آئیں معاف کرنا سیکھیں ۔۔۔ اریبه فاطمه

کیا  آپ جانتے ہیں کہ آپ کس نبی کی امت ہیں؟

آپ ایسے نبی کی امت ہیں جس کی اگر معاف کرنے کی خوبی دیکھی جاۓ تو عقل دنگ رہ جاتی۔معاف کرنے کا دائرہ اتنا وسیع تھا نہ صرف اپنوں تک بلکہ ان لوگوں تک بھی جو آپ کے جانی دشمن تھے ایسا حوصلہ تھا کہ ہندہ جس نے آپ کے چچا حمزہ کا کلیجہ چبایا اس کو بھی معاف کر دیا اور طعنہ تک نہ دیا۔

اور ہمارا حال ایسا ہےکہ ہماری پلیٹ میں سے کوئی ایک نوالہ لے لیں تو ہم اتنا برا بھلا کہتے ہیں جیسے ہمارے جسم سے کوئی ا عضا کسی نے اتار لیا ہو گالی گلوچ تک جاتے ہیں۔

ایسے ہی ہماری زندگی میں بہت سے ایسے کام ہیں ایسے معاملات ہیں اتنے کم اہم ہوتے ہیں لیکن ہم ان معاملات کی وجہ سے اپنے تعلقات بہت خراب کر لیتے ہیں خونی رشتوں سے اتنی دوریاں اختیار کر لیتے ہیں کہ خوشی غمی میں شریک ہونا تک ترک کر دیتے ہیں قتل وغارت پر اتر آتے ہیں۔ خدا کی قسم! ہماری زندگی کا ہر لمحہ شکوہ کیا  آپ جانتے ہیں کہ آپ کس نبی کی امت ہیں؟

چلیں میں بتاتی ہوں!

آپ ایسے نبی کی امت ہیں جس کی اگر معاف کرنے کی خوبی دیکھی جاۓ تو عقل دنگ رہ جاتی۔معاف کرنے کا دائرہ اتنا وسیع تھا نہ صرف اپنوں تک بلکہ ان لوگوں تک بھی جو آپ کے جانی دشمن تھے ایسا حوصلہ تھا کہ ہندہ جس نے آپ کے چچا حمزہ کا کلیجہ چبایا اس کو بھی معاف کر دیا اور طعنہ تک نہ دیا۔

اور ہمارا حال ایسا ہےکہ ہماری پلیٹ سےمیں سے کوئ ایک نوالہ لے لیں تو ہم اتنا برا بھلا کہتے ہیں جیسے ہمارے جسم سے کوئی ا عضا کسی نے اتار لیا ہو گالی گلوچ تک جاتے ہیں۔

ایسے ہی ہماری زندگی میں بہت سے ایسے کام ہیں ایسے معاملات ہیں اتنے کم اہم ہوتے ہیں لیکن ہم ان معاملات کی وجہ سے اپنے تعلقات بہت خراب کر لیتے ہیں خونی رشتوں سے اتنی دوریاں اختیار کر لیتے ہیں کہ خوشی غمی میں شریک ہونا تک ترک کر دیتے ہیں  قتل وغارت پر اتر آتے ہیں۔ خدا کی قسم! ہماری زندگی کا ہر لمحہ شکوہ شکایت سے لبریز ہو جاتا ہے ہم جب بھی کسی کے بارے میں بات کر تے ہے تو آہ کے ساتھ گلہ کرتے ہوۓ کرتے ہیں یہاں سوچنے کا مقام ہےکیا ہم نبی کی امت ہونے کا ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں؟ تواس کے لیے ہمیں معاف کرنا سیکھنا ہو گا۔ سب سے پہلے چھوٹی چھوٹی بات پر معاف کرنا سیکھیں۔۔۔ جیسا کہ کوئی اگر کرخت لہجے سے آپ سے بات کرے تو آپ مسکرا کر جواب دے ڈالیں۔ جب آپ ان چھوٹے چھوٹے معاملات پر معاف کرنا سیکھ جائیں گے ۔۔۔ ہر بات کو اپنی مسکراہٹ سے بگاڑنے سے بچا لیں گے تو ایک دن یقینا ایسا آجاۓ گا کہ آپ کا صبر اتنا بڑھ جاۓ گا کہ آپ کے سامنے لوگ آپ پر تنقید کر رہے ہوں گے تو آپ کوکوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ آپ خوش ہو رہے ہو ں گے کہ ان کی نیکیاں میری طرف ٹرانسفر ہو رہی ہیں یہ ایک حقیقت ہے جس کو محسوس کیا جاتا ہے پر اس کے لیےآپ کو قدم اٹھانا پڑے گا۔

اور ایک بات یاد رکھیے! بڑا قدم اٹھائیں گے تو گرنے کا اندیشہ ہو گا اچھی عادت کی ابتدا ہمیشہ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے کریں  پھرہی آپ اپنے اقدامات میں مضبوطی پیدا کر سکتے ہیں اس لیے ابتدا کر دیں معمولی کاموں میں معاف کرنے کی اللہ آپ کو صابر انسان بنا دے گا۔۔۔انشاءاللہ

 

People Comments (1)

  • Nk benawa September 2, 2017 at 2:45 pm

    Buht khod Jazakallah khera

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}