روحانیت کا سفر ۔۔۔ اریبہ فاطمہ

روح ایک احساس کا نام ہے جسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن چھوا نہیں جاسکتا۔۔۔ روح کا رشتہ دو چیزوں سے استوار ہوتا ہے ایک قدرت  سےاور دوسرا انسان کا اپنا وجود سے۔۔۔۔۔

بہت سے لوگ اس سفر پر نکلنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر وہ صرف خواہش ہی رکھتے ہیں ۔ کیونکہ اس سفر میں جودو رشتے ہوتے ہیں ان میں سے ایک کو ہار کر دوسرے کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔ جیسے اس کائنات کو چلانے کے لیے ایک سوچ کی اور ایک ہی ذات کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روح بھی ایک نظام ہے اور روحانیت کے اس سفر میں آنے کے لیے ایک رشتے کو مار دینا ضروری امر ہے۔ اگر وہ زندہ رہے گا تو روحانیت کا نظام تباہ ہو جاۓ گا۔ وہ رشتہ ہے اپنا آپ۔۔۔۔۔

اس معاشرہ کے پیچیدہ نظام میں ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم یہ سمجھ ہی نہیں پاۓ کہ اپنا آپ کیا ہے؟؟؟؟

ہمیں دنیا کے ہر رشتے کو نیچا دیکھانا ،قتل کرنا،تعلق توڑنا آتا ہے لیکن اپنا آپ کیسے مارنا ہے آج تک ہم سمجھ ہی نہیں پاۓ۔۔۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سمجھ ہی نہیں رہے کہ خدا کی عبادت سے بھی اگر ہمیں لطف اندوز ہونا ہے تو نفس کو مارنا ہوگے دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت بہت عبادت گزار ہیں لیکن نفس پہ فتح نہ کر پاۓ۔ کبھی کبھاراگر دنیا ان کی عبادت میں خلل ڈال دے یا کوئی مشکل میں ہو اور ان کو مدد کے لیے پکار ہی لے تو وہ غصے سے آگ بگولا ہو جاتے ہیں کہ ہماری عبادت میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی ۔۔۔

لیکن آج تک خدا کی عبادات کو تلاش کرنے پہ میں اس نتیجے پہ پہنچی ہوں کہ ایک جگہ پہ بیٹھ کر عبادت گاہ بنا لینا یا خود کو تنہا کر لینا یا خاموشی اختیار کرلینے سے روحانیت کا سفر طے نہیں ہوتا۔ یہ سب تو اس سفر کوزندگی بخشنے کی غذا ہےاصل سفر تو قربانیاں ہیں ۔ ہر کام جو ہمارے لیے تو لطف اندوز ہو۔۔۔ ہماری روح کی غذا ہو۔اور اگر مخلوق کے لیے ان کی قربانی دینی پڑے،کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا پڑے تو خندہ پیشانی سے اپنا سب قربان کر دینا بغیر کسی عار کو محسوس کیے ۔۔۔۔۔عبادت سمجھ کر اپنی جان مال پیش کر دینا۔۔ یہ ہے اصل قربانی

آپ کیا چاہتے ہیں ؟آپ کدھر ہیں ؟ آپ کس حال میں ہے؟  یہ سب ضروری نہیں ۔۔۔۔

ضروری تو یہ ہے کہ آپ سے کوئی  تنگ تو نہیں۔۔اس سفر میں چھوٹوں کو ایسی عزت دی جاتی ہے جیسے ہم کبھی اساتذہ کو دیا کرتے تھے۔ سوچیں بڑوں کے احترام کا مقام کیا ہوگا۔اجنبی ہو یا رشتہ دار،چھوٹا ہو یا بڑا سب کو خوش کر لینا۔۔۔اپنی ہاتھ  اور زبان کے شر سے دوسروں کو محفوظ کر لینا اپنے زبان اور ہاتھ کے خلاف ڈھال بن جانا۔۔۔ نفس کو اپنا غلام بنا لینا۔۔ خود اس کی غلامی چھوڑ دینا۔۔ کیا کھویا ہے کیا پایا؟ اس کو بھول جانا۔۔۔اور مخلوقِ خدا کے لیے اپنا دل کشادہ کر لینا۔۔۔۔ یہی ہے روحانیت کاپہلا مرحلہ۔۔۔

سب سے مشکل ہوتا ہے یہ مرحلہ ۔۔جب ہم نیتاً اورعملاً لوگوں کو خوش کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔۔ لوگوں کی طرف سے آنے والی تنقید اور برے القابات کو خندہ پیشانی سے مسکراہٹوں کرے ساتھ برادشت کرتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ آتا ہے مالک سے ملاقات کا۔۔۔۔ جب مالک ہماری پہلے مرحلے کی کوشش کو دیکھاتا ہے تو اپنے سے ملاقات کے مواقع کرتا ہےپھرانسان ہجوم میں بھی اُس کو یاد کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور تنہائی میں بھی۔۔۔

اپنی زندگی کا ہر کام اس کی خاطر کرتا ہے اُس سے تعریف پانے کے لیے وہ قربان ہونے کو تیار ہوجاتا ہے۔۔۔موت سے پھر ڈر نہیں لگتا۔۔

کیا آپ جانتے ہیں روحانیت کے پہلے درجے میں مخلوق کی محبت کیوں ہے؟؟

چلیں میں بتاتی ہوں۔۔انسان خدا سے ملاقات کا دوسرا مرحلہ کبھی بھی صحیح طور پہ سرانجام نہیں دے سکتا جب تک اس کے دل میں پاکیزگی نہ ہو اس کا دل دنیاوی سوچوں سے پاک نہ ہو۔۔اور کیا آپ جانتے ہیں کہ دل کی گندگی کا تعلق کس چیز کے ساتھ منسلک ہے؟؟

دل کی گندگی کا تعلق شکوہ شکایات اور مخالف افراد کے لیے چال بازیوں سے ہوتا ہے۔

دل کی گندگی کا تعلق لوگوں کے متعلق بُرے خیالات کا جنم لینا، ان سے شکوہ شکایات رکھنا،لوگوں کے ساتھ بُرا ہونے پہ خوش ہونا ،ان کی ضرورت کے وقت مدد کرنے سے انکار کرنا اور مختصراً ہر منفی سوچ ہمارے دل کو گندگی سے لبریز کر دیتی ھے۔

People Comments (2)

  • noor ula ain September 19, 2017 at 4:33 pm

    Good effort.areeba Fatima .keep it up.

  • noor ula ain September 19, 2017 at 4:34 pm

    Good effort..areeba fatima.keep it up.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}