جہالت سے آزادی کیسے ممکن ہے ۔۔۔ اریبه فاطمه

جہالت ایک بیماری کا نام ہے اور اس کے علاج کے لیے جتنے مریض زیادہ ہونگے اتنے ہی  زیادہ ڈاکٹرز کی ضرورت ہو گی۔۔۔اگر ایک ہی شخص اس بیماری کو دور کرنے کی کوشش کرے گا تو بہت مشکل ہوگا اس بیماری کو دور کرنا ۔اس بیماری کو دور کرنے کے لیے اجتماعی اصلاح کی ضرورت ہے۔

کیونکہ ہر فرد کی جہالت الگ الگ  ہوسکتی ہے  کسی کی جہالت پیسہ ہے کسی کی جہالت تعلیم کا میسر نہ ہونا ہے۔اور کسی کی جہالت تعلیم کے باوجود عملی کارروائی نہ ہوناہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کی جہالت اس کے پاس لاکھوں دولت ہونے کے باوجود بد اخلاقی ہو اور کوئی نیک اعمال کے باوجود جھوٹ جیسی جہالت میں ملوث ہو۔اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ایک انسان کے پاس تعلیم،پیسہ اور نیک اعمال کے باوجودغیر محرم عورت یا مرد سے غلط تعلقات جیسی جہالت ہو۔۔۔

مجھے لگتا ہے کہ ان تمام ممکنات میں سے ایک ممکن صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایک مبلغ جوکہ تبلیغ میں تکبر سے منع کرنے والا ہو اور اس کو اسی کی غلطی بتائی جاۓ تو اناٰمیں آکر اپنی عزت پہ انگلی اٹھتا دیکھ کر اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنے جیسی جہالت اس نے پال رکھی ہو۔۔۔ کیا ابھی بھی هم اس چیز کو مانتے ہیں کہ ان تمام جہالتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک ہی ڈاکٹر کی ضرورت ہے؟؟؟؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کی جہالتوں کو پہنچاننے میں غلطی کرلیتے ہیں اور ان کو غلط ڈاکٹر مہیا کرتے رہتے ہیں۔ جس کو تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے اس کو پیسے والا ڈاکٹر اور جس کو اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے اس کو تعلیم کی سہولت مہیا کر دیتے ہیں۔

جہالتوں کے اس اختلاف کی بناء پر ہمیں ایک ایسے اجتماعی نظام کی ضرورت جو ہر فردکی انفرادی اصلاح کرسکے ۔۔ ہر فرد کو ایک با اخلاق، تحمل مزاج ،صابر اور ایسا ڈاکٹر مہیا کرسکے جو بھری محفل میں ہماری جہالتوں کا پرچار نہ کررہاہو۔

ہمارے ہاں خود سینکڑوں مسائل کے شکار ڈاکٹرز کو جہالت سے آزادی کا فریضہ سونپ دیا جاتا ہے۔۔۔

ایک شخص جو خود نہیں جانتا اور جس نے خود کبھی صبر کو محسوس نہیں کیا جس نے خود تکالیف پر صبر نہیں کیاوہ کیسے صبر کی اہمیت کو واضح کرسکتا ہے؟ایسا شخص جو شاگرد کی چھوٹی سی غلطی پر آپے سے باہر ہوجاتا ہے وہ کیسے اخلاق پر درس دے سکتا ہے؟ایک قاری صاحب جو بچوں کو مسجد میں کھیلتا دیکھ کر نکال باہر کرتا ہے وہ کیسے تحمل مزاجی کا درس دے سکتا ہے؟ ایک عالم جس نے کبھی خدا کی ملاقات کو محسوس نہ کیا ہو آدھی رات کو اٹھ کر عبادت کے مزے نہ لیے ہوں وہ کیسے سامعین میں تہجد کا شوق  اور عبادت کے مزے  کو روشناس کرائے گا؟

میری مراد آج کے تمام وہ لوگ ہے جو لیڈر جیسا  پاکیزہ مقام حاصل کیے ہوۓ ہیں۔ میرا مقصد ان کو طعنہ و تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے ۔۔اور نہ ہی ان کو اس پاک مقصد سے دور کرنا ہے بس ادنیٰ سی خواہش ہے کہ پہلے تمام اعمال کو خود کرےا ن کے مزے لیں ان کی راہ میں آنے والی تکالیف کا درد محسوس کریں ۔۔۔ یہ جانیں کہ یہ اعمال کیوں ضروری ہیں۔۔ یہ جانیں جہالت سے نکلنا کیوں ضروری ہے؟؟؟ اورپھر جو فرد ہمارے سامنے ہمیں آئینہ سمجھ کے بیٹھا ہوا ہے اس کی جہالت کی پہچان کرے ۔۔ ہر فرد کو ایک جیسا  سبق نہیں دیا جاسکتا ۔ ہر فرد کی اصلاح  کے لیےا لگ الگ انداز کا اپنانا ضروری ہے۔ایک مصلح کو فرد کے مطابق اپنا انداز بدلنے کا ہنر آنا چاہیے۔

جہالت سے آزادی کا ممکن طریقہ اس طبقہ کے لوگوں کا بااخلاق،ایمان دار،صابر،تحمل مزاج،رازدار،باادب اورمخلص ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ قوم مصلح ،مبلغ اساتذہ کو آئینہ تصور کرتی ہے۔ قوم آئینے پہ بہت یقین کرتی ہے ۔اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں یہ مقام عطا کیا ہے تو ہمیں یہ جانچ لینا چاہیے کہ ہم میں اس مقام کی قابلیت بھی ہے کہ نہیں ورنہ ہمیں پہلے اس عظیم کام کے لیے خود کو تیار کر لینا چاہیے یہ نہ ہو کہ ہم آزادی دلانے کی بجاۓ قوم کو مزید قید میں دھکیل رہے ہو۔

خدا ہماری کاوشوں کو قبول کرے۔آمین

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}