پاکستان کی سیاسی تاریخ (تعارف) ۔۔۔ احمد سلیم

یہ کتاب ایک پرانا قرض ہے جو گزشتہ ربع صدی سے بھی زائد عرصہ سے، مجھ پر واجب تھا لیکن جس کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر ہو رہی تھی۔ پاکستان کے پہلے تیس برسوں(1947-1977) کے چار ادوار کی سیاسی تاریخ 1990 ء میں لکھی جا چکی تھی اور پانچویں جلد پر کام شروع ہو چکا تھا۔لیکن بدقسمتی سے اس کی اشاعت معطل ہو گئی ۔ صفِ اول کے جس اشاعتی ادارے سے اسے چھپناتھا ، اس ادارے کا اشاعتی پروگرام بوجوہ متاثرہونا شروع ہوا اور آہستہ آہستہ یہ مسودوں کے ڈھیر میں دفن ہو کر رہ گئی۔ اسی ادارے سے وابستہ ایک دوست نے کہیں اور سے اس کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی تاکہ مسودہ ضائع نہ ہو جائے اور اس پر مزید کام جاری رکھا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب کی کمپوزنگ اور پیسٹنگ کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ اور اب اسے پریس میں جانا تھا لیکن یہ آخری مرحلہ شروع نہ ہو سکا۔ اس مہربان دوست کی کاوشوں سے یہ مسودہ دارالشعو ر کے جناب محمد عباس شادتک پہنچا۔ ان سے پرانی یاد اللہ تھی۔ انہو ں نے اس کی فوری اشاعت میں دلچسپی ظاہر کی۔ اندھے کو کیا چاہئے، دو آنکھیں ۔ میں فوراً جناب محمد عباس شادسے ملا اور اس کی اشاعت کے امکانات کا جائزہ لیا ۔ طے پایا کہ اس کی فوری اشاعت اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسے کمپوزنگ کے نئے مرحلے سے گزارے بغیر اسے اسی حالت میں چھاپ دیا جائے تاکہ یہ محفوظ ہو جائے اور اس کے دوسرے ایڈیشن پر نہ صرف اسے نئی تزئین و آرائش سے مرصع کیا جائے گابلکہ اگلی جلدوں پر بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔ چنانچہ آ ج سے تیس برس پہلے اسے جس انداز میں لکھا تھا، اسے جو ں کا توں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔  

     اس پر یقینا نظر ثانی کی ضرورت تھی۔ ہر تصنیف یا تالیف میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے لیکن جب   محمد عباس شادنے نقش اول پر اعتماد کا اظہار کیاتو میں بھی اسے دن کی روشنی میں لانے پر آمادہ ہو گیا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے کلّی یا جزوی طور پر متعدد کتابیں موجود ہیں، پھر اس موضوع پر ایک نئی کتاب کی کیا ضرورت تھی، پہلی بات تو یہ ہے کہ زیر ِ نظر کتاب اپنی طرز کی پہلی کوشش تھی۔ یہ روایتی انداز کی کوئی باضابطہ سیاسی تاریخ نہیں ہے اس میں تاریخی اعتبا ر سے ترتیب وار انداز میںسیاسی واقعات کو قلم بند کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کو اہم سمجھا گیا کہ منتخب سیاسی واقعات کو مختصر مقالات کی صورت میں تجزئے کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عوام براہ ِراست پاکستان کی سیاسی تاریخ پر سوالات اٹھا سکیں۔

معروضی انداز کو برقرار رکھنے کے لئے دستاویزات کا متن بھی شامل کیا گیا ہے لیکن اس تالیف کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ایک ایسی سیاسی تاریخ کا خاکہ پیش کیا جائے جو ریاستی مائنڈ سیٹ کی بجائے عوامی مائنڈسیٹ کو سامنے لائے۔بد قسمتی سے بعض مفروضات کو حقائق کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ریاست کے نقطہءنظر کو تقدس کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ بعض ریاستی اداروں اور شخصیات کو مقدس گائے کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ جن پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔ جمہوری سیاسی جدو جہد کو روکنے کے لئے غداری کے تمغے تقسیم کیے گئے۔ مالی بدعنوانیوں کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو جبراً نا اہل قرار دیا گیا جبکہ مالی بدعنوانیوں کو روکنے کے لئے کوئی حقیقی اقدامات نہ کئے گئے۔ آمریت کے ادوار، جو پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے ، انہیں روشن ادوار قرار دیا گیا۔ ایسے ہی ایک روشن دور میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔

کوشش کی گئی کہ پاکستان کے مقدر سے کھیلنے والے کرداروں کی نشاندہی ہو سکے۔اس کام کا آغاز اواخر 1988ءسے کیا گیا۔ تصور یہ تھا کہ پاکستانی سیاست کا ایک سائیکلو پیڈیاتیار کیا جائے تاکہ ہر اہم واقعہ ایک خاص ترتیب میں بیا ن کیا ہوامل سکے۔ لیکن حروف ِ تہجی کی بجائے میں نے سن وار ترتیب کو ترجیح دی ۔ پہلی جلد 2جون 1947ءسے شروع ہو کر 27اکتوبر 1858تک کے واقعات پر مبنی ہے ۔ دوسری جلد کا دورانیہ 28اکتو بر 1958ءسے 25 مارچ 1969 ءتک ہے۔ تیسری جلد 26مارچ 1969 ءسے 16 دسمبر 1971 ءتک اور چوتھی جلد 20دسمبر 1971 ءسے 5جولائی 1977ءتک پھیلی ہوئی ہے ۔کتاب کو مذکورہ ادوار میںان کی سیاسی نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلا دور پاکستان کے منصوبہ کے نو آبادیاتی اعلان سے شروع ہو کر اولین گیارہ برسوں پر محیط ہے ، جس میں سول حکومتوں اور پارلیمانی اسمبلیوں کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہی ۔ شروع سے ہی سول اور ملٹری افسر شاہی نے پاکستان کے پہلے سول دور پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔برصغیر پاک و ہند میں طاقتور سربراہوں کی روایت بڑی پرانی ہے۔ اس روایت نے مسلم تاجداروں کی صورت میں جنم لیا ۔ پھر برطانوی راج نے یہاں کی سیاسی روایات پر گہرے اثرات مرتب کئے اور یہ ورثہ جمہوری روایات سے ہم آہنگ نہ ہو سکا۔

برطانوی عہد میں افسر شاہی کے کچھ ارکان نے پاکستان میں بعض انتہائی اہم مناصب پر قبضہ کر لیا۔ گورنر جنرل غلام محمد ، صدرا سکندر مرزا، چوتھے وزیر اعظم چوہدری محمد علی ، یہ سب سول سروس کے اعلیٰ عہدوں سے آئے تھے۔ اس بات کی مشکل سے ہی امید کی جا سکتی تھی کہ یہ طاقتور گروہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کرے گا۔ لیاقت علی کے انتقال اور خواجہ ناظم الدین کی اچانک بر طرفی کے بعداس گروپ نے سرکاری مشینری پر مکمل کنٹرول اور غلبہ حاصل کر لیا۔ تیرہ ماہ کے مختصر وقفے کے لئے سہروردی وزیر اعظم بنے لیکن انہیں بھی انتہائی طاقتور صدر اسکندر مرزا اور اس کی پارٹی پر انحصا ر کرنا پڑاتھا۔ جی ڈبلیو چودھری کے بقول یہ گروپ ”پاکستان میں تویقین رکھتا تھا لیکن اسے عوام پر اعتماد نہیں تھا کہ وہ اپنی حکومت آپ چلا سکتے ہیں۔“ابتداءسے ہی امریکہ ضروری سمجھتا تھا کہ پاکستان اس کے زیر اثر رہے کیونکہ پاکستان کی سر زمین سے پرواز کر کے امریکن ہوائی جہازروس کی اسلحہ ساز فیکٹریوں پر بمباری کر سکتے ہیں اور خلیج کے ممالک کے تیل کے ذخائر پر بھی۔

1958ء میں ہی امریکی پالیسی ساز اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ پاکستان میں سیاسی حکومت کسی وقت بھی بے راہروی پر اتر سکتی ہے لہٰذا یہاں فوجی حکومت ہی موزوں ہے کیونکہ فوجی ہمارے خیر خواہ اور ہم خیال ہیں اور فوجی حکومت کے عہد میں ہی پالیسیاں فروغ پا سکتی ہیں۔1958ءکا مارشل لاءاپنے ساتھ ہولناک تصور ات لایا ۔ پاکستان میں اس سے پہلے جو بھی اسمبلیاں ٹوٹیں وہ نئی انتخابی سرگرمیوں کے امکانات اپنے ساتھ لاتی رہی تھیں۔ اب دس سال لمبی رات چھا گئی تھی اور اس رات کا سواگت مزید اندھیرا پھیلانے کے عمل سے کیا گیا ۔

مشرقی پاکستان کی آزاد اور جمہوری روح کو کچل کر 7 اکتوبر 1958ءکی شام آٹھ بجے جب مارشل لاءکا اعلان ہوا تو میجر جنرل امراو¿ خان خوفِ خدا سے کانپ اٹھے ۔اس کے بعد انہوں نے نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت و رہنمائی کی دعا کی۔ یہ نماز، عام نماز عشاءسے بہت طویل تھی۔ ”مارشل لاءنے مجھے لا انتہا اختیارات دے دیئے تھے چنانچہ ان کو انصاف سے استعمال کرنے کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے خدا سے ہدایت اور رہنمائی کی دعا مانگی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اگرملک کے کسی کونے میں فوجیوں نے کوئی بے انصافی یا جرم کیا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔ نماز کے بعد وہ رات، مارشل لاءکے ضوابط اور احکام مکمل کرنے میں گزر گئی ۔ انہیں کئی مہینے پہلے تیار کر لیا گیا تھا۔۔۔۔ 

اور 8 اکتوبر 1958ءکو علی الصبح انہیں نافذ کر دیا گیا۔یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ چیف مارشل لاءایڈ منسٹریٹر نے اپنے احکام دو دن بعد جاری کئے ۔۔ 8، 9 اکتوبر کی صبح کو میں خود حلیہ بدل کر شہر میں گھومتا رہا تاکہ عوام کا ردِ عمل معلوم کر سکوں (میجر جنرل امراؤ خان ، ایک جرنیل کی سرگزشت، ص ، 107) وحشیانہ جبر اور انسانی حقوق کی بے پناہ پامالی کو ”خوف خدا“ کہنا اور اس سے کانپ اٹھنا میجر جنرل امراؤخان کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے۔ اس مارشل لاءکے پیچھے ایوب خان اور امریکی ذہن تھا لیکن مارشل لاءکا اعلان صدر مملکت میجر جنرل اسکندر مرزا سے کروایا گیا۔ پہلے دور میں اسکندر مرزا کے آخری بیس دنوں کی کہانی بھی شامل ہے جس نے 28سالہ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو کو بھی وزارت سے روشناس کرایا لیکن جب 27اکتوبر کو ایوب خان نے اسکندر مرزا سے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے کر اقتدار پر براہِ راست قبضہ کر لیا تو نوجوان بھٹو نکالے جانے کے خوف سے فوراً ایوب خان کے پاس پہنچا اور وفاداری کا یقین دلا کر اپنی وزارت بچائی یہی بھٹو بعد میں ایوب خان کو ”ڈیڈی“ اور آخر میں آمر کہہ کر پکارتے رہے۔ 

دوسرا دور ( دوسری جلد ) 28 اکتوبر 1958ءسے شروع ہو کر 25 مارچ 1969 ءتک کے واقعات کا احاطہ کرتاہے۔ حب الوطنی پر حکومتی پارٹی کی اجار ہ داری کا دعویٰ کرتے ہوئے اختلاف کو غداری قرار دینے کی جو روایت 1950 ءمیں شروع ہوئی تھی، اس دور میں و ہ کہیں زیادہ شدت کے ساتھ دہرائی جا رہی تھی۔1960ءمیں جسٹس شہاب الدین کی سربراہی میں ایوب خان نے ایک آئینی کمیشن بنایا تھا جس کے ذمے یہ کام تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہات تلاش (!) کرے ۔ جی ڈبلیو چودھری اس میں بطور اعزازی مشیر شامل تھے۔ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق یہ وجوہات مندرجہ ذیل تھیں:1۔ انتخابات منعقد نہ ہونا۔2۔ سربراہانِ مملکت کا وزراءاور سیاسی پارٹیوں کے معاملات میںاور مرکزی حکومت کا صوبائی حکومتوں کے کام میں غیر ضروری مداخلت کرنا3۔ لیڈر شپ کی کمی ، جس کے نتیجے میں منظم سیاسی جماعتوں کا فقدان،سیاسی رہنماؤں میں کردار کی کمی اور انتظامیہ میں ان کا غیر ضروری مداخلت کرنا چودھری کا خیال تھا کہ وہ ان وجوہات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت کو حقیقی خطرات اور چیلنج انتہائی طاقتور اور غیر ذمہ دار مقتدرِ اعلیٰ کی طرف سے پیش آئے جس میںاتنی ہی طاقتور افسر شاہی نے اس کی مدد کی۔ پاکستان میں ایگزیکٹو یا سر براہ شروع سے ہی انتہائی طاقتور اور غالب عنصر کا حامل رہا ہے۔

اپنے وجود میں آنے کے وقت سے پاکستانی ریاست سربراہ ، افسر شاہی اور فوج کے غلبے میں رہی ہے۔“ گیارہ سال بعد ایوب خان کے خلاف پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اپنا اقتدار بچانے کے لئے کمزور ہو چکے آمر نے تمام سیاسی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس بلائی۔ شیخ مجیب کے خلاف اگرتلہ سازش مقدمہ ختم کر کے انہیں رہا کیا تا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کر سکیں۔ گول میز کانفرنس بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کانفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو اور عبدالحمید بھاشانی نے سرے سے شرکت نہیں کی تھی۔ جب اصغر خان کو پتہ چلا کہ بھٹو کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے تو وہ بھٹو کے پاس انہیں رضامند کرنے کے لئے گئے۔ بھٹو کا جواب بڑا دلچسپ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مولانا بھاشانی نے مشورہ دیا ہے کہ کانفرنس میں جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایوب خان سیاسی جماعتوں کو کوئی رعایت دیتے ہیں تو اس کافائدہ ان جماعتوں کو بھی ہو گا جو کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔

کانفرنس میں ایوب خان بالغ رائے دہی کی بنیاد پر نئے انتخابات اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ لیکن یحییٰ خان نے اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ ملٹری انٹیلی جنس تو ان کے قبضے میں تھی ہی۔ سول انٹیلی جنس بھی بڑی حد تک ان کے کنٹرول میں آگئی۔ انہوں نے سول اور ملٹری انٹیلی جنس کے ذریعے گول میز کانفرنس کو سبوتاژکرادیا۔ 25 مارچ 1969 ءکو انہوں نے ایوب خان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو دس سال پہلے ایوب خان نے اسکندر مرزا کے ساتھ کیا تھا۔ اس روز صبح دس بجے ایوان صدر میں ایوب نے اپنا آخری پیغام ریڈیو ٹیلویژن کے لئے ریکارڈ کر وایا۔ ریکارڈنگ کے دوران جنرل یحییٰ غمگین صور ت بنائے ،ٹسوے بہانے کے انداز میں سر جھکائے بیٹھا رہا لیکن جونہی ریکارڈنگ کے ٹیپ ان کے قبضہ میں آگئے ، اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ وہ ہشاش بشاش ، جھومتے جھامتے کمانڈر انچیف ہاؤس واپس آیا۔ اپنے چند لنگوٹئے دوستوں اور منظور نظر خواتین کو طلب کیا۔ شراب کا دور چلا اور دیر تک سب نے ”ہے جمالو“ کی تان پر آپس میں مل جل کر دیر تک بھنگڑا ڈالا۔ (مشتاق مرزا ۔ ایوب خان تخت نشینی سے تختہ الٹنے تک، الطاف گوہر ، ایوب خان نے اقتدار کیسے چھوڑا ، ص ، 53)۔

قوم کو اس واقعہ سے دھچکا پہنچا۔ ایوب خان نے عوام سے شکست کھائی تھی لیکن اقتدار وہ فوجی ٹولے کے سپرد کر گئے۔ اب تو قومی اسمبلی کے سپیکرپر اعتماد کر لیا جاتا اور اگروہ 26 مارچ 69 ءکو ہی مارشل لاءاٹھانے کے بعد اپنی جگہ قومی اسمبلی کے لئے خالی کر دیتے تو ؟ تو بھی آئندہ حکمران کوئی سیاستدان نہیں، کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ ہوتا۔ فوج اقتدار سول اداروں کو منتقل کرنا برداشت نہ کرسکتی۔ایوب خان کے آخری دنوں میں بھارتی اخبار سٹیٹسمین کے نمائندے نہال سنگھ نے ، جو ان دنوں پاکستان میںتھے، اپنے مراسلے میں لکھا کہ اسلام آباد میں یہ سوال عام طور پر پوچھا جارہا ہے کہ ایوب خان کے بعد کون؟ انہوں نے لکھا کہ جواب بڑا آسان ہے ۔ جو بھی اس وقت پاکستان کی برّی فوج کا کمانڈر انچیف ہو گا۔بیچارہ ایوب خان ایک المناک تنہائی کا اسیر ہو کر رہ گیا۔

جاہ و جلال کا دلدادہ ، مصاحبوں کی حمد و ثناءکا عادی ، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ، جسے رات دن بتایا جاتا تھا کہ وہ دس کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے، ان کے دکھوں کے لئے مسیحا ہے، جب گرا تو پھر اٹھ نہ سکا۔ 24 مارچ 1969ءکو اس نے اپنے عہدے اور سیاست سے ریٹائرہونے کا اعلان کر دیا لیکن پُر امن طریقے سے اقتدار عوام کے نمائندوں کو سونپنے کی بجائے یحییٰ خان کے حوالے کیا۔ بریگیڈئر اے آر صدیقی نے اپریل 85ءکے ڈیفنس جرنل میں لکھا: ایک سپاہی ہونے کے باوصف ایوب خان سیاست کے شعور سے عاری تھا لیکن تھا متکبّر ۔ اس نے عوامی جمہوریت کی جگہ ملک میں ایک تجارتی اور نیم صنعتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی اور اس میںناکام ہوا۔سیاست سے مبرّا ایک خالص معاشیاتی نظام بربریت پیدا کرتا ہے جس میںعوام کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جمہوریت پر مبنی سیاسی نظام عوام کو ملک کے انتظام میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔ایسے سیاسی نظام کی معاشیات اطمینان بخش ہوتی ہے، جہاں نمائندہ حکومت اور عوام کی شمولیت نہیں وہاں ہر چیز اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ (ایم اے کے چودھری مارشل لاءکا سیاسی انداز ، جنگ پبلیشرز، ص، 106)

کتاب کی تیسری جلد ، سب سے مختصر عرصہ( 26 مارچ 1969ء تا 6 دسمبر1971ء) لیکن نتائج کے اعتبار سے انتہائی تباہ کن دور پر محیط ہے۔ اس عرصہ میں پاکستان دو لخت ہوا اور یحییٰ خان شرمناک انجام سے دوچار ہوا۔ بھٹو کے لفظوں میں ”نیا پاکستان“ وجود میں آیا۔یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اس پر ایک فرد ، ایک ووٹ کی بنیاد پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرانے کا الزام عائد کیا جائے گا۔ 1962 ءکے آئین کو مرتب کرنے کے بعد وہ ایک نیا آئین مرتب کرنا چاہتا تھا جس میں اس کی مدت صدارت پندرہ سال رکھی جارہی تھی۔ صدر اور چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر نے ایوب خان کے آخری ایام میں اپنا ایک گروپ بنا لیا تھا۔ جس پر وہ انحصار کرسکتا تھا۔

اپنے اقتدار کے چند ماہ کے اندر اندر اس نے ایک لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت ون یونٹ توڑ کر پرانے صوبے۔ سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان بحال کر دیئے گئے۔ بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو ختم کر دیا گیا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہِ راست انتخابات کرانے کا اعلان ہوا۔ مشرقی پاکستان ، پنجاب ، سندھ، بلوچستان اور سرحد میں آبادی کی بنیاد پر اراکین اسمبلی کی تعداد مقرر کی گئی۔ اس آرڈر کے تحت قومی اسمبلی کوقانون سازی کے ساتھ ساتھ آئین ساز اسمبلی کا کردار بھی ادا کرنا تھا اور اس پر لازم تھا کہ اپنے انعقاد سے120 دن کے اندر اندر آئین تیار کرے ورنہ صدر خود آئین بنا کر نافذ کرنے میںآزاد ہو گا۔ بعض دیگر آئینی آرڈرز کے ذریعے عدالتوں کے اختیارات اس حد تک کم کر دیئے گئے کہ اب اعلیٰ عدالتیں ، فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں نہیں سن سکتی تھی۔ بہر حال اسی لیگل فریم ورک آرڈ ر کے تحت پہلے عام انتخابات منعقدہوئے مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی ، نیپ اور جمعیت علماءاسلام اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے واضح برتری حاصل کی اور عوامی لیگ ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔

یحییٰ کے لئے انتخابی نتائج اس قدر مایوس کن تھے کہ تین دن تک اس کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ جسٹس کارنیلس سے جو اسلامی آئین تیار کروایا گیا تھا اور جسے چھپوا بھی لیا گیا تھا اس میں یحییٰ خان کو بغیر کسی انتخاب کے، پندرہ سال کے لئے ملک کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔ جب الیکشن کے نتائج سامنے آئے تواس مدت کو گھٹا کر پانچ سال کر دیا گیا۔ انتخابی نتائج کے بعد اصولاًاسمبلی کا اجلاس بلانا چاہئے تھا جو آئین سازی کرتا ، اکثریتی پارٹی حکومت بناتی اور صوبائی حکومت اور اسمبلیاں اپنے کام کا آغاز کرتیں۔ پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی کامیابی ، خود اس کے لئے غیر متوقع تھی۔ 30، 35سیٹو ں کی امید کرنے والی جماعت کو81سیٹیں مل گئی تھیں۔ چنانچہ پیپلز پارٹی نے مرکزی حکومت میں عوامی لیگ کے ساتھ اقتدار میں شرکت کرنے کا سوال اٹھایا۔

بھٹو نے فوج کو تیسری پارٹی قرار دےتے ہوئے کہا کہ ”اگر صدر مملکت ، عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو آئین مقررہ مدت سے پہلے ہی تیار ہو سکتا ہے۔ “ انہوں نے دونوں پارٹیوں کے آپس میں افہام و تفہیم سے کام لینے پر زور دیا اور کہا کہ ”پیپلز پارٹی کو نظر انداز کر کے آئین بنانے کی کوششیں تباہ کن ہوں گی۔مختصراً یہ کہ بھٹو صاحب ، مرکز میں اقتدار میںاپنا حصہ چاہتے تھے۔ یحییٰ خان نے اس مطالبے کی تائید کی اور جنوری 1971ءمیں مجیب الرحمان پر بھٹو کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے زور دیا۔ یہ مشرقی پاکستان میں انتخابات کے نتائج کو پس پشت ڈالنے اور ملک کے دونوں حصو ں کے درمیان آویزش کا بیج بونے کے مترادف تھا ۔10مارچ کو یحییٰ خان نے سیاسی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا جسے مجیب نے ایک ”ظالمانہ مذاق“ قرار دیتے ہوئے اسے گن پوائنٹ پر دیا ہوا دعوت نامہ کہا۔ 10 مارچ ہی کو بھٹو نے بھی مجیب کے نام ایک تار میںکہا کہ پاکستان کو ہر قیمت پر بچایا جانا چاہئے اور اس کے لئے وہ ڈھاکہ ٓانے کے لئے تیار ہیں لیکن عوامی لیگ کے نقطہءنظر سے اب کافی تاخیر ہو چکی تھی۔ مجیب سے مذاکرات کے لئے یحییٰ خان 15مارچ کو ڈھاکہ پہنچا۔ یحییٰ ، مجیب، بھٹو ملاقات ناکام رہی اور معاملہ فوجی ایکشن تک پہنچ گیا۔ ”

دسمبر 1970ءسے مارچ1971ءکے واقعات خصوصاً قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا کا انداز اس امر کے غماز تھے کہ فوج سیاسی قوت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ 26 مارچ کو یحییٰ خان نے ڈھاکہ سے واپس آکر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوامی لیگ کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ پاکستان بھر میںتمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی اور اخبارات پر مکمل سنسر شپ نافذ کر دیا مجیب الرحمان کی عدم تعاون کی تحریک کی مذمت کرتے ہوئے یحییٰ خان نے اسے ”بغاوت کا اقدام “ قرار دیا اور کہا کہ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت پاکستا ن کے دشمن ہیں اور ملک سے مکمل طور پر علیحدگی کے خواہاں ہیں“ انہوں نے کہا کہ ”مجیب الرحمان کا یہ جرم معاف نہیں کیا جائے گا۔ اب فوج عوام پر ٹوٹ پڑی۔”بغاوت کچلنے“ کے نام پر بستیوں کی بستیاں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔

بلا جواز فوجی اقدام نے کروڑوں کی آبادی کو خون میں نہلا دیا۔ یہ ایک فوج کا ، خود اپنے ہی ملک پر حملہ تھا۔ اپنی ہی آبادی کو ”فتح کرنے“ کا ایک مجرمانہ اقدام تھا اور ”مجیب کی علیحدگی پسندی کے جرم“ کے باوجود لاکھوں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ فوجی آمر سچ مچ دیوانہ ہو گیاتھا۔ نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس نے انتہائی سنگدلی سے کہا تھا: ”ڈھاکہ میںجو کچھ ہوا، وہ فٹ بال کا کوئی میچ نہیں تھا۔ لڑنے والے ایک دوسرے پر پھول نچھاور نہیںکرتے۔“اس عرصہ میں عوام پر کیا گزری۔ اس کے بارے میں ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ صرف ایک واقعہ سے اس کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ ایم اے کے چودھری وسط مئی 1971ءمیں مشرقی پاکستان کے آئی جی پولیس بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ڈھاکہ جانے سے پہلے وہ انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر سید نذیر احمد رضوی سے ملے تاکہ مشرقی پاکستان کے متعلق کوئی خاص ہدایت ہو تو لے لی جائے۔ مشرقی پاکستان کے ہنگاموں میں ان کا داماد قتل ہو گیا تھا۔ انہیں جو ہدایت رضوی صاحب نے دی، بہت مختصراور عجیب تھی۔ رضوی نے چودھری صاحب سے کہا تھا : اپنے ساتھ بہت سے نوجوان پٹھان سپاہی لے جاؤ اوروہاں ان کو کھلا چھوڑ دو تاکہ آئندہ بنگالی نسل نیلی آنکھوں والی پیدا ہو“ ایم اے کے چودھری لکھتے ہیں:’رضوی چونکہ اپنے داماد کی موت پر سوگوار تھے، میں نے ان کی بات کو اس صدمے کا نتیجہ سمجھ کر سنی ان سنی کر دیا۔ لیکن بعدمیں پتہ چلا کہ وہ دل سے کہہ رہے تھے۔

ایم کے چودھری کے بقول”یہ بات میرے ذاتی علم میںہے کہ 14دسمبر 1971ءکی صبح کو ہتھیار ڈال دینے کی ہدایت کے بعد جب گورنر مشرقی پاکستان نے صدر پاکستان کو ٹیلیفون کیا تو ان کی بات نہ ہو سکی۔ سٹاف افسروں نے کہا کہ صدر بہت مصروف ہے گورنر کے اصرار پر انہوں نے پوچھا کہ ٓاپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ آدھا ملک جا رہا ہے۔ کیا میںبطور نمائندہ صدر اور گورنر ان سے بات بھی نہیں کر سکتا؟ سٹاف افسر نے جواب میں ٹیلیفون بند کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ شراب کے نشے میں چُور تھا اور بات کرنے کے قابل نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان میں ’پاکستانی فوج نے ‘ ہندوستانی کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ اس دن پاکستان ٹیلی ویژن سے بتایا جا رہا تھا کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ یحییٰ خان ، جی ایچ کیو میںفوجی افسروں سے مخاطب تھا ۔ صدر شکست کی وجوہات پر روشنی ڈال رہا تھا۔ وہ ایک خود ساختہ آئین کے تحت ، اپنی صدارت میں ، ایک سیاسی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ یحییٰ خان نے پھر قوم سے ایک ظالمانہ مذاق کیا۔ 17دسمبر کو اس نے اپنا وہ آئین جار ی کر دیا جس میں پارلیمانی طرز کی حکومت کے ساتھ افواج پاکستان کو خصوصی تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ 18دسمبر کو نورالامین نے صدر سے ملاقات کے بعد بتایا کہ یحییٰ پر سکون تھا اور نئے آئین کے تحت نئی حکومت تشکیل دینے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ وہ بس بھٹو صاحب کا منتظر تھا۔

 یحییٰ خان نے جس اسمبلی کو ، اس کا اجلاس منعقد ہونے سے پہلے ہی توڑ دیا تھا۔ اس کے ساتھ ملک بھی ٹوٹ گیا۔ چوتھی جلد کا آغاز 20 دسمبر 1971ءسے ہوتا ہے جب بھٹو نے سویلین چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کے طورپر اقتدار سنبھالا اور نئے پاکستان کی نوید سنائی ۔ بھٹو نے فوراً سماجی اور معاشی اصلاحات کا ڈول ڈالا۔ یکم مئی کو محنت کشوں کے لئے چھٹی کا اعلان کیا۔ نئی یونیورسٹیاں اور ثقافتی ادارے بنائے لیکن اپنے اندر کے ”وڈیرے بھٹو“ کو مطیع نہ کر سکا ۔ 1977ءمیں اس نے وقت سے قبل انتخابات کرانے کی ٹھانی ۔ اسے زبردست کامیابی ملی لیکن دائیں بازو کا اتحاد، امریکی شہ پر اس کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کے درپے تھا ۔ دھاندلی کے نام پر اس کے خلاف طوفان برپاکر دیا گیا۔ جب ملک میں قومی اتحاد کے ہنگامے جاری تھے اسی دوران پاکستان میں امریکی سفیر کا واپس تبادلہ ہو گیا۔

جنرل ضیاءالحق کمانڈر انچیف پاکستان آرمی نے ایک شاندار الوداعیہ سفیر کے لئے اپنے گھر پر دیا۔ ایم اے کے چودھری ان دنوں وزارتِ داخلہ میںبطور سیکرٹری کام کرتے تھے انہیں بھی اس الوداعیہ میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔ انہیں لگا کہ دعوت کچھ زیادہ ہی پُر تکلف تھی۔ کسی سفیر کے تبادلے پر عموما ً وزارت خارجہ ایک عام سی دعوت دیا کرتے ہےں۔ فوج کے سربراہ عموماً ایسی دعوتیں نہیں کرتے۔ بلکہ وہ تو سفیروں کی طرف سے دی گئی دعوتوں پر بھی کم ہی جاتے ہیں۔ چودھری صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔ اگلے دن انہوں نے وزیر اعظم سے ضمناً ذکر کیا ۔ بھٹو ان کا مطلب سمجھ گئے لیکن خاموش رہے۔ جب وہ سپریم کورٹ میںاپنے خلاف قتل کے مقدمے میں بیان دے رہے تھے تو انہوں نے اس ”دعوت“ کا بھی حوالہ دیا۔ جب پی این اے کی تحریک زوروں پر تھی تو قائم مقام امریکی سفیر کی ٹیلیفون پر ایک اور سفارت کار سے گفتگو پاکستانی انٹیلی جنس کے محکمے نے ٹیپ کرلی اور وزیر اعظم کو سنائی۔ گفتگو میں ٹیپ کا مصرعہ تھا۔ ”بھٹو ختم ہو گیا اور کھیل بھی ختم ہو گیا۔

انگریزی میں الفاظ تھےBhutto is Finished . The Party is overاس گفتگو کے اگلے ہی روز بھٹو نے اسمبلی کا اجلاس بلایا ہوا تھا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی سفیر کی گفتگو دہراتے ہوئے بڑے جوش سے کہا : کھیل ختم نہیںہوا۔The party is not overلیکن کھیل سچ مچ ختم ہونے والا تھا۔ اور5جولائی کو کھیل ختم ہو گیا ۔چار جلدوں میں پاکستان کی یہ کہانی ایک متبادل تاریخ کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ اسی انداز میں کام کو جاری رکھتے ہوئے پانچویںجلد (5 جولائی 1977تا 7 اگست 1988 ئ) پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چھٹی جلد اگست 1988ءسے اکتوبر 1999ءتک محیط ہو گی۔ ساتویں جلد اکتوبر 1999ء تا 2007 ءتک کے واقعات کا احاطہ کرے گی۔ جبکہ آٹھویں جلد 2007 ء سے 2017 ءتک کے حالات و واقعات کو پیش کرے گی۔ یہ میرا عزم ہے لیکن کام کا جاری رہنا آپ کی قبولیت پر ہو گا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}