مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

بہت سے لوگوں کا آج اس لئے اچھا (خوش کن) نہیں ہوتا کیونکہ وہ ناخوش ماضی میں بسیرا کیے رہتے ہیں۔ وہ ایک زبردست مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے ماضی کی تکلیف کو ہی یاد کرتے رہتے ہیں۔ جو کچھ آپ پر بیت چکا اسے اب آپ بدل تو نہیں سکتے ہیں۔ البتہ آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایسے حفاظتی اقدامات کر سکتے ہیں جس سے ایک خوشگوار کل یقینی ہو۔

٭ اگر ماضی کا دکھ بہت ہی زیادہ جذباتی ہے تو درج ذیل دیے گئے مشوروں پر عمل کرنے کے بجائے فوراً کسی قابل ماہر نفسیات، سائیکاٹرسٹ کی خدمات حاصل کریں۔

٭ یہ تحریر کریں کہ غمی کو اپنی زندگی میں لوٹ آنے سے روکنے کو یقینی بنانے کے لئے آپ کیا اقدام کریں گے۔ اگر غم کااعادہ روکنا آپ کے بس سے باہر ہو تو پھر اس ضمن میں آپ کس سے مدد طلب کریں گے؟

٭ اپنی یادداشت کو فوٹوگرافی کی فلم کے طور پر دیکھیں، ماضی اس فلم کی نمائندگی کرتا ہے جس کا ظہور ہو چکا ہے اور اس کے بعض واقعات آپ کے پسندیدہ نہیں ہوں گے۔ مستقبل فلم کا وہ حصہ ہے جس نے ابھی ایکسپوز ہونا ہے اور ان واقعات کا منتظر ہے جن کا ابھی آپ نے تجربہ کرنا ہے۔ باقی رہ جانے فریموں میں آپ کیا خوش کن یادداشتیں ڈھالنا چاہتے ہیں؟

٭ آپ اپنے آپ کو جب بھی ماضی کی منفی باتوں کو یاد کرتا ہوا پائیں، تو تکیے کو زور سے پٹخیں، انگلیوں کو چٹخائیں یا چیخ کر ’’نہیں‘‘ کہیں۔ کسی مضبوط جسمانی اشارے کو آن اور آف سوئچ کے طور پر استعمال کریں۔

٭ کہیں ’’میں اپنی زندگی کے کسی مقام پر ایک بہتر کل کی تمام امید ختم کر دوں گا۔‘‘ اور اس کہی ہوئی بات پر عمل کرنے کا ارادہ بھی کریں۔

٭ اپنے آپ کو بتائیں ’’آج میری بقیہ زندگی کا پہلا دن ہے۔‘‘

٭ اپنے کسی پیارے سے پوچھیں ’’میں آج سے ایسا کیا کرنا شروع کروں کہ آپ کے لئے میرے ساتھ رہنا زیادہ دلچسپ ہو؟‘‘۔

٭ دفتر میں کسی ساتھی سے دریافت کریں ’’میں آج سے ایسا کیا کرنا شروع کروں جس میں آپ کے بہتر خدمت کر سکوں۔‘‘

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
14 September 2017

آج کل کے بچے اوران کے سوالات اورہما ری سوچ ۔۔۔ کاشف شہزاد

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">وہ آج سکول سے نکلا تو اداس تھا

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}