مسلم لیگ ن اور بھارتی جنتا پارٹی میں مماثلت ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز خان

آج کی تاریخ میں مسلم لیگ ن اور بھارتی جنتا پارٹی میں بہت سی قدریں مشترک پائی جاتی ہیں۔ ان کا تذکرہ کرنا ضروری ہے، تاکہ کچھ نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

امیروں کا تحفظ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دوںوں جماعتیں امیر لوگوں کے پیسے سے الیکشن کمپین چلاتی ہیں اور پھر ان کے مفادات کے لیے کام کرتی ہیں۔ ن لیگ کا حکومت میں آنے کے بعد اربوں روپے میاں منشا کے کاروباری اداروں کو دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے، جبکہ انڈیا میں بھارتی جنتا پارٹی نے اربوں روپے کے قرضے وجے مالیا نامی سرمایہ دار کو معاف کر دئیے اور اس کو ملک سے بھاگنے میں مدد کی جبکہ عام کسانوں کو ایک ایک روپے کے لیے خود کشی کرنی پڑ رہی ہے۔ 

اجتماعی اداروں کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرنا۔ موجودہ حکمران جماعت کے احتجاجی ریلیاں اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سسٹم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے فیصلے کرنے اور مرضی کی بات منوانے کو ہی انصاف مانتی ہیں۔ انڈیا میں وہاں کے نائب صدر جو ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، حامد انصاری کے بیانات کو (جو انہوں نے اقلیتوں میں پائی جانے والے بے چینی کے متعلق دیا تھا) بطور صدر کے بیان سمجھنے کی بجائے ایک کمیونل مسلم کے طور پہ تاثر پیش کیا گیا اور صدر کے ادارہ کی توہین کی گئی۔ 

اپنے مفادات کے لیے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور غلط تاثر قائم کرنے میں ماہر ہیں۔ اس کی مثال ن لیگ کی ریلی میں کچلے جانے والے بچے کو جمہوریت کا شہید قراد دینا تھا حالانکہ اس کے قتل کی ذمہ دار تو وہ گاڑی کے سوار تھے جنہوں نے کچلا تھا اور دفع 322 کے تحت اس قتل کا سبب تو لیگ کا جلسہ تھا۔ بھارتی جنتا پارٹی بھی اسی طرح کشمیر میں پتھر بازی کرنے والی عوام کو دہشت گرد قراد دیتی ہے اور عام اقلیتوں کو پولیس مقابلوں میں مارنے کے بعد دہشت گرد قراد دیا جاتا ہے۔

خود کو مظلوم بنانا۔ ن لیگ  اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی عوام میں یہ تاثر دے رہی ہے کہ ان کی حکومت ختم کر دی گئی ہے اور وہ ہر دفع متاثر ہوئے ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی بھی ملک میں ہندوؤں کو ملک میں مظلوم ثابت کرکے کشمیر میں پنڈتوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں نکالے جانے کا حوالہ دے کر ہمدردیاں سمیٹتی ہے۔

متشدد اور ماؤرائے قانون غنڈہ گردی۔ ن لیگ بھی گلو بٹ پال کر لوگوں کو ہراساں کرتی ہے جبکہ بھارتی جنتا پارٹی بھی گاؤ اور وندے ماترم کے نام پہ غنڈوں کے ذریعے حکومت کرتی ہے۔

اقتدار حاصل کرنے کے لیے منفی اور مثبت ہتھکنڈے۔ دونوں جماعتیں اقتدار میں آنے کے لیے مذہب اور انتشار کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ ماضی میں ن لیگ کا لشکری جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیموں کا استعمال، متشدد طریقے اور گالی گلوچ کا استعمال اس بات کی غمازی کرتا ہے۔ جبکہ بھارتی جنتا پارٹی تو گجرات کے قتل عام کی وجہ سے مشہور ہے ہی۔

دونوں جماعتیں مغرب کو پسند کرتی ہیں۔ انڈیا نے مودی دور میں ایشیاء سے دوری اور اسرائیل و امریکہ سے قربت کو بڑہایا، جبکہ ن لیگ کی فوج سے رقابت اس وقت سے شروع ہوئی جب سے فوج امریکہ سے دور جا رہی ہے اور ایشیاء کے قریب آ رہی ہے اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے لگی ہے۔

You may also like this

11 October 2017

حکمرانی کی سیاست اور آصف علی زرداری ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

تبدیلی یا زوال ۔۔۔ فرخ سہیل گوئندی

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
27 August 2017

چودھری نثار ۔۔۔ پیرآف چکری شریف ۔۔۔ شہزاداقبال

<div id="m_-7539262263878857928yui_3_16_0_ym19_1_1503767159426_18215" dir="RTL" style="text-align: justify;"><s

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}