پاک فوج کی طاقت اور سیاسی جماعتوں کی گراوٹ۔۔۔انجینئر راؤ عبدالحمید

انیس صد سنتالیس میں برصغیر پاک و ہند کو کم وبیش سو سال کی مسلسل جدوجہد کی بدولت آزادی نصیب ہوئی، اس آزادی کے ساتھ ہندوستان کے ایک خطے کو  پاکستان کا نام دے کر قانوناً ایک الگ نئی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا. جو خصوصاً مسلمانوں کے لیے مختص ہوا. چونکہ اس پورے خطے پر انگریزوں کی حکومت تھی، آزادی کے بعد بھی ان کے بنائے گئے نظام کو کچھ تبدیلیوں کے بعد پاکستان میں نافذالعمل کیا گیا، (پاکستان کا پہلا آئین 1956 میں منظور ہوا) 
فوج کا ادارہ جنرل گریسی کی قیادت میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوا. فوج کا سارا نظام( شائد کسی تبدیلی کے ساتھ) انگریزوں کے بنائے گئے طریقے پر ہی پروان چڑھتا رہا. انگریزوں سے ہم جتنی بھی نفرت کریں لیکن ہمیں ان کی تکنیکی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہنا پڑتا ہے. اس دور میں بھی انہوں نے بہت اچھے طریقے سے ان صلاحیتوں کا اظہار کیا.
 فوج چونکہ کسی بھی ریاست کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہوتا ہے اسی لیے انگریزوں نے اس ادارے کو انتہائی نظم و ضبط کا حامل بنایا تھا. اور وہی اصول پاکستانی فوج کو بھی ورثہ میں ملے. پاک فوج نے بھی انگریزوں کے جانے کے بعد اس تسلسل کو نا صرف برقرار رکھا بلکہ اس میں بہتری بھی لاتے رہے. فوج نے اپنے اصولوں پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا. جس آفیسر یا سپاہی سے غلطی ہوئی اس کو اپنے نظام کے تحت سزا دی. فوج میں داخلے کے لیے بھی میرٹ اور ان کی تربیت پر سمجھوتہ ہونے نہ دیا. جس کی بدولت فوج نے اپنے آپ کو ہر سطح پر منوایا. اور یقیناً یہ پاکستان کا واحد ادارہ جو نظم و ضبط (ڈسپلن) میں سب سے آگے ہے.
پاکستان کو آزادی کے ساتھ ہی سیاسی استحکام نصیب نہ ہوسکا، قائد اعظم محمد علی جناح رح نے اپنے سیاسی کھوٹے سکوں کو تو پہچان لیا لیکن ان کا متبادل تیار کرنے کا موقع قدرت نے انہیں نہیں دیا. ان کی وفات کے ساتھ ہی قومی سطح پر ایک سیاسی خلاء پیدا ہوا. قومی سطح کے سیاسی رہنماؤں کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی. ابھی قوم اس غم سے ہی نہ نکل پائی تھی کہ قائد ملت لیاقت علی خان صاحب کا پراسرار قتل ہوا اور سیاسی بحران مزید شدید ہو گیا.
سیاسی راہنماؤں نے سیاسی لیڈر(اولاد) تو پیدا کیے لیکن ان کی اور کارکنوں کی تربیت کا انتظام نہ کر پائے اور میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی تگ ودو میں برابر شریک رہے. سیاسی بحران جو وقتی ہوسکتا تھا اس کو دوام بخشتے رہے. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی کم صلاحیتوں کی بدولت ملک چلانے کا انتظام ایک دہائی سے بھی پہلے فوج کے پاس چلا گیا.
فوج نے حکومت بھی چلائی اور اپنے فوجی معاملات کو بھی بخوبی چلایا. لیکن سیاست دان ذاتی مفادات کے لیے کوشش کرتے رہے اور ملک کا ٹوٹنا بھی اقتدار میں  سیاسی شراکت داری نہ برداشت کرنے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا.
فوج کی سب سے بڑی خوبی میرٹ ککا تسلسل رہا، کوئی کسی کا رشتہ دار نہیں، جس کو جو ڈیوٹی ملی اس نے سر انجام دی مقابلے میں سیاسی لیڈر شپ اپنی رشتہ داریوں سے باہر نہ نکل پائے. نتیجتاً فوج کا اثر اور طاقت زیادہ ہوتی گئی اور سیاسی طاقت کمزور ثابت ہوئی. سیاسی بحران کی وجہ سے فوج داخلی اور خارجی معاملات میں بھی اپنا اثر پیدا کیا.
اگر بغور مطالعہ کیا جائے فوج کا موجودہ اثر سیاسی راہنماؤں کی نااہلی کا ثبوت نہیں؟ آج آپ فوج کے معیشت کی گراوٹ پر تبصرہ کو ناقابل فہم قرار دے رہے ہیں، جبکہ اقتدار اور فیصلہ سازی کا اختیار آپ کے پاس رہا،  اس اقتدار کے آخری دور میں بھی ذاتی مفادات پہلی ترجیح رہے اور ملک  کے معاشی بحران کو قابو کرنے کی بجائے غیرپیداواری پراجیکٹس پر کام ترجیحات میں شامل ہے 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}