زندگی کا غلام۔مختصر افسانہ۔۔۔۔۔ خرم شہزاد قلب

انّا للہ وانّا الیہ راجعون – – –

حضرات! ایک ٖضروری اعلان سنیئے۔ “قمر” کے دادا اور “عدیل” کے والد “غلام” جورضا الہی سے وفات پا گئے تھے، ان کی نمازِ جنازہ اب سے کچھ دیر بعد پاس والے باغ میں ادا کی جائے گی۔ تمام اہلِ محلّہ سے التماس ہے کہ نمازِ جنازہ میں شمولیت فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
کلمہء شہادت – – –
چاروں طرف سے یہی صدائیں گونج رہی تھیں اور رفتہ رفتہ اپنا دائرہ بڑھا رہی تھیں۔ اندھیرا چھا رہا تھا اور چاند بھی دمکنے کو تیار تھا۔ جس سے وحشت کا منظر دکھائی دے رہا تھا-
            مگر اس تیز رو دنیا کے لوگ جو اس دنیا سے بھی زیادہ تیز رو تھے- ایک بے سہارے کو سہارا دینے کے لیے کوشش کر رہے تھے- دوسروں کی یادہانی کے لیے کلمے سنائے جا رہے تھے- تاکہ ان کی یادداشت میں آجائے کہ کلمہ صرف ایک بار مسلمان ہونے پر ہی نہیں پڑھا کرتے بلکہ پڑھتے رہا کرتے ہیں- سفر پر جیسے جیسے نئے مسافر آتے تو وہ بھی اگلے والوں کے ساتھ ہم آواز بن کر ہم سفر بن جاتے- اس طرح ایک گروہ وجود میں آگیا تھا-
موبائیل فونز کی گھنٹیاں (کچھ آوازوں کی شکل تو کچھ سازوں کی شکل) بج رہی تھیں- جیسے ہی گھنٹیاں بجنا بند ہوتیں تو معلوم ہوتا، فلاں بن فلاں فوت ہوگیا ہے- ہم اس وقت یہاں ہیں اور وہاں جا رہے ہیں- اچھا ٹھیک ہے، میں تمھارا انتظار کرتا ہوں، تم بھی آجاؤ- رکنے کا وقت نہیں ہے- جلدی! تاخیر نہ کرنا کہ قافلہ رواں دواں ہے- مثل بعد میں —
اس طرح قافلہ اپنے اختتام یعنی جنازہ گاہ پہنچا- قافلے والے ماتمیوں کو پیچھے چھوڑ آئے تھے مگر جس کا ماتم کیا جا رہا تھا، اس کو اپنے ساتھ ہی اٹھا لائے تھے- جنازے کے لیے گنتی کے لوگ تھے جو شاید یہ ظاہر کر رہے ہوں کہ جنازہ چھوٹا یا بڑا ہونا، وقتی طور پر اثر انداز ہوتا ہے- لیکن اس سے کہیں بڑھ کر میّت کے لیے صدقہء جاریہ ہوتا ہے-

                                                            2

            منزل کا منظر کچھ یوں تھا کہ پتّے پیڑوں سے کافی دن پہلے ہی، بے موسمی خزاں سے ہار چکے تھے- خوراک کے نہ ملنے سے کاغذی حالت اختیار کر چکے تھے- جو سرسری ہوا بھی چلتی تو پھسلنے لگ پڑتے اور ایک دوسرے سے ٹکڑاتے مگر چوٹ ووٹ نہ لگتی تھی کیونکہ روح پہلے ہی نکل چکی تھی- اب صرف ڈھانچہ ہی اڑ رہا تھا- یہ قبرستان سے بھی زیادہ سنسان جگہ تھی کیونکہ قبرستان تو پھر کبھی کبھار کوئی نہ کوئی آ ہی جاتے ہیں مگر جنازہ گاہ  میں لوگ تب ہی آتے ہیں- جب کوئی تھوڑی دیر کے لیے پناہ چاہتا ہو- یہاں کوئی انتظامیہ نہ تھی جو اس کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہو-
کچھ دیر بعد مولوی صاحب آے، وہی مولوی صاحب جنھوں نے شاید ہی کبھی کسی دوسرے کے جنازے کو کاندھا دیا ہوگا اور اللہ تعالی کی تحریر کے مطابق وعظ دینے لگےـ دوسری طرف سامعین اپنی اپنی بات چیت میں مصروف تھے- کچھ بول رہے تھے “ابھی ٹھہریئے! کچھ  لوگ وضو کر رہے ہیں اورکچھ راستے میں ہیں، بس تھوڑی ہی دیر تک پہنچ جائیں گے-” جوتے اتارے بغیر آدھے لوگ ایسے ہی صف بندی کرنے لگ پڑے- تو مولوی صاحب بولے: “اگر آپ کو اتنا یقین ہے کہ آپ نے جو جوتے پہن رکھے ہیں، وہ ناپاک نہیں ہیں بلکہ پاک صاف ہیں تو بلا جھجک پہنے رکھیئے وگرنہ اتار دیجیئے-” یہ بات سن کر کچھ نے تو جوتے اتار دیئے مگر کچھ نے پھر بھی پہنے رکھے-
            نمازی حضرات کو نمازِ جنازہ آتی نہ تھی اور نہ ہی کبھی یاد کرنے کی کوشش کی تھی- بس پنجگانہ نماز ہی بچپن سے رٹّی ہوئی تھی- اس لیے جب کبھی زحمت کرنی ہوتی تو بڑی روانی سے اس کو پڑھ لیا کرتے تھے- اس کے بعد طرزِ عمل میں اگلی باری دیدارِ یار کی آئی- تو میّت کے منہ سے کفن کی گرہ کھول دی گئی اور شمع کے گرد کئی پروانے منڈلانے لگ پڑے- اس طرح سے یہ منظر کفن سے ہوتا ہوا، دفن پر جا کر ختم ہوا-
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم قبر میں مہمان بن کر جائیں گے، یہ غلط ہے- ہم مہمان دنیا میں بن کر آے ہیں اور روایت کے مطابق میزبان ہماری خاطر تواضع کرنے کے بعد منزل کو جاتے سفر پر روانہ کرنے کے لیے ساتھ آئیں گے پھر روانہ کرنے کے بعد چلے جائیں گے- کیونکہ “گرگٹ کی دوڑ بٹورے تک ہی ہوتی ہے-“

                                                3

            کچھ دنوں کے بعد میّت کے گھر والوں سے لے کر قریبی تعلق والوں تک کے لوگ زندہ ہوچکے تھے- جو نہ جانے کب سے مردے کی صحبت میں رہ کر مرے جا رہے تھے- بچّے گھر میں لڑ جھگڑ کر رونق کا کچھ حصّہ قائم رکھے ہوئے تھے- کھانوں کی پلیٹیں الٹا پلٹائی جا رہی تھیں-  بچّے جتنا کھانا ہاتھوں سے کھاتے، اتنا ہی منہ سے بھی گراتے تھے- عدیل بھی کئی روز سے اپنی زنجیروں کو ہلا جھلا کر کھولنے میں کامیاب ہوچکا تھا- پھر اس کے بعد دوستوں سے ملتے ملاتے چند دن اور گھر گزارنے کے بعد حسبِ معمول ملازمت کے لیے شہر سے باہر روانہ ہوگیا-

                                                                        4

            دورانِ ملازمت، ایک  روز عدیل نے قمر کو فون کر کے کہا: “میں ادھر مصروف ہوتا ہوں، تم دادا ابّو کی قبر پہ جایا کرتے ہونا؟” “جی ہاں! کبھی کبھار چلاجایا کرتا ہوں”- بیٹے نے بے خیالی میں جواب دیا- عدیل بولا: “جایا کرتے رہا کرو اور قبر کی صفائی وغیرہ بھی کیا کرو ورنہ گھاس پوس اگ آئے گی- جس سے قبر کا نام و نشان مٹ جائے گا” “جی! اچھا اچھا، آپ کبھی چکر لگا لیو اور سب ٹھیک ٹھاک کر دیجیو” بیٹا بات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا- اس طرح قمر بات طویل نہ کرنے میں کامیاب ہوا اور پھر اس نے فون کانوں سے ہٹا کر آنکھوں سے لگا لیا-
            دوسری طرف غلام محو ہو کر مکالمہ “موت اور زندگی” کا سن رہا تھا- موت کہہ رہی تھی “تم میرا یقین کیوں نہیں کرتی جبکہ میرا آنا اور تم سے ملنا برحق ہے-” زندگی بولی: “تم پر شاید یقین آجائے مگر ابھی نہیں ہے” اسی طرح تھوڑی دیر اور دونوں میں بحث جاری رہی تھی- مکالمے کے اختتام پر جب اس کی آنکھیں کُھلیں تو وہ قبر میں تھا اور دیکھ رہا تھا کہ میں نے زمین پر تو یہ سب کچھ نہیں کیا تھا جو اب ہو رہا ہے- میں آرام سے چلا کرتا تھا اور اب یہ سماں ہے کہ زمین والے بھاگتے پھرتے ہیں-  زور زور سے پیر مارتے ہیں- جس سے ان کے نشان زمین کی نچلی سطح تک آجاتے ہیں- جو واضح کرتے ہیں کہ بیج کبھی کبھی غیر توقع پودا بھی اگاتے ہیں جو کہ نیچے سے اوپر کو بڑھتا نہیں بلکہ اوپر سے نیچے کو گھٹتا جاتا ہے-

                                                            4

وہ زندگی کا غلام اب موت کی غلامی دیکھ رہا تھا- جیسے ہی اس کے کانوں میں روانگی سفر کے الوداع! الوداع! الوداع! لفظوں کی سرگوشیاں ہوئیں تو یکدم اٹھ بیٹھا اور بستر پر عجب سی کیفیت طاری ہو چکی تھی- بستر کا ہر شکن جیسے خوف کی لہر پیدا کر رہا ہو- جو مخمل کی طرح نرم و ملائم مگر آگ کی طرح کی گرمی رکھتی تھی- اندھیرے میں ڈھکا کمرہ روشن ہو چکا تھا اور غلام کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے جو ایک خواب کی سیاہی کو حقیقت تک لے آے تھے-

غلام کی حالت کچھ یوں تھی؛

گہری شب کی پرچھائی میں

شور مچاتی گم راہوں پر

اندھیری سنساں جگہوں پر

وہ ایسے ہی چلتا گیا تھا 

یہاں سے وہاں کو، وہاں سے یہاں پر

کسی مسیحے کی کھوج لیے

اپنے خطرے کی فوج لیے

وہ ایسے ہی بھٹکا گیا تھا

ویرانوں سے ہی ڈرتے ہوئے

ویرانی میں ہی مرتے ہوئے

تنہائی میں بھاگ رہا تھا

سوتے ہوئے جاگ رہا تھا

مولا اپنے آپ کہا تھا

آنسو بھی اک ایک بہا تھا

اس کی آنکھیں بوجھل سی تھیں

وہ اک خواب دیکھ رہا تھا

            ہم زندگی میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمارے پاس موت کے لیے بھی وقت نہیں ہے- جب ہم مر جائیں گے تو موت ہم سے یہ شکوہ کرے گی کہ ہم نے اس کو کبھی یاد نہیں کیا جبکہ وہ ہماری یاد میں تڑپتی تھی- جس کا ثبوت قبر دکھا رہی ہے اور ایسے ہی قبر سے قبریں بن جاتی ہیں اور قبروں سے پھر ایسے ہی قبرستاں بھی وجود میں آ جاتے ہیں-

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}