اپنی ذ ا ت سے تعلق ۔۔۔ اریبه فاطمه

    

ہماری ذات کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہ تو کوئی محبت ہے نہ کسی کی توجہ اور نہ کسی کی پیار بھری باتیں وہ چیز نہ تو کھانا پینا ہے نہ ہی سیروتفریح                                                                                   وہ چیز ہے ہماری خود سے ملاقات 

ہماری زندگی میں سب ہوتا ہے لیکن خود کے لیے ٹائم نہیں ہوتا ہم گھنٹوں دوسروں کو وقت دیتے رہتے ہیں دوسروں کی خوشی اور غمی کا خیال رکھتے ہیں لیکن اپنی پیاس نہیں بجا پاتے۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ اگر ہم کسی اچھے کام کا ارادہ کرے تو بھی ہم سے وہ اچھا کام بخوبی سر انجام نہیں ہو پاتا کیونکہ ہماری خود سے بات چیت نہیں ہوتی ہم یہ جان ہی نہیں پاتے کہ ہم کیا چاہتے ہیں ہمارے اندر ہزاروں ہنر عادات اور رویے ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں مقبول ترین بنا سکتے ہیں پر صدیوں تک بے کار پڑے رہ رہ کر کھوکھلے سے ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے ہوتے کہ ہمارے اندر یہ سب کچھ بھی ہے ہماری زندگی کا سارا وقت سارے لمحات صرف اور صرف ایک چیز پر رہتا ہے ہر وہ کام کرنا جس سےجھوٹی ہی سہی پر ہماری ایک ریپو ٹیشن معاشرے میں بن جاۓ ۔۔۔۔ ہم اپنے ان چھوٹے اور دکھلاوے والے عمل کے پیچھے اپنے سچے ہنروعادات اور رویوں کو پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔۔۔۔۔

اس لیے آگے قدم بڑھائیں۔تنہائی میں بیٹھ جائیں اور خود سے پوچھیں۔

مجھے کیوں دنیا میں بھیجا گیا؟

کیا میں بےکار تو نہیں ہورہا؟

کیامیں اپنے نفس کا غلام تو نہیں؟

میرے لیے  سیدھا رستہ کونساہے؟

میرے سے لوگ تنگ تو نہیں؟

میں ماں باپ، بچوں،بہن بھائی،خاوند بیوی کے فرائض پورے کررہا ہوں کہ نہیں۔۔۔۔۔

ایسے ہی سوال پوچھنا خودسے شروع کر دیں اپنی ڈیلی لائف میں چاہےدس منٹ ہی کیوں نہ نکالے پر ضرور نکالے تا کہ آپ اپنے آپ سے بات چیت کر کے روح کو سکون دیں آخر میں ایک فقرے دل تک جانے دیجیے گا

”لوگو ں سے تعلقات جسمانی سکون دیتے ہیں

خود سے اور اللہ سے تعلقات روحانی سکون دیتے ہیں“

”جسم بےکار ہو جانا ہے اگر کچھ رہنا ہے تو وہ ہے روح۔۔۔“

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}