کیا ہمیں متبادل فلاسفی اور قیادت کی ضرورت ہے؟ ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز خان

دنیا میں جو بھی قوم ایک ترقی اور طاقت حاصل کر لیتی ہے، اس کے پیچھے ایک سوچ اور اس سوچ پہ بنے ہوئے ادارے ہوتے ہیں، جن کی بدولت وہ قوم اس مقام تک پہنچتی ہے۔ عام طور پہ غلامی کے دور کی ایک سوچ جس نے ہمارے قومی مزاج کو مغرب سے مرعوب رکھا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ مغرب کے تحقیقی اداروں کا خوف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب کے پاس اچھے تحقیقی ادارے ہیں۔ لیکن کیا صرف تحقیقی اداروں کی بدولت ہی مغرب دنیا کے اندر غالب ہے؟ یہ درست نہیں تجزیہ نہیں ہے۔

 علی گڑھ کے مرعوب طبقے نے ایسی فکر کو ہوا دی اور ہمارے سماج کو لاغر کر دیا۔ سماج کی سوچ لاغر ہو جائے تو وہ بڑی افرادی قوت کے ساتھ بھی کچھ نہیں کر سکتا، ورنہ امریکہ کی کیا آبادی ہے؟ صرف 25-30 کروڑ۔ روس کی کیا آبادی ہےَ؟ صرف 13-14 کروڑ۔ پاکستان کی کیا آبادی ہے؟ 20-21 کروڑ۔ لیکن پھر بھی ہماری سوچ لاغر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں پوری حقیقت کا ادراک نہیں۔ فکر اور سوچ ذہن کو وہ قوت ارادی فراہم کرتی ہے جس سے وہ باشعور سماج تشکیل دیتا ہے جو بڑے بڑے ادارے پیدا کرتا ہے، جو ذہین افراد پیدا کرتا ہے۔ فکر اور سوچ گمراہ ہو تو کبھی بھی اچھا سماج نہیں بنتا۔ پست سوچ کا سماج کبھی بھی طاقتور ادارے پیدا نہیں کرتا۔

مغرب کے ادارے تین طرح کے ہیں۔ سماجی ادارے یعنی مذہبی، پولیس، اور انصاف کے ادارے۔ تعلیمی اور تحقیقی ادارے جن میں آزادانہ نظریات پہ تحقیق کرنے والے ادارے اور تیسرا ہے تجارتی ادارے۔ جو پھلیتے پھیلتے اب بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اصل میں مغرب کی طاقت تحقیقی ادارے نہیں بلکہ تجارتی ادارے ہیں۔ تجارتی ادارے ایک ایسی فلاسفی پہ کھڑے ہیں جس کی بدولت وہ اپنی پراڈکٹس کے معیار کو اچھا بناتے اور ان کی مقبولیت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔  پرائیویٹ ادارے ہی وہ پیسہ دیتے ہیں جس سے حکومت کے تعلیمی ادارے چلتے ہیں۔

تحقیقی ادارے دو طرح کے ہیں، ایک جو آزادانہ نظریات پہ تحقیق کرتے ہیں جو یونیورسٹیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو فرم یا کاروباری ادارے کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کی پراڈکٹس کو جدید بنانے کے لیے بنے ہوتے ہیں۔ ان کا ہدف صرف کمپنی کی ٹارگٹ پراڈیکٹس کو ہی بہتر کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ یونیورسٹیز کی اپنی اہمیت ہےلیکن کاروباری ادارے اتنے اہم ہیں کہ چین جیسا ملک بھی اس کی اہمیت کو سجھ کر 1979ء میں ایسی پالیسیاں بنانے پہ مجبور ہوا جس کی بدولت اس نے اپنے کاروباری ادارے بنائے، جن کی بدولت چین آج مغرب کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوا۔

اعلی سوچ ان کے سماج کے خاندانی اداروں، سماج سے بذات خود اور سکول و کالج سے آتی ہے۔ یہ پختہ سوچ بنانے میں وہاں کے خاندانی نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس میں بچوں کی شخصیت مسخ نہیں کی جاتی بلکہ ان کی سوچ کو سراہا جاتا ہے اور تب ہی وہ آزادانہ سوچتے ہوئے ایک کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ مغرب کے اندر شادی یا بچے پیدا کرنے کا رواج کم ہے لیکن جب وہ بچے پیدا کرتے ہیں تو ان کی تربیت بھی کرتے ہیں، جس سے ان کے اداروں کو اچھے افراد ملتے رہتے ہیں۔

ایک اور سوچ جو مغرب کے سماجی، تجارتی، سیاسی اور تعلیمی ادارے ان کے دلوں میں ڈالتے ہیں، وہ ہے بین الاقوامی قیادت اور نمبر 1 بننے کی سوچ۔ یہ سوچ جہاں ان کے سماج سے اچھے کام کرواتی ہے، وہاں یہ سوچ ایسے افراد اور ایسے ادارجاتی فیصلے بھی کرواتی ہے،جس کی وجہ سے وہ اپنی بین الاقوامی حیثیت قائم رکھنے کے لیے دوسروں کے حقوق کو غصب کرنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں، دنیا میں بے چینی اور بد امنی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سوچ اس حد تک غالب ہے کہ وہ عدل کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، لیکن اپنی نمبر 1 بننے کی سوچ کو قائم رکھتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ ان کی کمپنیاں تو ترقی کرتی ہیں لیکن دنیا میں امن نہیں آتا۔

مغرب کی مرعوبیت سے نکل کر ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اس قابل بنا سکیں کہ وہ ہر شعبہ میں اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو سکے اور دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ اس کے لیے ایک جاندار سوچ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ سوچ موجودہ سیاسی یا مذہبی لیڈرشپ کے پاس تو نہیں ہے ورنہ آج ہم اس حالت میں نہ ہوتے۔ لامحالہ طور پہ ہمیں ایک دوسری قیادت کی ضرورت ہے جو اخلاص سے بھری ہوئی ہو اور جاندار سوچ بھی رکھتی۔ ایسی سوچ ہی ہمیں دنیا میں باعزت بنائے گی۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}