اردو کا مقدمہ ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

ہمارے ہاں اردو کے نفاذ کا معاملہ برصغیر کی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہوگیا اور آغاز بھی تلخ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج اسی مہم کے سبب پنپنا شروع ہوئے۔ اردو کو برصغیر میں مسلمانوں کی شناخت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت کمزور دلیل ہے۔ اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہے تو پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، بنگالی اور شمالی علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں کس کی ہیں؟پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کسی زبان کا محتاج ہی نہیں۔ اسلام زبان اور سرزمینوں سے بڑا مذہب ہے۔ یہ ایک کائناتی دین ہے۔ ایک انڈونیشین زبان بولنے والا بھی مسلمان ہوسکتا ہے اور ناروویجن زبان بولنے والا بھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا برصغیر میں اسلام اردو زبان میں آیا؟ جب اسلام کی روشنی نے برصغیر کو منور کیا، اس وقت اردو نے جنم ہی نہیں لیا تھا۔ چلیں اسے ہمیں ہندو مسلم تصادم کے دوران ایک شناخت مان لیں تو بھی بات ہے، لیکن اگر اس عرصے میں جب یہ ہندو مسلم تصادم کے مابین شناخت کا سبب بنی، اس دوران اس کی ترقی وترویج کی جڑیں تلاش کریں تو اس کے تانے بانے فورٹ ولیم کالج سے جاملتے ہیں۔ استعماریت نے اس کو مسلمانوں کی زبان بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستان مختلف اکائیوں کے اتحاد سے معرضِ وجود میں آیا۔ بنگال، پنجاب، بلوچستان، سندھ اور شمالی علاقہ جات، اردو ان میں کسی ایک خطے کی زبان نہیں۔ پاکستانی فیڈریشن کی مضبوطی کے لیے کچھ لوگوں نے اسے پاکستان کی فیڈریشن کی زبان بنانے کو پاکستان کی مضبوطی اور اتحاد کی کوشش قرار دیا جوکہ وقت آنے پر غلط دلیل ثابت ہوئی، جب بنگالی بولنے والے اپنے سے کم آبادی والے خطوں سے علیحدہ ہوگئے۔ ہم نے اردو اور ایسے ہی دیگر معاملات کو تدبر کی بجائے جذباتیت اور اپنے انداز کی انتہاپسندی سے حل کرنے کی کوشش کی، اسی لیے ایسے فیصلے اور اقدامات Backlash ہوئے ہیں۔ آج بھی اردو کے نفاذ کے لیے چند گروہ بڑے متحرک ہیں۔ وہ اسے پاکستان کے ساتھ مسلمانیت سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ نادان ہیں نہیں، نہایت نالائق لوگ ہیں جو اسے اسلامی ایشو بنا رہے ہیں۔ کیا ترک جو اردو نہیں بولتے، وہ مسلمان نہیں؟ اور اسی طرح دنیا بھر کے اربوں مسلمان۔ اردو یقینا پاکستان کی Lingua Franca ، وفاقی اکائیوں میں رابطے کی زبان ہوسکتی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس کا نفاذ عدالتوں کے فیصلوں سے ممکن نہیں اور نہ ہی جلسے جلوسوں اور پراپیگنڈے اور کفر کے فتوے لگانے سے۔ اسی طرح اردو ادبی حلقے اس کے فروغ کے لیے جو سرگرمیاں کرتے ہیں، وہ بھی نہایت غیرمنطقی انداز ہے۔ اردو ادب سے متعلق اکثریت اردو کے فروغ کے لیے کانفرنسیں اور مشاعرے منعقد کرتی ہے۔ اور وہاں اردو کی ترقی کے لیے دعوے کیے جاتے ہیں اور اس زبان کو خوب صورت ترین زبان قرار دے کر رونا رویا جاتا ہے کہ اس کا نفاذ کیا جائے۔ زبانوں کی ترقی علوم کو اپنے اندر سمونے سے ہوتی ہے، سائنسی اور سماجی علوم، کسی زبان کی ترقی اس کے خوب صورت لب ولہجے سے ممکن نہیں۔ اور اسی طرح زبان لوگوں کی ضرورت اس وقت بنتی ہے جب اس کے اندر دنیا بھر کے علوم ہوں۔ صرف اپنی زبان میں شاعری، افسانہ، ناول، ڈرامہ لکھنے اور خوب صورت لہجے میں بولنے سے ترقی ممکن نہیں۔

اگر اردو زبان کو پاکستان میں ترقی کا ایک ہتھیار بنانا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس کے اندر ہم نے سائنسی اور سماجی علوم سموئے؟ہمارے ہاں ہر اردو کانفرنس، عالمی اردو کانفرنس ہوتی ہے، مگر عملاً اس کے اندر ”عالم“ نہیں ہوتا۔ کانفرنس لاہور میں ہو، کراچی، اسلام آباد یا بیرونِ ملک، چند ادباءکو اکٹھا کرکے ہم سمجھتے ہیں کہ کانفرنس ”عالمی“ ہوگئی۔مجھے دنیا میں کہیں عالمی عربی، عالمی انگلش، عالمی فرانسیسی کانفرنس دیکھنے سننے کو نہیں ملی۔ ہاں ان زبانوں میں متعدد موضوعات پر عالمی کانفرنس سننے، دیکھنے اور شرکت کرنے کے مواقع ملے ہیں۔ ہماری ان اردو کانفرنسوں میں ایک مغالطہ اور بہت بڑا ہے کہ اردو دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اگر پھیل رہی ہے تو کیا دنیا کو یہ زبان علم ومعلومات سے بہرہ ور کررہی ہے؟ چند ممالک کے ساتھ ہمارے معاہدات ہیں۔ جاپان، اٹلی، ترکی، ایران، مصر وغیرہ وہاں اردو شعبہ جات ہیں۔ ان ممالک میں دو سے تین زبانیں جاننا لازمی ہے۔ زیادہ تر لوگ انگریزی، جرمن، فرانسیسی، روسی، چینی، جاپانی بولنے، لکھنے اور سمجھنے کے لیے متعلقہ زبانوں کے بڑے بڑے شعبہ جات میںداخلہ لیتے ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق چند ایک ممالک جن کے ساتھ پاکستان کے ساتھ معاہدات کے تحت بڑی چھوٹی سطح کے اردو شعبہ جات معرضِ وجود میں آئے، وہاں ان شعبہ جات نے کوئی اردو سکالرز پیدا نہیں کیے۔ ترکی کے حوالے سے اگر آپ کسی ایک اردو شعبے کے اُن طالب علموں سے ملیں جو اردو میں ماسٹرز کے طالب علم ہیں، وہ اردو لکھنے اور بولنے سے قاصر ہیں۔ ایک دو نکلے، وہ بھی کیرئیر کے لیے کہ ان مقامی طالب علموں کو وہیں پر اعلیٰ ملازمت مل جائے گی۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اردو سے تراجم شائع نہیں ہوئے، اس لیے کہ ہم نے اپنی قومی زبان کو علم ومعلومات سے مالامال نہیں کیا۔ اگر تلخ بات کہوں تو ادباءناراض ہوجائیں گے۔ ہمارے وہ ادیب جو بیرونِ ملک ایسی نام نہاد اردو کانفرنسز میں جاتے ہیں، واپس آکر بڑے دعوے کرتے ہیں کہ اردو پھیل رہی ہے۔ بالکل جھوٹ۔ یہ اپنی قوم کو دغا اور فریب دیتے ہیں، صرف اپنے مفت کے عالمی سفروں کے لیے۔ کمیونزم کے زمانے میں سابق سوویت یونین کے اورینٹل سٹڈیز اور عوامی جمہوریہ چین کے فارن لینگویج پریس نے عالمی سطح پر جو اردو کی خدمت کی ہے، اس کی مثال نہ کہیں پہلے موجود ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔ یہ ایک بڑا بونگا دعویٰ ہے کہ دنیا میں اردو پھیل رہی ہے۔ اپنے وطن کو ترک کرنے والوں کے مہمان بننے والے کالم نگار، ادیب اور شعرا یہاں اپنے ہم وطنوں کو اس دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔ کیا اردو میں ریاضی، کیمسٹری، فزکس، خلابازی، میڈیکل سائنس اور اسی طرح سماجی علوم کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں کہ اس کے سبب دنیا اردو کی طرف مائل ہورہی ہے؟ ہم اپنے آپ کو دھوکا دینے اور دھوکے کے فن میں بھی خوب ثابت ہوئے ہیں۔ میں نے شاید ہی سنا ہو ، عالمی فرانسیسی مشاعرہ، عالمی انگلش مشاعرہ وغیرہ وغیرہ۔ مگر عالمی اردو مشاعروں کی کمی نہیں۔ ویسے بھی زبانیں شاعری سے ترقی نہیں کرتیں۔ شاعری بھی فکر کے بطن سے ہی جنم لیتی ہے۔ عربی، دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد عربی نے دنیا کے علوم کو اپنے اندر سمویا تو عربی اپنے وقت کی جدید دنیا یا ترقی یافتہ دنیا کی زبان بن گئی۔ عرب مسلمانوں نے عربی کے اندر دنیا بھر سے علوم کے سرچشموں کو اپنے اندر سمودیا، پھر ایک وقت آیا، عربی دنیا میں علم دانوں کی زبان بن گئی۔ عربی کا خودبخود فروغ ہوا۔ عرب زبان اُن علاقوں کی زبان بھی بن گئی، جہاں کبھی عربی پائی ہی نہیں جاتی تھی۔ ایسے علاقوں میں اس عمل کو تاریخ میں Arabnization کہتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں زبان کا فروغ۔ 

ترکوں کے انقلاب میں بھی زبان کا کردار بنیادی ہے۔ ہمارے ہاں اس حوالے سے بھی مکمل غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ عثمانیوں کے زوال کا زمانہ آخری دوسو سال تھے۔ تب یورپ سائنس اور علم میں ترقی کررہاتھا اور عثمانیوں کی سلطنت کی سرحدیں تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ دربار کی زبان عثمان لی (Osmanli) تھی جس پر فارسی کا غلبہ تھا اور اس کے بعد عربی۔ عثمان لی، اشرافیہ اور دربار کی زبان تھی۔ ترک سے مراد جاہل اور گنوار دیہاتی ہوتا تھا اور اُن کی اکثریت تھی۔ یقینا اشرافیہ کم ہوتی ہے۔ زوال کے آخری سو سال ترک دانشوروں نے ترک اور اس کی زبان کی جدوجہد کی جس کو حتمی طور پر انقلاب کے بعد اتاترک نے اصلاحات کرکے ترک زبان کو رومن رسم الخط میں نافذ کردیا۔ جس وقت ترکی میں اس کی قومی زبان ترکی کو نافذ کیاگیا، اس وقت دنیا میں علم کی طاقت سے مالامال، فرانسیسی، انگریزی، جرمن، روسی زبانیں عروج پر تھیں۔ فارسی اور عربی اپنے وقت کے علوم کے حوالے سے بنجر ہوچکی تھیں۔ اسی زبان کی ریفارمز نے آج ترکی کو سائنسی حوالے سے بھی ترقی یافتہ کردیا۔ ہمارے ہاں بغیر مطالعے کے اس پر تنقید کی جاتی ہے اور اس کو بھی اتاترک کا کفر قرار دیا جاتا ہے۔ آج کا ترکی اسی قومی زبان کی انقلابی اصلاحات کے سبب اپنی ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے۔
پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اس پر کوئی اختلافِ رائے نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی قومی زبان کو جدید علوم سے منور کیا۔ حتیٰ کہ ہم عالمی ادب تو کیا صدیوں پرانی زبانوں کے علوم وادب کو اردو میں ڈھالنے کا خیال تک نہیں کرتے۔ سندھی ادب آج پاکستان کا سب سے بڑا ادب ہے۔ کیا ہم اسے اردو میں ڈھال رہے ہیں۔ براہوی، بلوچی، پنجابی، پشتو ادب بھی اسی طرح، قومی زبان ان سے محروم ہے۔ ادب کے علاوہ، جدید علوم کو تو ہم نے چھونے ہی نہیں دیا اردو کو۔ بس باتیں، دعوے، تقریریں اور اب فتوے دھڑادھڑ آرہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان ، دفتر، تجارت، علم، مطالعے اور تحقیق کی زبان بن جائے تو پہلے اسے علوم سے منور کرنا ہوگا۔ لہجوں سے زبانیں خوب صورت صوتی اثرات کی عکاس ہوسکتی ہیں، مگر ترقی نہیں کرسکتیں۔ راقم کا لکھنا مکمل طور پر اردو میں ہے۔ میرا شعبہ، عالمی امور، عالمی سیاست، تاریخ، لیکن میرا مطالعہ تقریباً مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے۔ کیا میں مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کو جاننے کے لیے یا امریکہ کے عالمی کردار کو جاننے کے لیے اردو پر انحصار کرسکتا ہوں؟ ہرگز نہیں۔ لیکن یہ میرا ایمان ہے کہ لکھنا اردو میں ہی ہے کہ یہ عام لوگوں کی زبان ہے۔ ہمارے ہاں انگریزی اشرافیہ کی زبان ہے اور مجھے عام آدمی سے مخاطب ہونا ہے۔ اپنے اسی جذبے کے تحت راقم نے پچھلی ڈیڑھ دہائی میں عالمی ادب، تاریخ اور عالمی سیاست کو معیاری تراجم کا اہتمام کرکے سینکڑوں کتابیں شائع کی ہیں کہ ہماری قومی زبان Enrich ہو۔ زبان وبیان، لہجوں سے کھیلنا، مداری کے کھیل سے زیادہ نہیں۔ زبان کے اندر علم ومعلومات سمونا اصل کام ہے۔ ہمارے ہاں جو اردو کا مقدمہ لڑتے نظر آرہے ہیں، اُن کی اکثریت درحقیقت اردو کو طاقتور نہیں کررہے۔ متعدد کا جذبہ سچا ہوسکتا ہے لیکن راستوں کا علم ہی نہیں، منزل کیسے پائیں گے اردو کے یہ وکیل۔ قومی زبان کی ترقی، قومی ترقی سے مربوط ہوتی ہے۔ زبان ترقی کرے گی تو قوم ترقی کرے گی۔ کیا مشاعروں کے انعقاد سے اردو کی ترقی ممکن ہے یا افسانے پڑھنے سے ہرگزنہیں۔ اردو تب ہی ترقی کرے گی جب زبان Enrich ہوگی، حتیٰ کہ عالمی ادب جب تک اس کے اندر نہیں سموتا۔ ہم جب چین، جاپان، جرمنی، روس، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی زبان میں بات کرتے، لکھتے اور پڑھتے ہیں، وہ اپنی یونیورسٹیوں میں اپنی زبان کو ہی میڈیم کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح تحقیق بھی اپنی زبان میں ہی کرتے ہیں ۔ ان قوموں نے اپنی زبان کو ترقی یافتہ کیے رکھنے کا عمل جاری کیا، تبھی یہ ممکن ہوا۔ عدالتوں میں اردو فیصلے اور حکمرانوں کی تقاریر اردو میں کرنے سے اردو کے فروغ کا سوچنا، ایک طفلانہ کھیل ہے۔ زبانیں اپنے اندر سموئے علم سے کمزور یا طاقتور ہوتی ہیں۔ زبانیں مسلط کرنے سے بھی نافذ نہیں ہوتیں۔ زبان کی طاقت ہی علم ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}