مرد ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

دمرد ایک طاقت کا نام ہے۔عورت کا نام جب بھی ذہن میں آۓ تو ایک کمزوری اور لاچارگی کے احساسات ابھرتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ عورت محتاج ہے اور کمزور طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جس کو مذہب نے بھی ہر روپ میں اسے مرد حضرات پر منحصر ہونے کی تلقین کی ہے ۔بہت اعلیٰ ظرف حضرات ہے جو عورت کو ہر کام میں آزادی دیے ہوۓ ہیں ۔ورنہ ہمارے رہبر دوجہاں نے تو یہاں تک فرما دیا کہ اگر عورت کوئی  نفلی روزہ یا صدقہ کرے تو اس کے لیے بھی اپنے خاوند سے اجازت طلب کرے ۔عورت واقعی ہی محکوم ہے اور مرد کو حاکم کا درجہ دیتے ہوۓ مرد کو اس کا مجازی خدا قرار دیا اور انتہا دیکھیں مرد کے رتبے کی مالک نے فرما دیا اگر میں اپنے بعد کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔۔۔اتنا مقام اللہ اور اسکے نبیؐ مرد کو عطا کیا ۔۔۔ایک اور مثال لیتے چلیں عورت اور مرد دونوں رب کی تخلیق ہے اور رب العالمین جانتے ہیں کہ اس نے کیسی کیسی صلاحیت سے دونوں کو نوازا اور اس انتہائی گہرائی سے جانتے ہوۓ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب قرآن کریم میں گواہی دینے کے بارے میں تذکرہ کیا تو اس مقام پہ بھی مرد کی طاقت کو جانتے ہوۓ  وہاں فرمایا کہ مرد کی گواہی ایک مرد ہونے کی صورت میں بھی قابل قبول ہے اور جب عورت کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ عورت کی گواہی کے لیے ان کی تعداد میں دو ہونا ضروری ہے۔۔۔یہ ایک حقیقت بات ہے جسے عورتیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور حالانکہ وہ جانتی ہیں کی اسلام نے پھر بھی عورت کو اتنا زیادہ مقام دیا پہلے مذاہب میں تو جو عورتوں کے ساتھ سلوک روا رکھا جاتا تھا اس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔

ابھی ہم مرد کی خواہشات کی طرف آۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ مرد کی خوشی بھی عورت سے ہی منحصر ہے۔۔مرد کی بھی عجیب چاہتیں ہیں۔۔وہ عورت سے پیار بھرے کلمات اور ترو تازگی والے چہرے میں دیکھانے کی خواہش لیے ہوتا ہے۔جس میں تھکاوٹ کے اثرات نہ ہو۔جہاں گھریلو کام بچوں کی تربیت اور کھانے کا بندوبست کرنا جیسےکام عورت کے ذمے سونپے گئے ہیں وہاں عورت کا ایک ا ہم فریضہ یہ بھی ہےکہ وہ کھوج لگاۓ کہ اس کے ساتھ رہنے والے مرد کی خوشیاں کن چیزوں کے ساتھ منسلک ہیں۔مرد چونکہ ایک طاقت والے طبقے سے تعلق رکھتا ہےاس لیے اسکی فطرت میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ طلب کیے بغیر چیزوں میں خوشیاں حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی چاہ ہوتی ہے کہ اس کے بتاۓ بغیر ہی اسے سمجھا جاۓ۔مرد کو یہ چیز بھی برداشت نہیں ہوتی کہ اس سے کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت اس کی غلطی پہ اسے تنقید کرے ۔اسے اس کی ماضی کی کوتاہیاں یاد کروائی جاۓ۔عورت کا یہ فعل اس کے مقام کو مرد کی نظر میں کم کر دیتا ہے۔خصوصا جب یہ تنقید اسکی شریک حیات کی طرف سے ہو۔

میں اس بات کا قطعاً انکار نہیں کرنا چاہتی کہ مرد حضرات کوتاہی کا شکار نہیں ہوسکتے ۔ایس با لکل نہیں ان سے بھی خطا  ہوسکتی ہے۔مگر عورت کو بلاواسطہ انگلی کے اشارہ سے اس کی کوتاہیوں کو نشاندہی نہیں کرنی چاہیے۔اسے کچھ ایسے کلمات کا سہارا لینا چاہیے جس سے وہ مرد کو یہ محسوس کروا سکے کہ وہ تو بس اتنا چاہتی ہےمیرے ساتھ رہنے والا ہم سفر باعزت ہو اس کی کوتاہیاں اس کی عزت کو اللہ کے سامنے کم نہ کر دے اور معاشرے کو بھی باتیں کسنے کا موقع نہ ملے۔مرد کو جب ایسا محسوس ہونا شروع ہو جاۓ گا تو وہ خودبخود ایسی کاوشوں میں لگ جاۓ گا جس سے اس کی کوتاہیاں درستگی کا رخ اختیار کر جاۓ ۔اگر عورت مرد کو نیچا دیکھانا ختم کر دے گی تو مرد تو اپنی بیوی کی نظر میں عزت بنانے کی کوشش کرنا شروع ہوجاۓ گا۔

معذرت کے ساتھ ہمارے ہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے اگر ان کو انکی غلطی سے انکا خاوند روشناس کرواۓبجاۓ اسکے وہ اسکی خوشنودی حاصل کرنے لیے مزید کوشش کرے۔وہ ایسا رویہ اپنا لیتی ہیں جس سے تھکن سے چور مرد عورت کی توجہ حاصل کرنے کےلیے جو دامن پھیلاۓ کھڑا ہوتا ہے اسے رد کردیتا ہے۔

اور بعض عورتوں کے لہجے میں الفاظ تو شامل نہیں ہوتے مگر ان کے چہرے کے اثرات ہی ناراضگی کااظہار کر رہے ہوتے ہیں۔۔وہ اس چیز کو فراموش کر چکی ہوتی ہیں جو آج سے چودہ سو سال پہلے  سرور کائنات نے فرمائی کہ

”اچھی بیوی وہ ہے کہ جس کا خاوند اسے دیکھے تو وہ اے خوش کر دے“

زندگی میں دو پہلو بہت اہم ہیں۔۔۔پیسہ اور خوشحالی۔۔

پیسے کا تعلق جسمانی مشقت کے ساتھ اور خوشحالی کا تعلق روحانی مشقت کے ساتھ ہے۔اللہ نے جسمانی طاقت مرد کو عطا کی اور جسمانی مشقت والا کام بھی مرد کو سونپ دیا ۔روحانی مشقت والاکام یعنی خاندان کی خوشحالی والا کام  عورت کوسونپ دیا ہے۔۔۔عورہ کا مطلب ہی چھپی ہوئی شہ ہے۔۔۔وہ قربانیاں دینا جانتی ہے۔اپنی خواہشات کو چھپا سکتی ہے۔اپنے تھکن لہجے کو چھپا کر ترو تازگی والے چہرے اور خوبصورت کلمات سے مرد کی نظر میں مقام پانا اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔

ہمارے ہاں خاندان خراب ہورہے ہیں۔مردوعورت مقابلہ بازی کررہے ہیں  ۔۔میرا سوال ہے کہ مقابلہ ہمیشہ ہم جماعت سے کیا جاتا ہے ۔مرد کی جماعت چونکہ بلند ہے۔۔۔تو پھر یہ مقابلہ کیسا  ؟؟؟؟؟

اگر عورت ذات اس حقیقت کو سمجھ لے  تو اس کے لیے قربانی دینا مشکل امر نہیں ہوگا اسے تو یوں لگے گا جیسے وہ عبادت گاہ میں بیٹھے اپنے فرائض  انجام دے رہی ہو۔۔۔۔اس سے جہاں وہ مرد کے لیے تسکین کا باعث بنے گی وہاں انصاف کے دن مالک سے اپنے فرائض کو پورا کرنے پر انعامات کو حاصل کرنے کی توفیق بھی حاصل کر لے گی۔

لیکن یاد رہے  کہ یہ قربانی کو احسان کے طور پر کبھی نہ  لیجئے گا اس کو خوشی سے عبادت سمجھ کر ادا کرۓ گا۔کیوں کثرت ہے ایسی خواتین کی جو کمال کی قربانی دے رہی ہوتی ہیں۔۔مگر ساتھ ہی ساتھ ڈھیڑوں شکوہ شکایت بھی دل میں رکھے ہوۓ ہوتی ہیں اور دوسروں سے اپنے  شریک حیات کی شکایات کرتے ہوۓ ان کو ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔۔

ضرورت ہے اس رشتے کو سمجھنے کی۔۔یہ کوئی کھیل نہیں۔۔مالک کا اتنا خوبصورت نظام ہے جس کو ہم یہ سمجھ کر گزار دیتے ہیں کہ وقت ہی گزارناہے گزار رہا ہے۔۔نہیں وقت نہیں گزارنا وقت کو ایک دوسرے کے لیےخوبصورت بنانا ہے۔۔جھکنا سیکھنا ہے۔۔اپنے کلمات سے بگڑے ماحول کو پر امن بنانا سیکھنا ہے۔ یہ ایک حقیقت تھی جو بیان کی ۔تلخ جملوں  کے لیے معذرت ۔۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}