لوگ ووٹ کیوں بیچتے ہیں؟ سعید احمد

حسب دستور الیکشن کے بعد  سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کے لوگوں پر تنقید کی جاتی ہے مثلاً کہ اس حلقہ کے لوگ بے ضمیر ہیں غلام  ہیں ووٹ فروش ہیں وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن کبھی کسی نے سوچا ہے کہ یہ لوگ ووٹ کیوں بھیجتےہیں حالانکہ ان بھوکوں کے پاس تو صرف ایک ووٹ ہی ہے اس ووٹ کی وجہ سے مخصوص طبقہ کو یہ غریب چند سالوں بعد یاد آتے ہیں ان  بھوکوں توکو روٹی کی ضرورت ہوتی ہے نظریات کی نہیں اور نہ یہ بے چارے نظریات سے باخبر ہیں اس لیے تعلیم سے ہمارا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہمیں تعلیم دینے کی کوشش کی گئ ہے  تو پھر ہم مجبوراً چند ٹکوں کی خاطر اپنے ضمیر ہی بھیجیں گے۔  اس ملک کے مقتدر طبقے نے باطل سیاسی نظام قائم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے عوام کو آئے دن نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے معزز قارئین! مزید تفصیل میں جانے سے پہلے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ملک میں اس وقت کونسا نظام چل رہا ہے تو قارئین کرام! ملک میں اس وقت نظام ظلم چل رہا ہے نظام ظلم کو سرمایہ دارانہ نظام بھی کہا جاتا ہے نظام ظلم نا انصافی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور اس نا انصافی کی وجہ سے دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے دولت کا 95 فیصد حصہ امیروں کے پاس چلا جاتا ہے اورباقی پانچ فیصد حصہ غریبوں کے پاس رہ جاتا ہے دولت کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ملک میں غربت جنم لے رہی ہے غریب لوگ امیروں پر انحصار کر نے لگتے ہیں کیونکہ ہر انسان کو اپنی مادی اور روحانی ضروریات پور ی کرنے کیلئے دولت کی ضرورت ہوتی ہے جب انسان کی یہ بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو وہ احساس کمتری کا شکارہو جاتا ہے بھوک اس کو ستانے لگتی ہے اس کی سوچ معدوم ہو جاتی ہے اور وہ جہالت کے سیاہ اندھیروں میں بھٹکنا شروع ہوجاتا ہے یہیں سے ہی بھوک انسان کو تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے پھر انسان اپنا پیٹ پالنے اور اپنے بچوں کی پرورش کیلئے ڈاکے بھی ڈالتا ہے رشوت بھی لیتا ہے ، چوری بھی کرتا ہے تو کیا اس کے لیے ووٹ بھیجنا مشکل ہے ۔

آج ہم لوگ چور کو اس کی چوری کی سزا دینے پر تو تلے ہوئے ہیں لیکن ہم غفلت میں ڈوبے ہوئے لوگ یہ بات نہیں سوچتے کہ آخر اس انسان کو ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے اس نے چوری کی ہے آج اگر کوئی چور پکڑا جائے تو اس سے پوچھا جائے کہ تم نے چوری کیوں کی ، تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ ’’ میری مجبوری تھی ‘‘ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک کے اندر تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کو پوری کرے اور عوام کی اخلاقی تربیت کرے لیکن افسوس کہ آج اس معاشرے میں انسان کی کوئی قیمت نہیں ہے اور جس معاشرے میں انسانوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی وہاں عزت کی بولی سب سے اونچی لگتی ہے ، جس معاشرے میں انسانوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی وہاں بنت حواء طبلے کی تھاپ پرناچتی ہے اور جس معاشرے میں انسانوں کی کوئی قیمت نہیں وتی وہاں پر بھوک تہذیب کے آداب کو بھلا دیتی ہے۔اس ملک میں ہوس کے پجاری سیاہ راتوں میں سفیدجسموں کا جیون سیاہ کرتے ہیں یہاں پر ناچتے پیروں کی تھاپ بکتی ہے یہاں پر جگاتی آنکھوں کے خواب دکھتے ہیں یہاں پر حسن نہیں شباب بکتا ہے بھوک دو وقت کی روٹی کے عوض بنت حواء کو ابن آدم کی ہوس کا نشانہ بننے پر مجبور کردیتی ہے آج بھوک اور ڈر کی ہی وجہ سے ہوٹلوں میں حواء کی بیٹی اپنی عزت نیلام کررہی ہے کیا اس معاشرہ میں ٶوٹ کی کیا اہمیت ہے؟لیکن ان چیزوں سے مقتدر طبقے کا کیا تعلق ؟ ان کو کیا پتہ کہ بھوک کس چیز کا نام ہے وہ لوگ تو ائیر کنڈیشنز کمروں ، منرل واٹر پی پی کر صرف منصوبوں پر غور ہی کرتے رہتے ہیں ان کو پابہ تکمیل تک نہیں پہنچاتے ۔

بھوک کی وجہ سے جب انسان جہالت کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے تو وہ خالق حقیقی کو پہنچان نہیں پاتا ، کیونکہ علم ہی کی وجہ سے انسان اپنے خالق حقیقی کو پہچان پاتا ہے جب غریب انسان کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ، وہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے تو وہ کیا تعلیم حاصل کرے گا وہ اپنے بچوں کو کیا تعلیم دلوائے گا اس کے بچے بھی احساس کمتر ی کا شکارہو ں گے اور پیدا ہوتے ہی مصائب کاشکار ہو جائیں گے بھوک انسان کو کفر تک لے جاتی ہے انسان روٹی حاصل کرنے کیلئے اپنا مذہب تک تبدیل کر دیتا ہے ، یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}