هم کامیابیوں کا پرچار کیوں کرتے هیں ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

بےپناہ انتھک محنت و مشقت اور عرصہ انتظار کے بعد جب ایک جنونی کا جنون پورا ہونے کے آثار نظر آتے ہیں تو اسے جاگتی آنکھوں سے لگتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے۔۔اس کی خوشی کی انتہا صرف اُسی کی خوشی کی انتہا ہوتی ہے ۔۔۔۔ کچھ لوگ اس خوشی کو سنبھال لیتے ہیں اپنی نفس کی چاہ کو مارتے ہوۓ اپنی خوشی کا پرچار نہیں کرتے ۔۔لیکن بعض لوگ نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی اس کامیابی کا پرچار کرتے پھرتے ہیں۔۔۔اس بات کو جانتے ہوۓ کہ وہ ہزاروں مسکراہٹیں بکھیر کر بھی اپنی خوشی کی انتہا کو ظاہر کر دے۔اپنی کامیابی کو لوگوں کے سامنے سجا کر پیش کردے۔۔ان کی خوشی،ان کی کامیابی اورا ن کی فتح کو کوئی ان احساسات کے ساتھ محسوس نہیں کرسکتا جیسے وہ کررہے ہوں۔۔وہ اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور شاباشی پانے،لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے اور کبھی کبھی جیت کی خوشی کو بانٹنااور سب کے ساتھ محسوس کرنا  چاہتے ہیں یہ ان کی ادنی ٰ سی خواہش ہوتی ہیں۔۔۔یہ لوگ قصور وار نہیں ٹھہراۓ جاسکتے مگر جو امیدیں وابستہ کی ہوتی ہیں انہوں نے گلے لگانے والوں سے۔۔۔وہ امیدیں صرف امیدیں ہی نہیں ہوتی۔۔ان امیدوؤں کے اندر ان کی خوشی سمائی ہوتی ہیں۔اس خوشی کے پیچھے اکیلے پن کے شکار انسان کی دوسروں سے توجہ حاصل کرنے کی خواہش چھپی ہوئی ہوتی ہے۔۔۔ایسا ممکن بھی تو نہیں نا کہ ہم جو چاہ لیے دوسروں کے در پر بنا دعوت کے چلے جاتے ہیں وہ ہماری قسمت کا حصہ بن جاۓ وہ ہماری جھولی میں ڈال دی جائیں-

ہم میں سے اکثر سارے جہاں کی توجہ پا جانے کے باوجود اِک ادنیٰ سی خواہش لیے اپنوں کی توجہ پانے میں کافی کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔مگر یہ ہمارے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔دوسروں کی طرف سے ملنے والی بے رخی همیں اپنی کامیابی کی خوشیوں سے محروم کر دیتی ہے۔اپنی کامیابیوں کا پرچار کرنے والوں کے لیے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خوشی میں چین وسکون نہیں کرپاتے جب تک وہ دوسروں کی جھولی میں خوشیوں کا اظہار ڈال کر بے رخی حاصل نہ کر پاۓ۔۔یہ بے رخی همیں ناامیدی میں ملوث کر دیتی ہے۔۔ایسے لوگ اکثر اپنی خوشیوں میں بھی روتے ہوۓ نظر آۓ گے جب وہ دوسروں کو اپنی خوشی میں شامل ہوتا نہیں پاتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خود سے دوستی کا محبت کا ایسا رشتہ استوار کیا جاۓ کہ ہم اکیلے اپنے ساتھ اپنی خوشیوں کامیابیوں اور فتوحات سے لطف اندوز ہوسکیں ۔یہ تب ممکن ہے جب ہمیں اعتماد ہوجاۓگا کہ بلاشبہ میری کامیابی خدا کی رحمت ہے اور میں سیدھی راہ پہ ہوں۔میری محنت قابل ستائش ہے مجھے دوسروں کے تعریف بھرے کلمات کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}