میٹ کرنے کے لیے نہیں۔ میں اس جمہوریت کا بھی نقاد ہوں، لیکن میں مکمل جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں۔ میرے جیسے لوگ اس سیاسی عمل کے نقاد ہیں۔ لیکن سیاسی عمل کو ہی ملک وقوم کی واحد حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بندوقوں والے کبھی نہیں بدلتے۔ قوموں کی تقدیر، سیاسی فلسفے، سیاسی عمل اور عوامی اجتماعی فکر (جمہوریت) بدلتی ہے۔ ملکوں کا نظام، ریاستوں کا نظام بھی سیاسی عمل، سیاسی جماعتوں کے مرہون منت ہوتا ہے۔ وگرنہ وہی ہوتا ہے جو عراق و شام سے علیحدہ کیے گئے دہشت گردوں نے بندوق کے زور پر کیا ہے۔ کیا ہم پاکستان کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں؟ ذرا تصور کریں، ایسا پاکستان۔
سیاست دان کی سیاست پر تنقید، جمہوریت کی طرز پر تنقید، سیاسی عمل کی ہیت پر تنقید اور سیاست دانوں کے عمل پر تنقید تو سمجھ میں آتی ہے، مگر ان سب کو مسترد کردینا عقل سے بالاتر ہے۔ ہمارے ہاں تنقید نہیں بلکہ اس سارے سیاسی عمل، سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کو مکمل طور پر ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور افسوس، اس میں سوشل میڈیا کے ’’چوزے‘‘ پیش پیش ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ان فصلی بٹیروں کے پیچھے کوئی طاقتور منصوبہ بندی ہے۔ کسی قوم کو سیاست، سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں سے مکمل طور پر متنفر کردینے کا مطلب، تباہ کن انارکی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ مختلف مسائل کے آتش فشانوں، غربت، جہالت، محرومی، لاقانونیت، مذہبی انتہا پسندی، فرقہ پرستی، جنونیت، جاہلانہ نام نہاد افکار، آبادی کا سیلاب اور لاتعداد آتش فشانوں پر کھڑی ہے یہ قوم۔ کیا کوئی بندوق بردار ادارہ یا گروہ، اس قوم کی رہنمائی کرسکتا ہے؟ افسوس ہمارا سوشل میڈیا اِن جاہلانہ افکار کا سب سے بڑا Instrument بن گیا ہے۔ ہم جسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں، وہ تباہی کی آگ ہے۔ سوشل میڈیا اور اس کے استعمال کرنے والے افسوس کہ زیادہ نوجوان ہیں، سیاسی فکر سے نابلد، علم ومعلومات سے مکمل دور، ذمہ داری اور منطق سے بے بہرہ یہ لوگ قوم کی خدمت نہیں بلکہ اسے تباہ کررہے ہیں۔ اس تباہی کو Enhance کررہے ہیں۔
میں پچھلے بائیس سالوں سے (1995ء سے )انٹرنیٹ کا User ہوں، اس وقت اور آج اس ذریعہ ابلاغ میں اضافہ تو ہوا ہے، استعمال کرنے والوں کے حوالے سے مگر عملاً اس میں بھی زوال ہی آیا ہے، میرے لیے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نئے نہیں۔ ہمارے کروڑوں لوگ سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارمز سے اس تباہی کو Enhanceکررہے ہیں۔ آٹھ دس ہزار کا سمارٹ فون ہاتھ میں آجانے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی۔ ان کو استعمال کرنے والوں کی فکر اہم ہے۔ کیا کروڑوں Users کسی فکرِ نو کے علمبردار ہیں؟ کیا فرقہ پرست اور کیا لبرل، بحیثیت میڈیا طالب علم میں ان کو غور سے مانیٹر کرتا ہوں۔ اُن کے پاس سوائے تباہی کے ایجنڈے کے، اور کچھ نہیں۔ ہروقت سیاست، سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں کے وجود کو ملیامیٹ کرنے کے عمل میں مصروف ہیں، ہمارا مین سٹریم اور سوشل میڈیا۔مائل بہ زوال اور برباد ہونے والے یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک سمت میں جا رہے ہیں۔ کبھی اپنے آپ کو اس عمل سے باہر رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کس تباہی کا سفر طے کر رہے ہیں۔
کبھی غور کریں مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر کیا حشر برپا ہے۔ سیاسی عمل اور سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام کو تہس نہس کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ ریاست کو تہس نہس کردو۔ انارکی پھیلا دو۔ اس کا سب سے بڑا ماڈل شام وعراق نے داعش کی شکل میں پیش کیا ہے۔ سیاست دانوں پر تنقید بلکہ بھرپور تنقید میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس سارے عمل میں نظر آرہا ہے کہ سیاست دانوں کا وجود ہی ختم کردینے میں بقا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور سیاسی عمل ملک کی تباہی کا پہلا اور آخری سبب ہی وہ پیغام ہے جو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا دے رہا ہے۔ میرا یقین ہے کہ زیادہ لوگ اپنی جہالت کی بنا پر ایسا کررہے ہیں اور کم لوگ ہیں جو اس تباہی کے عمل میں شعوری کردار ادا کررہے ہیں۔ میرا زیادہ Concern مین سٹریم میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا ہے۔ ایمان داری سے عرض کروں تو وہاں تباہی کے سامان مین سٹریم میڈیا سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے ایسے افلاطون بیٹھے ہیں وہاں، اُن کی جہالت اور جہالت پر اُن کے غرور کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تواہم پرستی کو مذہب اور غیرذمہ داری کے بھرپور رویے کو لبرل ازم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تواہم پرست اور لبرل کہلانے والے سوشل میڈیا کے یہ برزجمہر اپنا اپنا حصہ برابر ڈال رہے ہیں۔
نوازشریف، عمران خان، آصف علی زرداری سے لے کر الطاف حسین سمیت ہر سیاسی قیادت پر تنقید درست، مگر یہ پراپیگنڈا کرنا کہ سیاست دان اس قوم کی تباہی کے واحد ذمہ دار ہیں، یہ ایک نہایت گھٹیا دلیل ہے۔ اگر مجھ ناچیز سے پوچھاجائے تو پاکستان کے اندر سیاسی زوال سے کہیں زیادہ فکری زوال ہے اور اس کے ذمہ دار، نام نہاد اہل دانش، نام نہاد اہل قلم اور نام نہاد اہل علم ہیں۔ قوموں کے رہبر اہل فکر ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادتیں اپنے دانشور طبقات سے فکر کی آبیاری کرتی ہیں۔ یورپ، امریکہ، روس، جاپان، کسی بھی ملک کی مثال لے لیں۔ اہل فکرودانش ہی رہنمائوں کی رہنمائی اپنے افکار سے کرتے ہیں۔ افسوس، ہمارے یہ سرچشمے یا تو خشک ہوچکے ہیں یا آلودہ۔ ہمارا دانشور طبقہ دنیا کے جدید علوم سے ہزاروں میل دور ہے۔ ایک مثال دیتا چلوں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ اردو کے فروغ کے علمبردار ہیں۔ وہ اردو کے فروغ کے لیے جلسے جلوس یا کسی مشاعرے کے انعقاد یا کسی کانفرنس کے انعقاد سے اردو کے فروغ کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ زبانیں اپنے اندر علوم سمونے سے ترقی کرتی ہیں۔ بولنے اور لکھنے سے نہیں۔ کیا اردو کے اندر جدید دنیا کے علوم سموئے گئے؟ میڈیکل، سائنس، سماجی علوم؟ ہم عدالتی حکم ناموں سے اردو کے فروغ کے علمبردار ہیں۔ جب تک زبان اپنے اندر علوم نہیں سموئے گی، اس کا وجود اہمیت اختیار نہیں کرے گا۔ چینی، ایرانی، ترک، انڈونیشین، جاپانی اور دوسری قوموں کے اپنی زبانوں کے اندر جدید علوم کو سمویا تو زبانیں بھی ترقی کرگئیں، دانش بھی، دانشور بھی اور قوم بھی، بس مختصر یہ کہ ہمارے زوال کا سرچشمہ فکر اور یہ نام نہاد اہل فکر ہیں۔ اور اب مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا تباہی کے ان نام نہاد مفکروں کے ہاتھوں میں ہے۔ اور قوم کو اس پر مائل اور قائل کیا جارہا ہے کہ سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاسی عمل ملیا میٹ کردیا جائے۔ تو پھر کیا۔۔۔؟

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}