فوج سے محبت اور سیاست کا تقدس : مدثر گل

“فوج سے محبت اپنی جگہ لیکن سیاست کا تقدس بھی ضروری ہے”
میں نے ہمیشہ فوج سے محبت کی ہے۔ بچپن میں جب سکول ماسٹر پوچھتا تھا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے تو باقی ہم جماعت لڑکوں کی طرح با آواز بلند سینہ تان کر فوجی افسر بننے کا اعلان کرتا تھا۔ جذبہ شہادت اس عروج پر ہوتا تھا کہ سکول کی چار دیواری کے باہر جیسے دشمن بیٹھا ہے اور ابھی اس پر ٹوٹ پڑنا ہے۔ آج بھی اگر ملک کے لیے قربانی دینے کا وقت آئے تو شہادت کا وہ جذبہ اسی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ بچپن کے اور آج کے جذبہ شہادت میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہے، مگر فوج کے سیاسی کردار کی وجہ سے فوج سے محبت کے ساتھ سیاست کے تقدس کی اہمیت دوگنی ہو گئی ہے۔
سیاست اور فوج دو الگ الگ پیرائے ہیں۔ یہ دونوں کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے ہیں۔ سیاست اور فوج کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جو کہ ضروری بھی ہے۔ فوج سرحدوں کی بقاء کی ضمانت ہوتی ہے۔ جبکہ سیاست ملک کے بقاء کی ضامن ہوتی ہے۔ دونوں ملک کے لیے لازم و ملزوم ہیں، مگر دونوں کا کردار اپنی اپنی جگہ پر مخصوص ہے۔ معاملات اس وقت خراب ہوتے ہیں جب دونوں میں سے کوئی ایک اپنی جگہ چھوڑ کر دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بات ثابت کرنے کے لیے دنیا میں اس کی بڑی بڑی مثالیں موجود ہیں۔
صومالیہ جو کہ اس وقت ناکام ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے، وہاں کے حالات روز پوری دنیا کے اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ 1960ء میں آزادی کے بعد صومالیہ آزاد اور مستحکم مملکت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ 1969ء میں جنرل سعید برّے کی فوجی آمریت نے سارے جمہوری خواب چکنا چور کر دیے اور ملک میں طویل بائیس سالہ آمریت مسلط کر کے انہوں نے فوج کو اقتدار کا مزا چکھا دیا۔ تب سے لے کر آج تک صومالی ری پبلک مسلمان اکثریتی ملک  میں خانہ جنگی چلتی آ رہی ہے۔
عراق بھی اسی آمریت کی حالیہ تصویر ہے۔ صدام حسین جو کہ ایک فوجی آمر تھا اس نے عراق پر دہائیوں حکومت کی تھی۔ عراق کے پاس اس وقت دنیا کا جدید اسلحہ اور لڑاکا طیارے موجود تھے۔ اسرائیل جیسے ملک نے اس وقت عراق کا ایک جنگی طیارہ (روسی ساختہ) چرا کر جدید ٹیکنالوجی کی تکنیکوں میں مہارت حاصل کی تھی۔ مضبوط فوج اور جدید دفاعی ساز و سامان کے باوجود عراق کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر سیاست کی وجہ سے زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کر پایا۔
روس کے بکھرنے کی وجہ اس کی سیاست میں ناکامی بنی تھی۔ کیمونزم کی وجہ سے اس وقت روس میں کسی قسم کاسیاسی ڈھانچہ موجود نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ایٹمی طاقت رکھنے والا ترقی یافتہ ملک کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔
شام میں بشار الاسد کے والد نے آمریت کی بنیاد پر حکومت کی اور وہی حکومت اس کے بیٹے کے پاس ایک آمرانہ طریقے سے موجود ہے۔ شام کا جو حال اس وقت ہو رہا ہے، باقی دنیا جس طرح شام کو نوچ رہی ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہی ہے۔
ہٹلر دور کا جرمنی، السیسی دور کا مصر اور لیبیا کی مثالیں بھی تو آپ کے سامنے ہی تو ہیں۔ خود پاکستان دنیا کے لیے ایک بہت بڑی مثال ہے۔ پاکستان کا وجود ہی سیاست کی بدولت ممکن ہوا نہ کہ کسی فوجی جنگ کے ذریعے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بھی چھوٹی موٹی لشکری تحریکیں آزادی کے لیے چلتی رہیں، مگر آزادی ملی تو سیاسی جماعت کے کردار کی وجہ سے۔
1965ء کی جنگ میں ناقابل یقین دفاع کے چھ سال بعد ہی وہی فوج 1971ء میں اسی پرانے دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور کوئی بھی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکی تو اس کی وجہ سیاست ہی تھی۔ اس واقعہ نے ایک بات تو ثابت کر دی کہ کسی بھی ملک کے بقاء کی ضامن وہاں کی سیاست ہوتی ہے فوج نہیں۔ 
موجودہ کشمکش میں ہمیں ایک بات تو سمجھ لینی چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ ورنہ بقول  مولانا ظفر علی خاں
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}