سپین میں جمہوریت ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

کیٹالونیا کسی زمانے میں آئبیرین جزیرہ نما کا آزاد علاقہ تھا۔ اٹھارھویں صدی کے آغاز میں اسے جدید سپین میں شامل کرلیا گیا لیکن یہاں حکومت مقامی ہی رہی۔ 1938ء میں یہ Battle of Ebro کے بعد مکمل طور پر سپین کے قبضے میں آگیا۔ مقامی عوام کے مطالبات پر کیٹالونیا کو 1977ء میں جزوی طور پر خودمختاری ملی، جس کے بعد مکمل آزادی پانے کے مطالبات بڑھتے گئے۔ 2010ء میں میڈرڈ کی آئینی عدالت نے گزشتہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیٹالونیا کو سپین کے اندر کے ایک الگ قوم کے طور پر قرار دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ سپین کے معاشی بحران نے کیٹالونیا کے معاملے کو بھی ابھارا ہے کیوں کہ سپین میں امیربارسلونا کو سپین کے باقی نسبتاً غریب علاقوں کے استحصال کرنے والے کے طور پر گردانا جاتا ہے۔ ستمبر2017ء میں اکثریت نے کیٹالونیا کی آزادی کے معاملے پر ریفرنڈم کو درست قرار دیا جبکہ سپین کی آئینی عدالت نے اس عمل کو معطل قرار دے دیا ہے۔
مغربی عوام میں آج کسی بھی دوسرے سیاسی نظریے سے زیادہ جمہوریت کے بارے میں بے معنی گفتگو کی جاتی ہے اور خاص طور پر حریف جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی عددی اکثریت سے منتخب حکومتوں کو دئیے جانے والے معجزانہ اختیارات کے متعلق۔۔۔ بارسلونا سپین کی صورتِ حال میں سیکولر معاملات پر زور ہے۔ بارسلونا میں ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جاری ہیں۔ منگل کے روز عام ہڑتال تھی۔ سڑکوں اور گلیوں میں ہزاروں لوگ مقامی آبادی کے خلاف ریاستی تشدد پر احتجاج کررہے ہیں۔ پچھلے کچھ روز کے واقعات حیرت انگیز اور اس بارے میں اگلے اقدامات تشویش انگیز ہیں۔ یہ ملکی قیادت کی ناکامی ہے۔ واضح ہے کہ سپین کی حکومت کیٹالونیا کی پُرامن حکومت کو قبول نہیں کرسکی۔ یہ ایک عمل کا آغاز ہے جس کے بعد کم سے کم Basqueکا ملک ہوگا۔ Basque میں آزادی کی جدوجہد سبق آموز ہونی چاہیے۔ کیٹالونیا کے لیے آزادی کا یہ مقصد آسان نہیں۔ ETA زیادہ مخلص تھی اور اس نے زیادہ عرصہ کام کیا اور آخرکار لڑائی روک دی، یہ ایک منطقی بات تھی۔ جمہوریت نے وہاں کوئی جادو نہیں چلایا۔ آج کے دور میں جدید قوم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ریاست ’’جائز تشددپر اجارہ داری رکھتی ہے۔‘‘ میرے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ سپین میں اس سے حقیقتاً فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایسا چیلنج بم کے ساتھ کریں یا بیلٹ کے ساتھ، ریاست کو توڑنے کی کوششیں، تشدد کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے مترادف سمجھی جائیں گی۔
چاہے یہ ووٹ سے پہلے ہو یا بعد میں، سپین حکومت کریک ڈائون کرنے والی ہے۔ تصور کریں کہ ووٹ کے اہل افراد میں سے 42فیصد نے پُرامن طور پر ووٹ دیا ہے ، جس میں 38فیصد نے ایک بڑا گروپ تشکیل دے کر آزادی کا مطالبہ کیاہے۔ میڈرڈ حکومت انکار کرسکتی تھی اور کسی مقام پر بزور قوت اپنا حکم نافذ کرسکتی تھی۔ یہ ناگزیر تھا۔ سپین کے وزیراعظم Mariano Rajoy نے پست ہمتی سے ریفرنڈم کے نتائج بھی پورے نہ آنے دئیے کیوںکہ وہ جمہوریت کو جواز دینے سے خوف زدہ ہیں لیکن یہ بجائے خود ثبوت ہے کہ سپین کے حکمران طبقے میں جمہوری احساسات کی اہمیت کیا ہے۔ ایک بدعنوان، کم عقل اور فاشسٹ رحجان رکھنے والا فریب۔ انہیں کسی بھی اور ملک کے حکمرانوں کی طرح اب جمہوریت کی مزید کوئی پرواہ نہیں۔ اگر مقامی قیادت یہ جانتی ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے مرکزی حکومت کے قانونی جواز کی خاطر مقامی جمہوریت میں اسلحہ متعارف کروایا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ واقعات اس سمت میں آگے بڑھے ہیں جیسا کوئی ارادہ نہ تھا۔ کیٹالونیا کے بائیں بازو کے اخبار El Periodico نے اداریہ لکھا کہ جس میں ووٹ کے انداز کو Carles Puigdemont کی ’’سنگین غلطی‘‘ کہا گیا اور یہ کہ وہ ’’کیٹالونیا کے صرف ایک حصے کا صدر‘‘ ہے۔
سپین کے بادشاہ نے ٹی وی پر آکر آزادی کے جدوجہد پر تنقید کی ہے۔لیکن انہوں نے پولیس کی طرف سے تشدد کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ کیٹالونیا کے مقامی ،ظاہر ہے کہ پولیس تشدد کے مخالف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بادشاہ کا بیان بدترین ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عوام کا خیال تھا کہ سپین کے بادشاہ، سپین اور کیٹالونیا میں باہمی پُلوں کی مرمت کا کردار ادا کریں گے۔روبوٹ پولیس دکھائی دیتے کرائے کے غنڈے بادشاہ اور ملک کی خاطر کیٹالونیا کے لوگوں کے سر پھاڑ رہے ہیں اور عورتوں کو سیڑھیوں سے دھکے دے رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اگلا اقدام کیٹالونیا کے لوگوں میں پھوٹ ڈالنا ہے۔
سپین کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت Ciudanos کے رہنما البرٹ ریویرا منڈے نے آئین کے شق کے تحت کیٹالونیا کی علاقائی حکومت کے ایک دن کے لیے منسوخ کرنے او ر لوکل انتخابات کے اعلان کا مطالبہ کیاہے۔ قیاس یہی ہے کہ اس سے ایک فورم بنے گا جس میں وہ طاقتیں شامل ہوں گی جو آزادی کے کیس پر بحث کے لیے تیار ہوں۔ کئی دلچسپ سیاسی وجوہات موجود ہیں۔ ابھی تک کسی نے اس بات پر بحث کا آغاز بھی نہیں کیا کہ یورو کے علاوہ کیا کرنسی ہوگی، یورپی یونین سے باہر تجارتی تعلقات کیا ہوں گے، یا کیٹالونیا حکومت کے عمومی اقتصادی اثرات کیا ہوں گے۔ اگلے دس برسوں تک زندگی کے عملی حقائق آسان نہ ہوں گے۔ 2008ء کا سپین کا معاشی بحران ابھی سال بھر پہلے ختم ہی ہوا ہے۔ آپ لوگوں کی جمہوری خواہش کھا نہیں سکتے۔ آئینی صورت کے اندر مقامی مباحثوں کا رستہ اختیار کرکے ، یہ منطقی لگتا ہے کہ اگلا اقدام 50فیصد آبادی سے آزادی کی مخالفت میں رائے لیناہوگاکہ ان کی آواز سنی جاسکے۔ لوگ جو آزادی کے حق میں نہیں ہیں ، ان کے لیے بارسلونا میں ’’پُرشور اقلیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا اور بحث کو کیٹالونیا کے حق میں کرنا، سپین میں ایک افسوس ناک طور پر قابل تقسیم صورتِ حال کا امکان رکھتا ہے۔
اس میں سے کسی بات کا مطلب یہ نہیں کہ آزادی کی تحریک کا انجام ناکامی ہے۔ یہ بہرحال کسی طور بھی میڈرڈ حکومت کی توثیق نہیں کرتی۔ تاہم یہ بھی سامنے ہے کہ آزادی کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس پر بات بھی نہیں کی جارہی۔ مقامی افراد سے پوچھا جائے کہ اس شدید تشدد کی کارروائیوں سے جو پولیس کررہی ہے، انہیں کیا حاصل ہوگا؟ تو ان کا جواب ہے، آزادی۔ آزادی، جو غالباً آدھے کیٹالونیا اور یقینا آدھے سے کم بارسلونا کے لیے کافی ہے۔
دو مہینے پہلے الیکشن قریب آنے پر الیکشن سائی 40فیصد سے کم تھی، 8فیصد حمایت کھونے کے بعد۔ اس ریفرنڈم کا ٹرن آئوٹ 42فیصد تھا، پچھلے کا 37فیصد۔ حقیقت میں درست دکھائی دیتا ہے کہ 38فیصد آزادی کے حق میں ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے لوگوں کو ووٹنگ سے روکا اور یہ کہ بیلٹس چوری کیے گئے۔ کچھ لوگ قائل ہیں کہ آزادی کے حامیوں نے بیلٹ باکسز بھر دئیے تھے۔ یہ بھی کہ لوگ ایک سے زیادہ جگہ ووٹ کاسٹ کررہے تھے۔ کہا گیا کہ ووٹنگ کے بنیادی جمہوری عمل ہی سے آگاہی نہیں۔ یہ بھی کہ پورا ریفرنڈم انتظام ہی آزادی کی حامی جماعتوں نے کیا تھا، سونتائج توقع کے عین مطابق ہیں۔ ریفرنڈم کو آزادی کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھنا معروضی طور پر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
انگریزی زبان کی کوریج دائیں اور بائیں، فاشسٹ اور ڈیموکریٹس کے موضوع پر فوکس کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہاں آزادی دائیں یا بائیں کا مسئلہ ہی نہیں۔ ریفرنڈم کافیصلہ سپین کے وزیراعظم کے اپنا فاشسٹ پہلو دکھانے سے بہت پہلے کیا گیا تھا، جوکہ ایک نتیجہ تھا، سبب نہیں۔ مقامی کیٹالونیا سمیت سپین کے اخبارات آج کی صورتِ حال پر زیادہ مایوس ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ سب کچھ جو واضح تھا، افسوس ناک سہی لیکن متوقع تھا، اس کا نہ کسی نے سوچا نہ منصوبہ بندی کی۔ آزادی کسی سیکولر لبرلسٹ نظریوں سے نہیں ملے گی۔
تب سوال یہ ہے کہ لوگ کیا قیمت چکانے کو تیار ہیں۔ امید ہے کہ کھلی بحث اگلا قدام ہوگی۔ سپین گزشتہ روزکی عام ہڑتال کے بعد مقامی حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا، افسوس ناک ہوگا کہ لوگ بغیر سمجھے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں، اندھادھند آگے بڑھتے جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ بارسلونا میں رہنے والے سب آزاد ہی ہیں۔ بیشتر جگہوں پر حکومت چوروں کا ٹولہ ہی ہے لیکن جہاں تک سپینی حکومت کی بات ہے، یہ اتنی ہی وحشت ناک ہے جتنی کوئی دوسری۔ کیٹالونیا کے سیاست دانوں کے بھی کرپشن سکینڈلز موجود ہیں۔ اگر آپ ریاست سے لڑیں تو یہ جواب بھی ویسے ہی دے گی۔ نظریات کتنے ہی اعلیٰ ہوں، تاہم عقل کی بات یہ ہے کہ جس نہج پر حالات جا رہے ہیں، یہ اس قابل نہیں کہ ان کے خاطر لڑا جائے۔ سیاسی مقابلے کے دونوں پلڑے اپنا اپنا وزن رکھتے ہیں۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}