بلیو وہیل! آخر کیا ہے یہ نیلی وہیل؟ مدثر گل

جس بلیو وہیل کو میں جانتا ہوں وہ تو مچھلی ہے جو ریت میں پھنس جاتی ہے اور اس کے زندہ بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا ہے۔
مگر سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی یہ وہ بلیو وہیل نہیں بلکہ وہ گرداب جس میں نفسیاتی ڈسٹرب ٹین ایجرز کو پھنسایا جاتا ہے۔ یہاں پر میں ایک بات کلئیر کرتا چلوں کہ یہ کوئی گیم نہیں جو ‘پلے سٹور’ یا ‘آئی سٹور’ وغیرہ سے انسٹال ہوتی ہو۔ (شاید اس شور شرابے کی وجہ سے کچھ ڈویلپرز نے موقع کا فائدہ اٹھا کر کچھ اس طرح کی گیمز بنا دی ہوں)  بلکہ یہ ایک نیٹ ورک ہے جو 2013 سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جال میں جذباتی اورنفسیاتی ڈسٹرب نوجوانوں کو اپنے گیم پلان میں شامل کرتا ہے اور آہستہ آہستہ ان کی کوچنگ کرتا رہتا ہے۔ اعتماد کی فضا پیدا ہو جانے پر ٹاسکنگ کا پروگرام شروع کر دیا جاتا ہے۔ ابتدائی ٹاسکز بہت دلچسپ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ نوجوان آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اس طرح کے ٹاسکنگ پروجیکٹ کے لیے عموماً کلوزڈ گروپ استعمال کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے باقی دوستوں کی نظر سے یہ تمام امور پوشیدہ رہتے ہیں ( زیادہ تر ٹاسکز میں ویڈیو بنانی ضروری ہوتی ہے) شروع سے آسان ٹاسکز میں کھویا نوجوان اس دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے اور آخر میں نتیجہ ایک نفسیاتی مریض والا ہی حاصل ہوتا ہے۔
آپ کے ذہن میں سوال آ رہا ہو گا کہ یہ بات اب تک نظروں سے اوجھل کیسے رہی؟
دنیا میں روزانہ سینکڑوں کے حساب سے خود کشیاں ہوتی ہیں۔ ہر خود کشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں خود کشی پر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہوتا ہے مگر ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے اور شاید گورنمنٹ کو کوئی اور کام نہیں ہوتا اس لیے وہاں خودکشی کی بھی تحقیق ہوتی ہے۔ اب وہاں کچھ کیسسز میں بلیو وہیل سامنے آ گئی تو یہ بات میڈیا کی زینت بن گئی۔ ان کے ذمہ دار میڈیا نے بات ذمہ داری سے لوگوں کو بتا دی تاکہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔
پر خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ہمارے کسی انگریزی پڑھے میڈیا پرسن نے یہ بات سن لی۔ جتنی اس کو سمجھ آئی اور جتنا اس کا اپنا دماغ چلا اس نے یہ بات برصغیر کے پئیڈ میڈیا کو بتا دی۔ اب ہم رہے مصروف لوگ کون بات کی تحقیق کرتا۔ بس سب سے پہلے کے چکر میں لوگوں کو چکر میں ڈال دیا۔ اب بھولے بھالے والدین اپنے بچوں کو اور اپنے آپ کو ہر طرح کی وہیل سے بچا رہے ہیں۔ چاہے وہ ‘وہیل کا چکر’ ہو یا کوئی وہیل نامی ٹکی ٹافی۔
(اگر آپ کے پاس اس سے کچھ زیادہ معلومات ہوں تو میری اصلاح کیجیے)

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}