پاکستان میں انتخابی اصلاحات اور مذہبی جماعتوں کی طاقت ۔۔۔ راؤ عبدالحمید

انتخابی اصلاحات ایکٹ کی کاغذات نامزدگی  فارم میں  ختم نبوت کےحلف نامے کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کر دیا گیاہے
گزشتہ دنوں میں پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات کا بل زیرِ بحث رہا اور قانونی پیچیدگیوں سے ہوتا ہوا منظور بھی کر لیا گیا، اس کے بعد اس میں ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کا انکشاف ہوا اور مذہبی جماعتوں نے خاص طور پر اس پر احتجاج کیا، اس پر اثر احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے اس تبدیلی کو قبول کیا اور آخر کار مجبور ہو کر اس کو پرانی شکل میں بحال کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا.
اس معاملے سے جن چیزوں کو سمجھنے کا موقع ملا ان کی نشاندہی ضروری ہے.
1. پاکستان میں مذہب سے لگاؤ انتہا درجے پر ہے. مذہبی معاملات میں جذباتی ہونا فطری امر ہے. ماہرین کی رائے ہے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی بجائے اضافے کی گنجائش ہے جس سے اس کے غلط استعمال کی راہ مسدود ہو گی اور معاشرے میں نبی کریم ص کی بعثت کے مقاصد کا اظہار اور زیادہ واضح ہو جائے گا.
2. پاکستان میں اقتدار سے وابستہ مذہبی سیاسی نمائندوں کو مذہب سے کوئی خاص سروکار نہیں، مثلاً جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب سینیٹر بھی ہیں اور یہ بل سینیٹ کی بحث سے گزر کر پارلیمنٹ میں آیا، سراج الحق صاحب نے اس بل کی اس مذہبی شق پر کوئی رائے نہیں دی، اسی طرح پارلیمنٹ میں موجود بڑی سیاسی اور مذہبی شخصیت مولانا فضل الرحمن صاحب، وہ بھی اس باریک نکتہ کو نظر انداز کر گئے.
3. اس ملک گیر مذہبی جماعتوں کے احتجاج نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا بھی بخوبی اظہار کیا. یہ جماعتیں اپنے خلوص اور دینی جذبہ سے سرشار ہو کر کسی بھی غیر اسلامی حرکت سے حکومت کو روک سکنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں. یہ اصل اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں. اپنی طاقت کے اظہار کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں. (اللہ تعالٰی انہیں مزید استقامت عطا فرمائے.)
4. موجودہ حکومت مغرب کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے.
5. مذہبی جماعتوں کی اس طاقت نے یہ بھی ثابت کیا کہ  وہ کسی بھی اسلامی قانون کو جب چاہیں نافذ کروانے کی صلاحیت رکھتی ہیں. ہم ان جماعتوں سے یہ قوی امید رکھ سکتے  ہیں کہ یہ باقی مذہبی امور کے نفاذ کے لیے بھی اسی طرح سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوں گے جیسے ختم نبوت کی حرمت کے لیے تیار رہیں اور نتیجہ پیدا کیا ماشاءاللہ (اللہ تعالٰی اجر عظیم عطا فرمائے آمین). سود اسلام کے ہر فرقہ میں بلا شک و شبہ حرام ہے. احادیث میں بھی سود کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں. پاکستان کا موجودہ معاشی نظام سود پر قائم ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی اور معاشرہ مستقل معاشی بحران کا شکار ہے. اسلام میں سود کی ہر شکل حرام ہے، سودی نظام کا معاون اور حصہ دار بھی اس حرام کام کا ذمہ دار ہے اور اس کا گناہ اس کے سر پر بھی ہے. ہمیں امید ہے کہ مذہبی جماعتیں سود کو پاکستان کی معیشت سے بھی باہر نکالنے کے لیے اسی درجہ کی محنت کریں گی جس درجہ کی طاقت کا اظہار ختم نبوت جیسے عظیم کام کرنے کے لئے کیا. اور تمام پاکستانیوں کو سود سے پاک رزق کی فراہمی کو یقینی بنا کر جنت میں اعلی مقام حاصل کرنے کا سبب ہوں گی (انشاءاللہ)

You may also like this

07 October 2017

پاکستان قیامت تک کیسے قائم رہے گا ؟ ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 16px;"><strong><span style="font-family: 'M

admin
15 September 2017

پاکستان کے سیاسی رہنما اور کارکن ۔۔۔ انجینئر راؤ عبدالحمید

<div class="qQVYZb" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px; font-family: 'Mehr Nastaliq Web&

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}