افسوس !ہم کیسے مسلمان ہیں ۔۔۔ اریبه فاطمه

آج میں جب  بچوں سے سوال سن رہی تھی تو ایک سوال نے مجھےایک سوچ میں ڈال دیا سوال تو ہمارے نزدیک بہت معمولی تھا لیکن خدا کی قسم اس سوال پر ہی ہمارا انحصار ہے۔سوال تھا

مسلمان کون ہے؟؟؟؟؟؟؟

جب میں نے ایک طلبہ سے سوال پوچھا تو مجھے جواب ملا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں

میں نے اس سوال کا جواب پاکر اس سے دوبارہ سوال کیا

کیا ہمارے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں؟؟؟؟؟؟

کلاس میں ایک سناٹا چھا گیا ہر کوئی اپنے ضمیر کو جگا رہا تھا اور پوچھا رہا تھا  کہ کیاہم مسلمان ہیں؟

خدا کی قسم ایک ہاتھ بھی اس چیز کا اقرار نہ کر سکا کہ ہمارے ہاتھ  اور زبان سے دوسرے محفوظ ہیں

پھر میں نے پوچھا کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟؟؟؟

کوئی جواب نہ ملنے پر میں خود بول پڑی

کہ ہم مسلمان ہونے کا صحیح حق ادا نہیں کر پارہے ہم نے نماز روزہ ،زکوۃ اور کلمہ کو مسلمان کہہ ڈالا ہے ہم نماز بھی پڑھتے ہیں تہجد اور اشراق کا بھی خصوصی اہتمام کرتے ہیں روزہ نفلی و فرضی رکھتے ہیں۔لیکن ہر انسان خواہ نیا ہو یا پرانا ہم سے تنگ ہی اگر ان سے ہمارے بارے میں کوئی پوچھے تو ایک ہی جواب ملتا ہے۔

”ہے تو بہت اچھا انسان لیکن بس جلدی غصہ آجاتا ہے اور غصہ میں اس کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا الفاظ نکال رہا ہے اگر برے القابات کی ضرورت پڑے تو گریز نہیں کرتا“

افسوس!!فخریہ طور پر لوگ بتارہے ہوتے ہیں کہ ہمارا غصہ بہت خطرناک ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ میرے بچے کو تنگ نہ کرنا جب اس کو غصہ آتا ہے ۔ یہ چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں کرتا۔

دوسروں کو دکھ درد،تکلیف اور نفرت سے پکارنا ہم سب کا شیوہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔ہم لوگوں کودکھ درد دینے میں اتنے عادی اور تجربہ کار بن چکے ہیں کہ ہمارے پاس بیٹھنے سے ہی لوگوں کےآنسو جاری ہوجاتے ہیں جس روز ہم دوسروں کو بےعزت اور ذلیل نہ کر دیں اس دن ایک بوجھ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ آج کوئی کام ادھورا رہ گیا ہو

ہر چھوٹا بڑا انسان خود کو منوانے میں لگا ہے۔چھوٹا سننا نہیں چاہتا اور بڑا ایک ہی دفعہ سنوانا چاہتا ہے ۔اس کھیل میں آگ کے گولوں جیسے الفاظ ایک دوسرے پر پھینکے جارہے ہیں ۔

اصلاح کا طریقہ اتنا حقارت آمیز ہے کہ پیار سے کسی کو سمجھانا تو خود کی توہین سمجھاجاتا ہے۔ہم بھول چکے ہیں کہ جس نبی کی امت سے ہم تعلق رکھتے ہیں ان کا اصلاحی طریقہ کیسا تھا۔وہ نبی جو ہر وقت خوشیاں بانٹنے میں لگےرہتے تھے۔کسی کی برائی کوبھی سب کے سامنے درست نہیں کرتےاکیلے میں اصلاح کرتے  تھے۔کسی کی عزت کااتنا خیال رکھتے کہ ایک دفعہ نماز کےلیے صحابہ اکرام کھڑے ہوۓ بدبو سونگھ کر حکم دیا کہ سب وضو کر آؤ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ایک پر انگلی اٹھائی یا پوچھا کہ کس کا وضو خراب ہوا ہے توکسی کی عزت مجروح ہونے کا اندیشہ ہے۔

لیکن افسوس ہے ہم پر !ہم اپنی زبان سے تلوار سے زیادہ تیز الفاظ نکال رہے ہیں ۔ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ دوسروں کےرویہ سے مجھےکیا دکھ ہورہاہے اس کا گلا کرتے رہتے ہیں۔لیکن جو تلوار ہم دوسروں کی طرف پھینک رہےہیں اس کے بارے میں آج تک ہم نے سوچنے کی جسارت نہیں کی۔

خدا کی قسم! مومن کی مثال تو نبی نے شہد کی مکھی جیسی دی جو بیٹھتی بھی پھولوں پر ہے اور نکالتی بھی شہد ہے دونوں اعلی چیزیں۔

کیا ہم زبان سے شہد نکال رہے ہیں یا زہر؟؟؟؟

کیا ہم سے گفتگو کرنا لوگ پسند کرتے ہیں؟؟؟؟

کیا ہمارے چھوٹے ہم سے خوش ہیں؟؟؟؟؟

ہمارے بڑوں کا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے ؟؟؟

کمی صرف ایک چیز کی ہے کہ ہم خود سے سوال ہی نہیں کرتے۔ہم خود سے یہ پوچھنے کی ہمت ہی نہیں کرتے کہ ہمارا کردار ہمارا اخلاق کیا ہے؟؟؟

یہ بات صرف زبان کی تھی  آج زبان تو دور کی بات کوئی ہمارے ہاتھ سے بھی محفوظ  نہیں۔

چھوٹے چھوٹے مسائل کو آرام سے سلجھانے کی بجاۓ ہم ہاتھا پائی پر اتر پڑتے ہیں۔ایسے مسائل جن کو ایک منٹ میں بیٹھ کر سلجھایا جا سکتاہے ان مسائل کو ہم کورٹ اور عدالتوں میں لے جارہے ہیں ۔ایک دوسروں کو سربازار بے عزت کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔

ان دونوں چیزوں کی حفاظت  کے لیے ہمیں صرف ایک عمل کی ضرورت ہے اور وہ ہے” صبر“

ہمیں انتہائی اعلی صبر کی ضرورت ہے ہم دوسروں سے پیار سے بات کرنی چاہیے وہ آگے سے اچھا جواب نہ دیں آپ کو پھر پیار سے بات کرنی چاہیے۔پھر وہ اچھا جواب نہ دیں آپ کو پھر پیار سے بات کرنی چاہیے۔کم از کم تین مواقع تو دینے چاہیے اگر پھر بھی کوئی آپ سے اچھی گفتگو پر آمادہ نہ ہو تو خدارا! چلے جائیں وہاں سے یہ سوچتے ہوۓ کہ ہم خود کو بدل سکتے ہیں دوسروں کو نہیں بدل  سکتے اور اپنی بات کو سمجھانے کے لیے کسی اور وقت آکر کوشش کریں۔آپ کی باربار کوشش سے اس انسان کی عادات بدل سکتی ہیں۔اگر آپ بھی تلور کے بدلے تلوار پھینکے گے تو جنگیں شروع ہو جائیں گی۔ لوگ خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔

خدا کی قسم ! تھوڑا صبر کر کے دیکھیں آپ کو بہت اچھا پھل ملے گا۔

مجھے امید ہے کہ اس حدیث اور مسلمان کون ہے اس کی آپ کو سمجھ آگئی ہو گی۔

 لیکن عمل کی ضرورت ہے میری خدا رب کریم تعا لیٰ سے انتہائی دردناک لہجہ میں دعا ہے کہ اے میرے مالک ہمیں مسلمان بننے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

ہمیں زبانی وعویٰ کے ساتھ دلی عزم بھی عطا فرمائیں_

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}