معاشرے کی تبدیلی کا خواب : محمد عباس شاد

معاشرے کی تبدیلی کا خواب ایک ایسا سہانا خواب ہے جسے اب معاشرے کا ہر طبقہ دیکھنے لگا ہے۔ کبھی صورت حال اس سے مختلف تھی وہ لوگ جو جوش خطابت میں معاشرے کی پائیدار تبدیلیوں کو کچھ وقعت نہ دیتے تھے وہ ایسی باتوں کا مذاق اڑایا کرتے اور وہ مسلمان قوم کے تمام مسائل کا حل بس پاکستان بن جانے کو قرار دیا کرتےتھے اور پاکستان بننے کے بعد آسمان سے من وسلوی کے نازل ہونے اور زمین سے دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہونے کے منتظر رہتے تھے ۔

 لیکن اب حالات کے  جبر نے اب نہ صرف لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے بلکہ اب معاشرے کے معدودے چند طبقے بھی اس طرف متوجہ ہوئے ہیں کہ حالات اتنے سادہ نہیں ہیں کہ محض تمنا اور آرزو سے کام چل نکلے بلکہ ہمیں حالات سدھارنے کے لیے من حیث القوم تبدیلی کی ضرورت ہے۔لہذا بحیثیت قوم تبدیلی کی کوششیں اب رواج پانے لگی ہیں لیکن اس میں بھی اب تمنائیں اور آرزوئیں اپنی جگہ بنانے لگی ہیں وہ اس طرح کہ  کبھی کوئی اشتہار چھاپ دیا اور کبھی کسی بڑی شخصیت کے مونہہ سے کو ئی بات کہلا دی اور زیادہ تیر مارا تو کوئی پمفلٹ چھاپ کر مفت تقسیم کردیا۔

 اور جب کبھی حکومت کو یہ خیال ستاتا ہے تو وہ ٹی وی اور اخبار میں مہنگے اشتہار دے کر رات ورات قوم میں تبدیلی اور انقلاب پیدا کرنا چاہتی ہے  اور ایسی ایسی  مہنگی جگہوں پر  مہنگے اشتہار ات غریبوں کے لیے چھاپے جاتے ہیں کہ اس سے امیر اور زیادہ امیر ہوجاتے ہیں اور غریب وہیں کا وہیں کولہوں کا بیل ہی رہتا ہے۔ بس کہنا اتنا ہی تھا کہ قومیں ایسے تبدیل نہیں ہوتیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}