مجازی محبت ۔۔۔ اریبه فاطمه

              

محبت کرنا کوئی جرم نہیں اگر کی جاۓ اصول سے

محبت   تو خدا نے   بھی   کی   اپنے   رسول   سے

محبت کرنا واقعی ہی جرم نہیں اگر جرم ہوتی تو خدا کبھی دو لوگوں کو نور کا منبر  عطا نہ کرتا ان کی محبت کی وجہ سے۔لیکن ایک شرط رکھ دی کہ وہ محبت خدا کی رضا کےلیے ہو۔

لیکن اگر محبت کی ابتدا اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے کرکے بعد میں اگر اسی اللہ کو بھول جائیں اس کے احکامات کی خلاف ورزی کی جائیں ۔اس کی بتائی ہوئی بندشوں کو توڑ کر حد سے تجاوز کرے تو کیا یہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟؟

جو محبت انسان کو نماز،روزہ سے بالاتر کر دےتو کیا وہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟

جو محبت انسان کو حلال و حرام کی تمیز سے دور کر دے تو کیا وہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟

جو محبت اپنے علاوہ کسی کاسوچنا کسی کے لیے کچھ کرنا بے وفائی قرار دے تو کیا یہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟

جو محبت انسان کو ہر اچھی بری بات پر لبیک کہنے پر مجبور کر دے کیا یہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟

بالآخر جو محبت انسان کو بدکردار بنا دے تو کیا یہ جرم نہیں ہوگا؟؟؟؟

سن لیں یہ جرم ہوگا اور بہت بڑا جرم ہوگا کیونکہ یہ جرم خدا کی عبادت کی جگہ بندے کی عبادت کرواۓ گی کیونکہ یہ محبت انسان کو مخلوق سے بالاتر کر کے ایک ہی بندے کا غلام بنادے گی۔اور اس جرم کا نام ہوگا

شرک

قارئین اکرام !یہ شرک ہوگا بندے کے اپنے اعمال کے ساتھ دشمنی ہوگی۔یہ محبت دنیا میں آنسو اور آخرت میں آگ دے گی۔ایسی محبت کےلیے آپ زمین و آسمان بھی لٹا دیں گے تو بھی وہ آپ کو اپنائیت نہیں دےگی۔ایسی محبت آپ کو دنیا سے لاتعلق کردے گی پھر ایک دن خود ہی گلا گھونٹ کر پھینک کر چلی جاۓ گی۔

ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہونگے جو اس ظلم کا شکار ہونگے اور وہ نکلنے کی کوشش بھی کررہے ہونگے لیکن ان کی ہر کاوش ناکام ہوجاتی ہوگی وہ ہزار مرتبہ اس گرداب سے باہر آکر دوبارہ واپس پھنس جاتے ہونگے ۔اس کی جڑیں اتنی پھیل جاتی ہے کہ کمزور دل انسان کے لیے نکلنا ناممکن ہوجاتا ہے

ہم سے بہت سے لوگ اس گرداب سے اس لیے نہیں نکل پاتے کہ کہیں ہم ذلیل نہ کر دیے جائیں کہیں ہمیں اپنی غلطیوں کی وجہ سے بلیک میل نہ ہونا پڑے۔

یہ سوچ ہمیں اس محبت کے دکھلاوے جال سے نکلنے نہیں دیتی ۔

اگر ہم خدا پر بھروسہ رکھتے ہوۓ  اس گرداب سے باہر ہاتھ نکلالے تو اللہ اس ہاتھ کو ضرور پکڑے گا ۔وہ ہمیں کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔لیکن اس کو ہماری خلوص نیت کی ضرورت ہے ۔اگر ہم واقعی ہی اس جال سے نکلنا چاہتے ہیں تو خدارا ہمیں نکل جانا چاہیے وہ ہمیں بچالے گا وہ ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔یہ وہ ذات ہے جو منتظر رہتی ہے کہ کب ہم واپس اس کے پاس آئیں وہ ہر وقت ہماری مدد کرنے کو تیار رہتاہے۔۔۔

ہمیں بس اس وقت خدا سے دوستی کی ضرورت ہے تنہائی میں بیٹھ کر اس سے دوستی کرنے کی ضرورت ہے۔۔دنیاوی چاہوں کے بیچ کو اکھاڑ کر محبت خداوندی کے بیچ کو بونے کی ضرورت ہے۔۔پھر وہ ہمیں ہارنے نہیں دےگا۔۔کسی کے لیے ہمیں ذلیل کرنا ناممکن ہو جاۓ گا ۔۔۔اور جب مجازی سے حقیقی کی طرف آ ۓ گے تو پھر ایسا مزہ آۓ گا کہ سب کھویا ہوا بھی یوں لگے گا کہ اس نے ہم پہ بہت بڑا انعام کیا ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}