ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ سعید احمد

ڈاکٹر رُتھ فاؤ 88 سال کی عمر میں کل کراچی کینجی ہسپتال میں چل بسیں. پاکستان کی مدر ٹریسا رتھ فاؤ نے ایک مشکل وقت میں پاکستانی قوم کی خدمت کی ۔
انسانیت کاوہ نجم سحر ڈوب گیا جو انسانی خدمت کے لئے اپنا گھر بار اور دھرتی چھوڑ کر آئی تھیں ہم  اس کے عظیم کردار کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔
ستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی رُتھ نے ﺳﻦ 1958 ﺀ  30 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮪ ‏(ﺟﺰﺍﻡ‏) ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ڈاکومینٹری ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﯽ۔ ﮐﻮﮌﮪ ﺍﭼﮭﻮﺕ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﮔﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭗ ﭘﮍﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﭨﻮﭦ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ‘
ﮐﻮﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ‘ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﭘﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﻻ ﻋﻼﺝ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﮌﮪ ﻻﺣﻖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﮏ ﺳﺴﮏ ﮐﺮ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 1960 ﺀ ﺗﮏ ﮐﻮﮌﮪ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﺮﯾﺾ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺨﯿﺮﺣﻀﺮﺍﺕ ﻧﮯ ﮐﻮﮌﮬﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺍ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﮐﮩﻼﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺁﻧﮑھ ‘ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺍﺣﺎﻃﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺒﺎً ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮬﯽ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮌﮪ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻋﻼﺝ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻮﮌﮪ ﯾﺎ ﺟﺰﺍﻡ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭ ﺁﭘﺸﻦ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺳﺴﮏ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﺩﮮ ﺩﮮ ﯾﺎ ﺧﻮدکشی کرلے۔
پاکستان کی یہ حالت دیکھ کر آپ پاکستان آئیں اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئیں کوڑھ اور جزام سے پاک پاکستان کے لئیے دن رات محنت کرکے  ایشیائئ  ممالک میں جزام کی بیماری  سے پاکستان کوپاک ملک  قرار دلوایا
لیکن اب پاکستانی مدر ٹریسا ہزاروں کوڑھ کے مریضوں کو تنہا چھوڑ گئیں کچھ انسان اپنی ذات میں اتنے عظیم ہوتے ہیں انسانیت کا درد ان میں کوٹ کوٹ کراس طرح بھرا ہوتا ہے  ایسے انسانوں کو فرشتہ صفت کہنا بھی بہت معمولی سا معلوم ہوتا ہے ڈاکٹر روتھ کیتھرینا بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھیں جنہوں اپنی ساری زندگی پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کے علاج میں لگا دی ,جن مریضوں کو انکے اپنے گھر والے گھروں سے نکال دیتے یہ عظیم عورت انکو اپنا بنا لیتی یہ عظیم عورت کسی کی ماں بنتی,تو کسی کی بہن پاکستان کی آنے والی ہزاروں نسلیں بھی اس فرشتہ صفت عورت کے احسان نہیں اتارسکیں گیں اے فرشتو شرف انسانیت دیکھو
ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جرمن حکومت کی جانب سے ریاستی ایوارڈ ‘اسٹیفر میڈل’ سے نوازا گیا تھا ’ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان اور جرمنی کے مابین تعلقات میں ایک برج کی سی حیثیت رکھتی تھیں
جرمنی کی حکومت کی جانب سے اسٹیفر میڈل اپنے ملک میں اعلیٰ کارکردگی پیش کرنے پر دیا جاتا ہے۔ جرمنی کی خاتون ڈاکٹر روتھ کو یہ اعزاز پاکستان میں اپنی بیش بہا خدمات پر دیا گیا ہے۔ سٹیفر نامی میڈل جرمن ریاست میں ایک اعلیٰ اعزاز کے طور پر جانا جاتا ہے۔
روتھ فاؤ میری ایڈیلڈی لیپروسی سینٹر نامی غیر سرکاری تنظیم کی بانی و سربراہ تھیں جو کراچی شہرسمیت ملک بھر میں جلد کی خطرناک بیماری جذام کے خلاف مفت علاج و معالجے  کی سہولت فراہم کرتاہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی روتھ فاؤ کو جرمنی و پاکستان دونوں ممالک کے مختلف اداروں کی جانب سے مختلف ایوارڈز اور اعزازات دیئے جا چکے ہیں۔
جبکہ گزشتہ کئی برسوں میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، ہلال پاکستان سمیت لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ جیسے اعزازات بھی دیئےجا چکے ہیں۔
رتھ انسانی جذبہ رکھنےوالی ایک اعلیٰ خاتون شخصیت کے طور پر پاکستان اور جرمنی دونوں ممالک میں یکساں مقبول ہیں
اس عظیم خاتون کو اتنا خراج تحسین پیش کیجئیے کہ اقوام عالم بھی بحیثیت قوم آپ کو آپ کے محسنین کا قدر دان ہونے کی داد دیں

 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}