امریکہ میں بڑھتی ہوئی شرحِ اموات۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

ایک سفید فام شخص صریحاً اپنے ساتھی انسانوں کو ہلاک کرنے کے مقصد کے تحت ایک جدید گن سے ایک پُرہجوم جگہ میں فائر کھول دیتا ہے، یہ معمولات اتنے ہی ورائے حقیقت بن چکے ہیں جتنا کہ فرسودہ اور گھسے پٹے۔ امریکہ کے لبرلز اس پر مہلک اور ہلاکت خیز اسلحے پر کنٹرول کے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ کنزرویٹو اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس افسوس ناک واقعے کو Politicize کررہے ہیںاور ماتم، افسوس اور دعائوں کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر لاس ویگاس میں فائرنگ کرنے والا یہ شخص، مسلمان، سیاہ فام یا وسطی امریکہ سے آیا تارکِ وطن ہوتا تو ساری سیاسی گرماگرمی اور طرح کی ہوتی اور معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا۔
امریکی لبرلز یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ان کی پیش کی گئی تجاویز سے لاس ویگاس کا قتل عام تو نہ رکتا، اس بات پر مصر ہیں کہ اسلحے کی روک تھام سے متعلق کچھ کرنا ضروری ہے۔ یقینا ان کے مطالبے کے عقب میں ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ سائنٹفک امریکن کے اکتوبر کے شمارے میں ایسی درجنوں تحقیقات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلحہ جس قدر آسانی سے دستیاب ہوگا، متشدد جرائم اسی قدر بڑھیں گے۔ امریکی لبرلز اس مجموعی تناظر میں کچھ باتیں مگر سمجھ نہیں پائے۔ امریکہ میں ایسے واقعات میں جن میں اسلحہ استعمال کیا گیا، ان میں سے دوتہائی خودکشی کے کیسز ہیں۔ امریکہ کے نیشنل سینٹر فار ہیلتھ سٹیٹسٹکس کی 2016ء کی ایک تحقیق کے مطابق 1999ء سے 2014ء تک امریکہ میں خودکشیوں کی مجموعی شرح میں 24فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس شرح میں ڈرامائی اضافہ 2006ء میں دیکھنے میں آیا۔ اس میں بیشتر اضافہ درمیانی عمر کے امریکی سفید فام مروخواتین میں دیکھنے میں آیا۔ یہ افیون، الکوحل سے زہرخورانی اور موٹاپے سے آنے والی مایوسی کی لہر کے باعث ہے، جیساکہ پرنسٹن یونیورسٹی کا بھی کہنا ہے کہ سفیدفام ورکنگ کلاس میں موت کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ مایوسی پر سفید فام ورکنگ کلاس کی ہی اجارہ داری ہو۔ سفیدفاموں کی خودکشی میں اضافے کی شرح پر اسی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اضافہ امریکن انڈینز کی خودکشیوں میں دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں مردوں میں اس کی شرح 40فیصد اور عورتوں میں تشویش انگیز حد تک 90فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سیاہ فام ورکنگ کلاس ایک عرصے سے بے رحمی سے ڈی انڈسٹریلائزیشن، آبادی سے علیحدگی اور پولیس گردی کا شکار ہے۔ ان اقلیتوں کی جمود کا شکار آبادیاں شدت پسندی کا گڑھ ہیں۔ ہر قسم کے اسلحے کی شدت پسندی کا بنیادی سبب معاشی ہے، اسلحہ ان کے لیے ثقافتی اظہار ہے۔
خودکشی چوںکہ ایک ہیجانی طرزِعمل ہے، اس لیے اسلحے پر کنٹرول کے لیے تو اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن ان سے خودکشی کی تحریک میں کمی نہیں آسکتی۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ایسے اقدامات اٹھائے نہ جائیں۔ اصل میں امریکہ کی حکومتی سطح پر اسلحے کے کنٹرول کے کوئی اقدامات ہی نہیں۔ 50میں سے 41ریاستیں کہتی ہیں کہ وہ ’’اس سلسلے میں اقدامات کریں گی‘‘ تاہم اس سلسلے میں تاحال کوئی لائحہ عمل موجود نہیں، یعنی جو قانونی طور پر اسلحہ خرید سکتا ہے، اس کے پاس اسے ہمہ وقت رکھنے کا اجازت نامہ بھی ہے۔ ان میں سے درجن بھر امریکی ریاستوں میں پرمٹ رکھنے کی شرط بھی نہیں۔ اگر چھپا کررکھنے کے اجازت نامے پر لوگوں کو تشویش ہے تو، ان 44امریکی ریاستوں سے نظر نہ چرائیں جہاں کھلے عام اسلحہ رکھنے کی اجازت ہے، 30امریکی ریاستوں میں تو بغیر کسی پرمٹ کے کھلے عام اسلحہ رکھنے کی اجازت ہے۔ بیشتر امریکی ریاستوں میں تو ایسے قوانین موجود ہیں جو ایسی بارز اور ریستورانوں میں کھلے عام اسلحہ لانے کی اجازت دیتے ہیں جہاں الکوحل سرو کی جاتی ہے۔ ان اعدادوشمار میں مستقبل قریب میں تبدیلی آنے کی کوئی توقع نہیں۔
ایک ایسے ملک میں جہاں خود حکومتی پالیسیاںان حقائق کی ذمہ دار ہیں، اسلحہ کے جنونیوں کا دعویٰ ہے کہ اسلحے پر کنٹرول ناممکن ہے۔ فطری نتیجہ ہی یہی ہے۔ اگر امریکی صدر ٹرمپ کسی چیز کی ترجمانی کرتے ہیں تو وہ ہے، امریکی سرمایہ داری نظام کا غلبہ، جس کے محرک ایک طرف تو سماجی ڈارون ازم کی شان بیان کرتے ہیں جس میں سب کچھ Zero Sum Game ہے تو دوسری طرف چیخ چلاّ کر کہتے ہیں کہ عام آدمی کے حق میں کوئی بہتری نہیں آرہی ہے۔سرمایہ داری نظام ہمیشہ اسی طرح اپنے ہی تضادات بیان کرتا ہے۔
یہ بات بھی بڑی توجہ انگیز ہے کہ اسلحے کے اجازت ناموں سے متعلق تمام قانون سازی اس وقت ہوئی جب قومی سطح پر جرائم کی شرح کم ہورہی تھی۔ ہارورڈ اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹیوں کے گزشتہ سال کیے گئے قومی سروے کے مطابق 1994ء سے 2015ء کے درمیان قومی اسلحہ سٹاک میں 70ملین کا اضافہ ہوا۔ اس میں آدھا سٹاک محض 3فیصد آبادی کی ملکیت ہے۔ اس سٹاک کا 40فیصد پستول اور گنز پر مشتمل ہے، جو ایک دہائی پہلے ایک تہائی تھا۔جرائم کی شرح کم تھی لیکن اجرتوں اور یونین جابز کی بھی۔ ہیلتھ کیئر پر خرچ میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی انشورنس کی سطح میں کمی۔ ایک اور تحقیق کے مطابق امریکی صدر ریگن کے دور میں ورکرز کی مشکلات کے باعث کام کی جگہوں پر فائرنگ میں اضافہ ہوا۔پوسٹ آفس خود جسے ریگن نے سیمی پرائیویٹائز کیا، اس قسم کی چیزوں کا ابتدائی شکار بنا۔آج ملازمتوں کی صورتِ حال بدتر ہے۔ 1967ء میں 25-54برس کے امریکی مردوں کی 95فیصد تعداد کام کرتی تھی۔ آج 15فیصد سے زائد کام نہیں کر رہے، کچھ آبادیوں میں کالج تعلیم کے بغیر مردوں کی 70فیصد شرح بے روزگار ہے یا افرادی قوت سے بالکل ہی باہر ہے۔ جزوقتی کام کرنے والے امریکیوں کی شرح بھی دس فیصد سے زائد ہے۔ اور عجیب بات کہ ستر لاکھ سے زائد امریکی ایک سے زیادہ نوکریاں کرتے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کی تحقیق کے مطابق امریکی صدر اوباما کے دور میں تخلیق پانے والی 95فیصد سے زائد نوکریاں عارضی، جزوقتی یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر تھیں۔
صاحب اختیار لوگوں کے لیے ’’ثقافتی‘‘ معاملات کی خوب صورتی یہ ہے کہ جب معاملے ثقافتی ہوجائیں تو ناقابل حل ہو جاتے ہیں۔ یہی حال اسلحے کی ملکیت کا ہوا ہے۔ شہری اور دیہی تقسیم کا شور شرابا، جہاں سب کچھ خدا، اسلحے، علامتوں اور جنگوں پر آکر ختم ہوجاتا ہے، بھی خوب ہے جبکہ معاشی ترقی کے بڑے حصے پر محض ایک فیصد طبقہ قابض ہے۔ اس دوران حالیہ عرصے میں نیویارک ٹائمز اور فنانشل ٹائمز نے یہ خبریں شائع کیں کہ چیمبر آف کامرس ، ٹرمپ انتظامیہ کے NAFTA سے دوبارہ مذاکرات سے خوش نہیں، ان سے مذاکرات نہ کرنے کا ایسا وعدہ بہت سے ڈیموکریٹ امیدواروں نے بھی توڑا۔ 2008ء میں اوباما نے اپنی انتخابی مہم سے پہلے فورچون میگزین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کی NAFTAمخالف گفتگو ان کی مہم کا حصہ تھی۔ صحت عامہ کی سہولیات ناکام ہوتی ہیں تو ہوں، چاہے پورا ملک پستی کی طرف چل پڑے اور افیون میں کھو جائے اور عوامی لیڈر جذباتی تقریریں کریں،یہیں سے موت کی شرح میں امریکہ میں ہر جگہ اضافہ ہورہا ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}